
مہمند ایجنسی : ہیڈکوارٹر غلنئی میں عوام نے ایجنسی میں 23 گھنٹے لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر کے پشاور باجوڑ شاہراہ کو ایک گھنٹے کیلئے بلاک کیا۔ مظاہرین نے مین شاہراہ پر ٹائر جلا کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔
واضح رہے کہ مہمند ایجنسی میں 23 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے اور بجلی کا وولٹیج انتہائی کم ہے جس سے روزمرہ کی معمولات بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سماجی ورکر میر افضل مومند نے کہا کہ فاٹا میں بجلی کی بحالی کے لئے کروڑوں روپے مختص کئے گئے تھے مگر بجلی کی صورتحال روز بروز خراب ہوتی جارہی ہے جن کی وجہ سے زندگی بُری طرح متاثر ہوگئی ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ اگر بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ میں کمی نہیں کی گئی تو ہم سخت احتجاج پر مجبور ہوجائینگے۔
یاد رہے کہ ایجنسی میں موجود کارخانوں کو مسلسل بجلی فراہم کی جارہی ہے جن سے کروڑوں روپے واپڈا اور انتظامیہ کو مل رہے ہیں مگر ایجنسی کے عام لوگوں کو ایک گھنٹے کی بجلی نہیں مل رہی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے صدر سجاد مومند نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیٹیکل انتظامیہ کے افسران سرکاری خزانے کے تیل سے جرنیٹروں کے مزے لے رہے ہیں جبکہ عوامی نمائندے اسلام آباد میں روپوش ہیں ایجنسی کے عام عوام بجلی کے لئے ترس رہے ہیں مگر کوئی پرسان حال نہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ اگر بجلی کے لوڈشیڈنگ میں کمی نہیں کی گئی تو وہ سخت احتجاج پر مجبور ہو جائینگے۔
مظاہرین نے وااپڈا مردآباد کے نعرے لگائے۔۔۔
