
تحریر : وقار انسا
ماں ایک گھنی چھاں ایک بیمثال رشتہ یہ وہ رشتہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں اولاد کی خوشی میں خوش ان کی پریشانی میں ان سے زیادہ پریشان ہونے والی ہستی جو اولاد کی پیدائش اور پرورش کے لئے بہت سے کٹھن مراحل سے گزرتی ہے خود رات کو جاگتی ہے اور اسے سلاتی ہے یہ وہ ہستی ہے کہ جس کے قدموں میں اللہ نے جنت رکھ دی بی بی حاجرہ کی اپنے ننھے بچے کی پیاس کی شدت دیکھ کر صفا اور مروہ پر بھاگنے کے عمل کو اللہ نے پسند فرما کر حج اور عمرہ کا رکن بنا دیا اور قیامت تک مردوں کو بھی اس نقش قدم پر چلا دیا مسلمانوں کے لئے صرف ایک دن ماں کا نہیں ؟ بلکہ ھمارا تو ہر دن ہی ماں کا ہونا چاہیے۔
والدین کے چہرے پر ڈالی کی ایک محبت کی نظر کو اللہ کے رسول نے حج مقبول کا درجہ قرار دیا پھر ایک ہی دن کیوں ؟ اتنی بڑی سعادت سے روز ہی مستفید ہو کر اپنے درجات کو بڑھایا جا سکتا ہے یہ روایت تو مغرب کی ہے جہاں والدین کا وقت اولڈ ہاس میں گزرتا ہے اور اولاد میں سے کوئی ہی اس دن پر یاد کر لیتی ہے اور بتا یا جاتا ہے کہ آج مدر ڈے ہے کوئی ملنے بھی کم ہی آتا ہے ایک فون کال یا زیادہ تر ایک میسج ماں کے نام آ جاتا ہے۔
اس روایت کی تقلید کرتے ہوئے ہم اسے ایک دن پر موقوف نہیں کر سکتے ہردن کا آغاز ان کی دعا سے کیا جا سکتا ہے مدر ڈے پر اپنی ماں کو ملنے ان سے بات کرنے ان کے لئے اچھے الفاظ لکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا یہ چاہیے کہ اس عمل سے روز ہی اپنی ماں کو خوش کر دیں- ہر دن کو ہی مدر ڈے بنا لیں اسلامی معاشرے بھی ماڈرن ہونے کے شوق میں اسی رنگ میں رنگتے جا رہے ہیں۔
ہمارے ملکوں میں بھی ماں کو دارالامان ایدھی ویلفیئر سینٹراور انصار برنی کے اولڈ سینٹر میں اولادیں چھوڑ آتی ہیں کہیں جوانی میں بنائے سنوارے گھروں سے مائیں بہوں کے کہنے پر بے دخل کر دی جاتی ہیں اور کہیں اپنی جنم دی ہوئی اولادیں کبھی خبر نہ لینے کے لئے انہیں گھر سے باہر چھوڑ آتی ہیں- اور وہ عید تہوار پر ان کے ملنے اور ان کو دیکھنے کے لئے خون کے آنسو روتی ہیں ان کی منتظر نظریں اپنے پیاروں کو تلاش کرتی رہتی ہیں- اور وہ بے رحم اولادیں پلٹ کر ان کی خبر نہیں لیتیں۔
دنیا کے تمام مذہب والدین کی خدمت کا ہی سبق دیتے ہیں لیکن اسلام نے حسن سلوک کا درس دیا جس کا درجہ خدمت سے بھی بڑھ کر ہے ایک صحابی رسول بکریاں چرا کر جب گھر آتے تو پہلے دودھ دوہ کر ماں باپ کو دیتے ایک دن وہ آتے ہیں تو والدین سو چکے ہوتے ہیں وہ پوری رات پیالہ ھاتھ میں لئے کھڑے رہتے ہیں۔
ان کی بے آرامی کے خیال سے انہیں جگاتے تک نہیں ہم تو اس مذھب اسلام کے پیروکار ہیں اس لئے ھمارا ہر دن ہی ماں کا دن ہونا چاہیے-اور ان کی دعاں سے نہ صرف خود سکون اور مسرت حاصل کرنی چاہیے بلکہ اچھے روئیے سے ان کا ہر دن بھی خوشگوار بنانا چاہیے۔
تحریر : وقار انسا
