
مہمند ایجنسی (جیوڈیسک) کالعدم تحریک طالبان مہمند ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایف سی کے 23 مغوی اہلکاروں کو شہید کر دیا گیا۔
تحریک طالبان مہمند ایجنسی کے امیر عمر خالد خراسانی کے معاون عمر خراسانی نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا ہے کہ جون 2010 کو شنکڑی چیک پوسٹ سے اغوا کیے گئے ایف سی کے 23 اہلکاروں کو قتل کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت مذاکرات کی بات کر رہی ہے لیکن پھر بھی طالبان کے قیدیوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔
خراسانی کا کہنا ہے کہ مہمند ایجنسی میں شوریٰ کا اجلاس جاری ہے جس میں امن مذاکرات کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا جائے گا۔کالعدم تنظیم کی جانب سے جاری ویڈیو میں ترجمان احسا ن اللہ احسان بھی موجود تھے۔
دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ طالبان نے مذاکرات کو مذاق رات بنا دیا ہے، ایف سی کے 23 اہلکاروں کو شہید کر نا بزدلانہ حرکت ہے۔
الطاف حسین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مذاکرت کے کھیل میں کالعدم تنظیم درجنوں حملوں میں فوجی ونیم فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں اور بیسیوں شہریوں کو موت کی نیند سلا چکی ہے۔
حکومت اور مسلح افواج متفقہ طور پر 48 گھنٹوں میں حتمی فیصلہ کر کے قوم کو آگاہ کریں۔
