Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پیسہ ہی نہیں ‘ریاست بھی واگزار کرائی جائے

June 25, 2016June 25, 2016 1 1 min read
Royal Court
Royal Court
Royal Court

تحریر : قاضی کاشف نیاز
ایک عرصے بعد پاکستان کے لیے ایک بڑی حوصلہ افزا اور خوش کن خبرآئی کہ پاکستان بھارت کے خلاف حیدرآباد دکن فنڈ کامقدمہ جیت گیاہے۔ یہ مقدمہ برطانیہ کی لندن ہائی کورٹ میں68سال سے زیرسماعت تھا۔ دفترخارجہ کے مطابق انگلش ہائیکورٹ نے بھارت کی طرف سے پاکستان کے حیدرآباد فنڈ دعویٰ کے خلاف کوشش کو مسترد کردیا۔انگلش کورٹ کی طرف سے منگل کو سنائے گئے75 صفحات کے فیصلے میں جج ہینڈرسن نے واضح طورپر پاکستان کے اصولی موقف کی تصدیق کردی۔بھارت عدالت میں پاکستان کے اس دعویٰ کو غلط قرار دلوانے میں ناکام رہا کہ 20 ستمبر 1948ء سے پاکستان کے ہائی کمشنر کے نام پر بنک میں پڑے ہوئے 35 ملین برطانوی پاؤنڈپاکستان کی ملکیت ہیں۔ جج نے اس بات کو قبول کیا کہ اس رقم کے پاکستانی دعویٰ کی حمایت میں مضبوط شہادت موجود ہے جن کو ٹرائل کے دوران پوری طرح سے زیر غور لایا جائے گا۔

جج نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پاکستان کے موقف کے حق میں مضبوط قانونی دلائل دئیے گئے ہیں۔ بھارت کو اس کی درخواستیں مسترد ہونے کے نتیجے میں کافی اخراجات کے دعویٰ کا سامنا کرنا پڑے گا۔1947-48ء کے واقعات بہت گھمبیر تھے۔ ریاست حیدرآباد دکن (جسے جج نے اس وقت ایک آزاد ریاست تسلیم کیا)پر بھارتی حملے اور قبضے کا خطرہ تھا۔ اس نے پاکستان کو مدد کیلئے بلایا۔ برطانوی حکومت کی دستاویزات کے ریکارڈ کے مطابق برطانوی حکومتی حکام کو بھارت کے ریاست (حیدرآباددکن) اور اس کے عوام کے ساتھ سلوک کے بارے میں تشویش تھی جس میں محاصرہ کئے جانے، ریاست میں خوراک اور ادویات کی سپلائی روکنے کی وجہ سے نظام کو بھارت میں شمولیت پر مجبور ہونا پڑا۔ جج کے سامنے رکھی گئی اعانتی شہادتیں برطانیہ کے سرکاری آرکائیو سے آئی تھیں جو اس وقت کی برطانوی انٹیلی جنس رپورٹس اور برطانوی حکومت کی دستاویزات پر مشتمل تھیں جو برطانوی حکومت کی طرف سے سارے معاملہ کا علم رکھنے سے متعلق تھیں۔

بھارت کی طرف سے اس مواد کو مسترد کیا گیا حالانکہ یہ برطانوی انٹیلی جنس ذرائع سے آیا تھا اور بھارت کی طرف سے کہا گیا کہ آخری ساتویں نظام نے اسے یہ رقوم پاکستان کو منتقلی کے بعد دنوں کے اندر واپس لانے کے لئے کہا تھا کیونکہ یہ ان کی مرضی سے پاکستان کے حوالے نہیں کی گئی تھیں۔ جج نے آبزرویشن دی کہ ان حالات میں جب بھارت نے ملک پر قبضہ کرلیا اور اسے زبردستی اپنے آپ کو حوالے کرنے اور اختیارات دینے پر مجبور کردیاتوساتویں نظام سے اپنی آزادانہ خواہش کی توقع نہیں رکھی جاسکتی تھی۔ جج نے کہا کہ یہ تصور کرنا بے وقوفی ہوگی کہ انڈین قبضے کے بعد نظام نے یہ مطالبہ اپنی مرضی سے کیا ہوگا۔

Pakistan
Pakistan

اس مقدمے کی اب اس کے حل کئے جانے تک سماعت ہو گی۔ ستمبر 1948ء میں اس وقت کی دکن حکومت کے وزیر خزانہ نے 940،1.007 پائونڈ اور 9 شیلنگ کی رقم خاموشی کے ساتھ لندن میں اس وقت کے پاکستانی ہائی کمشنر حبیب ابراہیم رحمت اللہ کے نام بنک میں جمع کرا دی تھی جو اب بڑھ کر 3کروڑ 50 لاکھ پائونڈ ہوچکی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے ایک بیان میں کہا کہ75 صفحات پر مبنی عدالتی فیصلہ حیدر آباد فنڈ پر پاکستان کے اصولی موقف کی تائید ہے۔یقینا یہ بات درست ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیاہمارا اصولی موقف صرف پیسوں کے حصول کی حدتک تھا۔ یہ پیسے اگرپاکستانی روپوں میں بدلے جائیں تو 5ارب روپے سے کچھ زائد بنتے ہیں۔اگرچہ یہ کسی حدتک ایک خطیررقم ہے لیکن اتنی بڑی بھی نہیں کہ اس کے لیے ہم حیدرآباد دکن کے حوالے سے اپنے اصل اصولی مؤقف کو یکسرفراموش کیے رکھیں۔رقم چاہے اس سے بھی کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوتی’قومیں پیسوں کے عوض اپنے اصل موقف کو کبھی نہیں بھولتیں۔

پاکستان کااصل موقف تو حیدرآباد دکن کی پوری ریاست پراپنے دعویٰ کا تھا۔ آج پیسوں کے اس کیس میں خود برطانوی جج نے تسلیم کرلیاکہ بھارت نے حیدرآباد دکن پر بزور طاقت قبضہ کیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ نظام حیدرآباد نے اگر قبضے کے بعد حیدرآباد دکن فنڈ کاپیسہ پاکستان سے واپس کرنے کوکہا تھا توبرطانوی جج کے نزدیک نظام کایہ کہنابھارتی قبضے کے بعد کبھی بھی آزادانہ نہیں ہوسکتا۔حیدرآباددکن کے حوالے سے پاکستان ہمیشہ یہ کہتاآیاہے کہ نظام حیدرآباد نے اصولی طورپر پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کر لیاتھا لیکن بھارت نے 11ستمبر1948ء کو قائداعظم کی وفات کے فوراً بعد حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 13ستمبر1948ء کو وہاں پولوآپریشن کے نام سے ملٹری ایکشن کیا۔ 2لاکھ کے قریب لوگوں کا وہاں قتل عام کیاگیا۔

نظام نے قتل وغارت روکنے کی شرط پرہتھیار ڈالنے اور بھارتی فیصلوں کو مجبوراً تسلیم کرنے کااعلان کردیا۔ اب ظاہرہے یہ سب کچھ بھارت نے نظام سے گن پوائنٹ پرکرایا۔اس کی تصدیق حیدرآباددکن کے فنڈ کے مقدمے سے اب واضح طورپرسامنے آگئی ہے۔جب ایک برطانوی ہائیکورٹ کاجج صرف مال مقدمہ کے فیصلے میں بھارت کی یہ بات تسلیم کرنے کے لیے تیارنہیں کہ نظام نے بھارتی قبضے کے بعدپاکستان سے پیسے کی واپسی کامطالبہ آزادانہ کیاہوگا’توپوری ریاست کے حوالے سے اگربھارت کی طرف سے نظام کی بات سامنے لائی جائے کہ اس نے بھارتی قبضے کے بعد بھارت کے حق میں الحاق کی حمایت کردی تھی تو یہ بھی اسی طرح کابلکہ اس سے بھی بڑا جھوٹ ہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست حیدرآباددکن پربزور طاقت بھارتی ناجائزقبضے کابھی پوری دنیانوٹس لے۔

Court
Court

پاکستانی حکام کا خاص طورپر فرض ہے کہ وہ مال مقدمے پربھارتی جھوٹ واضح ہونے کے بعدصرف اس پراطمینان کاسانس لے کرخاموش نہ ہوجائیں بلکہ اس سے فائدہ اٹھاکرریاست پر بھارت کے ناجائز قبضے کو بھی پوری دنیاکے ہرفورم اور ہرادارے میں بے نقاب کریں۔جوناگڑھ’مناوادر’کشمیراورمشرقی پاکستان پربھی اسی طرح بھارت نے ملٹری ایکشن کرکے ہی قبضے کیے۔ اب بھارت کے ان غاصبانہ ہتھکنڈوں کوپوری دنیاکے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ افسوس کی بات تویہ ہے کہ بھارت کی جواہرلال نہرویونیورسٹی کی ہندوپروفیسرز نویدیتامیمن’ تانیکالرکاراورپروفیسرہیلی مون توچندماہ قبل ببانگ دہل یہ کہہ چکے ہیں کہ بھارت نے غیرقانونی طورپرنہ صرف جموں کشمیر’حیدرآباددکن’جوناگڑھ بلکہ منی پور اور ناگالینڈ پربھی جبری طورپر قبضہ کررکھاہے۔نویدیتامیمن کے بیان کی ویڈیو یوٹیوب پر بھی موجودہے لیکن پاکستان میں اس مسئلے پر مکمل خاموشی ہے جسے توڑنااب ازحدضروری ہے۔

یہ بات یادرہے کہ قیام پاکستان سے قبل حیدرآباددکن کی ریاست ایک آزاد وخودمختار ریاست تھی۔1292ء میں علاؤالدین خلجی نے اس ریاست کو تسخیرکیااور یہاں سے خراج لیتارہا۔بعدمیں حسن گنگو بہمنی نے آزاد وخودمختار اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھی ۔اورنگ زیب عالمگیر کے کمانڈر قمرالدین خان نظام الملک نے اٹھارہویں صدی میں اس کی عنان اپنے ہاتھ میں لے لی اور پھر سات پشتوں تک ان ہی کے خاندان میں یہ حکومت رہی۔ ریاست کارقبہ فرانس کے برابر ہے۔ جب سعودی عرب میں تیل دریافت نہ ہوا تھا توحیدرآباد دکن سعودی عرب کا ایک تہائی بجٹ برداشت کرتی تھی۔ دیگر عرب اورمسلم ملکوں کی بھی یہاں سے کافی امداد کی جاتی۔علامہ شبلی نعمانی ‘علامہ سید سلمان ندوی’علامہ اقبال اورایسے بہت سے مشاہیر اسلام کو یہی مملکت و ظائف عطاکرتی تھی۔

1924ء میں مسلمانوں کے معزول ہونے والے آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید کی بیٹی دکن کے آخری نظام آصف کی بہوتھیں۔ غرض نظام حیدرآبادکی تمام ترہمدردیاں اسلام اور عالم اسلام کے ساتھ تھیں تووہ پاکستان کے خلاف کیسے ہوسکتاتھا۔پاکستان بنا تواس کے حصے کے صرف 3فیصد ہتھیار بھارت نے پاکستان کو لینے دیئے۔سرکای ملازموں کی تنخواہوں کے لیے خزانے میں پھوٹی کوڑی بھی نہ تھی۔ان حالات میں ہندوبنئے کاخیال تھاکہ پاکستان بمشکل چندماہ ہی چل سکے گا۔اس مشکل وقت میں حیدرآباددکن نے پاکستان کی10کروڑ کی امداد کی خواہش پر20کروڑ تمسکات کی امداد کی۔1948ء میں پیپرمل کے لیے دکن آنے والی مشینری نظام کے حکم پرمشرقی پاکستان کی بندرگاہ پراتارلی گئی۔

State Bank
State Bank

پاکستان بننے سے پہلے ہی مملکت دکن کی جانب سے پاکستان میں سفارتخانہ کھول دیاگیا۔ اسٹیٹ بنک آف حیدرآباد دکن بھی قائم ہوچکاتھاجس میں مملکت دکن کا52کروڑ اثاثہ جمع تھا’یہ بھی پاکستان کے حوالے کردیاگیا۔ آج بھی عبداللہ ہارون روڈ کراچی پراسٹیٹ بنک کی بلڈنگ حیدرآباددکن کی خریدی ہوئی ہے۔ یورپی ممالک کے بنکوں میں جورقومات مملکت دکن کی جمع تھیں’ وہ بھی حکومت پاکستان کومنتقل کردی گئیں۔ہتھیاروں سے بھرے ہوئے جہاز جو حیدرآباد نے منگوائے تھے’بھارت کے قبضہ شروع ہونے کے خدشہ کے تحت کراچی اور چٹاگانگ روانہ کردیے گئے۔جوسوناملکی حالات کی سنگینی کی وجہ سے پاکستان منتقل کیاگیاتھا’وہ بھی سقوط دکن کے بعدحکومت پاکستان کو ہی ملا۔کیاکوئی معمولی عقل رکھنے والا بھی یہ سوچ سکتاہے کہ بھارت کی بجائے پاکستان کی ہرطرح سے مدد کرنے والا بلکہ پاکستان پر اپنے سارے وسائل نچھاور کرنے والا حکمران پاکستان کی بجائے بھارت سے الحاق کا فیصلہ کر سکتاہے۔

یہ سب تو تاریخی حقائق کوجھٹلانے کے مترادف ہے۔ تاریخی حقائق تویہ ہیں کہ نظام آف حیدرآباد دکن نے بھارتی قبضے کے بعد بھارت کواستصواب رائے کی پیشکش بھی کی تھی لیکن بھارت اسے بھی نہ مانا۔حیدرآباد دکن کے ریاستی ذمہ داران بھارتی ملٹری ایکشن کے خلاف اپنا کیس سلامتی کونسل بھی لے گئے لیکن یہ کیس آج تک کشمیرکی طرح اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہونے کے باوجود سردخانے میں پڑاہے۔

Kashmir Protest
Kashmir Protest

اب وقت آگیاہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کی طرح حیدرآباددکن اور جوناگڑھ ومناوادر کے مسئلوں کو بھی زندہ کرے۔ خاص طورپر حیدرآباددکن فنڈ کاجوفیصلہ پاکستان کے حق میں ہوا’اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاکر بھارت سے نہ صرف پیسہ لیاجائے بلکہ ریاست بھی واگزار کروائی جائے۔اس لیے کہ قومیں اپنا اصولی موقف کبھی نہیں چھوڑتیں ‘نہ اپناایک انچ بھی کبھی دشمن کو بخشتی ہیں۔

تحریر : قاضی کاشف نیاز
برائے رابطہ: 0301-4446070

Share this:
Tags:
High Court India money pakistan state بھارت پاکستان پیسہ ریاست ہائیکورٹ
Exercise
Previous Post لاہور کی خبریں 25/6/2016
Next Post مصطفی آباد/للیانی کی خبریں 25/6/2016
Lalyani

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close