Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

میری ماں میرے انتظار میں

March 17, 2015 0 1 min read
Crying Women
Crying Women
Crying Women

تحریر : وصی رحمنٰ
اس نے گھر سے باہر جاتے جاتے کہا!’’بہنا! آج تم نے چاول بہت اچھے پکائے ہیں‘ میں 2 گھنٹے کیلئے ذرا کام سے جا رہا ہوں، مگر میرے لئے چاول بچا کر رکھنا، میں آکر کھالوں گا‘‘ مگر قصور سے تعلق رکھنے والے حافظ محمد نعیم کے خام وخیال میں بھی نہیں تھا کہ فرشتہ اجل اسے اس بے رحم دنیا کی قید سے آزاد کروانے کیلئے اپنے کام کا آغاز کرچکا تھا۔ تئیس سالہ حافظ محمد نعیم فیروز پور روڈ پر ایلومینیم کی کھڑکیوں اوردروازوں کی فٹنگ کا کام کرتا تھا‘15مارچ 2015ء اتوارکے روز وہ کسی کام کی غرض سے یوحنا آباد کی طرف گیا ہواتھا کہ صبح 11بج کر 12منٹ پر لاہور کا علاقہ یوحنا آباد یکے بعد دیگرے دوہولناک دھماکوں سے گونج اٹھا‘ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس نے پورے علاقہ کی ناکہ بندی کی اورجائے وقوعہ کے قرب وجوارمیں مشکوک نظر آنے موجودافرادکو دھڑا دھڑ پکڑنا شروع کردیا‘ محمد نعیم بھی باریش ہونے کی وجہ سے دھرلیا گیا‘ محمد نعیم نے اپنا شناختی کارڈ دکھاتے ہوئے اپنی شناخت کروا کرپولیس سے اپنی جان چھڑانا چاہی مگر پولیس نے اسے شک کی بناء پر روکے رکھا‘حافظ محمدنعیم نے لاکھ دہائی دی کہ وہ یوحناآبادمیں صرف اپنے کام کی غرض سے آیاتھااوردھماکہ ہونے پر بوکھلا کراپنی جان بچانے کیلئے بھاگ کھڑاہوا‘مگرپولیس نے اسے حراست میں لے کر گاڑی کے اندربٹھائے رکھا‘ دھماکوں کے بعد عیسائی برادری کے مشتعل افراد مظاہرہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے‘مشتعل ہجوم نے اپنے سامنے آنے والی ہر موٹرسائیکل، کار، گاڑی اورلوگوں کی املاک کو جلانا شروع کردیا‘

حافظ محمد نعیم کو پولیس کی حراست میں دیکھ کر مشتعل ہجوم نے اسے بھی دہشت گردوں کا ساتھی جانا اور اسے پولیس کی حراست سے زبردستی چھڑالے گئے‘ عیسائی مظاہرین نے حافظ محمدنعیم اور ایک دوسرے نامعلوم باریش آدمی کو افراتفری اوراشتعال کا فائدہ اٹھا کرمارنا شروع کردیا‘آہستہ آہستہ مشتعل مظاہرین کی تعدادبڑھتی گئی اور وہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے‘ عیسائی مظاہرین نے اشتعال کی انتہاؤں کو چھوتے ہوئے دونوں باریش آدمیوں کو ڈنڈوں ، جوتوں ، لاٹھیوں ، لاتوں اورگھونسوں سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا‘ اوربربریت کی انتہاء کرتے ہوئے دونوں آدمیوں کو ننگاکردیا‘ پولیس کی طرف سے ہلکی سی مزاحمت کے بعد دونوں بے گناہ افراد ان عیسائی مظاہرین کے رحم وکرم پر تھے‘ مظاہرین کے بے پناہ تشدد کی وجہ سے دونوں آدمی اپنے ہوش وحواس سے بیگانہ ہوگئے مگرمشتعل مظاہرین نے اسی پر اکتفا نہ کیا‘ہجوم میں سے کسی نے آواز دی’’ ان دہشت گردوں کو جلا کر راکھ کردو‘انہیں عبرت کا نشان بنا دو‘‘زندہ جلائے جانے کے ہولناک خیال پر دونوں بے گناہوں کے نیم مردہ جسموں میں ہلکی سے کسک ہوئی مگراپنے پیروں پر اٹھ کرمشتعل اوربے رحم ہجوم کے سامنے اپنی بے گناہی کی فریاد کرنے کی طاقت ان کے جسموں سے پرواز کرچکی تھی‘نیم مردہ جسموں کی روحوں نے آخری فریاد کرتے ہوئے جسم سے کہا ’’اٹھویہ تمہیں زندہ جلانے لگے ہیں‘‘ مگر زخموں سے چور چور جسم نے ہار مان لی‘ روح اپنی بے گناہی پر زورلگاتی رہی اور جسم اٹھنے سے انکارکرتا رہا‘ پھر کہیں سے مٹی کا تیل بھی آگیا، ہاتھوں میں ماچس اور لائیٹر بھی نظرآنے لگے‘ہجوم کے چہر ے پر وحشت اوردیوانگی نے اپنا رقص شروع کردیااور پھر انسانیت نے سسکیاں بھرتے ہوئے اپنا منہ چھپا لیا‘فرشتوں نے اسے مشیت ایزدی سمجھ کر ایک دوسرے سے منہ پھیرلیااورشیطان نے خوشی سے رقص کرنا شروع کردیا ‘ لاہور سے چند میل کے فاصلے پر قصور شہر کے ایک غریب سے محلہ کے ایک پسماندہ گھر میں بیٹھی ہوئی حافظ محمدنعیم کی ماں کا کلیجہ نہ جانے کیوں منہ کو آنے لگا‘کچھ انجان اندیشے آج اس کے گھر کی دہلیز پر چلتے پھرتے اسے محسوس ہورہے تھے‘ ماں کی ممتا اپنے جگر کے ٹکڑے کو کس حال میں دیکھنے والی تھی‘ کون جانے؟

گوشت پوست کے جیتے جاگتے انسان چند لمحوں میں کوئلہ ہوئے تو عیسائی برادری کے مشتعل لوگوں کاکلیجہ پھر بھی ٹھنڈا نہ ہوا‘ کوئلہ ہوئے انسانوں کے گلے میں رسی ڈال کر سڑکوں پر گھمایا جانے لگا‘ یوٹیوب اور فیس بک موبائل مافیا اپنے اپنے موبائلوں سے درندگی کی تصویریں اپنے موبائلوں میں ریکارڈکرنے لگا‘ ہرکوئی اچھے سے اچھازاویہ بنانے کیلئے بے چین ہورہاتھا۔ یوٹیوب اور فیس بک پر پذیرائی اور Likesکا نشہ انسانیت اورمردہ جسموں کے احترام پر حاوی ہورہاتھا‘یہ بھی پاکستانی قوم کی بے حسی اور مردہ دلی کی ایک چھوٹی سی مثال ہے جو مردہ جسموں کو کوئلہ بنتے دیکھ کرویڈیوبنانے سے محظوظ ہوتی ہے۔ قانون کاپہلوان مشتعل اور طاقتور ہجوم کے ہاتھوں بے بس ہوکراس کی کنیز بن کررہ گیا۔ ایک مشتعل ہجوم کے سامنے سی پی او، ایس ایس پی، ایس پی اوروردی میں ملبوس سینکڑوں پولیس والے بھی بے بس ہوگئے‘ 2بے گناہ انسان سب کی آنکھوں کے سامنے وحشیانہ تشدد کے بعد نیم مردہ حالت میں زندہ جلادئیے گئے اور قانون اپنی بے بسی کا مذاق بنتے دیکھتا رہ گیا‘ خادم اعلی پنجاب سے کوئی تو سوال کرے آخر کہاں گئی آپ کی تدبیریں ؟ آپ کے بیانات؟ آپ کے دعوے؟بچپن سے جوانی تک ساتھ نبھانے والے حافظ محمدنعیم کے بھائی نے کوئلہ بنی لاش کو شناخت کیا تواس کی ٹانگیں جواب دے گئیں‘ جوان بھائی کی کوئلہ بنی سوختہ لاش کوگھرکیسے لے جاؤں گا؟ کیسے قبرمیں اتاروں گا؟

Lahore Blast
Lahore Blast

عیسائیوں کی مذہبی عبادت گاہ پر حملہ بلاشبہ عیسائی برادری کے ساتھ ظلم کی انتہا ہے، ہم اس کی ہر سطح پر مذمت کرتے ہیں مگر دنیا کا کون سا قانون آپ کوکسی کے لباس ، چہرے ، رنگ اور نسل کی بناء پراسے دہشت گردوں کا ساتھی سمجھ کر زندہ جلانے کا حق دیتا ہے؟ کیاحافظ محمد نعیم کا قصور صرف یہ تھا کہ اپنے حلیہ سے وہ کسی مدرسے کا طالب علم یا کسی مذہبی جماعت کا کارکن لگتا تھا‘ لیکن کیا یہ چیز اسے دہشت گرد وں کا ساتھی ثابت کرنے کیلئے کافی تھی؟کیا میں یہ سمجھوں کہ عیسائی برادری کا اشتعال میں بے قابو ہوکر 2بے گناہ انسانوں کو زندہ جلانا آتش انتقام تھا؟جب کچھ عرصہ قبل عیسائی بستی کو اسی طرح ایک مشتعل ہجوم نے جلا دیا تھا‘مگر ہمیں پھر بھی پاکستان میں مذہبی رواداری اور بین المذاہب بھائی چارہ کو فروغ دینے کی کوشش کرنی ہوگی‘ میں ذاتی طورپر مذہب سے پہلے انسانیت کو قائم رکھنے کا قائل ہوں‘ میں پوری پاکستانی قوم اور حکمرانوں سے یہ سوال کرتاہوں کہ کوئی تو بتائے کہ آخر یہ حق ہمیں کون دیتاہے کہ ہم کسی بھی جیتے جاگتے انسان پر کوئی بھی الزام لگا کر اس کا بھیجا اڑا دیں یا اسے زندہ جلادیں‘ آخر ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ اس ملک میں چاہے لولا لنگڑا سہی پورا ایک قانونی سسٹم ہے‘ قانون کے نفاذ کیلئے پولیس، ججزاورعدلیہ مامور ہے مگرقانون کی سنتاکون ہے؟ اس مظلوم دھرتی کے حکمرانوں سے لے کر ریڑھی والے تک سب کے سب تو قانون کی دھجیاں اڑانے میں دن رات ایک کررہے ہیں‘اﷲسبحان وتعالی نے قرآن کریم میں ارشادفرمایا کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور اسی طرح ایک انسان کی جان بچانے والا گویا پوری انسانیت کی جان بچا نے والا ہے‘ مگراس ملک خداداد میں ایک انسان کا قتل جیسے ایک مچھر کا قتل سمجھا جانے لگا‘صبر، اخلاقیات، رواداری، صلہ رحمی اور بھائی چارہ تو اب کتابوں کی بھولی بسری کہانیاں بن کر رہ گیا‘

نبی مہربان صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ہر مصیبت پر صبر کرنے کاحکم دیا اور اس کے عوض آخرت میں بڑے انعام کا حقدار بنایا‘ مگر ان سب تعلیمات پر روزی روٹی اور بھوک غالب آگئی‘چندایک کو چھوڑ کر پوری کی پوری پاکستانی قوم کا مذہب و ایمان صرف اور صرف پیسے کا حصول ٹھہرگیا ‘ اور اس کے لئے ہر سطح کی بے ایمانی ، قتل وغارت اور جائزناجائز ہتھکنڈے عام ہوئے‘ عزتوں کے مرتبے نیلام ہوئے، حکمران اختیارات اورمفادات کے غلام ہوئے‘ان حکمرانوں کو اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ مفاداتوں اور مفاہمتوں کی سیاست ختم ہونے کا وقت آچکاہے‘اگر بھوک ننگ کے ستائے ہوئے ان لوگوں کوان کے حقوق نہ دئیے گئے تو جان لیجئے کہ یہ 20کروڑ لوگ اب ایک ابلتا ہوا آتش فشاں بن چکے ہیں‘ پانی ، بجلی ، گیس، بے روزگاری، لاقانونیت اور ناانصافی کے خونی اژدھے اب ان کے گھروں میں داخل ہوکران کو اوران کی اولادوں کوچاٹ رہے ہیں اور ان سے ان کا جینے کا آخری حق بھی چین چکے ہیں‘

جناب خادم اعلی پنجاب، جناب وزیراعظم صاحب اس آگ کی لپٹیں اب پاکستان کے طول وعرض میں صاف اورواضح دیکھی جاسکتی ہیں‘ مگر آپ نہ جانے کیوں اس کی تپش محسوس نہیں کرپارہے‘جناب عالی آپ 7096095مربع کلومیٹر کے اس جنگل پاکستان میں لگی ہوئی آگ کو چلوبھرپانی سے بجھانا چاہ رہے ہیں‘فرقہ واریت ، طالبانیت، ناانصافی اور بے روزگاری کے ہاتھوں ذلیل ورسواء ان پاکستانیوں کو ٹھنڈا کرنے کیلئے یہ سب کافی نہیں‘ ذراان وحشت میں ڈوبے چہروں پر لکھی ہوئی تحریریں پڑھ لیں‘یہ مشتعل لوگ اب اپنے راستے میں آنے والے ہر مشتبہ اورملزم کو خود ہی پولیس ،جج اور عدالت بن کر اسے موت کاحقدارٹھہرارہے ہیں‘ یہ نیم وحشی اور نیم پاگل عوام اب دیوانہ وار گلیوں ، سڑکوں اور بازاروں میں اپنے شکار تلاش کرکے چاہے کوئی بے گناہ ہو یا کوئی گناہ گار، انہیں فوری انصاف دینے پر تل چکی ہے‘ آپ کو ڈرنا ہوگا اس دن سے جب ڈنڈے ، لاٹھیاں ، بندوقیں تھامے اوربھوکے ننگے افلاس زدہ یہ لوگ آپ کے محلات کارستہ دیکھ لیں‘ پھر کوئی جاتی امراء اور کوئی بلاول ہاؤس محفوظ نہیں رہ سکے گا‘اس بے رحم ہجوم کو فیروزپورروڈ سے جاتی عمرہ پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی‘ ورنہ یہ توآپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ42سال تک لیبیاء پر بلاشرکت غیرے حکومت کرنے والے کرنل قذافی کے بارعب محلات ، پرتعیش طیارے،بے پناہ دولت بھی اسے عوام اورقدرت کے دست انتقام سے نہیں بچاسکے

Vassi Rehman
Vassi Rehman

تحریر : وصی رحمنٰ

Share this:
Tags:
lahore mother police relationship waiting انتظار پولیس تعلق دھماکے لاہور ماں
Benefactors
Previous Post ہم محسنوں کو نہیں بھولتے
Next Post جسم فروش
Prostitutes

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close