Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پنکھا ۔ ایک حقیقت

February 22, 2016February 23, 2016 0 1 min read
Mother And Daughter Love
PANKHA
PANKHA

تحریر: عاقب شفیق
”یا اللہ ۔۔۔ میری بیٹی۔۔۔! ” مجھے صرف اتنا سنائی دیا۔ ماں مسلسل میری نبض اور دھڑکن کا مشاہدہ کر رہی تھی۔ ماں کی آنکھوں سے بہتے آنسو گالوں سے ہوتے ہوئے کانپتے ہونٹوں پہ ایک لمحے کو ٹھہر کر ٹپک رہے تھے۔تسبیح تو جیسے ماں کے ہاتھ کے ساتھ کا کوئی عضو ہو۔ وہ بے چینی سے میرے پاؤں کی تلیاں ملتی، میرے ہاتھ ملتی، مجھے سینے سے لگاتی اور پھر آسمان کی جانب دیکھتی۔ وہ بار بار میرے بیڈ کے گرد چکر لگا رہی تھی۔

مجھے اپنے یونیورسٹی کے ایام یاد آئے جب میں تاریخ اور فقہ میں ماسٹرز کر رہی تھی۔ ایک رات میں اپنی سہیلی کے ہمراہ بیٹھے اموات کے عالم سے متعلق احادیث پڑھ رہی تھی ۔ روح قبض ہو نے کا عالم پڑھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں نے اپنی دوست سے پوچھا کہ کیا اتنا ہی دشوار ہوتا ہے روح کا قبض ہونا؟۔ وہ کہنے لگی کہ ” جب موت برحق ہے تو ہمیں زندگی میں ایسے اعمال کرنے چاہئیں کہ جو نزع کے وقت ہمارے لئے تکلیف دہ ثابت نہ ہوں”۔ اس کے الفاظ میرے ذہن میں گھونج رہے تھے۔ میں اپنے اعمال پر نظر ثانی کرنے لگی۔ میری یاد کھوتی جا رہی تھی۔ مجھے لگ رہا تھا کہ بس، روح قبض ہونے کو ہے۔ میں فانی دنیا کو خیرباد کہنے کیلئے بالکل تیار موت کا انتظار کر رہی تھی۔

اسی اثنا میں ابا بھی کمرے میں داخل ہوئے۔ وہ کسی سے فون پہ بات کر رہے تھے۔” نہیں یار میں تیری طرف نہیں آسکتا، جب سے میری بیٹی کو فالج ہوا ہے میں اپنا دھیان کسی چیز پر مرکوز نہیں کر سکتا۔” مجھے عمر بھر یوں لگا کہ ابا مجھ سے بالکل بھی پیار نہیں کرتے۔ وہ سخت طبیعت کے مالک تھے ہم ان سے زیادہ وقت نہ لے پاتے۔ اکیس برس کی عمر میں مفلوج ہو کر میں نے ابا کا پیار دیکھا جب وہ میری زندہ لاش پر بیٹھ کر ضبط نہ کر پاتے اور انکے آنسو انکی سخت گیر آنکھوں سے موم بن کر ٹپکتے۔

میں ماضی کی ان تمام محافل کو یاد کر رہی تھی کہ جن میں نزع کے عالم کا ذکر ہوا ہو۔ میں وہ تمام آیات، دعائیں ہونٹ نہ ہلا سکنے کے سبب دل ہی دل میں دھرا رہی تھی۔ کلمہ اور درود پاک تو جیسے مجھ ڈوبتی کا آخری سہارا تھا۔مجھے نہیں یاد کہ میری پلکیں جھپکتی تھیں یا نہیں، ایک پنکھا ہر وقت میرے ساتھ رہتا تھا۔ صرف وہ پنکھا تھا جو ہر وقت میری آنکھوں کے سامنے رہتا تھا۔ میری علالت میں ہمہ وقت مجھے اپنے دیدار سے نوازے رکھا۔ اورعلالت کے روز اول سے آخری شب تک میری آنکھوں کے سامنے رہا۔ اور اپنے مسلسل وجود سے اپنے باوفا ہونے کی نوید سناتا رہا۔ آخری وقت میں ماں کے سینے میں دھڑکتے دل کی بے ترتیب دھڑکنیں اپنے سینے میں محسوس کررہی تھی۔ اچانک دروازہ کھلنے کی آواز آئی ”ماں! سحر کی طبیعت کیسی ہے؟ ” ۔ بھائی بے چینی سے میرے سرہانے بیٹھتے ہی میرے ساکن جسم کو شفقت سے چھو نے لگا۔

Mother
Mother

”بس، زندہ ہے”مجھے یوں لگا کہ جیسے ماں کے منہ سے نکلتے یہ الفاظ درحقیقت اس کے سینے میں دھڑکتے دل کی چیخ ہوں۔ یہ کہتے ہی وہ گھٹنوں کے بل گر کر رونے لگی۔ ماں کے آنسو جیسے مجھے کاٹ رہے تھے۔ میں سوچ رہی تھی کہ جلدی سے مر جاؤں ۔۔ پر ماں کے آنسو میری وجہ سے نہ بہیں۔میری وجہ سے وہ نہ تڑپے۔

مجھے کچھ یاد آ رہا تھا کہ چند ماہ قبل اماں کو کچھ ہو گیا تھا۔ وہ ٹھیک ٹھاک تھیں کہ اچانگ میری گود میں ہی بے ہوش ہو گئیں اور منہ سے جھاگ نکلنے لگی۔ مجھے یوں لگا کہ ماں اب نہیں رہی۔ یہ سب دیکھ کر جیسے مجھے کوئی ہتھوڑے مارنے لگا۔ میرے دل پہ ہتھوڑے پڑے۔ میرے دماغ پہ کوڑے پڑنے لگے۔ میں اپنا استحکام کھونے لگی۔ میں دنیا کی دیگر لڑکیوں کی نسبت خود کو معذور سمجھنے لگی، میرا سانس تک لینا مجھے کرخت محسوس ہو نے لگا تھا۔ مجھے بڑے بھائی نے اٹھایا اور اوپر کمرے میں لے گیا۔ وہ مجھے سہارا دے رہا تھا ۔ مجھ سے کہہ رہا تھا کہ سب بہتر ہو جائے گا میں اپنی بہن کو کچھ نہیں ہونے دوں گا۔ وہ میری وجہ سے بہت پریشان لگ رہا تھا۔ لیکن اندر ہی اندر میرے ذھن میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ ماں اب نہیں رہی۔ مجھے ڈاکٹر نے کہا تھا کہ مجھے ہوا میں نہیں رہنا۔ گھومنے پھرنے سے اجتناب کر نا ہے اور سفر سے بھی گریزاں رہنا ہے۔ اس سے آگے مجھے کچھ یاد نہیں آ رہا تھا۔

ماں تلاوت کر کر کے مجھ پہ پھونکے جا رہی تھی۔ لیکن میرا بدن بالکل ساکت تھا۔ ایک لمحے کو میں نے سوچا کہ ماں کی دعاؤں کا اثر ہو گا ۔ کچھ نہ کچھ بہتر ہوا ہو گا۔ میں نے پاؤں کی انگلیاں ہلانے کی کاوش کی لیکن نے سود۔ پھر میں نے بستر سے ٹکراتی ایڑیوں کو متحرک کرکے ان میں جان کے وجود کو محسوس کرنا چاہا تو مایوس ہوئی۔ ٹانگوں کو ہلانے کی ازحد کوشش کی مگر یک فیصد بھی کامیاب نہ ہو پائی۔ میں نے ہاتھوں کی انگلیوں کو ہلانا چاہااس سے مجھے ہلکا سا کہنیوں میں زیست کا احساس ہوا۔ مجھے لگا کہ کہنیاں محسوس کر سکتی ہیں۔ کیوں کہ میری انگلیوں کو ہلانے کی کوشش نے کہنیوں میں روانی لہو کا احساس دیا۔ میں نے زبان ہلانا چاہی تو مجھے یہ تک نہ پتہ چل پایا کہ زبان میرے جسم کے ساتھ موجود بھی ہے یا نہیں۔ منہ کو تحرک دینے سے میں قاصر تھی۔ خدا کی شان تھی کہ اس بے جان جسم میں دل دھڑک رہا تھا اور لہو رواں رکھے ہوئے تھا۔

Mother And Daughter's Love
Mother And Daughter’s Love

مجھے ماں نے ہمیشہ سہارا دیئے رکھا ۔ایک رات ماں میرے ہاتھوں کو پکڑے تلاوت کر رہی تھیں۔ اور میرے بیڈ کے ساتھ ہی نیچے فرش پہ بیٹھے بیٹھے سو گئیں۔رات کا پچھلا پہر تھا۔ مجھ پہ عجیب سی کیفیت طاری ہوئی۔ کچھ بے ذائقہ اور بے رنگ سی۔ مجھے لگا کہ یہ موت کی ابتدائی کیفیت ہے۔ میں نے باقاعدہ اپنے پیروں کو حرکت دینا چاہی لیکن وہ حرکت نہیں کر رہے تھے۔ صرف پاؤں کا انگوٹھا ہلکی سی حرکت کرتا تھا۔ میں مسلسل اسے ہلا ہلا کر دیکھ رہی تھی کہ میری روح قبض ہونا شروع ہوئی یا نہیں ۔ کیونکہ مجھے یاد پڑ رہا تھا کہ کسی حدیث میں لکھا تھا کہ روح قبض ہونے کی شروعات پیروں سے ہوتی ہے۔ میں نے پیروں کو ہلانے کے ساتھ ساتھ کلمہ اولیٰ وردِ زباں کیئے ہوئے تھا اور درود پاک بھی میری زبان پہ تھا۔

میں سوچ رہی تھی کہ آخر دم زبان پہ اللہ کا نام ہونے سے شائد میری بخشش ہو جائے۔ میں نے پھر سے پاؤں پہ پوری توجہ مرکوز کی اور انگوٹھے کو حرکت دینے لگی۔ میں مرنے کے لیئے بالکل تیار ہو چکی تھی ۔ میری آنکھوں سے آنسو نکل کر کانوں میں جا رہے تھے گرم آنسوؤں کی مکمل حرکت کا مجھے احساس ہو رہا تھا۔ مجھے آنکھ سے نکلنے سے لے کر کان تک جلاتے جاتے ہوئے آنسوؤں نے جھنجوڑا۔ میں ایک لمحے کو مرنے سے پہلے رکی کہ کیا کوئی ایسا کام تو نہیں رہ گیا کہ جس کی وجہ سے مرنے کے بعد بچھتاوا ہو کہ کاش زندگی میں یوں کیا ہوتا۔ مجھے ہلکا سا یاد آیا کہ میں ان دنوں جس مدرسے میں پڑھاتی تھی اس میں مجھے دو ماہ اور بیس دن ہوئے ہیں۔ دو ماہ کی تنخواہ میں لے چکی تھی۔ بیس روز کی تنخواہ ابھی باقی تھی۔ سو، اسے میں نے صدقہ کہہ کر مدرسے کی نذر کر دیا۔ میرے آنسوؤں کی روانی میں شدت آ رہی تھی۔ میری آنکھیں تر تھیں۔ میں نے ایک مرتبہ پھر پاؤں کو حرکت دی ۔ اس کی حرکت نے مجھے چند مزید لمحوں کی زندگی کی خوشخبری سنائی۔ میں بے چین ہو رہی تھی۔

کہ صرف چند لمحے۔ میں نے سوچا کہ کیا میرے اعمال میرے لیئے کافی ہیں؟۔ اس سوال کے جواب میں چند لمحوں کے لئے میں ماضی میں ادا کردہ عبادات تک جا پہنچی جن کے بارے مجھے بڑا رشک تھا۔ عمر بھر میں مطمئن رہی کہ عبادات کی ہیں۔ یہ کیا؟ آج میں بے چین ہوں۔ مجھے جواب ملا کہ نہیں، اعمال بالکل بھی کافی نہیں کہ جن کا رب نے تقاضا کیا ہے۔ میں جیسے کسی دریا میں گر گئی ہوں۔ اور دریا گہرے سمندر کو جا رہا ہے۔ دریا کی طغیانی بھری موجیں مجھے پٹخ پٹخ کر دائیں بائیں مار رہی ہیں۔ اسی اثنا میں کنارے پہ ایک پتھر پہ میرے ہاتھوں کی گرفت پڑ گئی ۔ پانی کا بہاؤ مجھے اپنے ساتھ بہا لے جانا چاہ رہا ہے اور میں ہاتھوں کی گرفت مضبوط کیئے جا رہی ہوں۔ ہاتھ چھوٹتے جا رہے ہیں۔ میں ہاتھوں کی گرفت مضبوط کیئے جا رہی تھی لیکن ہاتھوں کی انگلیوں سے پتھر نکلے جا رہا تھا۔

Tears
Tears

میری آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کی مقدار میں یکلخت اضافہ ہو گیا ۔ میں بیڈ پہ پڑے پڑے اپنے پاؤں پیچھے کھینچنے کی کوشش کیئے جا رہی تھی۔ کہ جیسے خود کو موت کے منہ میں جانے سے روک رہی ہوں۔ لیکن میرے پاؤں کا انگوٹھا ہلنے کے سوا کچھ نہیں ہو پا رہا تھا۔ میں بے چینی سے مری جا رہی تھی۔ ماں اٹھی تو میری حالت اور آنسو دیکھ کر دھنگ رہ گئی کیونکہ اماں کو لگ رہا تھا کہ میرے احساس کی حس بھی میرے ساتھ ہی مفلوج ہو چکی ہے۔ میرے آنسو انہیں بتا گئے کہ میرا احساس ابھی تک زندہ ہے اور میں محسوس کر سکتی ہوں۔ وہ زاروقطار رونے لگیں کہ مجھے بھی اس بات کا احساس ہو رہا ہے کہ باقی سار ے گھوم پھر رہے ہیں اور میں بیڈ پہ بے جان پڑی ہوں۔ میرے ساتھ ہمدردی میں ماں بے چینی سے رو رہی تھیں۔ لیکن میرے آنسو کسی اور تناظر میں بہے تھے۔ ماں نے فورا میری ناک کے سامنے ہاتھ رکھ کر میری سانس کی روانی چیک کی اور میری دھڑکن چیک کرنے لگی۔ ماں کی بے چینی میں محسوس کر رہی تھی۔ بے چینی ہی کیا؟ میں تو ان کے سینے کی دھڑکن اپنے سینے میں محسوس کر پا رہی تھی۔ میں انکی آنکھوں سے نکلتے آنسوؤں کی حدت بالکل واضح اپنی آنکھوں میں محسوس کر رہی تھی۔ دعاؤں میں انکے ہونٹوں کی لرزش اپنے لبوں پہ محسوس کر رہی تھی۔ میری علالت کی نوعیت کے ساتھ انکے جسم کی کیفیات، ہو بہ ہو میں بالکل محسوس کر رہی تھی۔مجھے ماں کے دکھ کا اندازہ تھا ۔

مجھے اس بات کا بھی احساس تھا کہ میری وجہ سے ان کے لئے کتنی پریشانی بنی ہوئی ہے۔ وہ تمام مصروفیات ترک کر کے دن رات میرے ساتھ رہتیں ہیں۔ مجھے سہارا دیتی ہیں ۔ میری صحت یابی کے لئے ہر وقت دعا گو رہتی ہیں۔ اپنی جوان بیٹی کو دیکھ کر ان کے دل سے نکلنے والی ایک ایک آہ مجھے واضح سنائی دے رہی تھی۔ میں ماں کی ایک ایک سانس کو اپنی سانس میں محسوس کر رہی تھی۔ انکے ہاتھوں کی حرکت کو اپنے بے جان ہاتھوں میں محسوس کر رہی تھی۔ میں ان کے ان کہے لفظ او ر بن کہی باتیں بھی سن رہی تھی۔ حتیٰ کہ انکی روح کو اپنے تن میں محسوس کر رہی تھی، انکی جان کو اپنے مَن میں محسوس کر رہی تھی۔

مجھے یہ دکھ مارے جا رہا تھا کہ بپچن میںماں نے اپنی بچی کو کیا اس لیئے سہارا دے کر بڑا کیا کہ بڑی ہو کر پھر ان کے لئے تکلیف کا باعث بنے گی اور پھر سے سہارا طلب ہو گی۔ یہ تمام احساسات میرے اندر حشر بپا کیئے ہوئے تھے۔ساتھ ہی ٹیبل پہ پڑا گلاس ٹیبل ہلنے کی وجہ سے گرا اور ٹوٹ گیا۔ ماں کانچ کے ٹوٹے گلاس کی کرچیاں اٹھانے لگیں۔ مجھ میں پھر سے ایک کیفیت طاری ہوئی ۔ یہ کیفیت ٹوٹے گلاس کی کرچیو ں جیسی تھی۔ جو مجھے بتا رہی تھی کہ یہ عارضی زندگی بالکل ایسے ہی ہے۔ کچھ پتا نہیں کہ کسی کا ہاتھ لگنے سے ٹوٹ جائے یا بے وجہ ٹیبل ہلنے سے گر کر ٹوٹ جائے۔ بہر کیف ہے تو عارضی ہی۔ مجھے یہ ساری باتیں کچھ تخیلاتی پردے پہ نظر آ رہی تھیں۔ اچھانک سے پردے آتے ۔ تخیل بھری افلام چلاتے۔ مجھے تڑپاتے ۔ اور یوں پردے گر جاتے۔

مجھے جینے کی طلب ہونے لگی تھی۔ میں جینا چاہ رہی تھی۔ مجھے مفلوج نہیں رہنا تھا ۔ مجھ میں جینے کی امید جاگ اٹھی تھی۔ میں اس ماں کی خدمت کے لئے تھوڑا سا جینا چاہ رہی تھی جو مجھے مفلوج دیکھ کر لمحہ بہ لمحہ گھٹ گھٹ کر مر رہی تھی ۔ وہ میرے لئے دل میں اتنا درد لئے تھی کہ اگر دل کھول دیا جاتا تو دنیا رنج و الم کی اس عظیم داستان سے دھنگ رہ جاتی اور اس روز کو سالانہ یوم رنج و الم کے نام سے منانے کا اعلان کرتی۔ میری ماں کے سینے میں دھڑکتا دل ، حقیقت میں درد ہی درد تھا، رنج ہی رنج تھا، کرب ہی کرب تھا۔ او خدایا۔۔۔۔! میرے آنکھوں سے پھر سے آنسو بہنے لگے اور مجھے ان کی حدت باقاعدہ کانوں تک محسوس ہوئی۔

Brother And Sister
Brother And Sister

بھائی بھی کیا رشتہ ہوتا ہے ناں؟ میرا پیارا بھائی۔۔ خدا دائمی خوشیاں دے اس کو۔ ۔ بچپن سے اکٹھے کھیلتے آئے۔ ہم بہترین دوست بھی ہیں۔ خاندان کا ہنس مکھ لڑکا تھا۔ میرے مفلوج ہوتے ہی جیسے اس کی شرارتوں کو بھی فالج ہو گیا ہو۔ جیسے اس کی تمام سرگرمیوں، تمام کھیلوں اور دیگر مصروفیات کو بھی فالج ہو گیا ہو ۔ میری وجہ سے اس پر بیتنے والی اذیت کا مجھے احساس تھا۔ میری علالت کے دورا ن وہ کبھی نہیں سویا۔ دعائیں مانگ مانگ کر اور آنسو بہا بہا کر اپنی آنکھوں کی حالت غیر کی ہوئی تھی۔ جب بھائی میرے سرہانے روتا تھا تو ان کی ہمدردی اور رنج بھری کیفیت مجھ پہ طاری ہوتی تھی۔ میں بھی ان کے گلے لگ کے رونا چاہتی تھی لیکن میں تو اپنا ہاتھ ہلانے تک سے قاصر تھی۔ بھلا ان سے ہمدردی کا اظہار کیسے کرتی؟۔

میں ان کے رنج کو ہلکا کرنے کے لئے انکے ساتھ کہیں تفریح پہ جانا چاہتی تھی۔ لیکن شان خدا کہ میں بالکل حرکت کرنے سے قاصر تھی۔ میں بھی کتنا بوجھ بن چکی تھی ان سب پر۔ کاش کہ فالج کا حملہ اتنا شدید ہوتا کہ میں سہہ نہ پاتی اور پہلے ہی لمحے جہان فانی سے چل بستی۔ تاکہ ان سب کو ایک ہی مرتبہ دکھ ہوتا۔ دفنا کر رنج کم ہو جاتا۔ یہ کیا کہ گھر میں زندہ لاش پڑی تھی۔ انکی مصروفیات اور کام کاج میں بھی رکاوٹ بنی رہی اور انہیں لمحہ لمحہ تڑپاتی رہی، رنج و الم سے نڈھال کرتی رہی، انہیں دکھ دینے کا سبب رہی۔ ان کے قیمتی آنسو بہانے کی وجہ رہی۔ خدایا۔۔! میرے اندر کا سمندر پھوٹ رہا تھا۔

اسکی موجیں ساحل سے بری طرح ٹکرا رہی تھیں۔ اسکی موجوں کی طغیانی مجھے خوف و ہراس میں مبتلا کیئے ہوئے تھی۔اس بحر کی موجیں اچھل اچھل کر سیلاب و طغیانی پیدا کر رہی تھیں۔ ٹھاٹھیں مارتا سمندر مجھ بے روح کے قلب و روح کو تڑپا رہا تھا۔ میں خود کو اپنے اہل خانہ پہ ایسا عجیب سا بوجھ سمجھ رہی تھی کہ جو خود کشی کی بھی سکت نہیں رکھتا۔میں چاہ کر بھی خود کشی نہیں کر پا رہی تھی ۔ بھلا کیسے کرتی میں تو کروٹ لینے تک کیلئے محتاج تھی۔ آخر تنگ آ کر میں نے فیصلہ کیا کہ اب کے اپنا سانس ہی روک لیتی ہوں۔ ویسے بھی بستر مرگ پہ ہی ہوں ۔ کم از کم مر کر گھر والوں کیلئے مسلسل رنج و کرب کا سبب تو نہیں بنو ں گی ناں؟ ۔ سو، میں نے سانس روکنا چاہا لیکن سانس روکنے تک کی صلاحیت مفلوج ہو چلی تھی۔۔

Friends
Friends

میری چند سہیلیاں آئیں۔ میرے پاس دائیں بائیں کھڑی ہوئیں۔ وہ مجھ سے باتیں کر رہی تھیں۔ میں ان کی باتیں سن پا رہی تھی۔ جواب دینا چاہ رہی تھی لیکن دے نہیں پا رہی تھی۔ ایک کہنے لگی ”یار کیا پتا اسے سنائی سے رہا ہے یا نہیں؟”دوسری بولی ” نہیں یار ! یہ پیرالائز ہے ۔ سن سکتی ہے۔ پر بول نہیں سکتی” تیسری نے کہا ” اللہ اسے شفا دے بہت ہنس مکھ لڑکی تھی” ان کے جانے کے بعد مجھے دنیا کے فانی ہونے کا احساس ہونے لگا ۔ جو سہیلیاں مجھے اتنا چاہتی تھیں۔ کہ یونیورسٹی کے زمانے میں میری آنکھ میں ایک آنسو نہ دیکھ پاتیں۔ ہر غم بانٹ لیتی تھیں۔ آج وہ ہی میرے پاس بے بس کھڑی رہیں۔ دنیا کی کوئی طاقت مجھے قوت گویائی نہیں دے پا رہی تھی۔ کوئی طاقت میرے اعضا کو جانبر نہیں کر پا رہی تھی۔

میں کتنی بے بس ہوں ناں؟۔ یہ خیال آتے ہی میری آنکھوں سے بے بسی کے آنسو بہہ نکلے۔ آنسوؤں کی حدت ایک بار پھر سے مجھے شدت سے محسوس ہوئی۔ میں بالکل بے بس ہوں۔ میں اپنے ہی جسم کو حرکت نہیں دے سکتی۔ میں اٹھ نہیں سکتی۔ میں بیٹھ نہیں سکتی۔ یہ سب کیا ہے؟ سب کو چلتا پھرتا دیکھ کر میرے مَن میں بھی حسرت جاگی کہ میں بھی اٹھوں۔ چلوں ۔پھروں۔۔ باہر بالکونی میں کھڑی ہو کر شہر کراچی دیکھوں۔لیکن میں بے بس ہوں۔ کیوں؟۔ آخر کیوں؟ بے بسی اور بے چینی سے میں پسینے میں شرابور ہوچلی تھی۔

میری آنکھیں جیسے آنسو بہانے کی مشین بنی ہوئی تھیں۔یہ کیفیات شدید المناک کیفیات تھیں اور وہ لمحات بہت دردناک لمحات تھے۔ پھر وقت کیساتھ ساتھ میں بہتر ہوتی گئی ۔اب فطرت کو عکس بند کرنے کیلئے پینٹنگز بنا تی ہوں۔ اب اپنے قدموں پہ چل لیتی ہوں۔ہنس کھیل لیتی ہوں۔ اب مجھے خدا کی خدائی پر پہلے سے کہیں زیادہ ایمان ہے ۔ خدا کے حکم کے سامنے سب کچھ زیر ہے۔اور بدون حکم خداوندی کچھ بھی ممکن نہیں ۔ خیر یہ انتہائی قریب الموت لمحات مجھے دو احساسات بخش گئے ۔ ٭ پہلا یہ کہ اعمال پہ کبھی رشک نہیں کیا جا سکتا ٭اور دوسرا یہ کہ موت جب لکھی ہے تب ہی آنی ہے اس سے پہلے اس کی آمد ناممکن ہے۔

Habib ur rahman Pirzada
Habib ur rahman Pirzada

تحریر: عاقب شفیق

Mother And Daughter Love
Mother And Daughter Love
Share this:
Tags:
bed deaths hair mother mouth Traditions words احادیث الفاظ اموات ماں
Previous Post حلال اور حرام میں تمیز
Next Post عالمی بینک کے صدر کی نصیحتیں

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close