
تحریر: شاہ بانو میر
گھر میں صفٍ ماتم بچھی ہوئی ہے چیخوں سے سارا محلہ لرز رہا ہے 5 بیٹیوں کی ماں اچانک ہی حرکت قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئی چولہے پر رکھا سالن آدھا کچا آدھا پکا پیڑہیوں پر پڑے اس کی بچوں کے کپڑے جو نتھارنے کیلئے الگ رکھے تھے واشنگ مشین کے اندر موجود کپڑے جو نہیں جانتے تھے کہ انہیں مشین میں ڈالنے والے ہاتھ انہیں نکال نہیں پائیں گے۔
کچن میں ہی گندھا ہوا آٹا پرات پر گیلا کپڑا بتا رہا تھا کہ ان بچوں کی ماں ایک وقت میں کئی کام کرنے کی عادی تھی گھر صاف ستھرا تھا اور بچے سکول ماں کی خواہش ہوگی کہ بچوں کے آنے سے پہلے ہی وہ کپڑوں کو دھو کر تیز سردیوں کی دھوپ میں چھت کی دیواروں پر پھیلا دے مگر موت نے مہلت نہ دی اور محض ایک چیخ کے ساتھ ہی ذرا سا تڑپتا وجود بے حس و حرکت ہو کر دنیا سے سفر ختم کر گیا چیخ کی آواز سن کر پہلی دوسری منزل پر رہنے والی دیورانیاں بھاگتی ہوئیں نیچے اتریں لیکن بے سود اب اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں تھی۔
ہراساں ہو کر مرحومہ کے شوہر کو یہ اطلاع پہنچائی تو گویا وہ پتھرائی نگاہوں سے فون کو دیکھنے لگا جیسے اس میں اس کے بچوں کی تصاویر ہوں روتے ہوئے اداس
شریک حیات کا اچانک یوں بچھڑ جانا کسی قیالمت صغری سے کم نہ تھا دوسری جانب چچا گئے اور بچوں کو سکول سے لائے تمام بچے سال ڈیڑھ سال کے فرق سے بلوغت کی طرف گامزن تھے بہت شعور نہیں رکھتے تھے مگر موت مستقل جدائی ہے یہ اچھی طرح جانتے تھے ان بچوں کی کربناک چیخوں بیٹیوں کی دہائیوں سے جیسے ہر آنکھ اشکبار تھی مگر گلی میں داخل ہوتے ہوئے خواتین کے ایک ٹولے پر نگاہ پڑی جو غالباُ ماتمی گھر کی جانب جا رہی تھیں۔

نجانے ایسی کیا بات ہوئی کہ ان کے منہ سے ہنسی کے فوارے جیسے چھوٹ گئے تکلیف کا احساس ہوا ان کی طرح ہی وہ میرے لیے بھی ہمسائی کا تعلق رکھتی تھی لیکن گلی کے اندر پاؤں رکھتے ہی سوگوار بچوں گھر کی ویرانی نے جیسے پریشان کر دیا ہو ایسے وقت میں ان خواتین کا متوسط عمر کے ہوتے ہوئے بھی یہ غیر سنجیدہ رویہ تکلیف دہ تھا ہنسی تھمی تو باتوں کے سلسلے میت کے گھر تک جاری رہے حیرت سے گنگ اس وقت ہوئی جب وہ تمام خواتین آنسوؤں سے نند کے گلے مل کر دھاڑیں مارنے لگیں میں نے بھی تعزیت کی اور کونے میں جا کر بیٹھ گئی۔
بد نصیبی کہ وہ پھر وہیں جگہہ دیکھ کر براجمان ہوگئیں کچھ منٹ پہلے نند کے گلے مل کا باقعدہ آنسو بہانے والی اور ہچکیوں سے رونےو الی یہ خواتین اب اپنے حال میں مست اس بات سے بے خبر کہ وہ کس جگہہ پر بیٹھی ہیں کسی کے داماد کا مسئلہ تھا تو کسی کی بیٹی کی ساس کا کسی کا بیٹا بیوی کے قبضے میں تھا تو کسی کا داماد بیٹی کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھے ہوئے تھا الغرض اسی صحن میں تواتر سے چیخ وپکار آسمان کو ہلا رہا تھا اور طائرانہ جائزہ لیا تو کم و بیش ان خواتین جیسا حال ہی دیگر ہجوم میں موجود خواتین کا تھا۔
اس دن قدرت کی یہ توجیہہ سمجھ آئی دکھ اتنا جتنا رشتہ یہی حال ہمارے احتجاجوں کا ہے مودی کا دورہ برطانیہ پالیمنٹ کے باہر ایک جملہ لکھ کرکیا ہم وہ طاقت حاصل کر لیں گے کہ وہ نادم ہو؟ کیا ہم میں وہ جزبہ وہ دکھ وہ احساس وہ دردوہ شدت وہ سچا خیال موجود ہے جو ہم احتجاج کر رہے؟ مندرجہ بالا واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ جس کو تکلیف ہے وہ ہی اپنا درد آنسوؤں سے بیان کرتا ہے احتجاج خواہ کشمیر کا ہو یا مودی کے بھیڑیے نما رویے کا کبھی تاثیر نہیں آئے گی جب تک کہ وہ لوگ جو اس درندگی کا شکار ہیں وہ پوری طاقت سے اپنی ذات کو اس سے جڑے خوف کو ختم کر کے باہر نہیں نکلتے ہمارے رویے خالص نہیں۔

سیاست کی گہری چھاپ ہے ہر احتجاج پر اور ہمارے ہر اظہار میں جب آپ کسی بھی مظلوم کیلئے احتجاج کریں اور تصاویر کی بھرمار خوشحال ہستیوں کو ٹی وی پر نمایاں کر کے دکھا رہے ہوں ہنسی مذاق کرتے ہوئے بے اثر کر دیتے ہین اس مقصد کو جو لاشوں کے فرنے پر شروع کیا گیا اب تو ایک طاقت اور مل گئی برطانیہ سے موصول شدہ اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ سکھ برادری اب خود پر ہوئے مظالم کے خلاف کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ہر احتجاج میں شریک ہو کر نہ صرف تعداد کو بڑے جلی حروف میں دکھا رہی بلکہ وہ پر عزم ہیں کہ مقاصد کے حصول تک احتجاج کا سلسلہ بڑہاتے جائیں گے۔
یہ بات خوش آئیند ہے ہمین اس بہترین وقت سے بھرپور فائدہ لینا چاہیے اور نیت کے اخلاص کو شامل کرتے ہوئے پوری طاقت سے ان مظاہروں کی قوت باطل نظام کی تبدیلی کیلئے استعمال کرنی ہوگی مسلمانوں کے ساتھ ہوئے ظلم کے خلاف مظاہرے میں ماحول کا اداس اور رنجیدہ احساس بہت ضروری ہے اسلام کا حکم ہے کہ رونا نہ آئے تو شکل ہی ویسی بنا لو کاش ہم احتجاج کرنے جائیں تو اس کے لوازمات کو بھی ہمراہ لے جائیں احتجاج پر جاتے ہوئے چہروں کو سنجیدہ اور لباس کو سادہ رکھتے ہوئے ماحول پر افسردگی طاری کرنی بہت ضروری ہے ورنہ تو ہم وہی کریں گے۔
گلی میں قہقہے لگاتے ہوئے اورمیت کو دیکھتے ہی آہ وفغاں جاری یاد رکھیں ایسے کھوکھلے اور ریاکار رویے احتجاج کا حجت تو پوری کر دیتے ہیں لیکن ان میں موجود بے روح سوچ آپکو کبھی مطلوبہ نتائج نہیں دے گی بار بار احتجاج کرنا اس بات کی علامت نہیں کہ آپ کامیاب ہو رہے ہیں شائد سیاسی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے جس میں سیاسی زندگی کی دم توڑتی سانسوں کے تسلسل کو قائم رکھنا ضروری ہے بھارت کے وزیر اعظم کی آمد پر انگلینڈ میں بہت بڑا احتجاج کیا جا رہا ہے خُدا کرے کہ گزشتہ احتجاج کی طرح یہ بھی خاموشی سے دم نہ توڑ جائے احتجاج سے کئی بہتر ہے۔

کہ آپ گھروں سے خود لوگوں کو نکلنے کی تحریک دیں انہیں ان کا فرض بطور مسلمان بھارت میں ہونے والے مظالم کی طرف کروائیں وہی احتجاج کامیاب کہلائے گا جس میں ہر شخص بلانے پر نہیں اندر سے جاگنے پر نکلے گا جن گھروں میں تعصب پسندی نے موت بھیجی وہاں جا کر دیکھیں آپکو احتجاج کی روح کمزور دکھائی دے گی درد محسوس کیجئے شدت لائے اور سچائی کے ساتھ اپنے دینی بہن بھائیوں کیلئے باہر نکلئے کسی کے کہنے پر نہیں جزبہ انسانیت اور دینی روادری کیلئے حدیٍث نبوی ہے کہ مومن ایک جسم کی مانند ہیں جسم کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم دردمحسوس کرتا ہے پھر ہمیں کوئی کیوں کہے؟۔
ہم کیا خود مسلمان نہیں تو اٹھئے اور مکمل سنجیدگی اور درد کے ساتھ وہ احتجاج کیجئے جس میں سچائی ہو روح ہو اور محض فوٹو سیشن نہیں مطالبے کو ہر صورت منوانے کا جنون ہو پھر دیکھئے کیسے بھارتی سیاست کا جنازہ نکلتا ہے اور جھوٹئ جمہوریت کے داعی کو کہیں پناہ نہیں ملتی شرط صرف اخلاص پیدا کرنے کی ہے نکلنے سے پہلے ضرور سوچیں محض دنیا کو دکھانے جا رہے ہیں یا پھر اپنا مقصد حاصل کر کے واپس آنا ہے؟ تخت یا تختہ جبھی احتجاج کامیاب ہے ورنہ محض خانہ پُری جس کی اس سنجیدہ ماحول میں کوئی گنجائش نہیں۔

تحریر: شاہ بانو میر
