Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

تحریک آزادی نسواں اور اسلام

March 9, 2017March 9, 2017 0 1 min read
Women’s rights
Women’s rights
Women’s rights

تحریر : حنظلہ عماد
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔۔۔۔۔۔ یہ جملہ ہم میں سے ہرایک کی سماعتوں پر خراش ڈالنے کا باعث بن چکا ہے۔یقینا یہ جملہ بر حق ہے لیکن ایسی صورت میں کہ جب وجود زن اپنے صحیح مقام پر ہو کیونکہ اگر کسی بھی تصویر میں کوئی بھی رنگ اپنے درست مقام پر نہ ہو تو نہ صرف تصویر کا توازن خراب ہو جاتا ہے بلکہ اس تصویر کی وقعت بھی بے مول ہو جاتی ہے۔خواتین جو ہمارے معاشرے کا نصف سے زائد حصہ ہیں، یقینا ان کا وجود اور معاشرے میں ان کا صحیح مقام پر ہونا بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اگر یہ معاشرے میں صحیح مقام پرنہ ہوں تو معاشرہ بے اعتدالی اور بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے۔

یادرہے کہ ہم نے بات اعتدال کی کی ہے کہ معاشرہ اعتدال پررہے،خواتین کوجائز مقام دے۔ یہی عدل کاتقاضا ہے اور صرف خواتین کونہیں بلکہ مردوں کو بھی جائز مقام دیاجائے۔اک نظرمعاشرے پردوڑائیے۔ آپ کو خواتین کے حقوق اور ان کے مقام کے حوالے سے بھانت بھانت کی آراء ملیں گی۔ان میں سے ہر ایک اپنے تئیں ٹھوس دلائل بھی پیش کرے گا لیکن ان سب کوہم باآسانی دوگروہوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ پہلا گروہ ہے جو خواتین کی آزادی اورحقوق کا نعرہ بلند کرتاہے۔یہ جدیدفکرسے مرعوب لوگ ہیں اور کسی صورت خاتو ن کوگھرمیں نہیں دیکھنا چاہتے۔

دوسرا گروہ وہ ہے کہ جو اسلام کے نام پرعورت کو اس کے جائز حقوق دینے سے بھی نالاں ہے۔یہ اپنی مروجہ روایات یعنی معاشرتی اقدار کو اسلام کالبادہ چڑھا کر ان کو عورتوں پر ٹھونس رہے ہیں۔یعنی یہ بھی اپنے اسے معاملے میں غلو سے کام لے رہے ہیں او ر اعتدال کی راہ سے ہٹ گئے ہیں۔

اول الذکر کی اگربات کی جائے تویہ وہ گروہ ہے کہ جسے باقاعدہ سرمایہ کاروں نے محنت سے تیار کیا ہے۔ اس کی مختصرتفصیلات کچھ یوں ہے کہ جدید صنعتی انقلاب جو یورپ اور امریکہ میں18ویں صدی میں برپا ہوا،اس کے بعد افرادی قوت کی ضرورت بڑھی۔اس وقت تک عورت گھرمیں رہتی تھی لیکن اس موقع پر افرادی قوت بڑھانے اور سستی لیبرحاصل کرنے کے لیے اس عورت کو گھر سے باہرنکالنے کی منصوبہ سازی کی گئی۔اس کام کے لیے سب سے پہلے 1848ء میں”Declaration of Sentiments”یعنی اعلان جذبات کے نام سے ایک قرارداد عمل میں لائی گئی۔ آغاز اورتم ہیدبہت خوبصورت اورفطرت زن کے عین مطابق۔یعنی ان نکات پرمشتمل کہ مردنے ہمیشہ عورت کا استحصال کیاہے اوراپنا محکوم رکھاہے لیکن چونکہ عورت مرد کے برابر ہے۔لہٰذا اسے بھی معاشرے میں برابر کا کردار ادا کرناچاہیے۔ قراردادکا اس خوبصورت اعلان سے آغاز ہوا اور اختتام کی ابھی تک حدنہیں ہے کہ تباہی آج بھی جاری ہے۔ اسی دوران سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کوسستی لیبر ملی اور عورت گھر سے باہرنکلی۔اس کی بھی ضروریات بڑھیں۔ یوں معاشرہ بے ڈھنگم ہوا۔

نعرہ آج بھی وہی ہے کہ عورت مرد کے برابر ہے اورہرکام میں برابرکی شریک ہوسکتی ہے۔ یہی فکر پوری دنیا میں میڈیاکے ذریعے پھیلا دی گئی۔ بلکہ اگرمیں دماغوں میں ٹھونسی گئی کے الفاظ استعمال کروں تو مبالغہ نہ ہوگا۔اسی فکر نے عورت کے ذہن میں یہ بات بٹھائی کہ اگر وہ گھروالوں کی خدمت کرے گی تویہ غلامی ہوگی لیکن اگر باہروہ اپنی مسکراہٹ اور اداؤں کے ذریعے شوپیس بن کر کہیں لوگوں کو کھاناکھلائے گی اورکہیں دل بہلائے تو یہ اس کی آزادی ہے۔یہ اسی فکر کانتیجہ تھا کہ اس سے قبل جسم فروشی،قبیح فعل تھا اور عورت کا پورا جسم یکمشت بکتا تھا۔لیکن اب عورت کو ٹکڑوں میں بیچاجاتاہے۔مسکراہٹ الگ، ادائیں الگ، جسم الگ اور۔۔۔۔۔۔!! مزیدظلم یہ کہ وہ عورت اس پرخوش بھی رہے کہ وہ آزاد ہے لیکن جیسے ہی سن رسیدہ ہو اور چالیس کے وہائی میں پہنچے تو معاشرے میں اسے کوئی نہ پوچھے اور وہ ایک زائد المیعادچیز کی مانند زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائے۔

اسی ”خوبصورت” نعرے نے کہ عورت مرد کے برابر ہے،معاشرے کاوہ حال کیاہے کہ آج یورپ امریکہ اپنے پرانے خاندانی نظام کوترس رہے ہیں اوران کااہل نظر طبقہ اس سے جان چھڑوانے کو ہے۔ اسی فکرسے متاثرلوگ ہمارے معاشرے میں بھی پائے جاتے ہیں۔یہ بھی عورت کی آزادی،اس کے حقوق اور برابری کی بات کرتے ہیں لیکن ان کے لیے ہدف بہت آسان ہے اور یہ آسانی ان کے لیے ثانی الذکر گروہ نے پیدا کی ہے کہ جو ان کی مخالفت میں دوسری انتہاپرپہنچ گیا ہے اس گروہ کے نظریات کیاہیں اس کابھی جائزہ لیتے ہیں۔

Freedom Women
Freedom Women

یہ لوگ علاقائی روایات اور جاہل رسومات کو اسلام سمجھ کر سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ان رسومات او رروایات کی بناپر وہ عورت پر ظلم کرتے ہیں۔مثلاً کسی عورت کاونی کردینا،غیرت کے نام پر قتل اورناروا سلوک۔۔۔۔۔۔ اس کردار کے باعث عورت یہاں بھی اپنے جائز اور حقیقی مقام سے محروم رہتی ہے۔ اگرچہ اس گروہ میں نقصان کا اندیشہ نسبتاً بہت کم ہے لیکن یہاں جبرکے باعث بغاوت پیداہوتی ہے اور پھر گھروں کی عزتوں کااخباروں کی زینت بننا معمول بنتا ہے۔ اسی گروہ کی ستم ظریفیوں کے باعث عورتوں کی آزادی کے نام نہادعلمبردار خوب فائدہ اٹھاتے ہیں اور یوں آزادی کے نام پرہوس کے غلاموں کی ناجائز آزادی کا خوب سامان پیداہوتاہے۔یوں دونوں انتہاؤں کے لوگ مل کر اس معاشرے کو تباہی کے اس دھانے پر لاکھڑا کر تے ہیں کہ جہاں آج مغربی معاشرہ موجودہے جہاں نسب کے خانے میں والدہ کانام لکھا جاتاہے،نہ کہ والد کا۔۔۔۔۔۔! اسلام دین عدل ہے۔عدل سے مراد کہ ہر شے کو اس کاجائز اور حقیقی مقام دیتاہے۔اسلام نے عورت کو اس کاجائز اورحقیقی مقام دیاہے۔ اگرچہ معاشرے میں ایک گروہ ایسابھی ہے جوعورتوں کے حقوق کی اسلام میں بات کرتاہے۔ نبی ?کو عورتوں کے حقوق کاسب سے بڑا داعی قرار دیتاہے لیکن یہ گروہ وہ ہے کہ جو بات تو درست کرتا ہے لیکن اس کامطلب غلط نکالتاہے۔ اسلام نے عورت کو کیاحقوق دیے ہیں اورکس حدتک آزادی دی ہے تواس کامختصراً تذکرہ ہم آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔

اسلام میں عورت کو اس کاجائزمقام یعنی اس کو گھر میں ٹھہرنے کاکہاگیاہے۔ ”وقرن فی بیوتکن”کے الفاظ اسی بات کے غمازہیں لیکن اس سے اگر یہ مراد لے لیا جائے کہ عورت کو گھر میں قید کردیاگیاہے تویہ اسی مثال کی مانند ہے کہ پانی سے آدھا بھرا گلاس بہت سے لوگوں کو آدھا بھرا ہونے بجائے آدھاخالی نظرآتاہے۔ یعنی وہ اس کامنفی پہلو اجاگر کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے عورت کی فطرت کے عین مطابق اس کی نزاکت کوپیش نظر رکھتے ہوئے معاشرے کے سردوگرم سے اسے محفوظ رکھاہے۔ اس کی ذمہ داری باپ کو سونپی گئی ہے کہ وہ اس کے ہرطرح کے حقوق کا خیال رکھے اور اس ذمہ داری میں اس کے بھائی کو بھی شریک کیا۔ یوں اسے شہزادی کادرجہ دیاکہ وہ گھرمیں آرام کرے اوراس کی سہولیات کا انتظام اس کاباپ اور بھائی کرے گا۔اس کے لیے معاشرے میں اس کاباپ اور بھائی محنت کریں گے ،نہ کہ وہ خود معاشرے میں نکل کے سرد وگرم تھپیڑے کھائے گی۔ بعدازاں اسے نکاح کے بعد شوہر کی صورت میں ملکہ کے عہدے پر فائز کیاکہ وہ گھر میں راج کرے اوراپنے شوہر کی دلجوئی کاسامان کرے۔ اس کاشوہر اس کے نان ونفقہ کاذمہ دار ہے ،خواہ وہ معاشرے میں دھکے کھائے یا باعزت روزگار کمائے۔ وہ اپنی بیوی کے حقوق پورے کرنے کاپابندہے۔اس کے بعد یہ ذمہ داری اس کے بیٹوں پر ڈال دی گئی۔ یوں تصویر کائنات میں رنگ برقرار رکھنے کے لیے وجود زن کی نزاکت کا بھرپور احساس کیاگیاہے لیکن یہاں اس سے مراد یہ بھی ہرگز نہ ہے کہ عورت کے گھر سے نکلنے پرپابندی ہے۔بلکہ بضرورت اس کا گھر سے نکلنا جائزہے ۔اسلام تواس کی آسانی کے لیے اسے گھرمیں ٹھہرنے کا سامان پیدا کرتاہے۔اگراس کی کوئی مجبوری ہے تو وہ نہ صرف گھرسے باہر جاسکتی ہے بلکہ شریعت کے طے کردہ، دائروں میں رہ کر اپنی اس ضرورت اور حاجت کو پورا بھی کر سکتی ہے۔

اختلاط مردوزن ایک اسی سلسلے میں اہم موضوع ہے۔ اگرہم نبوی معاشرے میں دیکھیں توہمیں جائز حدود تک اختلاط ملتاہے۔ یعنی شریعت کے دائرے میں رہ کر مردوں کاعورتوں سے یاعورتوں کامردوں سے معاملات کرنالیکن اس سب سے قبل ان تمام افراد کے ذہنی پس منظر کو ملحوظ خاطررکھنابھی لازم ہے۔اس بات کو آپ یوں سمجھ لیں گے دوتین دہائیاں قبل جب تک میڈیاکے اثرات نہ تھے۔ہمارے معاشرے میں اگرچہ پردہ اتنا زیادہ نہیں تھالیکن اس کے باوجود فحاشی اور دیگر گناہ بہت کم تھے۔ اس کی وجہ ذہنوں میں کسی بھی فتورکی کمی تھی لیکن اس وقت میڈیاکی اس یلغار نے یہ حال کیا ہے کہ باقاعدہ اختلاط سے آگے بڑھ کر ناجائز تعلقات قائم کرنا تک سکھایا جاتا ہے اور یہ مسلسل ہوتاہے۔یہاں تک کہ اب ہمیں یہ برا ہی نہیں لگتا۔آپ اس کی مثال اسی ویلنٹائن ڈے اور اس کے پس وپیش میڈیاپر چلنے والے اشتہاری پیغامات سے سمجھ سکتے ہیں۔میڈیانے ہمارے ذہنوں کو اس قدر خراب کیاہے کہ اب اختلاط کی کوئی بھی صورت باعث فتنہ ہی نظرآتی ہے۔اس لیے جائز اختلاط سے بھی پرہیز ہی اب بہتر ہے۔

خواتین کے حقوق کی اگر بات کی جائے تو اسلام سے بڑھ کر حقوق کون دیتاہے کہ وہ عورت کو ہتھیلی کے چھالے کی مانند بناکررکھتاہے۔ اسے معاشرے کے سرد وگرم سے بچاتاہے اورکبھی اسے معاش کی ذمہ داریوں سے عہدہ براء ہونے کی مشقت میں مبتلا نہیں کرتا لیکن اگریہی عورت خود معاشرے میں جاکر دھکے کھانے کو ہی آزادی سمجھے اور غیرلوگوں کی خدمت کوہی اپنامقام سمجھے تو اس کی عقل پرتف کے سوا او رکیاکیا جاسکتاہے۔ معاشرے میں اگرکوئی مرد عورتوں کے کے کام کرنے لگے توہرایک اس کامذاق اڑاتاہے یعنی اگر وہ عورتوں کالباس پہنے یاعورتوں کی طرح بات کرے یاکوئی بھی ایسافعل جو نسوانیت کے ساتھ خاص ہے ،یہ اس لئے ہے کہ مرد کے افعال اس کے ساتھ خاص ہیں۔ان کی حدود ہیں جب وہ ان حدود سے تجاوز کرتاہے تونہ صرف احمق تصورہوتاہے بلکہ مضحکہ خیز بھی قرار پاتاہے اور یہ صورتحال پوری دنیامیں ہے جبکہ اس کے برعکس اگرہم دیکھیں تو عورت کومردوں کے کام کرنے میں میڈیا نہ صرف حوصلہ افزائی کرتاہے بلکہ پوری محنت اورقوت اس پر صرف کرتا ہے کہ وہ اپنے کام چھوڑے اورمردوں والے کام کرے۔ یوں جب ایک فریق قدرت کی طرف سے طے کردہ اپنے مدار سے تجاوزکرے گا تویقینا توازن بگڑے گا۔یہ اس لیے ہے کہ اس سرمایہ دارانہ نظام کو عورت کی صورت میں سستی لیبر درکارہے۔اسی باعث ایک مشہورعام فقرہ بھی ذکر کیا جاتاہے کہ اگر عورت گھر بیٹھے گی تومعاشرے کانصف حصہ بیکار رہے گا۔ یوں اس کوبھی گھرسے باہرنکالو لیکن یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ نصف حصہ گھرمیں بیٹھے گا توباقی نصف نہایت اطمینان اور تسلی بخش انداز سے معاشرے کی ضروریات پوری کرے گا۔ جبکہ اگر اس نصف کوبھی باہرنکالو گے تونہ صرف معاشرتی بگاڑ پھیلے گابلکہ بے روزگاری بھی بڑھے گی۔

ایک نکتہ اس سلسلے میں اوربھی ذہن میں رکھیں ۔ اگر مردوعورت یکساں ہیں ۔دونوں برابر ہیں اورہرکام میں برابرکے شریک ہیں تو پھر نیم برہنگی صرف عورت ہی کے حصے میں کیوں آتی ہے؟مردکیوں آدھی ننگی ٹانگوں اور بازوؤں کے ساتھ نہیں گھومتے ہیں کیونکہ اس عورت کو ہوس کی پیاس بجھانے کے لیے ہی اس سرمایہ دارانہ معیشت اور کاسمیٹک انڈسٹری نے تیار کیاہے۔ اس نے ہی عورت کو شوپیس بنایاہے اور گھر کے آراستہ چھپے ہوئے موتی سے بازار کا دو کوڑی کابے مول پتھر بنا دیا ہے۔

Hanzalah Imad
Hanzalah Imad

تحریر : حنظلہ عماد

Share this:
Tags:
Islam Movement Society universe women اسلام تحریک آزادی خواتین کائنات معاشرے
Society
Previous Post معاشرہ کیوں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے
Next Post خواتین کا عالمی دن اب ڈاکٹر عافیہ کا عالمی دن ہے
Dr Aafia

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close