Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

عصری تعلیمی منظر نامہ اور دور حاضر کے اساتذہ کی ذمہ داریاں

August 31, 2016 0 1 min read
knowledge
knowledge
knowledge

تحریر: محمد محبوب ظہیر آباد

علم روشنی ہے جس سے جہالت کے اندھیرے دور ہوتے ہیں۔ انسان کو علم اس لئے حاصل کرنا چاہئے کہ اس کی زندگی چین و سکون سے بسر ہو سکے اور وہ اپنے علاوہ انسانیت کے لئے بھی کچھ فلاح و بہبود کا ایسا کام کر جائے کہ رہتی دنیا تک اس کے علمی فوائد دوسروں کو پہنچ سکیں۔ اچھے علم کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس علم سے انسان کو فائدہ پہونچے۔ آج انسان ڈگری کے اعتبار سے بہت تعلیم یافتہ ہورہا ہے لیکن اس کے اخلاق و کردار کے بگاڑ کے سبب اس کی تعلیم کا اثر نہیں پڑ رہا ہے اور انسان بڑے بڑے جرائم میں ملوث ہورہا ہے۔ بات پیشہ طب کی ہو یا دیگر پیشوں کی ۔ تعلیم ایک تجارت بن گئی ہے۔ والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بیٹا ماہر ڈاکٹر بنے۔ اس کے لئے ایم بی بی ایس میں داخلہ ایک کروڑ دے کر کرایا جارہا ہے اور ایم ڈی کے لئے دو سے پانچ کروڑ لگائے جارہے ہیں۔ فیس دیتے وقت بچے کے ذہن میں یہ بات ذہن نشین کرائی جاتی ہے کہ آج اس کی میڈیکل کی تعلیم پر جو کچھ سرمایہ کاری کی جارہی ہے اسے بعد میں دگنی چوگنی کرنا ہے۔ یہی وجہہ ہے کہ پیشہ طب سے اخلاقیات ختم ہوگئے اور ڈاکٹر سفید کوٹ پہنے لٹیرے بن گئے۔ ایک زمانہ تھا جب حاذق حکما اور اطبا صرف نبض دیکھ کر مرض کی کیفیت جان جاتے تھے اور علاج کرتے تھے آج کے کروڑوں روپے خرچ کرنے والے ڈاکٹر مرض کی کسی علامت سے واقف نہیں ہوتے اور مریض کے ان سے رجوع ہوتے ہی مختلف قسم کے معائنے کروائے جاتے ہیں جن کی آدھی رقم سیدھے ان کے کھاتے میں آجاتی ہے۔ غیر ضروری دوائیں لکھنا اور دواخانے میں شریک کرتے ہوئے مریض سے بل کی شکل میں بھاری رقم وصول کرنا پیشہ طب کے جرائم میں شامل ہے۔ یہی حال قانون ‘پولیس’اور دیگر شعبہ جات زندگی کا بھی ہے کہ لوگ بڑی بڑی ڈگریاں لے رہے ہیں لیکن اخلاقیات کا سبق صفر ہے۔ اس لئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ زما نے کی ترقی کے ساتھ تعلیم میں اضافہ ہورہا ہے یا گراوٹ۔

ہر سال ہندوستان میں5ستمبر کو یوم اساتذہ منایا جاتا ہے۔ جب کہ ہندوستان کے سابقہ صدر سروے پلی رادھا کرشنا کے ایک ٹیچر سے صدرجمہوریہ ہند بننے کی یاد میں ان کے یوم پیدائش پر یہ یوم منایا جاتا ہے اور اساتذہ کو اعزازات دئے جاتے ہیں۔یوم اساتذہ کی تقاریب ہمیں اس بات کی یاد دلاتی ہیں کہ ہمارے سماج میں اساتذہ کی کیا اہمیت ہے ۔ اساتذہ معمار قوم ہوتے ہیں۔ وہ قوم کے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرتے ہیں اور انہیں تراش خراش کر قیمتی ہیرا بناتے ہیں۔ موجودہ دور کا تعلیمی منظر نامے پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ اب اساتذہ کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔ایک طرف تو موجودہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے جب کہ تعلیم کے بنیادی ذرائع قلم کتاب بلیک بورڈ سے آگے بڑھتے ہوئے تعلیمی وسائل میں پروجیکٹر’کمپیوٹر’لیپ ٹاپ’ اسمارٹ فون بھی شامل ہوگئے ہیں۔ یہ بات ہر زمانے میں محسوس کی گئی کہ ایک استاد کے روبرو علم حاصل کرنے کے لئے آنے والے طلبا زمانے کی ترقیات سے ہم آہنگ ہوتے ہیں اور استاد اور شاگرد کے درمیان ترقی کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اساتذہ جس دور کی تعلیم حاصل کئے تھے طلبا کو اس سے آگے کی تعلیم دینا پڑتا ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو اب طلباء تیز رفتار دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ اسمارٹ فون اور کمپیوٹر چلانا جانتے ہیں۔

YouTube
YouTube

آج بچے گوگل اور یوٹیوب پر بیٹھ کر کسی بھی قسم کا پراجکٹ کیسے کیا جائے دیکھ لیتے ہیں اور ان کی مناسب رہبری ہو تو وہ اپنے دور تعلیمی میں بہت آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اس لئے آج کے بدلتے تعلیمی منظر نامے میں اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی مختلف قسم کے ٹریننگ کورسز کرتے ہوئے اپنے آپ کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کریں۔ اگر اساتذہ کو کمپیوٹر چلانا نہیںآتا تو وہ عصر حاضر کے تقاضوں سے بہت پیچھے ہیں۔ اس لئے اساتذہ کو چاہئے کہ وہ موجودہ دور کے تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔ ایک سائنس کاٹیچر اگر ہضمی نظام کا سبق پڑھاتا ہے تو اسے چاہئے کہ اپنے طالب علموں کو وہ ایسا ویڈیو بھی دکھائے جس میں ہضمی نظام کو سمجھایا گیا ہے۔ آج یوٹیوب پر اردو اور انگریزی میں تعلیمی اسباق سے متعلق مختلف ویڈیوز دستیاب ہیں جن کی جانب اساتذہ اپنے طلبا کی رہبری کر سکتے ہیں۔ Khan Academyنامی ویب سائٹ پر امریکی نوجوان سلمان خان گزشتہ کئی سال سے اسکول اور کالج کی سطح پر آن لائن ریاضی’طبعیات اور کیمیا کے اسباق پڑھارہے ہیں۔ ورچول یونیورسٹی ویب سائٹ پر کالج کی سطح مختلف ویڈیوز موجود ہیں۔ نیشنل انفارمیٹک سنٹر سے ہندوستان بھر کے منتخب کالجوں میں ماہر اساتذہ کے لیکچر ٹیلی کاسٹ ہورہے ہیں۔ منا ٹی وی پر تعلیمی لیکچر پیش ہورہے ہیں۔

اساتذہ کو چاہئے کہ وہ اپنے آس پاس موجود ان علمی سہولتوں سے واقف ہوں اور انہیں موثر طریقے سے طلبا تک پہونچائیں۔ عموما سرکاری مدارس کے اساتذہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تنخواہ کا انتظار کرتے ہوئے دن گذارتے ہیں۔ لیکن ایسے ہی سرکاری اساتذہ میں کچھ ہیرے جیسے قیمتی اساتذہ بھی ہیں۔ جو دل لگار کر تدریس کرتے ہوئے طلبا میں مقبول ہیں۔ ایک ایسے ہی استاد نے ایک جلسے میں تقریر کرتے ہوئے اپنے تعلیمی انداز کو مثال دے کر سمجھایا کہ انہوں نے اپنے جیب سے ایک اسمارٹ فون نکالا جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس فون کو خریدنے کے لئے ایک ماہ کی تنخواہ صرف کی ہے۔ اس فون کی خوبی یہ ہے کہ اس میں چھوٹا پروجیکٹر ہے جس کی مدد سے فون میں موجود کسی بھی ویڈیو کو دیوار پر پیش کیاجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس فون کو اپنے کمرہ تدریس میں استعمال کرتے ہیں اور طلبا کو سبق سے متعلق تصاویر اور ویڈیو دکھاتے ہیں جس کی مدد سے ان کی تدریس موثر ہوتی ہے۔ انہوں نے دیگر اساتذہ پر بھی زور دے کر کہا کہ جب تک وہ اپنے سبق کو دلچسپ اور موثر نہیں بناتے اس وقت تک وہ ایک کامیاب معلم نہیں بن سکتے ۔

موجودہ تعلیمی نظام میں کتابی تعلیم سے زیادہ فنی اور عملی تعلیم پر زور دیا جارہا ہے ۔ یہی وجہہ ہے کہ موجودہ نصاب میں طلبا سے اسباق سے متعلق عملی کام اور پراجکٹ کروائے جارہے ہیں اور پرچہ سوالات میں بھی طالب علم کے مشاہدات پر مبنی سوالات پوچھے جارہے ہیں۔ مثال کے طور پر جغرافیہ کے سبق میں ہندوستان کا جغرافیہ پڑھانے کے بعد طالب علم سے اس کے علاقے کے جغرافیائی حالات پوچھے جاسکتے ہیں۔ کسی حادثے کو دیکھنے کے بعد کئے جانے والے عملی اقدامات کے بارے میں پوچھا جاتا ہے اس لئے اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبا کو موجودہ دور کی عملی مثالیں دیتے ہوئے تعلیم دیں۔ اب وہ دور نہیں رہا کہ سبق کی بلند خوانی کروادی جائے اور طلبا سے کہا جائے کہ وہ ورک بک یا گائیڈ سے جوابات یاد کر لیں۔ اب تو طلباسے گفتگو کرنے اور ان سے مسئلے کا حل دریافت کرنے پر توجہ دی جارہی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ موجودہ دور کے اساتذہ بغیر تیاری کے کمرہ جماعت میں نہ جائیں۔ اور وہ اپنی معلومات کو اس حد تک تازہ کرلیں کہ وہ آج کے دور کے طلبا کے مختلف سوالات کے موثر جوابات دے سکیں۔ کالج کی سطح کے طلبا کی تدریس کے لئے اساتذہ کو چاہئے کہ وہ طلبا کی نفسیات اور ان کے مشاغل پر توجہ دیں۔ آج کالج کا ہر طالب علم اپنے ساتھ اسمارٹ فون رکھتا ہے اب طلبا کو فون سے دور رکھنا مشکل ہے۔

Smartphone
Smartphone

ایسے میں اساتذہ کو چاہئے کہ وہ طلبا کو اسمارٹ فون کے مثبت استعمال کی جانب توجہ موڑیں۔ آج اسمارٹ فون میں بہت سے تعلیمی اپلیکیشن دستیاب ہیں۔ اردو کی مثال ہی لیجئے گوگل پلے میں کلیات اقبال۔کلیات غالب ۔کلیات پروین شاکر ۔ حکایات سعدی۔ اردو لغت اور دیگر دلچسپی کی کتابیں اور دیگر مطالعے کی چیزیں موجود ہیں۔ اساتذہ کو چاہئے کہ وہ فون رکھنے والے طلبا کو ان اپلیکیشن کے حصول یا شیر اٹ کے ذریعے منتقل کرنے کی ترغیب دلائیں اور اس کے مطالعے اور اس میں سے کچھ لکھوانے کی کوشش کریں۔ کلیات اقبال سے منتخب اشعار لکھوانے کی ترغیب دلائی جاسکتی ہے۔ منتخب حکایات نامی کتاب سے پسندیدہ حکایات لکھوائی جاسکتی ہیں۔ اردو زبان کے فروغ میں اسمارٹ فون بھی اہم رول ادا کررہا ہے۔ اب فون میں اردو لکھنے کی سہولت موجود ہے۔ اردو میں گوگل سرچنگ کے ذریعے اردو کے بیش قیمت مواد تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح طلبا میں تحریری وتقریری صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں بھی اسمارٹ فون کارگر ہوسکتا ہے۔ گوگل میں دستیاب وکی پیڈیا سے کسی بھی موضوع پر معلوماتی مضامین حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح ان موضوعات کے ویڈیو یوٹیوب سے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔اس طرح طلبا مشغلے کے ساتھ مطالعے کو پروان چڑھا سکتے ہیں۔ اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ آج کی دور کی سہولتوں کے تعلیمی استعمال سے ہم آہنگ ہوں۔

کالج اور یونیورسٹی سطح کے اساتذہ انٹرنیٹ کا بہتر استعمال کریں۔ اور طلبا کو زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کریں۔ طالب علم چار تا چھ گھنٹے اساتذہ کے سامنے رہتا ہے اس کے بعد بھی وہ اپنے استاد سے رابطے میں رہ سکتا ہے۔ اس کے لئے فیس بک اور واٹس اپ اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ فیس بک پر طلبا کے لئے علمی گروپ قائم کرتے ہوئے انہیں اساتذہ سے رابطے میں رہنے اور دیگر اساتذہ کے تجربات سے ہم آہنگ ہونے کا موقع فراہم کیا جاسکتا ہے۔ ایک طالب علم اور استاد میں اگر دوستانہ رویہ رہے تو طالب علم کالج کے اوقات کے علاوہ بھی دیگر اوقات میں اپنے استاد سے رابطے میں رہ سکتا ہے اور فیس بک یا واٹس اپ سے رابطہ قائم کرتے ہوئے اپنے تعلیمی مسائل کا حل دریافت کر سکتا ہے۔ اساتذہ خود کے لیکچر کے علاوہ دنیا بھر کے کسی بھی ماہر تعلیم کے لیکچر آن لائن سہولت ک ذریعے کرواسکتے ہیں۔ کمرہ جماعت یا ای کلاس روم میں پراجکٹر کی مدد سے اسکائپ کالنگ کرتے ہوئے دنیا کے کسی بھی مقام سے کسی ماہر استاد کا لیکچر کرانا اب انٹرنیٹ کی بدولت عام ہوگیا ہے۔ طلباء اب کتب خانے کا رخ نہیں کرتے اور وہ اپنے کمپیوٹر اور فون پر ہی کتابیں پڑھنا چاہتے ہیں۔ اب اصل کتاب کی جگہ ای بک نے لے لی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اساتذہ ای بک کے خزانے سے واقف رہیں۔ اردو میں ریختہ نامی ویب سائٹ پر بیش قیمت قدیم و جدید کتابیں دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ پی ڈی ایف کی شکل میں لاکھوں کتابیں نیٹ پر دستیا ب ہیں جو آسانی سے ڈائون لوڈ کرنے کے بعد فون یا کمپیوٹر کے اسکرین پر پڑھی جاسکتی ہیں۔ اب کوئی طالب علم یا کوئی استاد یہ شکایت نہیں کرسکتا کہ اسے کسی موضوع پر کوئی کتاب یا مواد دستیاب نہیں ہے۔

بات اگر مقابلہ جاتی امتحانات کی ہو تو ہمارے ہاں ساکشی ایجوکیشن نامی ویب سائٹ ہے جہاں تمام مسابقتی امتحانات کے سابقہ پرچہ جات اور معروضی سوال جواب پر مبنی بیش قیمت مواد تلگو اور انگریزی میں دستیاب ہے۔ اساتذہ کو چاہئے کہ وہ دستیاب مواد کی جانب طلبا کی رہنمائی کریں۔موجودہ دور کے تعلیمی نظام کا اہم مسئلہ وقت کی تنظیم بھی ہے کیوں کہ مواد زیادہ اور وقت کم ہے۔ ایسے میں اپنے لئے کیا ضروری ہے اور کیا ضروری نہیں اس بات کا فیصلہ طلبا اپنے اساتذہ کے مشوروں سے کریں۔ اساتذہ طلبا کو بار بار اس جانب متوجہ کریں کہ طالب علمی کے زمانے میں اسمارٹ فون اور کمپیوٹر کا بہتر استعمال ضروری ہے۔ فیس بک اور واٹس اپ کا علمی ضروریات کے لئے استعمال ہو۔ آج کا نوجوان ساری دنیا سے تو رابطے میں ہے لیکن اسے اپنے عزیز و اقارب سے ملنے کا وقت نہیں۔ ٹیکنالوجی کی ترقی نے اخلاقیات پر بہت برا اثر ڈالا ہے۔ اور اخلاقیات کے بارے میں طالب علموں اور اساتذہ دونوں کو مثبت رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ بات سرکاری مدارس کے اساتذہ کی چلی تھی۔ ان دنوں دوپہر کے کھانے کی اسکیم ہر سرکاری اسکول میں ہے۔ اور اکثر جگہ شکایت ہے کہ کم طلبا کو کھانا کھلا کر زیادہ طلبا کے نام سے چاول اٹھائے جارہے ہیں اور اِضافی چاول چوری سے باہر فروخت کئے جارہے ہیں۔ معلمی کے پیشے کے لئے یہ زیبا نہیں دیتا کہ وہ چوری کرے لیکن یہ ہورہا ہے اور اساتذہ معطل ہوکر پیشہ معلمی کو بدنام کر رہے ہیں۔ اساتذہ کا وقت پر اسکول نہ پہونچنا۔ اسکول نہ جاکر دستخط کردینا۔

Bribery
Bribery

رشوت دے کر دستخط کروانا اسکول میں کمرہ جماعت میں جانے کے بجائے فضولیات میں وقت برباد کرنا۔ اور سرکاری مراعات کو اپنی ذات کے لئے استعمال کرنا جیسی بیماریاں عام ہیں۔ خاتون اساتذہ بھی اس معاملے میں کچھ کم نہیں ۔ اسٹاف روم میں گپیں مارنا طلبا سے کام لینا اور وقت سے قبل اسکول سے گھر چلے جانا ان کے لئے عام بات ہے۔ اساتذہ کے اس کردار کو دیکھ کر عوام سرکاری مدارس میں اپنے بچوں کو پڑھانے سے کترارہے ہیں۔ ایک طرف حکومت سرکاری مدارس کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لئے بھاری سرمایہ صرف کر رہی ہے دوسری طرف اساتذہ کے کردار کا یہ عالم ہے۔ تلنگانہ میں حکومت نے حاضری میں باقاعدگی لانے سرکاری ملازمین کے تھمب امپریشن پر مبنی بائیو میٹرک حاضری نظام جاری کیا اور دوسری طرف اسکالرشپ بے قاعدگیوں کو دور کرنے طلبا کے آن لائن داخلوں کا نظام شروع کیا گیا ہے۔ لیکن چور دروازوں سے حکومت کو بے وقوف بنانے کا سلسلہ ہر دو جانب سے جاری ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ اخلاقیات کی تعلیم کو عملی طور پر لاگو کیا جائے۔

آج انٹرمیڈیٹ کے نصاب میں اخلاقیات اور انسانی قدریں اور ڈگری کے نصاب میں قدری تعلیم جیسے موضوعات کو شامل کیا گیا ہے لیکن اساتذہ اس نصاب کو دلچسپی سے نہیں پڑھا رہے ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ سماج سے ان افراد کو مدعو کی جائے جن کا سماج میں ادب اور مقام ہے اور لوگ ان کی بات کو مانتے ہیں۔ مذہبی رہنمائوں اور سماجی مصلحین کو مدعو کی جائے اور ان سے لیکچر کروائے جائیں۔ طلبا میں اپنے مذہب کا شعور بیدار کیا جائے۔ اساتذہ کی تربیت کے لئے شخصیت سازی کے لیکچر کروائیں جائیں۔ اساتذہ اور طلبا دونوں اقدار کی پابندی کریں تو امید ہے کہ تعلیمی نظام میں آئے بگاڑ کا خاتمہ ہو اور اقدار کے حامل صالح نوجوان ملک کی تعمیر کے لئے تیار ہوں گے۔ ورنہ تعلیم میں ترقی تو ہورہی ہے لیکن اقدار کے بگاڑ کے سبب تعلیم کے نتائج فرد اور سماج کو نہیں مل رہے ہیں۔ اس لئے اس یوم اساتذہ پر اساتذہ کے لئے یہی پیغام ہے کو وہ عصر حاضر کے تکنیکی اور سماجی تقاضوںسے واقف ہوں اور ان سے ہم آہنگ ہوکر ایک مثالی استاد بنیں۔

Mohammad Mehboob
Mohammad Mehboob

تحریر: محمد محبوب ظہیر آباد

Share this:
Tags:
contemporary knowledge landscape responsibility teacher اساتذہ ذمہ داریاں علم منظر نامہ
Malika
Previous Post چوہدری عبدالحق مرالہ کے بہنوئی حاجی حاکم علی چوہدری رضائے الہی سے انتقال کر گئے ہیں
Next Post پاکستان کے خلاف انگلینڈ کے ٹی ٹوئنٹی سکواڈ کا اعلان
Ben Stokes

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close