Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

تحریک پاکستان میں شعراء اور ادباء کا کردار

August 11, 2018 0 1 min read
Allama Iqbal
Allama Iqbal
Allama Iqbal

تحریر : ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری

آزادی کسی قوم کا وہ بیش بہا سرمایہ افتخار ہوتا ہے جو اس قوم کی زندگی اور اس کے تابناک مستقبل کا ضامن حیات ہوتا ہے غلام قومیں اور محکوم افراد پر مشتمل معاشرے نہ صرف اصل حیات و ممات سے محروم رہ جاتے ہیں بلکہ زمین پر ایک بوجھ بھی ہوتے ہیں۔تحریک پاکستان کے حوالے سے اگر شاعروں اور ادیبوں کے کردار پر گفتگو کی جائے تو قائداعظم کے یہ الفاظ ایک ٹھوس حقیقت کی صورت میں قدم قدم پر ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔”تحریک پاکستان میں ادباء اور شعراء نے بھی ناقابل فراموش کردار اداکیا ہے۔ وہ اپنے خون جگر سے حروف کی کھیتی سنیچتے رہے اور الفاظ میں جان ڈال کر تحریک پاکستان کی تقویت کا باعث بنے“۔

اگرچہ 1857ء کی جنگ آزادی کے فوراَ بعد ہی قیام پاکستان کی جدوجہد کاآغاز ہوچکا تھا اردوکی ہمہ گیریت ہی تھی جس نے غیر منقسم ہندوستان کے مسلمانوں میں نئی روح پھونک دی تھی علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی شاعری اورافکار کے ذریعے لوگوں کی رہنمائی کی تودوسری جانب غیر منقسم ہندوستان کے گوشے گوشے میں گھوم گھوم کرتاریخی جلسوں کے تناظر میں دلوں کوگرمایااور ایک تڑپ ودلولہ پیدا کیا گیا۔ س تحریک کو پاکستان نامی ملک پر منتج کیا۔ اگر چہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان نہیں لیکن یہ اردو اور صرف اردو کی ہمہ گیریت اور مقبولیت ہی تھی جس نے غیر منقسم ہندوستان کے مسلمانوں میں نئی روح پھونک دی تھی اس پورے تاریخ ساز عہد پر نظر ڈالنے کے بعد کوئی بھی شخص یہ کہنے پر مجبور ہوجائے گا کہ علامہ اقبال ہی دراصل مفکر پاکستان کہلانے کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ علامہ نے جس ماحول میں آنکھ کھولی اس میں مسلمانوں کی حالتِ زار کو بدلنے کے لیے ہمارے قومی رہنما اپنے اپنے طور پر مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو کام میں لارہے تھے مولانا الطاف حسین حالی ہوں یا مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی ہوں یا سرسید احمد خاں سبھی ایک رخ ہوکر سوچ رہے تھے کہ مسلمانوں کو غلامی کے طوق سے کس طرح نکالیں لیکن ان سب زعماء میں سب سے زیادہ کلیدی کردار علامہ کی فکر حرمت نے ادا کیا ہے۔

دیارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زرِ کم عیار ہو گا
تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائدار ہو گا
علامہ اقبال نے اپنے اذکار سے لبریز شاعری کے ذریعے ملت اسلامیہ کے قافلوں میں اتحاد و یگانگی کی نئی روح پھونکی ۔

فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کُچھ نہیں
موج ہے دریا میں ،بیرونِ دریا کچھ نہیں
غلامی کو آزادی میں بدلنے کا زریں نسخہ بتاتے ہوئے علامہ اقبال نے بجا طور پر فرمایاتھا کہ
دل مردہ، دل نہیں ہے، اسے زندہ کردوبارہ!
کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ!
آزادئ افکار سے ہے انکی تباہی
رکھتے نہیں جو فکروتدبر کا سلیقہ

جب ہم تحریک پاکستان کے اُس زمانے پر مرحلے وار نظر ڈالتے ہیں تو کئی ایسے مراحل بھی سامنے آتے ہیں جہاں قائداعظم سے انتہائی عقیدت نے ہر چھوٹے بڑے شاعر سے ایسے نعرے لکھوائے یا ایسی نظمیں کہلوائیں جو بعد میں تاریخ کا حصہ بن گئیں۔ نعروں میں ایک ایسا ہی نعرہ ’’لے کے رہیں گے پاکستان۔ بن کے رہے گا ہندوستان‘‘ اور نظموں میں ایک ایسی ہی نظموں مرحوم کیف بنارسی کی تخلیق تھی جو آج بھی ریڈیو اور ٹی ۔ وی پر ہی نغمگی نہیں بکھیرتی بلکہ ہر ملّی و قومی تقریب میں کورس میں گائی جاتی ہے۔” ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح ’’یہاں یہ کہنا مناسب سمجھتا ہوں کہ ہم اپنی تاریخ کے اُن ابواب کوٹٹولیں اور اُن پر سے زمانے کی گرد کو صاف کریں تو شاید زنجیر کی کئی انمول ٹوٹی کڑیاں ہمیں مل جائیں اور تحریک پاکستان اپنے سیاق و سباق کے ساتھ ہمیں نظر آجائے۔تحریک پاکستان کی جدوجہد میں مولانا ظفر علی خان کانام بھی سرفہرست ہے وہ قائداعظم کے دست راست تھے۔

بلند پایہ شاعر وادیب اور کہنہ مشق صحافی کی حیثیت سے اُن کی جدوجہد قابل تعریف ہے۔ 23مارچ 1940ء کو لاہور میں منعقدہ مسلم لیگ کے تاریخ اجلاس میں انہوں نے قرارداد پاکستان کافی البدیہ اردو ترجمہ کیا۔جدوجہد پاکستان میں مولانا آزاد سبحانی اور عبدالباری جیسے ادبیوں کے ساتھ ساتھ ایک نمایاں نام مرحوم پروفیسر اصغر سودائی کا ہے۔ پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الاللہ“ کا نعرہ تحریک پاکستان سے قیام پاکستان تک اور اب ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔ یہ پروفیسر اصغر سودائی کی معروف نظم کاحصہ تھا۔ انہوں نے 1944ء میں ایک جلسہ عام میں اپنی ” نظم پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الااللہ“ سنائی تو یہ اس قدر مقبول ہوئی کہ ہندوستان کے گلی کوچوں میں زبان زدعام ہوگئی۔

خوش قسمتی سے مولانا حسر ت موہانی جیسی با اصول، کھری اور ادبی شخصیت پر ہماری تاریخ خاموش نہیں ہے وہ اپنی انفرادی حیثیت میں جس قدر سادہ اور صاف ستھرے کردار کے مالک تھے اُسی قدر سیاسی طور پر بھی وہ بلند و بالا اور ں سے الگ تھلگ نظر آتے تھے۔ تحریک پاکستان میں ایسی پیاری و ہردل عزیز شخصیت دور دور تک نظر نہیں آتی۔ ان کا کہا گیا یہ شعر آج تک زبان زد عام ہے۔

ہے عشقِ سخن جاری، چکی کی مشقت بھی
اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی

یوں تو مولانا حسرتؔ موہانی کو اُن کی عزلیہ شاعری کی بدولت اُن کی حیات میں ہی ’’رئیس المتغزلین‘‘کا لقب دیا جاچکا تھا لیکن ان کی شاعری نے اس عہد کی تحریک میں اس جادو کا کام دکھایا جو بڑی بڑی تقریریں کرنہ پائیں۔ ان کا ’’ اردوئے معلی “مولانا محمد علی جو ہرکے ’’کامریڈ ( Comrade ) “اورمولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی جو تاریخ میں علی برادران کے ناموں سے مشہور ہوئے اگرچہ تحریک خلافت ے مسلمانوں کے دلوں میں ہلچل مچادی اور اس کا رخ پاکستان کی بنیاد کا سبب بنا وہ بنیادی طورپر ایک شاعر اور ادیب تھے اور ایک عرصے سے مسلمانوں کے انگریزی داں طبقے کے لیے ایک انگریزی اخبار کی ضرورت محسوس کررہے تھے اس طرح کا مریڈ کی داغ بیل ڈالی گئی جس کے ادارے آج بھی حوالوں میں وقت پاتے ہیں انہوں نے” ہم درد ’’ نامی اردو اخبار بھی اُسی زمانے میں شائع کیا جب سرسید احمد خان سیاسی منظر پر آئے۔

آج روشن خیالی کےجن الفاظ نے عوام میں ہلچل پیدا کردی تھی یہ اصطلاح صرف معنوی حد تک نہیں بلکہ سر سید احمد خاں کی عملی جدوجہد کا ایک نعرہ ا س عہد میں بنا جب مسلمان گھرانوں میں انگریزی پڑھنا لکھنا متروک ہوچکا تھا۔یہاں میں علی گڑھ میں ان کے جدوجہد سے قائم کیے گئے ایم اے او کالج کا ذکر چھپڑوں جو بعد میں مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ کا اختصاس حاصل کرچکا اور آج بھی ہندو ستان میں مسلمانوں کا منفرد تعلیمی ادارہ ہے تو بات دور تک چلی جائے گی۔ سرسید احمد خاں نے اسی عہد میں ایک اخبار’’ تہذیب الا خلاق‘‘ بھی شائع کیا جس نے مسلم گھرانوں میں بے داری اور کردار سازی کا کام انجام دیا۔ یہاں میں برسبیل تذکرہ حیدر آباد دکن (بھارت) کی عثمانیہ یونیورسٹی کے کردار کو بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ساتھ جوڑتے ہوئے اگر یہ کہوں کہ ان دونوں یونیورسٹیوں نے پاکستان بننے سے بہت پہلے ہی اس نوزائیدہ ملک کی ضرورت پوری کرنے میں اس بنیادی ڈھانچےکا کام کیا جس پر پاکستان کی عمارت تعمیر کی گئی۔ اس مختصر سی تحریر میں، میں اگر میں نواب بہادر یار جنگ کا ذکر نہ کروں تو یہ ادھوری لکھت بھی مزید نا مکمل رہ جائے گی۔ اپنی علمی استعداد اور شعلہ بیانی کی ماورائی صلاحیت کے پس منظر میں نواب صاحب بہت جلد ہی قائد اعظم کے دست ریاست بن گئے اور اکثر مقامات پر انہوںنے قائداعظم کی انگریزی تقریروں کا فی البدیہہ اردو ترجمہ عوام کی داد و تحسین کے شورمیں پیش کیا ان کے اصل نام محمد بہادر خان کے ساتھ نظام دکن کا دیا ہوا خطاب ’’بہادر یار جنگ‘‘ دراصل اس تاریخی تقریر کا نتیجہ ہے جو انہوںنے سیرت کے ایک جلسے میں فتح میدان میں کی تھی۔

نظامِ دکن اس مقدس جلسے میں موجود تھے انہوںنے تقریر کے کئی حصے دوبارہ ان سے سننے اور پھر اگلے دن یہ خطاب ان کے نام کا لاحق بن گیا۔ وہ بنیادی طورپر ایک شاعر تھے اور اردو ادب سے ان کا لگائو قدرتی تھا ان کی خطیبانہ شعلہ بیانی سے الگ ہٹ کر بھی ہم دیکھیں تو ان کے عشقِ رسولؐ کی تابند گی آپ کو ان کی اس نعت: اے کہ ترے وجود پر خالقِ دو جہاں کو ناز اے کہ ترا وجود ہے وجیہہ وجود کائنات میں بدر جہ اتم نظر آئے گی۔ یہ نعت آج بھی ریڈیو پاکستان اور ٹیلی ویژن کے مختلف چینلوں کے دینی پروگراموں کا اختصاص بنی ہوئی ہے۔ بہرحال بات ہورہی تھی ان کی تقریری صلاحیت کی جو اس دور میں مقبولیت حاصل کرسکی جس دور میں مولانا محمد علی جوہر، سید عطا اللہ بخاری ابو الکلام آزاد اور ڈاکٹر نذیر احمد جیسے نابغہِ روز گار ہستیوں کا طوطی بول رہا تھا۔میں اپنی تجریہ کو محدود وقت کے پیش نظر یہیں ختم کرتا ہوں ورنہ تحریک پاکستان کی جدوجہدمیں شریک ہونے والوں میں مولانا آزاد سبحانی، عبدالباری فرنگی محلی اور ظفر علی خان جیسے ادیبوں کی ایک طویل توجہ طلب فہرست بھی ہنوزتشنہ تحریر ہے۔

غرضیکہ تحریک پاکستان میں شعراء وادباء کاخاص کردار رہاہے۔ مسلمان ہندعلیحدہ تشخص کی تلاش میں تھے، ایسے میں شعراء وادباء اٹھے انگریزوں کے خلاف نظمیں لکھیں، آزادی ہند کی بات کی۔ اس ضمن میں قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں، اُن میں حسرت موہانی کانام نمایاں ہے۔ علامہ اقبال نے علیحدہ مملکت کاخاکہ پیش کیا۔ مولانا ظفر علی نے جوش وولولے سے لبریز تحریریں لکھیں۔

درحقیقت قوم کی نظریاتی روح اور تشخص جتنا توانا ہوگا وہ قوم اپنی نظریاتی وابستگی کے ساتھ اتنی ہی بلند ہوگی۔ نظریہ ہی کسی قوم کے اندر احساس ذمہ داری کو جنم دیتا ہے۔ نظریات وخیالات نے اسلامیان ہند کے جذبوں کو جلابخشی اور سب یکجا ہو کرایک آزاد مملکت کے حصول کے لیے ایک آواز بن کراٹھ کھڑے ہوئے۔ مقصد اور نصب العین کو خوابوں کی تعبیر دینے میں شاعروں اور ادبیوں کی آواز ہرگام اس نصب العین کا حصہ بنی جس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔

Dr. Muhammad Riaz Chaudhry
Dr. Muhammad Riaz Chaudhry

تحریر : ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری

Share this:
Tags:
Freedom Movement pakistan role Scholarship writers آزادی ادیبوں پاکستان تحریک کردار
Jammu and Kashmir
Previous Post مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت بدلنے کی کوشش
Next Post کاروائی ہفت روزہ ادبی نشست، منگل 31 جولائی 2018
Qalam Karwan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close