
تحریر: محمد التمش خان سیف اللہ خان
فارسی زبان کی ایک کہاوت ہے” ہم چومن دیگرے نیست “یعنی کہ مجھ جیسا کوئی نہیں یہ اور ان جیسے سینکڑوں تکبرانہ جملے جو کسی بھی زبان میں ہوں اور فخر و غرور کے موقع پر لوگ ان کا استعمال کرتے ہیں محاورے کی حد تک تو بات بالکل ٹھیک ہے بات مگر یہ ہے کہ دنیا میں رونما ہونے والے حادثات یا وقتی انقلابات سے ایک طرح انسانی عقل و شعور کی تربیت بھی ہوتی ہے۔
ہر واقعے کے پیچھے کچھ اسباب ہوتے ہیں اور ہر انقلاب کی کامیابی یا ناکامی کے پیچھے ایک چھپا سبق ہوتا ہے ایک داستان ہوتی ہے جس کے اگر جزئیات پر غور کیا جائے تو انسان اپنے مستقبل میں اس قسم کے حادثات کا تدارک کرسکتا ہے___مثلاً ایک تحریک اٹھتی ہے جس کے بال و پر بہت جلد نکل آتے ہیں ”نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر” انسانوں کا ایک ریلا اس تحریک کو سپورٹ کررہا ہوتا ہے مگر دلہن عروسی کی طرح چار چھ دن بعد وہ سمندر آہستہ آہستہ تھم رہا ہوتا ہے اور پانی کا وہ شور صرف آہٹوں میں بدل رہا ہوتا ہے پھر ایک دن اس تحریک کے بانی اور قائد اکیلے ہی نکل پڑتے ہیں جانب منزل__ ان کی تدبیر انہیں تنہا کر جاتی ہے اور وہ انقلاب طوفان کے بعد پانی کے اس ریلے کی طرح نظر آتا ہے جو زمین پر آہستہ آہستہ رینگ کر نکل رہا ہوتا ہے __اس رونما واقعے کے پیچھے کوئی چھپا راز ہے جس کی وجہ سے یہ چڑھتی تحریک ایک دم سے دب گئی___۔
بات تحریک اور انقلاب سے ہی چل پڑی سو ہمارے ہاں سیاسی انقلابات کے علاوہ ہزاروں دیگر انقلابات بھی وقوع پذیر ہوتے ہیں اور نتیجہ کامیابی یا ناکامی سے دو چار ہوتا ہے بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا ہر انسان کے سینے میں روزانہ مختلف تحریکیں اور انقلابات اٹھتے ہیں یا تو وہ برپا ہوجاتے ہیں یا پھر دب جاتے ہیں۔

چودہ سو سال پہلے بھی ایک تحریک اٹھی تھی عرب کی سرزمین پر ایک انقلاب برپا ہوا لوگ اپنے ہی جگر گوشوں کے خون میں ہاتھ رنگے جارہے تھے اور وہ تحریک ایک مدت تک چلتی رہی اور پھر کامیابی سے ہمکنار بھی ہوئی میرا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت ایک تحریک ہی تو تھی جوجنگیں لڑتی رہیں سو اس تحریک کی کامیابی کی ایک ہی وجہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولۖ سے مخاطب ہو کر بیان فرمائی ___ دیکھیںجنگ احد کے موقع پر مسلمانو کو اولاً فتح ہوئی اور پھر وہی فتح شکست میں بدل گئی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولۖ کی تعریف فرمائی اور قیادت و سیادت کا بہترین راز سمجھایا___(ولو کنت فضا غلیظ القلب لاانفضوا من حولک)آیت کے اس ٹکڑے میں کسی بھی پروگرام، ادارے، جماعت کی کامیاب قیادت کا راز ہے__اللہ کے رسولۖ!!! اگر آپ ترش رو اور سخت دل ہوتے تو یہ صحابہ رضی اللہ عنہم آپ کے پاس سے چلے جاتے یعنی کہ آپ کے اخلاق اچھے ہیں تبھی تویہ جمے ہوئے ہیں۔
ممکن ہے تحریکوں یا اداروں کی ناکامی کی دوسری وجوہات بھی ہوں مگر میں نے جتنا مشاہدہ کیا ہے ہر ناکام ہونے والی تحریک یا ادارے کے پیچھے اس کے بانی کی خود سری، بد اخلاقی متکبرانہ لب و لہجہ اور خود کو انسانیت کے مقام سے ماورا خیال کرنا ہوتا ہے قائدانہ صلاحیتیں بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہیں اور یہی لوگ کشتی کو پار لگادیتے ہیں۔

قائدین کرام،آپ کے پاس جاہل، بے شعور، کم عقل، نالائق لوگ آئیں گے آپ انہیں شعور دیں گے ان کی تربیت کریں گے اور پھر یہی لوگ نظم سنبھالیں گے لیکن اگر آپ اپنے شاگردوں سے متکبرانہ انداز میں بات کر کے انہیں شرم اور عار دلاتے رہیں انہیں کچھ سکھانے کے بجائے ان پر طنز کے نشتر چھوڑتے رہیں تو دنیا تنگ نہیں اور علم یا جماعتوں کی بھی کمی نہیں وہ کسی دوسرے آدمی کی تربیت میں چلے جائیں گے۔ ہم چومن دیگرے نیست کی جگہ “ہم چومن ڈنگرے نیست” کا نعرہ لگانے والے تقریباً اکیلے ہی جانب منزل کو نکلتے ہیں۔
آپ اپنی اداؤں پہ خود ہی غور کریں__ اگر آپ ایک کامیاب استاد، قائد، رہنما بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو اس علم یا فن کا کیا فائدہ جس سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے____ ظاہر ہے ہر آدمی تو ماں کے پیٹ سے ارسطو اور افلاطون بن کے نہیں آتا آپ ان کی حوصلہ افزائی کریں گے ان کی ہمت بڑھائیں گے انہیں احساس کمتری کا شکار ہونے سے بچائیں گے تو یہی لوگ کل آپ کا سرمایہ بنیں گے صرف تنقید کرنے سے کیا حاصل کوئی بھی ادارہ یا جماعت چلانا اتنا آسان نہیں______ سو ہم چومن ڈنگرے نیست کا نعرہ چھوڑیئے پھر دیکھیں دنیا کتنی قدر کرتی ہے….۔

یہاں ایک دنیا بسی ہے لوگ اپنی جہالت پر تا آخر قائم رہ سکتے ہیں مگر کسی متکبر استاد کے پاس جا کر ان کی کڑوی کسیلی کبھی ہمیشہ نہیں سن سکتے یہ دنیا صرف امیدوں پر قائم ہے آپ اگر کسی کا بھلا نہیں چاہتے تو کوئی بات نہیں مگر کسی سے ان کی خوشی چھیننے کی خواہش نہ کریں آپ لوگوں کو گالیاں دیں انہیں بر بھلا کہیں اور پلٹ کر ان سے آداب کی خواہش رکھیں تو یہ یقیناً آپ کی بھول ہے یا آپ حد سے زیادہ سادے ہیں یا انجام کی خبر ہوتے ہوئے بھی آنکھیں چرانے والے____آپ اپنے اخلاق بڑھائیں توجواب میں محبتیں ہی ملیں گی۔
تحریر: محمد التمش خان سیف اللہ خان
(aboyahyakhan@gmail.com)
(03452267561)
