Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بے جی آپ کو سلام

May 9, 2019 0 1 min read
Mother Day
Mother Day
Mother Day

تحریر : انجینئر افتخار چودھری

ربیعہ یونیورسٹی گئی ہوئی تھی تھیلے ہاتھ میں لئے واپس ہوئی تو پتہ چلا آج مدر ڈے ہے بھائیوں نے اسے کچھ رقم دی تو اماں کے لئے سوٹ اٹھا لائی اور ساتھ میں ابو کے لئے بھی ایک سوٹ لے آئی ہے لو اپنی عید ہو گئی۔بیٹے اللہ کی نعمت اور بیٹیاں ماں باپ کے دلوں کی رونق ہیں۔میری بے جی کو اس دنیا سے گزرے تقریبا سترہ سال ہو گئے ہیں۔ آج سب اپنی مائوں کو محبت کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔سال ٢٠١٩ اس وقت ایک دو راہے پر کھڑا ہے۔ میں ان تلخ دنوں کو یاد کر کے کانپ جاتا ہوں پاکستان میں مارشل لاء تھا سال ٢٠٠٢ جو بولتا اس کی زبان کھینچ لی جاتی تھی سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ عروج پر تھا وہاں جدہ میں سب سے پہلے پاکستانی اندر ہو رہے تھے۔وہاں تو ہے ہی مطلقالعنانیت لیکن یہاں سے گئے سفیر پاکستانی جو ریٹائرڈ جرنیل تھا اس نے ان پاکستانیوں کو دھڑا دھڑا جیلوں میں بھجوایا جو اس کے خلاف چسکتے تھے ۔جمہوریت قربانیاں مانگتی ہے تو میرے پاس قربانی کے لئے ماں بھی نہیں ہے میں اپنے ملک کو کیا دوں گا۔لویو موم کے چرچے ہیں۔مجھے ایک دوست کی بات بہت اچھی لگی انہوں نے کہا ہم تو سارا سال مدر ڈے مناتے ہیں یہ تو وہ مناتے ہیں جو مائوں کو اولڈ ھومز میں چھوڑ آتے ہیں۔میں نے دیکھا کہ کچھ عرصہ سے ہم بہت سے ایسے دن منا ہے ہیں جو ہمارے وقتوں میں نہیں ہوا کرتے تھے۔مادر ڈے فادر ڈے بیٹی کا دن ویلینٹائن ڈے یہ سب ہے کیا۔مجھے دقیانوسی نہ سمجھئے گا یہ ایک فنانشل ایکٹیوٹی ہے ۔پیسے کی حرکت ایک جیب میں سے دوسرا۔ اس رات ہمارے بیٹے نے بھی کیک کاٹا بیٹی نے امی کے لئے ایک چار ہزاری سوٹ خریدا۔اس ساری ایکٹیوٹی میں ایک مسکین فادر تھا جس کی جیب کو دوطرفہ نقصان ہوا۔ہم پرانے لوگ ہیں لیکن ہم بھی اسی دور میں جینا چاہتے ہیں۔بیگم نے شکایتانہ انداز میں کہا پچھلے سال جدہ میں تھی بچوں نے صبح سویرے کہا کہ ماں جی بس بہت ہو گیا اب آپ نے بیڈ سے قدم نہیں نیچے کرنا آج سار کچھ ہم کریں گے باہر جائیں گے کھائیں پیئں گے موج ہو گی مستی ہو گی۔میں نے محسوس کیا پاکستان آنے کے بعد مادر فرزندان چودھری افتخار پر بڑے ستم ہو رہے ہیں۔وہاں تا دیر جاگنا اور اسی کی نسبت سے ظہر کے وقت اٹھنا اور یہاں علی الصبح ا ٹھ جانانہ بھی موڈ ہو تو تو اللہ ماری گھنٹیاں۔۔۔۔کوئی حال پوچھنے آ جاتا ہے تو کوئی دودھ دینے مانگنے والے بھی گھنٹی بجا کر دست سوال دراز کرتے ہیں۔

خیر یہ معاملات تو چلتے ہی رہتے ہیں۔آج خیال آیا ساری دنیا کی مائیں موضوع بنی رہیں۔سب نے حصہ بقدر جثہ اپنی اپنی امیوں مائوں کو خراج تحسین اور عقیدت پیش کیا پھول لائے کیک کاٹے سوچا میں بھی اپنی ماں کے بارے میں قلم اٹھائوںبے جی کے بارے میں لکھوں گرچہ ان کی حیات پر پاکستان کے قومی اخبارات میںکالم لکھ چکا ہوں۔ ایک ہمارے دوست ہیں جن کے قومی اخبارات میں کالم چھپتے ہیں کمال کے لکھاری ہیں بس موصوف اسیر زلف نواز نہ ہوتے تو ہم انہیں موڈوں پر اٹھائے پھرتے اس کے باوجود وہ ہمار ے ہی ہیں ا ن کی خوبصورت تحریریں قاری چاہے وہ عزیزیہ جدہ میں رہتا ہو یا اسپانیہ کے شہر جبرالٹر میں بھائی انہیں رائے ونڈ لے جاتے ہیں بس با با یہی آپ کی اور میری منزل مراد ہے۔

بے جی کے بارے میں او جانے کالم نہ صرف انہیں پسند آیا بلکہ مرحوم مجید نظامی نے بھی سراہا۔ بے جی کا تکیہ کلام او جانے بڑا مشہور تھا۔کسی بھی قسم کی زیادتی کاواقعہ ان کے سامنے لایا جاتا تو او جانے کوئی بات نہیں اللہ بہتر کرے گا کہہ کر اگلے کو تسلی دے دیتی تھیں ہمارے ایک دوست چودھری اعظم جدہ میں ہوتے ہیں زہرہ ہوٹل کے مالک ہیں بڑی پیاری چیز ہیں انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ ایک گائوں میں ایک بڑھیا تھی وہ کسی کو بھی برا نہیں کہتی تھی تین چاردوستوں نے سوچا بڑھیا کسی کو برا نہیں کہتی آج ان سے بات کرتے ہیں۔ایک نے اماں جی سے کہا ماں جی دیکھیں یہ شیطان بڑی بری بلا ہے ہمیں نیکی سے منع کرتا ہے میں صبح سویرے اٹھتا ہوں نماز پڑھنے کے لئے اٹھنا چاہتا ہوں تو مجھے منع کرتا ہے ادھر ادھر کے ڈراوے دکھلاتا ہے کہتا ہے منہ اندھیرے نکلو گے کتا کاٹ لے گا سردی لگ جائے گی دیکھیں نہ کتنا برا ہے یہ شیطان آپ اس کے بارے میں کچھ مذمتی کلمات ادا کریں ۔دوسرا بولا ماں جی یہ صیح کہتا ہے میرے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا ہے ظہر کی نماز پڑھنے نکلوں تو گرمی دھوپ اور سو طرح کے وسوسے ڈالتا ہے عصر اور مغرب پر بھی میرے ساتھ سفاکانہ سلوک کرتا ہے ماں جی بولیں نا اس کی مذمت کریں دوسرے نے کہا۔تیسرے نے تو حد کر دی شیطان کی ہزار ہا بد خوئیاں کیں اور آ خر میں اماں جی سے شدید مطالبہ کر ڈالا کہ آپ پر لازم ہے اس کے خلاف اظہار رائے کریں۔

تینوں ہمہ تن گوش تھے اور بوڑھی اماں سے شیطان کے بارے میں سننے کے لئے بے تاب ہو گئے۔ تینوں کی طرف ٹھنڈی سانس بھر کر دیکھا اور کہا اللہ اسے ہدایت دے لیکن دیکھو محنتی کتنا ہے صبح سے لے کر رات تک اپنے کام میں لگا رہتا ہے۔بس اس کو برا مت کہو اس کے لئے دعا کرو اللہ اس مردود کوہدائت بخش دے جس دن یہ دعا قبول ہو گئی دنیا سنور جائے گی۔اور اللہ کے نام لیوا اگر اس سے آدھی محنت بھی کریں تو دنیا سنور جائے گی۔تینوں اپنا سا منہ لے کر واپس آ گئے۔

بے جی اس دنیا کے تمام شیطانوں کے لئے ہدائت طلب کر تی رہیں۔کبھی کسی کے لئے بد دعا نہیں کی۔
وہ موضع لسن ایبٹ آباد کے چیچی گجروں کے ہاں پیدا ہوئیں ہم انہیں پیارسے تنگ کرتے اور کہتے چیچی پیچی تو چوہانوں کے بارے میں دلچسپ باتیں بتاتیں۔

بے جی کب پیدا ہوئیں ان کی ڈیٹ آف برتھ کیا تھی کچھ معلوم نہیں مگر تقریبا ٧٥ سال عمر پائی اور اس عمر کا سراغ بھی ہم نے اپنے کزن کی تاریخ پیدائش سے لگایا جو بتاتے ہیں کہ چچی جب ہمارے گھر آئیں تو ان کی عمر پندرہ کے قریب تھی اور میں کوئی پانچ سال کا۔

ہزارہ،جہلم چکوال کشمیر اور دوسرے بارانی علاقوں کی مائیں اس لحاظ سے بد قسمت ہوتی ہیں کہ وہ انہیں جنم تو دے دیتی ہیں مگر ان بچوں ک کی جوانیاں پردیس میں گزر جاتی ہیں بعض تو وہیں کے ہو کر رہ جاتے ہیں وہیں مر کھپ جاتے ہیں۔ اس لئے کہ فوجی نرسری کے علاقوں میں جان بوجھ کر گوروں نے انڈسٹری نہیں لگائی تا کہ کہیں یہ اپنے ہی گھروں میں روٹی پر نہ لگ جائیں۔میں نے دیکھا ہے ایک بار عرب کے دوسرے بڑے صحراء ربع الخالی میں ١٩٧٧ میں کام کے سلسلے میں جانے کا موقع ملا۔جس جگہ ارگاس کمپنی کا کیمپ تھا وہاں ہمیں جاناتھا میں کمپنی کے ڈی سی تھری ١٩٤٨ مارکہ جہاز میں بیٹھا ہوا سوچ رہا تھا کہ تلاش رزق کے لئے کہاں کہاں کی ٹھوکریں نصیبوں میں لکھ دی گئی ہیں میرے ساتھ ایک اور پاکستانی تھے فرانسیسی پائیلٹ اور ہم دو نصیبوں مارے وہاں ریتلے رن وے پر اترے ایک بار تو جہاز کے پر نہ کھل سکے دوسری بار خدا خدا کر کے ہمارا تعلق زمین سے جڑا میں اپنے آپ کو صحرا کے اس گوشے میں سلطان قاضی کے بعد دوسرا شخص سمجھ رہا تھا لیکن کیمپ میں پہنچنے کے بعد پتہ چلا کہ یہاں اکثریت پاکستانیوں کی ہے۔٢٠٠٤ میں ملائیشیا گیا تو وہاں ہمیں جنگ عظیم دوم کے شہداء کی قبور پر لے جایا گیا اس یاد گار میں مدفون میرداد کالا خان شیر خان سب ہی ہمارے اپنے تھے۔واہ او روٹیے۔

میرے بزرگ بھی داخلی ہجرت کرتے ہوئے گجرانوالہ آن پہنچے۔مختلف محلوں میں کرائے دار کی حیثیت سے رہنے کے بعد خدا نے ہمیں محلہ باغبانپورہ میں اپنی چھت دے دی۔میری مدر اپنے کم سن بچوں کے ساتھ وہیں ٹک گئیں۔کہتے ہیں گھر عورتیں بناتی ہیں۔چڑیا کی طرح تنکہ تنکہ کر کے گھونسلہ بنتا ہے ۔خاتون خانہ اگر سگھڑ نہ ہو تو عرب کے تیل کے کنویں بھی آپ کے ہوں تو آپ آخر عمر میں مفلس ہی مرتے ہیں۔

ماں جی نے اپنے خاوند کو دیہاتی سے شہری بننے میں بڑی دلیری اور جانفشانی سے سہارا دیا۔والد صاحب نے مختلف مراحل جن میں کامونکی میں چاولوں کی آڑھت بعد میں کچے دروازے میں فیروز خان میٹل ورکس میں شراکت کے بعد چوہان میٹل ورکس کے نام سے ایک چھوٹا سا کارخانہ بنا لیا جس میں ایلومنیم کے برتن بنایا کرتے تھے۔والد صاحب خود بھی کام میں ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔بے جی نے پانچ بیٹوں اور ایک بیٹی کے ساتھ گائوں سے آنے والے ر شتے داروں کو بھی سنبھالا دیا۔کس طرح ہماری پرورش کی آج اگر اپنے بچوں سے بات کریں تو ہیئیں کہہ کر حیرانگی کا اظہار کرتے ہیں گرمیوں میں ہم گائوں چلے جایا کرتے تھے وہاں جا کر دوسرے ہی دن سے جنگل سے لکڑیاں وغیرہ اور گھر گرہستی میں مصروف ہو جایا کرتی تھیں۔دلیر اتنی کے سانپ وغیرہ کو آسانی سے مار دیتی تھیں میں نے زندگی میں بے جی کو کبھی بھی سکون اور ترتیب سے نہ کھانا کھاتے ہوئے دیکھا اور نہ ہی سوتے،تھوڑی سے اونگ سے کام چلا لیتی تھیں اکثر سجدے میں سو جاتی تھیں جب ہم تھپ تھپ کرتے تو جاگ کر نماز مکمل کرتی تھیں۔گھر کا آخری فرد ہوتی تھیں سونے میں اور پہلا فرد اٹھنے میں۔نماز تو نماز تہجد تک نہیں چھوڑتی تھیں۔ایک بار عزیزم عارف جو تنظیم اسلامی کے ذمہ دار ہیں انہوں نے مجھے بتایا کہ بے جی کو پریشان دیکھ کر میں نے پوچھا کیا بات ہے فرمایا میری تہجد چلی گئی۔ بے جی محلے کو وہ ہردل عزیز ماں تھی جنہیں ہر کوئی بے جی کہہ کر پکارتا چھوٹی موٹی چیزیں ایک دوسرے کے گھر بھیجا کرتیں کہتیں اس سے تعلق اور بھائی چارہ بڑھتا ہے۔

میں نے دیکھا ہے کی نوجوان مائیں بچوں کے اس طرح لاڈ نہیں لڈاتیں جیسے بزرگ عرتیں کیا کرتی تھیں۔میرے چھوٹے بھائی سرفراز جو آج کل اڈالی دینہ میں ہے وہ گھر میں گھستا تو پوچھتا کی آج کیا پکا ہے۔ایک دن پوچھا کہ بے جی کیا پکا ہے انہوں نیکہا گاجراں۔روز ای روز ڈاگراں۔موصوف غصے کے کافی تیز تھے۔دراصل اس دن بھنڈیاں پکی ہوئی تھیں۔بے جی نے کہا کہ سامنے کے گھر بھنڈیاں پکی ہیں لادوں؟اس نے کہا بلکل بھنڈی اچھی سبزی ہے وہی کھائوں گا۔وہ اپنے سفید دوپٹے کے نیچے پیالے میں بھنڈیوں کا سالن ڈالتیں اور سامنے کے گھر سے واپس آ کر جناب سرفراز کی شکم سیری کرواتیں۔بلیوں سے برا پیار کرتی تھیں،ان کا جب انتقال ہوا تو ایک بلی ایک ماہ تک منڈیر پر انہیں پکارتی رہی اور پھر کہیں غائب ہو گئی۔ایک بار محلے میں میرے دوست کے بچوں کو گھر لے آئیں ان کے حالات خراب تھے گھر میں دیگر بچوں کے ساتھ ان کی ذرا نہیں بنی تو بچوں کو سمجھایا کرتیں کی بچو!مہمان اللہ کی نعمت ہیں۔پندرہ بیس روز تک انہیں گھر رکھا پھر راضی نامہ کروا کے گھر بھیج دیا۔

ماں جی چرخہ کات کے بڑی بہن کے لئے کھیس بناتی تھیں۔کسی کے گھر چلی جائیں تو ان کے گھر کے کاموں میں مدد کرنا ان کا مشغلہ تھا۔

حج کے لئے جدہ گئیں تو میرے روم میٹس کے کپڑے تک دھو ڈالتیں ایک بار ایک دوست نے دیکھا تو کہنے لگا ماں جی یہ افتخار کے کپڑے نہیں بولیں تم بھی تو میرے بیٹے ہو۔والد صاحب غصیلی طبیعت کے تھے زندگی کے ہر موڑ پر ان کا ساتھ دیا ان کے سیاسی معاملات کو درست کرنے میں مدد دیتیں۔

بلدیاتی انتحابات میںوالد صاحب کی کامیابی کے پیچھے انہی کا ہاتھ ہوتا۔

ایبٹ آباد کے ٹھنڈے علاقے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے گجرانوالہ کی گرمیاں انہیں بہت ستاتی تھیں گرمی دانوں سے ان کا جسم بھر جاتا مگر کبھی شکائت لب پر نہ لاتیں۔زندگی میں اتار چڑھائو تو آتا رہتا ہے ہم نے ١٩٧٠ کے چند سال بڑی مشکل سے گزارے ایک بار تو والد صاحب نے ہاتھ کھڑے کر لئے اور کہا کہ گائوں چلی جائو شہر کے اخراجات پورے نہیں ہوتے بے جی نے کہا میں لوگوں کے برتن مانجھ لوں گی مگر بچے پڑھائوں گی۔ہم کیسے پڑھے اس کا احساس ہم تین بڑھے بہن بھائیوں کو ہے۔میں بہت سے ایسے واقعات سے در گزر کر رہاہوں صرف اس لئے کہ میں ان مشکل دور کے واقعات کو یاد کرکے ڈیپریشن میں نہیں جانا چاہتا۔میں نے پولی ٹیکنیک لاہور سے تین سال کا ڈپلومہ ریل گاڑی پر سفر کر کے کیا بعد میں مزید تعلیم اچھے دنوں میں کی۔بے جی فجر کی نماز سے پہلے اٹھتیں بھینس کو سنبھالنے کے بعد میرے لئے توشہ تیار کرتیں اور اندھیرے میں ریلوے اسٹیشن کی جانب چل نکلتا جو گھر سے ائک میل دور تھا۔کسی نے کیا خوب کہا ہے وقت کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ جیسا بھی ہو کٹ جاتا ہے۔بے جی اپنے گھر کی چھت پر تبلیغی اجتماع کرایا کرتی تھیں۔

شفیق اتنی کے محلے کے لوگ ہمارے گھر لسی لینے آیا کرتے بے جی سب کو دے کر روانہ کرتیں۔ایک بار والد صاحب نے کسی بچی کو واپس کر دیا۔تو اپنے دوپٹے کے نیچے لسی کا گلاس چھپا کر ان کے گھر دے آئیں۔بے جی کی لسی اور پانی میں فرق کرنا بڑا مشکل ہو جاتا تھا دوپہر تک پانی کا ذائقہ لسی کو مات دے دیتا تھا۔کہتیں او جانے پترا جنہاں سنگڑی پیتی اے او وی اتے ایں تے ہم وی ۔گوجری بولا کرتی تھیں ایک عرصے بعد پنجابی بھی سیکھ گئیں مگر اس میں ہندکو اور گوجری کا ٹچ ہوتا تھا۔۔

میرے بزرگ بھی داخلی ہجرت کرتے ہوئے گجرانوالہ آن پہنچے۔مختلف محلوں میں کرائے دار کی حیثیت سے رہنے کے بعد خدا نے ہمیں محلہ باغبانپورہ میں اپنی چھت دے دی۔میری مدر اپنے کم سن بچوں کے ساتھ وہیں ٹک گئیں۔کہتے ہیں گھر عورتیں بناتی ہیں۔چڑیا کی طرح تنکہ تنکہ کر کے گھونسلہ بنتا ہے ۔خاتون خانہ اگر سگھڑ نہ ہو تو عرب کے تیل کے کنویں بھی آپ کے ہوں تو آپ آخر عمر میں مفلس ہی مرتے ہیں۔

ماں جی نے اپنے خاوند کو دیہاتی سے شہری بننے میں بڑی دلیری اور جانفشانی سے سہارا دیا۔والد صاحب نے مختلف مراحل جن میں کامونکی میں چاولوں کی آڑھت بعد میں کچے دروازے میں فیروز خان میٹل ورکس میں شراکت کے بعد چوہان میٹل ورکس کے نام سے ایک چھوٹا سا کارخانہ بنا لیا جس میں ایلومنیم کے برتن بنایا کرتے تھے۔والد صاحب خود بھی کام میں ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔بے جی نے پانچ بیٹوں اور ایک بیٹی کے ساتھ گائوں سے آنے والے ر شتے داروں کو بھی سنبھالا دیا۔کس طرح ہماری پرورش کی آج اگر اپنے بچوں سے بات کریں تو ہیئیں کہہ کر حیرانگی کا اظہار کرتے ہیں گرمیوں میں ہم گائوں چلے جایا کرتے تھے وہاں جا کر دوسرے ہی دن سے جنگل سے لکڑیاں وغیرہ اور گھر گرہستی میں مصروف ہو جایا کرتی تھیں۔

دلیر اتنی کے سانپ وغیرہ کو آسانی سے مار دیتی تھیں میں نے زندگی میں بے جی کو کبھی بھی سکون اور ترتیب سے نہ کھانا کھاتے ہوئے دیکھا اور نہ ہی سوتے،تھوڑی سے اونگ سے کام چلا لیتی تھیں اکثر سجدے میں سو جاتی تھیں جب ہم تھپ تھپ کرتے تو جاگ کر نماز مکمل کرتی تھیں۔گھر کا آخری فرد ہوتی تھیں سونے میں اور پہلا فرد اٹھنے میں۔نماز تو نماز تہجد تک نہیں چھوڑتی تھیں۔ایک بار عزیزم عارف جو تنظیم اسلامی کے ذمہ دار ہیں انہوں نے مجھے بتایا کہ بے جی کو پریشان دیکھ کر میں نے پوچھا کیا بات ہے فرمایا میری تہجد چلی گئی۔ بے جی محلے کو وہ ہردل عزیز ماں تھی جنہیں ہر کوئی بے جی کہہ کر پکارتا چھوٹی موٹی چیزیں ایک دوسرے کے گھر بھیجا کرتیں کہتیں اس سے تعلق اور بھائی چارہ بڑھتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کی نوجوان مائیں بچوں کے اس طرح لاڈ نہیں لڈاتیں جیسے بزرگ عرتیں کیا کرتی تھیں۔میرے چھوٹے بھائی سرفراز جو آج کل اڈالی دینہ میں ہے وہ گھر میں گھستا تو پوچھتا کی آج کیا پکا ہے۔ایک دن پوچھا کہ بے جی کیا پکا ہے انہوں نیکہا گاجراں۔روز ای روز ڈاگراں۔موصوف غصے کے کافی تیز تھے۔دراصل اس دن بھنڈیاں پکی ہوئی تھیں۔بے جی نے کہا کہ سامنے کے گھر بھنڈیاں پکی ہیں لادوں؟اس نے کہا بلکل بھنڈی اچھی سبزی ہے وہی کھائوں گا۔وہ اپنے سفید دوپٹے کے نیچے پیالے میں بھنڈیوں کا سالن ڈالتیں اور سامنے کے گھر سے واپس آ کر جناب سرفراز کی شکم سیری کرواتیں۔بلیوں سے برا پیار کرتی تھیں،ان کا جب انتقال ہوا تو ایک بلی ایک ماہ تک منڈیر پر انہیں پکارتی رہی اور پھر کہیں غائب ہو گئی۔ایک بار محلے میں میرے دوست کے بچوں کو گھر لے آئیں ان کے حالات خراب تھے گھر میں دیگر بچوں کے ساتھ ان کی ذرا نہیں بنی تو بچوں کو سمجھایا کرتیں کی بچو!مہمان اللہ کی نعمت ہیں۔پندرہ بیس روز تک انہیں گھر رکھا پھر راضی نامہ کروا کے گھر بھیج دیا۔

ماں جی چرخہ کات کے بڑی بہن کے لئے کھیس بناتی تھیں۔کسی کے گھر چلی جائیں تو ان کے گھر کے کاموں میں مدد کرنا ان کا مشغلہ تھا۔ حج کے لئے جدہ گئیں تو میرے روم میٹس کے کپڑے تک دھو ڈالتیں ایک بار ایک دوست نے دیکھا تو کہنے لگا ماں جی یہ افتخار کے کپڑے نہیں بولیں تم بھی تو میرے بیٹے ہو۔والد صاحب غصیلی طبیعت کے تھے زندگی کے ہر موڑ پر ان کا ساتھ دیا ان کے سیاسی معاملات کو درست کرنے میں مدد دیتیں۔ بلدیاتی انتحابات میںوالد صاحب کی کامیابی کے پیچھے انہی کا ہاتھ ہوتا۔

ایبٹ آباد کے ٹھنڈے علاقے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے گجرانوالہ کی گرمیاں انہیں بہت ستاتی تھیں گرمی دانوں سے ان کا جسم بھر جاتا مگر کبھی شکائت لب پر نہ لاتیں۔زندگی میں اتار چڑھائو تو آتا رہتا ہے ہم نے ١٩٧٠ کے چند سال بڑی مشکل سے گزارے ایک بار تو والد صاحب نے ہاتھ کھڑے کر لئے اور کہا کہ گائوں چلی جائو شہر کے اخراجات پورے نہیں ہوتے بے جی نے کہا میں لوگوں کے برتن مانجھ لوں گی مگر بچے پڑھائوں گی۔ہم کیسے پڑھے اس کا احساس ہم تین بڑھے بہن بھائیوں کو ہے۔میں بہت سے ایسے واقعات سے در گزر کر رہاہوں صرف اس لئے کہ میں ان مشکل دور کے واقعات کو یاد کرکے ڈیپریشن میں نہیں جانا چاہتا۔میں نے پولی ٹیکنیک لاہور سے تین سال کا ڈپلومہ ریل گاڑی پر سفر کر کے کیا بعد میں مزید تعلیم اچھے دنوں میں کی۔بے جی فجر کی نماز سے پہلے اٹھتیں بھینس کو سنبھالنے کے بعد میرے لئے توشہ تیار کرتیں اور اندھیرے میں ریلوے اسٹیشن کی جانب چل نکلتا جو گھر سے ائک میل دور تھا۔کسی نے کیا خوب کہا ہے وقت کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ جیسا بھی ہو کٹ جاتا ہے۔بے جی اپنے گھر کی چھت پر تبلیغی اجتماع کرایا کرتی تھیں۔

شفیق اتنی کے محلے کے لوگ ہمارے گھر لسی لینے آیا کرتے بے جی سب کو دے کر روانہ کرتیں۔ایک بار والد صاحب نے کسی بچی کو واپس کر دیا۔تو اپنے دوپٹے کے نیچے لسی کا گلاس چھپا کر ان کے گھر دے آئیں۔بے جی کی لسی اور پانی میں فرق کرنا بڑا مشکل ہو جاتا تھا دوپہر تک پانی کا ذائقہ لسی کو مات دے دیتا تھا۔کہتیں او جانے پترا جنہاں سنگڑی پیتی اے او وی اتے ایں تے ہم وی ۔گوجری بولا کرتی تھیں ایک عرصے بعد پنجابی بھی سیکھ گئیں مگر اس میں ہندکو اور گوجری کا ٹچ ہوتا تھا۔۔بھائی جان نے الیکشن لڑا مد مقابل شہر کے نامی گرامی بد معاش تھے۔چند ووٹوں سے شکست ہوئی تو مد مقابل ڈھول باجوں کے ساتھ ہمارے گھر کی طرف بڑھنے لگے جس سے ہمارے حامیوں نے لاشیں گرانے کا منصوبہ بنا لیا دوڑکر ان کے پاس پہنچ گئیں انہوں نے بے جی کے پائوں چومے اور سب کچھ بند کر کے خاموشی سے چلے گئے یوں خونریزی سے جان چھٹ گئی۔سیاسی فہم و فراست بہت تھی۔اللہ نے انہیںجتنی تکلیفیں دی صبر شکر سے برداشت کرنے کا پھل ملا۔بھائی جان امتیاز اعجاز سجاد اور میں نے پھر انہیں خوب سیریں کرائیں کبھی تہران جدہ عمرے حج۔ایک بار میرے دوست جناب اعجاز الحق نے مکہ میں زمزم ٹاور میں بے جی سے دعا کی اپیل کی۔ماں جی نے کہا پترا پیراں تا بھار پایا کر تے سب ٹھیک ہو جائے گا۔اعجاز مسکرا دیے اور کہنے لگے یار بے جی تے وڈے سیاست دان نیں۔میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ وہ ولی اللہ تھیں لیکن اتنا ضرور ہے کہوں گا کہ ان کی زندگی کے چند واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ کا ان پر کرم تھا۔مریم نواز شریف کیپٹن صفدر میاں صاحبان کی والدہ یہ سب لوگ مشرف انقلاب سے پہلے جدہ آئے ہوئے تھے۔ایک بار مریم نے بے جی سے دعا کی اپیل کی۔انہوں نے ایک وظیفہ کرنے کو کہا اور بتایا کہ انشاء اللہ تمہارا باپ جدہ میں تمہیں ملے گا۔میاں صاحب اس وقت اٹک قلعہ میں تھے۔اور اللہ کا کرنا ہوئے میاں نواز شریف رہا ہو کر جدہ پہنچے۔

جب وہ رہا ہو کر جدہ آئے تو ایک تسبیح میں نے میاں صاحب کو پیش کی جو انہیں والدہ صاحبہ نے دی تھی حجر اسود کے پاس میں نے مغرب کی نماز کے بعد انہیں دی اور کہا کہ والدہ محترمہ نے کہا ہے کہ اس پر استغفراللہ پڑھیں اس لئے کہ اللہ ہی ہے جو نعاف کرنے والا ہے۔میاں صاحبان سے قربت کی وجہ بے جی بھی تھیں۔میرا خدا گواہ ہے میں نے کبھی بھی مسلم لیگ نون جائن نہیں کی لیکن جب جنرل مشرف دور میں جنرل اسد درانی نے قاری شکیل اور دیگر مسلم لیگیوں کو گرفتار کیا تو میں چپ نہ رہ سکا ۔سکول کے معاملات بھی تھے مجھے جنرل اسد درانی نے دیگر مسلم لیگیوں کے ساتھ جیل بھجوا دیا۔

لوگو یاد رکھنا فوجی کبھی ریٹائر نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کے دلوں میں عام انسانوں کی طرح پسیج جانے والا دل ہوتا ہے۔انہوں نے بے شمارپاکستانیوں کے گھر اجاڑے ہیں اس میں قاری شکیل ارشد خان عظمت خان نیازی آفتاب مرزا ڈاکٹر قسیم امجد خواجہ نعیم بٹ شہباز دین بٹ شامل ہیں اور کئی جو صرف اس لئے کہ وہ آمریت کے خلاف تھے ۔مجھے ٧١ دن بند رکھا گیا ہم اجڑے جیسے ٤٧ میں مہاجر اجڑے تھے۔میری ماں بھی اسی آپریشن کی نظر ہوئی،بے جی کو اپنے بیٹے کو اس طرح اجڑنا لے دے گیا۔

وہ کہا کرتیں میرا شہزادہ بیٹا جیل کی نظر کیوں ہوا؟انہیں میرا دکھ لے بیٹھا۔میں ١٩ مارچ ٢٠٠٢ کو اپنے آفس سے گرفتار ہوا اور ٢٨ مئی ٢٠٠٢ کو پاکستان پہنچا دیا گیا۔بے جی اس دوران ساری رات مصلے پر روتی ریتیں اور اللہ سے بیٹا مانگنے آہ و زاری کیا کرتیں۔

آمریت پر ہزار لعنت مجھے آج بھی کوئی کہتا ہے کہ مارشل لاء آئے تو میرا جواب یہی ہوتا ہے میری لاش پر۔بے حس لوگ ہیں۔جنرل مشرف جو اب اپنی ماں کے واسظے دیتا ہے کہ مجھے رہا کرو تو مجھے اپنی ماں یاد آتی ہے۔کتنی مائوں کو تم نے تڑپایا ہے اے او بہادر جرنیل۔چوہے کی طرح کبھی آرمڈ فورسز ہسپتا میں چھپتے ہو اور کبھی کراچی دم دبا کر بھاگ جاتے ہو۔میری سب تحریریں پڑھ لیں میں نے بحیثیت ادارہ کبھی فوج کو برا نہیں کہا مگر جب کرنل طارق اور جنرل درانی کی وہ خرمستیاں یاد آتی ہیں تو دل کرتا ہے ان ننگ دیں ننگ ملت جوڑے کو کورٹ مارشل کے لئے جنرل راحیل ہی کے پاس بھیج دوں۔ک میری بات پہنچے تو میں چاہوں گا کہ ٢٠٠٢ میں ہونے والے مظالم کا نوٹ س لیا جائے۔میں بہت پریشان تھا جب گجرانوالہ پہنچا تو بے جی نے بلائیں لیں ہم نلہ ہری پور آئے تو مزید بیمار ہو گئیں ٢٤ دن پمز میں داخل رہیں اور ٢٢ جون ٢٠٠٢ کو اس جہاں سے رخصت ہوئیں۔

جنرل مشرف تو نے قوم کی بیٹی عافیہ ہی نہیں بیچی میری ماں کو بھی مارا ہے۔تو کبھی سکوں نہیں پائے گا نہ تم اور نہ تمہاری ماں۔ بھگوڑوں کو لوگ چوہا بولتے ہیں آپ ایک چوہے ہو۔اس روز جب شکیل دولہا بنا تو آپ بہت یاد آئین آپ ہی نے اس کا نام رکھا اور آپ ہی نے اسے کرن سے جوڑا آپ ہی نے اسے حافظ قران بنوایا سب بن گیا مگر آپ نہیں ہیں۔
٢٠٠٢ کے شروع کے دنوں میں مجھے کسی پہلو قرار نہ ملتا تھا،سارا د ن رات سوچتا رہتا لیکن اس روز بے جی خواب میں آئیں گلے لگایا میں نے بڑے شکوے کئے۔بس ایک آواز میرے کان میں گونجی۔پتر او جانے میری گجری ماں کہا کرتی تھیں جب بتی چلی جائے تو کلمہ پڑھا کرو عادت بن جائے گی تو قبر کے اندھیرے میں کلمہ یاد آ جائے گا۔لوڈ شیڈنگ کے وقت بے جی یاد آتے ہیں یہی میرا مدر ڈے ہے۔ میرے لئے ہر ڈے مدر ڈے ہے مائے نی میں کنہوں آکھاں بے جی آپ کو سلام۔

Engr Iftikhar Chaudhry
Engr Iftikhar Chaudhry

تحریر : انجینئر افتخار چودھری

Share this:
Tags:
country demand India mothers day pakistan پاکستان پاکستانی مدر ڈے مطالبہ ملک
FBR
Previous Post ایف بی آر کے اندر سے نئے چیئرمین کے تقرر کی مخالفت، گریڈ 22 کا افسر لگانے کا مطالبہ
Next Post اس سال بھی چاند متنازعہ؟
Ramadan Moon

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close