Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ارے امی جان….کیا کر دیا آپ نے

November 15, 2017 1 1 min read
Farooq Sattar Mother
Farooq Sattar Mother
Farooq Sattar Mother

تحریر : قادر خان یوسف زئی
ماں، ماں ہوتی ہے ، اپنی اولاد کی غلطیوں و کردہ ، ناکردہ گناہوں پر پردہ ڈالنے کیلئے کسی بھی وقت اپنی جان بھی لٹانے کے لئے تیار رہتی ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کی والدہ نے بھی اپنے بیٹے کے آگے ڈھال بن کر سنگ باری ، طعنہ زنی کو اپنے سینے پر لے لیا۔

کراچی بھی سندھ دھرتی ماں کا ایک حصہ ہے جسے لسانیت ، قوم پرستی ، صوبائیت ، فرقہ واریت کے نام پر ہمیشہ روندا جاتا رہا ۔دھرتی ماں کی چادر کو پیروں تلے خوب روندا جاتا ہے ۔ آج فاروق ستار کی والدہ کا چہرہ دیکھ کر مجھے پانچ برس کی لائبہ کی ماں یاد آرہی ہے جس کی بیٹی مدرسے جانے کے لئے اپنے گھر کے دروازے پر کھڑی تھی کہ” نامعلوم” سمت سے” نامعلوم فرد” کی” نامعلوم “گولی نے معصوم بچی کا سینہ ادھیڑ کرکھ دیا ۔ برسا برس کی منتوں سے مانگی جانے والی نرینہ اولاد اپنی دکھیاری ماں کو ہمیشہ کیلئے روتا چھوڑ گئی۔مجھے اُس بچی کی ماں کوبھی یاد ہے، جس کی معصوم کلی گھر سے ٹافی لینے نکلی تھی اور اور پھر” نامعلوم” سمت سے” نامعلوم فرد” کی” نامعلوم “گولی اس کے سر میںجاگھسی اور پھول بن کھلے مرجھا گیا ۔ میں نے اُس بچے کی ماں کو بھی دیکھا جس کا بچہ شام کے وقت شہر بھر سے کچرا چُن کر اپنے ماں کے لئے روٹی لاتا تھا ، لیکن جب اس کامعصوم جسم گولیوں سے چھلنی اُس کی ماں کے سامنے تھا تو اس کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسوئوں سے آسمان سے بادل گرجے بغیر برسے۔ میں آج بھی اُس ماں کو چپ نہ کراسکاجس کے نوجوان اکلوتے بیٹے کی شادی تھی ، لیکن اس کا جوان بیٹا ، دولہے کے بجائے میت کے پھولوں میں سج کر مٹی میں دفن ہوا۔

میرے سامنے ایک چائے والی کی ماں کا گریہ بھی ہے جو میرا گریبان پکڑ کر پوچھ رہی تھی کہ کیا کراچی والوں کے خزانے لوٹے تھے اس نے ۔ کسی زمین پر قبضہ کیا تھا ، کسی کی وزرات چھینی تھی ۔ میرے سامنے وہ ماں بھی تھی جس کا مزدور بیٹا ہڑتال کے باوجود کام پر اس لئے نکلا کیونکہ اُسے روز کنواں کھودکر پانی پینا ہوتا تھا ۔ لیکن جب اس کا جسد خاکی گھر پہنچا تو اس کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں تھا جو تشدد سے سلامت رہا ہو۔ماں اپنے بیٹے کے جسم سے لپٹ لپٹ کر رو رہی تھی کہ اب اُن کا کیا ہوگا ۔ تم تو خدا کے پاس چلے گئے ہو ، ہمیں کس کے آسرے پر چھوڑگئے۔ میں بس کنڈیکٹر ، ٹیکسی ڈرائیور ، رکشہ ڈرائیور کی مائوں کے ہاتھوں کو نیچے نہیں کرسکا جو ہاتھ اٹھا اٹھا کر اللہ تعالی سے انصاف کی بھیک مانگ رہی تھی ۔ میں نے ایسی مائوں کے حوصلے بھی دیکھے کہ وہ سوختہ لاشوں میں دوسری ماں کو بھی جھوٹی تسلی دے رہی تھی کہ کچھ نہیں ہوگا ۔ تمہارے بچے کو کچھ نہیں ہوا ، وہ زندہ ہیں ، ابھی پکاریں گے ۔ ابھی آواز دیں گے ۔ بہنا صبر کرو۔۔ پھر یہی جھوٹی تسلی دوسری ماں بھی کسی کو ماں کو دے کر جھوٹ کو سچ مان رہی تھی ۔میں نے مائوں کو ہی نہیں ان بچوں کے والد کو بھی دیکھا جو اپنے بچوں کے قاتلوں سے پوچھ رہے تھے کہ اُن کے ایم پی اے کے میرے جگر گوشے نے تو نہیں مارا تھا ۔ میں نے اُن کو بھی دیکھا کہ جو دن بھر کی محنت کے بعد تھکے ہارے پل کے نیچے سوتے تھے جنہیں صرف اس لئے مار دیا جاتا تھا کیونکہ وہ عروس البلاد میں محنت کرنے آئے تھے ۔ میں سب کچھ دیکھتا ہی رہ گیا۔ سنتا رہا ، میڈیا کو لے لے جا کر اُن محنت کشوں کے جلے ہوئے گھر ، ان کی لوٹی ہوئی دوکانیں ، ان کے پتھارے، ان کی جمع پونجی سے بنائی ہوئے کاروبار کی سوختہ لاشوں کو دکھاتا رہا ۔میڈیا مجھ سے پوچھتا کہ آج کا اسکور کتنا ہوا ۔ آج ٹوٹل کتنے ہوگئے اور میں ایک چھوٹے سے ایس ایم ایس میں بتاتا کہ آج کے بیس شہید ملا کر تین دن میں ایک سو تیس ہوگئے ہیں۔

سیاست کرنے والے سیاست کرتے رہے ، جھنڈا ٹھانے والوں کے جنازے گرتے رہے ،لیکن یہ جھنڈا پاکستان کا نہیں،علاقوں کی تسخیر کیلئے رنگ برنگے رنگوں والے تھے ۔کراچی کے امن کا بٹن آن آف ہوتا رہا اور پھر ردعمل کا بھیانک سلسلہ بھی جاری ساری رہا۔ مائوں نے اپنے معصوم بچوںکے ساتھ زیادتی کی ویڈیو میں منت سماجت روتے بلکتے اور رحم کی اپیلوں کو دیکھا ۔ مائوں نے اپنے بچوں کے بریدہ سروں کو فٹ بال کی طرح کھیلتے درندوں کو بھی دیکھا ۔ مائوں نے اپنے بچوں کی کٹی پٹی سر بریدہ لاشوں کو بھی دیکھا اور مائیں دیکھتی رہیں کہ رنگ برنگی جھنڈوں میں ایک لاش شہدا قبرستان جاتی تو سو لاشیں اونچے اونچے پہاڑوں میں بنی جھونپڑیوں کے ساتھ لحد میں ۔۔میں نے نازک جگہوں پر ایلفی ڈلے اور کان کٹنے والے طالب علموں کوبھی دیکھا ، میں نے ان کی روتی التجائوں میں اپنے گھر واپس جانے کے لئے بحفاظت کراچی سے باہر چھوڑنے کیلئے درخواستوں پر بھی رویا ۔ میں نے گھروں سے بے گھر کئے جانے والوں کی داد و فریاد بھی اور جلسوں میں گرجتے لیڈروں کے نعروں کے جواب میں بارود کی گونج بھی سُنی ۔

آج صرف کراچی کی مائوں کے بین نہیں بلکہ پاکستان بھر کی تمام دکھیاری مائیں سینہ کوبی کرتے ہوئے، اُس ماں سے سوال کررہی ہیں کہ امی ۔۔۔ اس وقت کہاں تھی آپ، جب میرے بچے کے کان ، ہاتھ ، پیر اور سر کاٹے جا رہے تھے ۔ امی جی ۔۔اُس کہاں تھی آپ، جب میرا بچہ اپنے بھائی ، بہنوں کے لئے اپنے وطن پاکستان کے شہر میں تاریک وطن کے طرح چھپ چھپ، روز ڈر اور مر کر مزدوری کرتا تھا ۔ پاکستان کے بیٹے پوچھتے ہیں کہ امی جی ۔۔۔ بتائیں نا ۔۔ کیوں خاموش ہیں کیا اُن جوان زخمیوں کو نہیں دیکھا جو نامعلوم افراد کی جانب سے اسپتال جاتے تو انہیں زہر کا انجکشن لگا کر مار دیا جاتا تھا ۔ امی جی ۔۔۔ ایک بیٹے کو گلے لگا کر پھر کراچی کو کس آگ میں جلانا چاہتی ہیں۔ کیا نہیں دیکھا تھا کہ پاکستان بنتے وقت کتنی مائوں ، بہنوں کی عصمت تار تار ہوئیں ، اُس وقت آپ کون تھی ؟۔ آپ کیا چاہتی تھی ؟۔ آپ کا نعرہ کیا تھا ؟۔ کیوں اپنے آبا و جداد کی زمین کو چھوڑ کر پاک زمین کے نام سے بننے والے چھوٹے ، غریب اور مشکلات سے گھرے خطے میں جا رہی تھیں ، کیا اس لئے کہ ایک ہجرت کرنے والا اٹھے اور قربانی دینے والوںکو غدار بنا دے ۔ امی جان ۔۔۔ میں کیا کہوں ، میں تو خود شرمندہ ہوں کہ اس گورکھ دھندے کو دیکھتا رہا لیکن کچھ کر نہ سکا ۔۔۔ امی جان آپ جانتی ہو کہ میرا گلے کو کاٹ کر مجھے بوری میں ڈال کر پھینکا گیاتھا لیکن میں، نہ جانے کیوں بچ گیا ۔ 38ٹانکے میرے گلے میں لگے ، امی جان جانتی ہو میرا کیا قصور کیا تھا ۔ میں بس ہجرت کرکے نہیں آیا تھا۔ پشتو بولتا تھا ۔۔۔ سنو ،،سنو امی جان ، آپ فاروق ستار بھائی کی ہی نہیں میری بھی ماں ہیں ، ۔۔۔ مجھے میری زبان بولنے والوں نے بھی چھ گولیاں ماریں کیونکہ میں آپ کے بیٹے کے ساتھ اس لئے تھا کہ وہ کہتے تھے کہ اب ہم مہاجر نہیں سب پاکستانی ہیں ،یہ ذاتیں تو صرف پہچان کے لئے ہیںمیں پشتو بولنے ولا ، اردو بولنے والوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑا تھا یہی میرا قصور بنا اور آج بھی ایک گولی اپنے کندھے میں امانت کے طور پر لئے پھر رہا ہوں ۔

، امی جان ۔قاتل کون ، مقتول کون تھا، آپ شائد کچھ نہیں جانتی ورنہ اپنے بیٹے کو روک لیتی ۔ اُس غدار نے ان گنت نوجوانوں کو گمراہ کیا ، پاکستان کے لئے قربانی دینے والوں کو ہی پاکستان کا غدار بنانے لگ گیا ، امی جان آپ کسی ماں ہیں کہ آپ نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ آپ کی پہچان تو پاکستان ہے ۔ آپ نے پاکستان بنتے ضرور دیکھا ہوگا ۔ آپ نے ہجرت بھی کی ہوگی ، کتنی بیٹوں کے عصمتوں پر اپنے آنسوئوں کی چادر ڈالی ہوگی ۔ نہیں امی، نہیں آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔ امی جان ۔۔۔۔ آپ کا ایک فیصلہ لاکھوں انسانوں کو پھر35برس پیچھے نفرت کی وادی میں لے گیا ۔ مجھے انیس بھائی سے بھی کوئی گلہ نہیں ، ان کے ہوتے ہوئے بھی مجھے ناکردہ گناہوں میں ان کے ساتھیوںنے سات مہینے بے گناہ اسیر کروایا ، ۔۔میں نے تو کئی برس پہلے ہی لکھ کر دے دیا تھا کہ انیس بھائی بھول مت جانا ۔۔ لیکن انیس بھائی سب کچھ بھول گئے ۔۔۔ مجھے اب انہیں یاد کرانے کی ضرورت نہیں ، کہ وہ کس راستے پر ہیں ان کے کیا مقاصد تھے ، میرے سندھ کے اردو بولنے بھائیوں ، اپنے محلے کی ہر اس گلی میں ضرور جانا ، جہاں کسی نہ کسی گھر سے جنازہ ضرور نکلا ہوگا ، وہاں رک کر ایک بار ضرور سوچنا کہ اِس ماں کا بیٹا ، جیل میں کیوں بند ہے ۔ وہاں بیٹھ کر ضرور پوچھنا کہ اُس ماں کا بیٹا ، دشمن کا ایجنٹ کس کی وجہ سے بنا ، وہاں ماں کے کسی بھی بیٹے سے ضرور معلوم کرنا کہ بھائی ، آپ کے بھائی کے جنازے کو کندھا تو سب نے دیا لیکن اس کو آپ کے علاقائی قبرستان میں کیوں دفن نہیں کرنے دیا گیا ۔ آج سیاسی قبرستان کے دروازے کا تالا ایک بار پھر توڑا گیا ہے جسے بند کردیا گیا تھا کہ اب کسی ماں کا کوئی بیٹا مرنے کے بعد بھی سیاسی دعائوں کے لئے غلام نہیں بنے گا ۔۔ ارے امی جان ،کیا کردیا آپ نے۔۔۔ !!

Qadir Khan Afghan
Qadir Khan Afghan

تحریر : قادر خان یوسف زئی

Share this:
Tags:
farooq sattar karachi mistakes mother Qadir Khan Afghan Sindh سندھ غلطیوں فاروق ستار کراچی والدہ
Humanity
Previous Post کیا انسانیت زندہ ہے
Next Post سگریٹ نوشی باعث فخر نہیں مضر صحت ہے
Smoking

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close