
مہمند ایجنسی : اپر سب ڈویژن خویزئے میں اپریشن متاثرین کی اپنی آبائی علاقوں کو واپسی اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ خویزئے پیر عبداللہ شاہ، تحصیلدار تنزیل داوڑ اور مہمند رائفلز کے افسران اور قبائلی مشران نے متاثرین کا پرتپاک استقبال کیا۔
مہمند ایجنسی کی اپر سب ڈویژن خویزئے اٹا بازار میں ایک استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، تقریب میں اپریشن سے متاثرہ خاندانوں کی واپسی پر پولیٹیکل انتظامیہ، مہمند رائفلز اور قبائلی مشران نے اٹا بازار میں آنے والے متاثرہ خاندانوں کا استقبال کیا اور پھولوں کے ہار پہنائے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنت پولیٹیکل ایجنٹ پیر عبداللہ شاہ نے کہا کہ اج بہت خوشی کا دن ہے کہ اپریشن سے متاثرہ خاندان اپنے گھروں کو واپس اگئے ہیں ۔ان لوگوں کی قربانیاں لائق ستائش ہیں کیونکہ ان لوگوں نے ملک کی خاطر اپنے گھر اور علاقے چھوڑے ہیں۔
ہم متاثرہ خاندانوں کے ساتھ وعدہ کرتے ہیں کہ ان کے تمام مشکلات دور کئے جائے گے اور ہم ان خاندانوں کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کے لئے تیار ہیں۔اُنھوں نے مزید کہا کہ جو لوگ واپس آگئے ہیں اب ان پر ایک بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہیں کہ علاقے کی تعمیر و ترقی میں آپنا کردار ادا کریں اور ہر اس طاقت کا راستہ روکیں جو علاقے کی امن کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
تقریب سے سابقہ امن کمیٹی کے سربراہ ملک سلطان، عوامی نیشنل پارٹی کے صدر نثار مومند، ملک احمد، ملک نسیم ، ملک ظریف اور ملک رویش نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ہم پاک فوج کے انتہائی مشکور ہیں جن کی قربانیوں کی وجہ سے علاقے میں امن کی فضا قائم ہوئی۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ اب وقت ہے کہ اپنے علاقوں کو امن کا گہوارہ بنائے اور تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ دوبارہ ایسے صورتحال نہ ائے جس کی وجہ سے ہمیں اپنا علاقہ اور گھر چھوڑنا پڑیں۔
تقریب سے متاثرہ خاندانوں کے اہلکاروں نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ اج انتہائی عظیم دن ہے کہ ہم اپنے گھروں کو واپس ائے ہم انتظامیہ کے انتہائی مشکور ہیں کہ انھوں نے ہمیں یہ عزت بخشی کہ ہمارہ استقبال کیا اور ہماری گھروں کی واپسی کو یقینی بنایا۔ ہم اپنے علاقوں کی تعمیر و ترقی میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرینگے۔
یاد رہے کہ تقریب میں چھ سو کے لگ بھگ لوگوں نے شرکت کی، آنے والے متاثرین کے بچوں اور عورتوں کے چہروں پر خوشی اور مسرت کے آثار نمایا ں تھیں اور علاقے کو واپسی پر انتہائی خوش دکھائی دے رہے تھے۔
یاد رہے کہ یہ متاثرہ خاندان 2009-2010 میں اُس وقت اپنے گھر چھوڑ کر گئے تھے جب مہمند ایجنسی میں امن کی حالات انتہائی محدوش ہوگئے تھے۔
