Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

گولان کی پہاڑیاں اسرائیلی ملکیت نہیں۔ عرب و عجم متحد، امریکی اقدام مسترد

March 31, 2019 0 1 min read
Donald Trump
Donald Trump
Donald Trump

تحریر : قادر خان یوسف زئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کو تسلیم کرکے مشرق وسطی میں دوبارہ ایک نئے تنازع کو موضوع بحث بنا دیا ہے۔ اسرائیل نے شام کے اس علاقے پر1967کی جنگ میں قبضہ کیا تھا اور 1981میں صہیونی ریاست میں غاصبانہ طور پر ضم کرلیا تھا ۔ لیکن اسرائیل کے اس ا قدام کو اقوام متحدہ سمیت عالمی برداری نے تسلیم نہیں کیا ۔ آج بھی امریکا کی جانب سے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کی قانونی حیثیت کو تسلیم کے باوجود گولان کی پہاڑیاں مقبوضہ علاقہ ہی تصور کئے جاتے ہیں۔ امریکی صدر کے اس اقدام کو امریکن کانگریس کے دونوں ایوانوں سے توثیق بھی کرایا گیا۔ایک بل کے ذریعے مقبوضہ علاقے کو پہلی مرتبہ ” کنٹرول ” علاقے قرار دے کر اسرائیل کی ملکیت قرار دے دیا گیا ۔ 2017 میں امریکہ نے سرکاری طور پر یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا اور 2018 میں تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ وہاں منتقل کردیا تھا۔گولان کی پہاڑیاں 1200کلومیٹر پر میحط عرب سرزمین ہے جس پر اسرائیل نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ شام اور اسرائیل کے درمیان سرحدی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس کے ایک جانب لبنان اور دوسری جانب اردن کی سرحد بھی لگتی ہے۔شام میں اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر گئیر پیڈرسن نے گزشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ سکیورٹی کونسل اس پر بہت واضح ہے کہ گولان کی پہاڑیاں شامی علاقہ ہے اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق یہ شامی کی سرحدی سا لمیت کا معاملہ ہے۔ گزشتہ 52 سال سے یہ علاقہ عالمی سطح پر متنازع ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس علاقے پر اسرائیل کے قبضہ کو غیر قانونی قرار دیتی ہے۔

گولان کی پہاڑیوں کو شام اور اسرائیل دونوں ملک ہی خاص اہمیت دیتے ہیں اس کی اہم وجہ اس کی جغرافیائی اور عسکری اہمیت ہے۔ شام کے جنوب مغرب میں واقع اس پہاڑی سلسلے سے شامی دار الحکومت دمشق واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس علاقے پر اسرائیل کے قبضہ کے بعد سے اسرائیلی فوج یہاں سے شامی فوج اور جنگجوؤں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ یہاں سے شمالی اسرائیل کا علاقہ بھی دسترس میں ہے اور 1948 سے 1967 تک جب یہ پہاڑی سلسلہ شام کے زیر انتظام تھا تو شامی فوج یہاں سے شمالی اسرائیل پر گولہ باری کرتی رہی ہے۔ غاصبانہ قبضے کے بعد1981میں اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں کو اپنی ملکیت قرار دینے کا باقاعدہ اعلان کیا۔ اس علاقے کا جغرافیائی محل وقوع اسرائیل کو شام کی جانب سے کسی بھی عسکری حملے کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے۔ عسکری اہمیت کے علاوہ اس بنجر علاقہ کے لیے پانی بھی ان پہاڑیوں سے بارش کے پانی سے بننے والے ذخیرہ سے حاصل ہوتا ہے جو اسرائیل کے لیے پانی کے حصول کا تیسرا بڑا ذریعہ بھی ہے۔

گولان کی پہاڑیاں 1200 شامی دارالحکومت دمشق سے تقریباً 60 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہیں۔ اس علاقے پر تقریباً 30 یہودی بستیاں قائم ہیں اور ایک اندازے کے مطابق 20000 لوگ منتقل ہو چکے ہیں۔اس علاقے میں تقریباً 20000 شامی لوگ بھی رہتے ہیں۔ امریکی صدر کے اس اقدام کو بشار الاسد رجیم ، روس اور ایران کے لئے بڑا دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔ شام سے امریکی فوج کے انخلا کے اعلان نے امریکی صدر نے بشار الاسد رجیم ، ایران اور روس کو غیر متوقع طور پر حیران کردیا تھا۔ گو کہ ابھی تک امریکا شام سے داعش کو مکمل شکست کے اعلان کے بعد فوجی انخلا رکوانے کے لئے امریکی انتظامیہ اور کانگریس میں اختلافات بدستور برقرار ہیں۔ ٹرمپ کے اعلان کے بعد2000امریکی فوجی واپس بلا لئے گئے ہیں تاہم اب بھی امریکی افواج کا انخلا مکمل نہیں ہوا ۔ امریکا کبھی400تو کبھی100فوجی شام میں موجود رہنے کا عندیہ دیتے ہیں۔ شام میں امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد خطے میں نئی صورتحال کے حوالے سے ترکی ، ایران اور روس کا اثر نفوذ بڑھنے کی امید رہی ہے کہ امریکی انخلا اور بشار الاسد مخالف قوتوں کے خالی کردہ کردہ علاقوں پر شامی اور ایرانی اتحاد اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط بنا نے کی کوشش رہے ہیں۔

گولان کی پہاڑیوں پر امریکی اقدام کے خلاف سعودی عرب نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ سعودی حکومت نے امریکا پر واضح کیا ہے کہ” گولان کا پہاڑی علاقہ ایک عرب علاقہ ہے جس پر اسرائیل نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور قبضہ ملکیت نہیں بن جاتا ہے، مستقبل میں بھی یہ علاقہ عرب کا حصہ رہے گا۔ امریکی صدر کو اپنے متنازعہ فیصلے کو واپس لیکر خطے میں امن کے خطرے کو ٹال دینا چاہیئے”۔ادھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل برطانیہ، فرانس، روس اور چین نے بھی امریکی فیصلے کے برخلاف گولان کے پہاڑی علاقوں کو بدستور مقبوضہ علاقہ تسلیم کرنے کا اعلان کرکے فلسطین، شام، ترکی اور سعودی عرب کے موقف کی تائید کردی ہے۔ ترکی اور شام نے بھی امریکی فیصلے کو عالمی قوانین کے منافی قرار دیا تھا۔گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کے لئے بڑی اہمیت کی حامل ہیں ۔ سلامتی کونسل میں گولان کی پہاڑیوں پر امریکی اقدام پر اجلاس بلائے جانے کی درخواست دی جاچکی ہے۔

امریکی اقدام پر مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔تاہم امریکا کی جانب سے اپنے اقدام کو درست قرار دیا جارہا ہے کہ ایران اب شام میں عملی طور اپنا اثر نفوذ بڑھا چکا ہے اور اسرائیل کے خلاف ایک بڑے خطرے کی صورت میں موجود ہے اور اس جگہ پر اپنے میزائل نصب کرکے خطرہ پیدا کرسکتا تھا اس لئے امریکا نے خطرات سے بچائو کے لئے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا قبضہ جائز قرار دیا۔

پاکستان نے بھی شام کی گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری تسلیم کرنے کے امریکی انتظامیہ کے فیصلے کی شدید مخالفت اور مذمت کی ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنے بیان میں کہا کہ” امریکی فیصلہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قابل عمل قرارداد کی سنگین خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی روایات کو شدید دھچکا لگا ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی غم و غصے کی تائید کرتا ہے اور اس فیصلے کے خطے اور خطے سے باہر ممکنہ سنگین نتائج کے بارے میں شدیدتحفظات رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق اقدامات کرے۔”

گولان کی پہاڑیاں جہاں ایک طرف فلسطین کے لئے اہمیت کی حامل ہیں تو دوسری جانب ایران کے توسیع منصوبے کے تحت شام کے راستے اسرائیل پر حملہ آور ہونے کے لئے اہم محاذ کی حیثیت بھی رکھتاہے۔ عرب ممالک1967 جنگ کے بعد سے اسرائیل کے قبضے سے ابھی تک گولان کی پہاڑیوں کو آزاد نہیں کراسکے ۔ تاہم اس علاقے سے اسرائیل پر ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائوں کے حملوں سے اسرائیل کو مسلسل پریشانی کا سامنا رہاہے۔ شام میں ایران اثر بڑھ جانے کے بعد اسرائیل کو عدم تحفظ کا احساس بڑھ چکا تھا ۔اسرائیل اور امریکا نے ایران کے بڑھتے ہوئے اثر نفوذ پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ایران اور ایرانی کی حمایت یافتہ جنگجو ملیشیا وگروپس، عراق اور شام کو اسرائیل کے خلاف حملوں کے لئے استعمال کر ے گا ۔ امریکی صدر بھی اپنے ان خدشات کا اظہار کرچکے ہیں۔

اسی لئے انہوں ” الاسد” کے فوجی اڈے میں ایرانی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے باور کرایا تھا عراق میں امریکی فورسز ایرانی نفوذ پر قریب سے نظر رکھے گی ۔اس کی بنیادی وجہ اُس وقت سامنے آئی جب عراق میں ایران نواز جنگجو ملیشیا ئوں میں سے عصائب اہل الحق کے سیاسی ونگ ” صادقون”نے اسرائیل پر حملوں کے لئے شام میں داخل ہونے کی دھمکی دی تھی۔ شام میں موجود ایرانی عسکری ٹھکانوں پر اسرائیلی حملوں میں اضافے کے بعد عراقی ملیشیا کی قیادت کے اعلان کے بعد ایرانی فضائیہ کے سربراہ بریگیڈیئر جبل عزیز نصیر زادہ کا بھی اعلان آیا کہ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ فیصلہ کن معرکے کے لئے تیار ہے۔ مشرق وسطی کی صورتحال میں امریکی فوجیوں کے انخلا کے باوجود جلد بہتری کی توقعات نہیں ہیں۔بلکہ ایک نئے محاذ کھلنے کا امکان زیادہ ہے۔

شام میں ایران کی موجودگی کو ایک بڑا جواز بھی مل سکتا ہے ۔ ایران ، اسرائیل کے لئے امریکا کے اس اقدام کے بعد شام میں اپنی افواج میں اضافے کے ساتھ ساتھ میزائل بھی نصب کرسکتا ہے۔ حال ہی میں لبنان کی سرحد کے نزدیک سفیتہ کے مقام پر میزائل اڈا تعمیر کیا ہے۔وہ شام کے صحرا کے بیچوں بیچ ریل کی پٹڑی بچھانے کی بھی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ چناں چہ امریکا کی گولان کی چوٹیوں کی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے کوششوں سے ایران کو اپنی توسیعی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کا جواز بھی ملے گا ۔

شام سے امریکی فوجی انخلا کررہے ہیں اور شام کی نئی آئینی حکومت بنانے کے لئے ایران ، ترکی ور روس کا اثر اہمیت اختیار کرگیا ہے ۔ اسی تناظر میں خاص طور پر شام اور ایران کے صدر حسن روحانی اور مذہبی رہنما سے پہلی مرتبہ ملاقات میں علاقائی صورتحال پر ملاقات ہوئی تھی۔ شام میں تبدیل ہوتی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے روس کے شہر سوچی میں روسی صدر ولادی میر پوتن ، ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور ایران کے صدر حسن روحانی چوتھے سہہ فریقی اجلاس میں 14 فروری کوشریک ہوچکے ہیں ۔اجلاس میں امریکہ کے فوجی دستوں کے شام سے انخلا کے فیصلے کا بھی جائزہ لیا گیا تھا۔ خاص طور پر دہشت گردی کے موضوع پر غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا کہ قائم کیے جانے والے سکیورٹی زونز دہشت گرد تنظیموں کے لئے فروغ دینے کا باعث نہیں بننے چاہئے۔فرقہ وارانہ خانہ جنگی میں سات برسوں میں 5لاکھ سے زاید افراد جاں بحق ہوچکے ہیں نیز لاکھوں شامی عوام اپنے ہی ملک میں آئی ڈی پیز بننے پر مجبور ہوئے اور لاکھوں افراد نے ترکی ، لبنان ، اردن ، یورپ میں پناہ لی ہوئی ہے۔

شام میں خانہ جنگی اور تازہ ترین تبدیلیوں پر ترکی ، روس اور ایران باہمی رابطے میں رہتے ہیں ۔ ان مذاکرات کوآستانہ عمل کا عنوان دیا گیا تھا ، تینوں ممالک اِس وقت شام میں اہم کردار ادا کررہے ہیں ۔شام کے صدر بشار الاسد کی حمایت روس اور ایران کررہا ہے ، جب کہ امریکا بشار حکومت کے خاتمے کی کوشش کرتا رہا ہے ، داعش نے عراق و شام میں اپنے مضبوط ٹھکانے بنا لئے تھے ، جس کے خاتمے کے لئے عالمی قوتوں نے شام کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ، دوسری جانب ایران نے بشار الاسد کی صدارت کو بچانے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ۔ ایک پر امن مظاہرے سے شروع ہونے والی خانہ جنگی میں لاکھوں انسانوں کو جانی و مالی نقصان ہی نہیں پہنچا بلکہ فرقہ وارانہ اختلافات کا اثر پوری مسلم دنیا پر پڑا ۔ شام میں گزشتہ تین برسوں سے بڑی تیز رفتاری سے تبدیلیاں ہورہی ہیں اور اب ترکی مشرقی شام میں کرد باغیوں کے خلاف جنگی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ یہ ترکی کے لئے بہت بڑا فیصلہ ہے کیونکہ امریکا اور روس کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والا ترکی اب خود شام میں جنگ کا ایک کردار بن چکا ہے جو 30لاکھ شامی مہاجرین کی میزبانی بھی کررہا ہے جس پر 30ارب ڈالر اخراجات کو بھی برداشت کررہا ہے۔

امریکا کا عالمی برداری کی جانب سے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کو تسلیم کرنے کے سبب خطے میں ایک نازک صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ شام میں فرقہ وارنہ خانہ جنگی کے خاتمے میں کمی کے بعد اس بات کی امید پیدا ہوئی تھی کہ شام سے ہجرت کرنے والے لاکھوں مہاجرین واپس اپنے گھروں میں لوٹ آئیں گے ۔ تاہم انہیں گھروں کی واپسی میں شامی حکومت کی جانب سے کچھ دشواریو ں کا سامنا بھی ہے ۔ کیونکہ شامی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ حکومت کے خلاف لڑنے والے مزاحمت کار ان مہاجرین کے ساتھ دوبارہ مملکت میں شامل ہوسکتے ہیں۔ اس کے لئے شامی حکومت ایران سے صلح و مشورے پر کام کررہی ہے ۔ تاہم دوسری جانب ایران کی جانب سے شام جانے والے جنگجو ملیشیائوں کا ہدف اسرائیل کی جانب بھی ہوچکا ہے ۔ جیسا کہ ایران کے کئی جنگی جرنیلوں نے اسرائیل کو سبق سیکھانے کی بات کی۔ اسرائیل کے خلاف لڑنے کے لئے ایران کے لئے سب سے موثر ذریعہ شام کی سرزمین ہے ۔ جس میں گولان کی پہاڑیوں کو ایک خصوصی حیثیت حاصل رہی ہے ۔ لیکن اب امریکا کی جانب سے گولان کو اسرائیلی علاقہ قرار دینے کے بعد امریکا ، اسرائیل کی حمایت و ایما پر براہ راست ایران و شام کے خلاف فضائی کاروائی کرسکتا ہے۔ گو کہ اسرائیل شام میں موجود ایران کے کئی ٹھکانوں کو کئی بار نشانہ بنا چکا ہے۔ لیکن اس بار نوعیت جداگانہ ہے۔

امریکا ، اسرائیلی حمایت میں کسی بھی ملک کے موقف کو تسلیم کرنے کو تیار نظر نہیں آتا ۔ مصر کے دورے کے دوران مصری وزیر خارجہ سمیع شکرو نے امریکا کے وزیر خارجہ سے ملاقات کے دورا ن واضح طور پر کہا کہ گولان کی پہاڑیاں عرب کی زمین ہیں ۔اور اس کی تصدیق بین الاقوامی قوانین بھی کرتے ہیں۔ ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ”ہم 1967 سے اسرائیل کے قبضہ میں گولان پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کرنے کے امریکی انتظامیہ کے فیصلے سے ناخوش ہیں اور اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔یہ بدقسمتی بھرا فیصلہ ہے جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 497 (1981) کا جو واضح کرتا ہے کہ امریکی انتظامیہ مغربی ایشیا میں قضیہ کے حل کے بجائے مسئلے کا حصہ بنا ہوا ہے”وزارت نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ کا فیصلہ ترکی کے لئے ناقابل قبول ہے”۔

امریکا کی جانب سے گولان کی پہاڑیو ںپر اسرائیلی قبضے کو تسلیم کرے کے بعد خطے میں ایک نئی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ حالیہ سلامتی کونسل کا بلائے جانے سے قبل امریکی سفارتخانے کے معاملے پر بھی اہم اجلاس بلایا گیا تھا لیکن امریکا نے قرارداد کو ویٹو کردیا تھا، جنرل اسمبلی کے اجلاس میں امریکا کو بدترین شکست کا سامنا ہوا ، لیکن امریکا نے اقوام متحدہ کی بھی پرواہ نہیں کی ۔ اب امریکا بہت بڑا قدم اٹھا کر اقوام متحدہ کے قرارداد و آئین کو پیر وں تلے روند دیا ہے ۔ سلامتی کونسل کا اجلاس دو بارہ بلایا گیا ہے۔ تاہم اس اجلاس کا بھی وہی نتیجہ نکلا جو امریکی سفارت خانے کے تل ایبب پر منتقلی پر احتجاج کو مسترد کرنے پر نکلا تھا ۔ امریکا ، اسرائیل کی حمایت میں انتہائی اقدام تک جانے کو تیار ہے اسے اقوام متحدہ اور عالمی برداری سمیت اپنے حلیف اور اتحادیوں کی بھی کوئی پرواہ نہیں ، بلکہ امریکا ، اپنی طاقت کی دھونس پر جو کرنا چاہتا ہے وہ کرگزرتا ہے ۔ جب تک عرب ممالک امریکا پر انحصار ختم نہیں کرتے اور اپنے اختلافات ختم نہیں کرتے ۔ امریکا اور اسرائیل کی من مانیاں جاری رہیں گی اور عالمی امن کو ہمیشہ خطرات کا سامنا رہے گا ۔

مشرق وسطی کے اس اہم ترین تنازعہ پر اسرائیلی اور امریکا کی من مانیاں خطے میں امن کے قیام میں حائل رہیں گی ۔ گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیلی ملکیت تسلیم کرنے کی امریکا ایک بار پھر عالمی برداری کے مخالف کھڑا ہے لیکن عالمی برداری اور اقوام متحدہ کی تمام تر مذمت کے باوجود امریکا اسرائیلی کی غیر قانونی حاکمیت کے لئے اپنی طاقت کا غیر قانونی استعمال کررہا ہے۔ امریکا کا جانب دارنہ رویہ ، عرب ممالک سمیت تمام عالمی برادری کے لئے بھی نوشتہ دیوار ہے کہ امریکا ، عالمی قوانین کی دھجیاں بکھرنے میں کسی کو خاطر میں نہیں لاتا ۔صدر ٹرمپ کی اسرائیل نواز پالیسیوں نے امریکی چہرے کو مزید بے نقاب کردیا ہے ۔ عرب ممالک اور فلسطین کی حمایت کرنے والے مغربی ممالک کو اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم امریکی خواہشات کے مطابق چلانے سے روکنے کی روک تھام کرنے پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ و سلامتی کونسل کا پلیٹ فارم ہمیشہ امریکا نے اپنے فروعی مقاصد اور اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کو جائز قرار دینے کے لئے استعمال کیا ہے۔ امریکا کو فلسطین و مقبوضہ کشمیر میں غاصبوں کے ظلم و ستم نظر نہیں آتے ۔ امریکا بس اپنے فروعی مفادات کے لئے عالمی قوانین کو روندنا جائز سمجھتا ہے۔ امریکا اسرائیل کی خوشنودی کے لئے ہر انتہائی اقدام کو جائز سمجھتا ہے ۔ اسرائیل کے تنازع کا حل اقوام متحدہ کے پاس نہیں بلکہ عرب ممالک کے پاس ہے کہ عرب و عجم اپنے مفادات کو مسلم امہ کی سلامتی کے لئے استعمال کریں۔ مسلم ممالک کے باہمی اختلافات سے امریکا اور اسرائیل پورا فائدہ اٹھا رہے ہیں انہیں لگام دینے کے لئے مسلم امہ کو مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

Qadir Khan Yousafzai
Qadir Khan Yousafzai

تحریر : قادر خان یوسف زئی

Share this:
Tags:
Israeli mountains rejection US President اسرائیلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسترد
Vitamin C
Previous Post وٹامن سی وینٹی لیٹر سے جلد چھٹکارا دلائے
Next Post اپریل فول اور اسلام
April Fool

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close