
الخلیل (جیوڈیسک) اسرائیلی حکومت پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والے تین یہودیوں کی تلاش کیلئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہودیوں کی تلاش کے لیے اسرائیلی فوج چھوٹے ڈرون طیاروں کا استعمال بھی کر رہی ہے۔ عینی شاہدین نے \\\”مرکز اطلاعات فلسطین\\\” کو بتایا کہ منگل کے روز شمالی الخلیل میں اسرائیل کے غبارہ نما ڈرون اڑتے دیکھے گئے۔
دوسری جانب اسرائیلی آرمی چیف جنرل بینی گانٹز نے کہا ہے کہ ہم دشمنوں کے خلاف ایک بامقصد جنگ لڑنے کے لیے تیار ہیں اور یہ جنگ کسی بھی وقت چھڑ سکتی ہے۔اسرائیلی ریڈیوسے گفتگو کرتے ہوئے جنرل گانٹز نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری فوجی آپریشن کے دو اہم ترین مقاصد ہیں۔ پہلا مقصد لاپتہ یہودی لڑکوں کی تلاش اور انہیں زندہ ان کے اہل خانہ تک پہنچانا ہے اور دوسرا مقصد حماس کے نیٹ ورک کو تباہ کرنا ہے۔
ادھر انتہا پسند یہودی حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ لاپتہ یہودیوں کی بازیابی تک فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کی تل ابیب میں زیر علاج اہلیہ کو یرغمال بنا لیا جائے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کے ایک انتہا پسند رکن میخائل بن آرئے نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تین یہودیوں کی بازیابی تک محمود عباس کی اہلیہ کو حراست میں رکھے۔
