Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

مودی حکومت اپنوں کے نشانے پر، الٹی گنتی شروع

October 8, 2017 0 1 min read
Narendra Modi
Narendra Modi
Narendra Modi

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری
بھارتیہ جنتا پارٹی کو 2014 ء کے عام انتخابات میں بلا شبہ بھاری اکثریت حاصل ہوئی تھی، اس لئے اس پارٹی اور اس پارٹی کی برسر اقتدار آنے والی حکومت کی خوشی اور خوش فہمی بالکل فطری تھی۔لیکن یہ پارٹی اپنی اس بھاری اکثریت ، خوشی اور خوش فہمی کے ساتھ ساتھ اگر اپنے ملک و قوم کی سا لمیت، ترقی اورخوشحالی کی جانب مثبت سوچ، فکر اور عوامی مفادات کے لائحہ عمل کے ساتھ آگے بڑھتی ،تو یقینی طور پر ملک کے عوام کے لئے ایک اہم اور مقبول پارٹی بن سکتی تھی ، اور بہت ممکن تھا کہ کانگریس پارٹی ،جو آزادی کے بعد سے تقریباََ مسلسل برسراقتدار رہی، اس کی متبادل بن کر ابھرتی اور برسہا برس اقتدار میں رہ کر کانگریس پارٹی کی کئی محاذ پر ناکامیوں خصوصاََ غربت،بے روزگاری،بدعنوانی، تعلیم ، صحت اورجرائم جیسے بہت ہی اہم اور بنیادی مسائل پر خصوصی توجہ دے کر ان مسائل کو حل کرنے کی عملی کوشش کرتی ، تو کوئی طاقت ایسی نہیں ہوتی، جو اس حکومت کی مخالفت کرتی۔ لیکن افسوس کہ بھاجپا کو ملنے والی بھاری اکثریت نے اسے اس قدر مغرور کر دیا اور حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے والوں میں اتنا تکبر پیدا ہو گیا کہ ان لوگوں نے عوام کے بنیادی مسائل کو پوری طرح فراموش کرتے ہوئے اپنے ایک مخصوص نظریہ ‘ہندوتو’ کو پہلے گھر گھر پہنچانے کے لئے رام مندر،لوجہاد،،گھر واپسی،گؤ مانس،گؤ رکچھا،عدم رواداری، کنھیا،پاکستان بھیجو،بنگلہ دیش،وندے ماترم،عامر خان، سلمان خان، شاہ رخ خان،بھارت ماتا کی جئے، تین تلاق، پرسنل لأ وغیرہ جیسی بے فضول اور لا حاصل کوششیں ہونے لگیں تاکہ ماحول سازگار بنا کر اپنے ایجینڈے ‘ہندوتو’ کو نافذ کیا جا سکے۔ لیکن ہوا ٹھیک اس کے برعکس، ماحول سازگار کیا بنتا، بلکہ ان کوششوں میں حکومت اور پارٹی اس قدر منھمک ہو گئی کہ عوامی مسائل سے یہ پوری طرح غافل ہو گئی اور صرف جھوٹے وعدے، طرح طرح کے خو شنمأ خواب ساتھ ہی ساتھ حقیقت سے بہت دور دعوے کئے جاتے رہے۔عوام نے جن امیدوں اور اعتماد کے ساتھ ان کے ،کئے گئے وعدوں اور دعٰوںپر بھروسہ کر کے کانگریس (یوپی اے) کوشکست دے کر بھاجپا(این ڈی اے ) کو حکومت کی باگ ڈور سونپی تھی۔ وہ تمام امیدیں اور اعتماد ختم ہونے لگا، لوگ متنفر ہونے لگے۔ لوگ بھوک، غربت، بے روزگاری، مہنگائی،بدعنوانی،اور جرائم سے تو پریشان تھے ہی ، ساتھ ہی ساتھ ان میں مذید اضافہ یہ ہوا کہ عوام کا سکون واطمینان کوختم کر دیا گیا ۔ برسہا برس سے ایک ساتھ شیر و شکر کی رہنے والے مختلف ذات اور مذاہب کے لوگوں کے اندر طرح طرح سے منافرت،خوف ودہشت پیدا کرنے کی منظم کوششوں سے ملک کا سیکولر طبقہ ، جو بلا شبہ اکثریت میں ہے، وہ بھی اس حکومت سے ناراض ہوتا چلا گیا ۔ کلبرگی،دابھولکر، پنسارے اور گوری لنکیش جیسی شخصیات کا بے دردی اور بے رحمی سے قتل کئے جانے سے ایسے لوگوں کی ناراضگی میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا ۔ملک کے اندر منافرت ، خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرنے سے عدم رواداری بڑھتی چلی گئی ، جس سے موجودہ حکومت کو سیاسی اور سماجی سطح پر فائدہ کم ، نقصان زیادہ ہوا ۔

دلتوں اور مسلمانوں کے تئیں جس طرح گؤ مانس اور گؤ رکچھا کے نام پر جس طرح نفرت کا ماحول بنایا گیا ۔ انھیں سر عام ذلیل و رسوا کیا کیاجانے لگا ۔ دہشت، خوف وہراس کا ماحول بنانے کے لئے انھیں سر عام ننگا کر نہ صرف زد وکوب کیا گیا بلکہ حیوانیت کا ثبوت دیتے ہوئے اور انسانیت کو شرمسار کر تے ہوئے بڑے ظالمانہ طریقے سے انھیں قتل تک کیا گیا۔اس سلسلے میں 2009 ء میں کیمیسٹری کا نوبل انعام پانے والے اور بھارتی نژاد جیسی اہم شخصیت وینکٹ رمن راما کرشنن نے بھارت میں مانس(گوشت)پر بحث چھوڑ کر تعلیم ، خصوصی طور پر سائنس اور ریاضی پر توجہ دینے کا مشورہ دیا ہے ۔ جس سے عالمی سطح پر تیزی سے پچھڑ رہے ملک کو اس سے بچایا جا سکے۔ملک میں بڑھتی غربت سے بھوکے رہنے والوں کے تعلق سے بھی ابھی حال ہی میں اقوام متحدہ کے Food and agriculture organization کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کی موجودہ حقیقت یہ ہے کہ ملک کے 30 کروڑ لوگ ہر دن بھوکے پیٹ سونے پر مجبور ہیں ۔ اس رپورٹ سے بھی حکومت کے جھوٹے دعوے کی پول کھلتی ہے۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے 2016 ء کے مطابق ہندوستان کی ہر تیسری عورت،خون کی کمی(انیمک)کی شکار ہے۔ بد عنوانی ، جس کے خلاف ملک کے عوام نے کانگریس (یوپی اے) کے خلاف اپنے شدید غصہ کا اظہار کرتے ہوئے ، اس کے خلاف اوربھاجپا کی حمایت میں ووٹ دیا تھا ۔

اسی بدعنوانی کو سشما سوراج، وسوندھرا راجے سندھیا ، شیو راج سنگھ چوہان (بہت لمبی فہرست ہے) وغیرہ نے آسمان پر پہنچا دیا ۔ جس کے خلاف سڑکوںسے پارلیامنٹ تک احتجاج اور مظاہرے ہوئے کہ ان بدعنوان لوگوں کو برطرف کیا جائے ۔ لیکن حکومت عوام کے احساسات و جزبات اور غم و غصہ کو نظر انداز کرتے ہوئے ، خاموش تماشائی بنی رہی کہ بد عنوانیوں میں ملوث ان وزرأ کو برخواست کئے جانے کا مطلب ان کی بدعنوانیوں کا اعتراف ۔ اس لئے حکومت نے کسی طرح کی تادیبی کاروائی نہیں کی۔ بیرون ممالک کے بینکوں میں جمع کئے گئے کالا دھن کو واپس لائے جانے کا وعدہ وفا کیا ہوتا ، بلکہ اربوں روپئے کا چونا لگا کر ملک کا گورا (سفید) دھن بھی وجئے مالیا جیسے لوگ لے اڑے اور ہماری حکومت دیکھتی رہ گئی ۔نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے خلاف مسلسل حزب اختلاف اور ماہرین اقتصادیات بول رہے تھے کہ یہ ملک کے بہتری اور حق میں نہیں ہے ، اس سے بہت بھاری قیمت ملک کو چکانی پڑیگی، لیکن اس کے سد باب کی کوششوں کی بجائے ، حکومت نے ایک خاص طبقہ کو صرف اس بات کے لئے میڈیا پر بولنے کے لئے مامور کر دیا گیا کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے خلاف بولنے والوں کو جھوٹا اور ملک دشمن قرار دو ، لیکن اب جبکہ بھاجپا کے ہی سابق وزیر مالیات یشونت سنہا نے جب ان دونوں محاذ پر حکومت کی زبردست ناکامی پر جواز کے ساتھ کھنچائی کی ،تو حکومت بغلیں جھانک رہی ہے۔یشونت سنہا کے بعد ارون شوری نے بھی ”ڈھائی آدمی ” کی حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا ہے ، اور اب جبکہ پورے ملک میں زبردست احتجاج اور مطاہرے حکومت کے خلاف شروع ہو گئے ، تب جی ایس ٹی میں رعایت دینے کی بات کہتے ہوئے ، ایک طرح اعتراف جرم کر رہے ہیں ، پہلے تو یہ عالم تھا کہ جو بھی ان دھائی آ دمی کے کسی فیصلے کے خلاف بولتا ، وہ ملک دشمن قرار دے دیا جاتا ۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ وزارت کا محکمہ بہت ہی نازک اور اہم ہوتا ہے اور کسی بھی حال میں کل وقتی کی بجائے جز وقتی بنا کر نہیں چھوڑا جکا سکتا ہے ، لیکن موجودہ حکومت کے سامنے ایسا لگتا ہے کہ قابل اور ذہین افراد کی بہت سخت کمی ہے ، جس کے باعث مالیات جیسی اہم وزارت کے ساتھ کئی وزارت کو جُز وقتی وزرأ کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

نوٹ بندی کے سلسلے میں ہمارے جز وقتی وزیر مالیات ارون جیٹلی کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر وہ عوامی طور پر نوٹ بندی سے ملک کی معیشت کو ہونے والے بھاری نقصان اور اقتصادی بحران کا اعتراف کر لیں تو پھر ملک کے ہر چوراہے پر راتوں رات نوٹ بندی کا اعلان کرنے والے نریندر مودی کو بلایا جائے گا اور سزا کی تجویز تو نریندر مودی خود ہی کر چکے ہیں ۔ جی ایس ٹی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، اسے بہت جلد بازی میں نا فذکئے جانے سے پورے ملک کا تجارتی طبقہ ہلکان اور پریشان ہے ، بڑھے ٹیکس سے عوام کی جو پریشانی بڑھی ہے ، اس کا اندازہ آئے دن بڑے پیمانے پر ہونے والے جلسہ جلوس اور احتجاج و مظاہروں سے لگایا جا سکتا ہے ۔ا ب جب کہ مالی بحران سے بد سے بد تر ہوتے حالات کے خلاف کسی دوسری پارٹی کے نہیں ، بلکہ بھاجپا کے ہی ایک سینئیر رہنما سبرامنئیم سوامی نے یہ کہہ دیا کہ جی ایس ٹی نریندر مودی کے لئے واٹر لو ثابت ہوگا ۔ سوامی کے اس ریمارکس پر جیسے سبھوں کو سکتہ لگ گیا ہے ، بولیں تو کیا بولیں ۔ حقیقت پوری طرح سامنے ہے ، جنھیں جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔

ادھر سپریم کورٹ نے کچھ ایسے فیصلے سنائے ہیں ،جو حکومت کو بہت نا گوار گزرا ہے ، لیکن عوام کو یقینی طور پر فرقہ واریت، تشدد،منافرت،عدم رواداری سے کسی حد تک نجات دلانے والا ہے ۔ مثال کے طور پر پرائیویسی کے حق کو عدالت نے عوام کا بنیادی حق تسلیم کیا ہے ۔ یعنی کون کیا کھاتا ہے، کون سا مذہب اختیار کرتا ہے ، کس سے شادی کرتا ہے ۔ یہ سب عوام کا ذاتی فعل اور عمل ہے ، جن پرحکومت قد غن نہیں لگا سکتی ہے ۔ اسی طرح گائے کی حفاظت اور گائے کے گوشت کے نام پر نام نہاد گؤ رکشکوں کے ذریعہ ظلم و تشدد کئے جانے اور سینکڑوں معصوم اور بے گناہ افراد کے زخمی اور قتل کئے جانے پر بھی سپریم کورٹ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ، مختلف ریاستوں کو ایسے لوگوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اسی طرح ایک دوسرے اہم معاملے میں بھی سپریم کورٹ نے کچھ سیاسی لیڈران کی بہت کم مدت میںبڑھتی جانے والی جائداد اور آمدنی پر بھی سخت نوٹس لیتے ہوئے ملک کے 289 لیڈران کے املاک سے متعلق حکومت سے جواب طلب کیا ہے ۔سپریم کورٹ کی ان ہدایتوں سے حکومت کی پریشانی اور پشیمانی دونوںکافی بڑھ گئی ہے ۔ مشکل یہ ہے کہ اپنی ان کمیوں کا حکومت اعتراف کرے تو کیسے کرے ،اعتراف کرنے کا مطلب اپنی شدید ناکامیوں کا اعتراف ۔ پھر وہ کس مُنھ سے عوام کے سامنے ووٹ مانگنے جائینگے۔ حکومت کے وزرا ٔ تو اپنی شدید ناکامیوں کو بھی شاندار کامیابی ہی بتانے پر نہیں تھک رہے ہیں ۔سپریم کورٹ نے جب انھیں آئینہ دکھایا تو انھیں بہت برا لگا اور حکومت کے بوکھلائے و زیر قانون روی شنکر نے اپنی حد پار کرتے ہوئے ، عدالت کو ہی نصیحت کے ساتھ ساتھ دھمکی بھی دے ڈالی اور کہا کہ ‘ میں کچھ عدالتوں میں سرکار کی ذمہ داری سنبھالنے کا رویۂ دیکھ رہا ہوں، اس پر فکر کی ضرورت ہے۔ ‘ عدالتوں کو دئے جانے والی وزیر قانون کی نصیحت کے جواب میں ممبئی ہائی کورٹ کے جسٹس ابھئے اوکا نے بہت ہی مہذب انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ’ عدالتوں کے فیصلے پر اظہار رائے کا ہر شہری کا حق ہے ، لیکن ان فیصلوں کی تنقید مثبت اور صحیح جواز پر منحصر ہونا چاہئے اور فیصلے پرگہرے مطالعے کے بعد ہی رائے زنی ہو’ ۔

اس پورے پس منظر کو دیکھتے ہوئے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ موجودہ حکومت نہ صرف عوام کے ، حذب اختلاف کے ، بلکہ اپنے سینئر رہنماؤں کے اختلافی بیان پر بھی سخت معترض ہے۔ لیکن جس طرح اب حکومت مخالف آوازیں اٹھ رہی ہیں ، وہ یقینی طور پر مودی حکومت کے لئے کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ بھاجپا کے سینئیر رہنمأ شتروگھن سنہا نے بھی یشونت سنہا کی نوٹ بندی اورجی ایس ٹی کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘ اب بہت ہو چکا ، یہ بالکل صحیح وقت ہے کہ وزیراعظم جنتا اور پریس کے سامنے آئیں اور سوالوں کا جواب دیں ‘۔ شتروگھن سنہا کے اس مطالبے پر بھی حکومت نے چپی سادھ لی ہے۔ دراصل مشکل یہ ہے کہ اس وقت مودی حکومت پر ہر چہار جانب سے ان کے ہمنوا ہی بہت ہی جارہانہ حملے کر رہے ہیں اور حکومت کو ہدف تنقید بنائے ہوئے ہیں ۔ نو نرمان سینا کے صدرراج ٹھاکرے نے مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس سوشل میڈیا کی مدد سے نریندر مودی نے 2014 ء میں اقتدار حاصل کیا تھا ، وہی سوشل میڈیا مودی اور بھاجپا پر بھاری پڑ رہا ہے۔ جیسا بوتے ہیں ، ویسا ہی کاٹتے ہیں ‘۔ مہاراشٹر حکومت میں شامل شیو سینا کے رہنما نے بھی مودی حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘بی جے پی کے رہنما معاشی بحران کے خلاف بات کرنے سے ڈرتے ہیں ‘۔ ایسا لگتا ہے کہ اس وقت پورے ملک میں مودی مخالف ہوا چل رہی ہے اور یہ مخالف ہوا کسی بھی بھاجپا مخالف سیاسی پارٹی کا لایا ہوا نہیں ہے ، بلکہ عوام اور بھاجپا کے ہمنواؤں کا ہی لایا ہوا ہے ۔ وزیر اعظم کی لوک سبھا سیٹ والے شہر بنارس میں لڑکیوں کے ساتھ یونیورسٹی انتظامیہ کا جو سلوک رہا ، اس نے مودی کے’ بیٹی بچاؤ ، بیٹی پڑھاؤ’ کے نعرہ کو کھوکھلا بنا دیا ہے اور ان طالبات کی حمایت میں جس طرح ملک بھر میں احتجاج اور مظاہرے ہو رہے ہیں ، اس نے بھی حکومت کی نیند اڑا دی ہے ۔ ایک تو ایسے ہی جے این یو، دلی یونیورسٹی، حیدرآباد یونیورسٹی ، جئے پور یونیورسٹی وغیرہ میں اے بی وی پی کی بھاری شکست نے پہلے ہی یہ سوچ کر نیند حرام کر رکھی تھی کہ ملک کے طلبا حکومت مخالف ہو گئے ہیں۔ ملک کے نوجوان اپنی بے کاری سے پریشان اور خوف زدہ ہیں ، ملک میں نوکریوں کی تعداد بڑھتی کیا ، دن بدن گھٹتی ہی جا رہی ہے، آئی ٹی سیکٹر میں زبردست مندی نے نوجوانوں کے ہوش اڑا دئے ہیں اور انھیں اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا ہے ۔ جی ڈی پی ( مجموئی قومی پیداوار) لگاتار گرتے ہوئے 3.7 فی صد پر پہنچ گیا ہے ۔ ملک کا شیئیر بازار اس وقت سب سے بڑی گراوٹ جھیلتے ہوئے اس بازار کا 6.10 لاکھ کروڑ ڈوب گیا ہے ۔ ملک کے تمام بینک زبردست خسارے میں چل رہے ہیں ۔ADB نے بھی نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے ہونے والے بھاری نقصان کو وجہ بتاتے ہوئے بھارت کا ترقیاتی درجہ گھٹا دیا ہے ۔

ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے یہ خیال شائد غلط نہیں کہ اس وقت ملک بہت ہی نازک اور خطرناک حالات سے گزر رہا ہے ۔ حکومت اور بھاجپا دونوں ہی کی بہت تیزی سے گرتے گراف سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مودی حکومت کی اب یقینی طور پر الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بھاجپا کی کوشش ہے کہ اس سے قبل کے گراف مذید گرتا چلا جائے، 2019 ء کی بجائے 2018ء کے اواخر میں ہی عام انتخاب کرا لیا جائے۔بہت ہی مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ گزشتہ ہفتے بھاجپا کی ایک بہت ہی اہم میٹنگ میں یہ طئے کیا گیا ہے کہ بھاجپا اب نئے بھارت کی تھیم پر انتخاب لڑے گی اور عوام کو یہ پیغام دے گی کہ ان کی حکومت اب غریبی، دہشت گردی، فرقہ واریت، بد عنوانی سے پاک اور سوکچھ بھارت بنانے کے لئے کام کریگی ، یعنی اس حکومت نے جو کام اب تک نہیں کیا ، وہ اب اگلے انتخابات میں کامیاب ہو کر کرے گی۔

Syed Ahmad Quadri
Syed Ahmad Quadri

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری
رابطہ:09934839110

Share this:
Tags:
elections India Modi government power Syed Ahmad Quadri Target اقتدار انتخابات بھارت مودی حکومت نشانے
Foreign Office
Previous Post پاکستان نے سی پیک پر امریکی الزامات مسترد کر دیے
Next Post تھانہ گلیانہ کے نواحی گاوں نوتھیہ کے قریب ڈکیتی کی واردات
Malka

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close