Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

مشعال خان جیسے بچے مسقبل ہیں انہیں بچائیے‎

April 14, 2017 0 1 min read
Abdul Wali Khan University
Abdul Wali Khan University
Abdul Wali Khan University

تحریر : عماد ظفر
مشعال خان نامی 23 سالہ نوجوان عبدالولی خان یونیورسٹی، مردان میں توہین مزہب کے الزام میں مارا گیا. اس پر اور اس کے ایک ساتھی پر شبہ یا الزام تھا کہ وہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد نشر کرتے تھے یا توہین آمیز پیجز چلاتے تھے. نہ اس الزام کی کوئی تحقیق ہوئی نہ ہی کوئی گواہ سامنے آیا اور نہ ہی کسی عدالت میں ان کی شنوائی ہوئی. سیدھا سیدھا چند لوگوں نے الزام لگایا اور ہزاروں کے جتھے نے مشعال خان کو بے رحمانہ طریقے سے قتل کر دیا.جس سفاک طریقے سے مشعال خان کی جان لی گئی اس کا ذکر الفاظ میں کرنا ناممکن ہے.

شاید پتھر کے دور کے بسنے والے انسان بھی اس قدر بے رحمی اور بربریت کا مظائرہ نہیں کرتے ہوں گے جو کہ مردان کی اس یونیورسٹی میں نظر آیا. اس طالبعلم کا قتل دراصل ہمارے معاشرے کا وہ بھیانک اور سیاہ چہرہ پے جسے ہم میں سے کوئی بھی نہیں دیکھنا چاہتا کیونکہ اس چہرے میں ہم سب کا عکس موجود ہے. اس عکس کو نہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی شاید دیکھ پائیں گے .یہ واقعہ ہمیشہ کی طرح مین سٹریم میڈیا میں تقریبا بلیک آؤٹ کر دیا گیا.کسی صحافت کے علمبردار ،کسی خود ساختہ سچائی کے علم کو اٹھائے اینکر کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ اس واقعہ اور اس کے محرکات و اسباب پر ایک پروگرام یا ایک تجزیہ ہی کر دیتا.چند لمحات کی خبر اور ایک آدھ تبصرہ اور پھر معمول کے مطابق وہی بے معنی باتیں اور سیاسی مباحث میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے. ہم جس عہد میں جی رہے ہیں اس کا المیہ یہ ہے کہ صحافت، دانشوری اور اخلاقیات کے علم اٹھائے ہوئے زیادہ تر افراد عقائد اور تعصبات کی عینک لگائے ایسے واقعات کو یا تو سرے سے ہی قابل تجزیہ یا قابل بحث ہی نہیں سمجھتے یا پھر ان واقعات کو ذاتی افعال قرار دیکر اصل مدعے پر مٹی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں.حالانکہ دانشور ور تو دور کی بات ایک ایک انسان دراصل انسان کہلانے کے قابل اسی وقت ہوتا ہے جب وہ سوچنے سمجھنے اور دوسرے انسانوں سے محبت کرنے کی اہلیت رکھتا ہو.

بنا کدی تعصب کی پٹی باندھے دنیا کو دیکھ اور پرکھ سکتا ہو.جس معاشرے کے خمیر میں نفرت اور تعصب کی مٹی گوندھی ہوئی ہو جس معاشرے میں اختلاف رائے کا رکھنا ایک ناقابل معافی جرم ہووہاں ایسے ہی بھیڑیے اور زہنی مریض جنم لیتے ہیں جو بنا سوچے سمجھے اپنی اپنی نفسیاتی اور معاشرتی محرومیوں کا غصہ مذہب قومیت رنگ نسل کی بنیاد پر اتارتے ہیں. حقیقتوں سے فرار اور ایک تصوراتی دنیا میں بسنے کی اجتماعی عادت کی ایک بے حد بھاری قیمت ہوتی ہے جو معاشروں کو ادا کرنی پڑتی ہے. اپنے عقائد سے محبت کا اظہار یا مقدس ہستیوں سے عقیدت کا اظہار عملی طور پر عقائد یا مقدس شخصیات کی دی گئی تعملیمات کو لاگو کر کے دیا جا سکتا ہے.اس کے برعکس یہ بے حد آسان کام ہے کہ کسی بھی شخص کو سینکڑوں ہزاروں افراد کا جتھا توہین مزہب کے نام پر قتل کر دے .جبکہ وہ تعلیمات یا ضابطہ حیات جو کہ ان مقدس شخصیات یا مذاہب کا عطا کردہ ہوتا پے اس پر عمل کرنا بے حد مشکل ہوتا ہے.

ادوایات میں ملاوٹ اشیائے خوردونوش کی اندوزی، نوکری پیشے ہا کاروبار میں جھوٹ فریب ،دھوکہ دہی، بے ایمانی اور اپنی اپنی بساط کے مطابق ہر ممکن طریقے سے کرپشن کرنے والا معاشرہ کس منہ سے مذہب کی پاسداری کی بات کرتا ہے یہ بات سمجھ سے بالکل باہر ہے. انسان کو بنا صفائی کا موقع دیے بنا اس کو قتل کرنے سے مزہب کو کیسے بچایا جاتا ہے یہ نکتہ بھی فہم سے بالاتر ہے. ہمارے ہاں تو ویسے بھی توہین مزہب یا مقدس ہستیوں کی توہین کے حوالے سے قوانین موجود ہیں اور اگر کوئی شخص اس جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کو سزا دینے کا پورا نظام وضع ہے. پھر اس نظام کی موجودگی میں قانون کو ہاتھ میں لے کر خود سے انصاف کرنے والے جتھوں کی یا اشخاص کی اس حرکت کے پیچھے کیا محرکات ہو سکتے ہیں؟ اس کا جواب جاننے کیلئے سماجی ڈھانچے کے بغور مطالعے کی اشد ضرورت ہے. ریاست پاکستان نے قیام پاکستان کے بعد سماجی ڈھانچے کی تشکیل کیلئے جو بیانیہ تشکیل دیا تھا اس میں مذہبی بیانیے کی چھاپ یا سماجی ڈھانچے کو از خود مذہبی بیانیے کے تابع کرنے کی کوشش میں نہ تو ایک باہم اور مربوط سماجی ڈھانچہ تشکیل پا سکا اور نہ ہی ایک متقفہ مزہبی بیانیہ تشکیل کیا جا سکا. ایک سماج کے اندر مختلف عقائد اور نظریات رکھنے والے افراد کا بسنا ایک انتہائی عام سی بات ہے ایسے میں جدید ریاست سماجی ڈھانچے کی تشکیل یا تشکیل نو کرتے ہوئے سماج میں بسنے والے ہر شخص کی ریاست سے وابستگی اور اپنے عقائد یا نظریات کے مطابق زندگی بسر کرنے کیلیے مزہبی بیانیے کو سماجی ڈھانچے کی تشکیل یا سماجی ڈھانچے کے بیانیے سے دور رکھتی ہے.

اس کا مقصد اس امر کو ممکن بنانا ہوتا ہے کہ سماج میں ایک باہم ہم آہنگی پیدا ہو اور عقائد یا نظریات میں اختلافات ہونے کے باوجود سماج میں موجود ہر طبقہ فکر یا عقیدے سے وابستہ افراد کو آزادی سے پھلنے پھولنے کا موقع ملے.جدید ریاست کے تصور اور اکیسویں صدی کے تصور کے مطابق ریاست عقائد کے حوالے سے شہریوں میں تمیز یا تفریق نہیں کرتی اور سماج میں موجود ہر طبقہ فکر کو اظہار رائے سے لیکر زندگی آزادی سے بتانے کے باہم مواقع فراہم کرتی ہے. قیام پاکستان سے لیکر آج تک ہمارے ہاں کبھی بھی جدید بنیادوں پر ریاست کے سماج کے حوالے سے کردار کو نہ تو سمجھا گیا اور نہ ہیاس ضمن میں کوئی کاوش کی گئی. معاشرتی علوم کی کتابوں سے لیکر سائنس کی نصابی کتابوں تک کو مزہبی اور قومی نرگسیت کے بیانیے کی تشکیل کیلیے استعمال کیا گیا. نتیجتا سماج میں شدت پسندی میں اضافہ ہوا اور ایک مخصوص طبقہ فکر جو کہ زمانہ جدید کے تقاضوں سے اور رموز سے بالکل نابلد تھا اس نے ہر میدان میں شدت پسندی تعصب اور نفرت کے بیج بو دیے.

اس سماجی ڈھانچے سے جب تک مزہبی بیانیے کو جدا کر کے ایک انسان دوست معاشرے کی تشکیل کی جانب قدم نہیں بڑھایا جائے گا تب تک مشال خان جیسے بچے مارے جائیں گے. سماجی گھٹن کا شکار محرومیوں کی گھٹڑیوں کا بوجھ اٹھائے برین واش انسان نما زومبیز اپنے اندر کی حیوانیت اور محرومیوں کا اظہار کبھی توہین مزہب کے نام پر کبھی فرقہ واریت کے نام پر اور کبھی قومیت کے نام پر سماج میں بسنے والے دوسرے کمزور افراد کو خون میں نہلا کر کرتے رہیں گے. توہین مزہب کا قانون اسی لیئے بنایا گیا تھا کہ کوئی بھی شخص کسی دوسرے شخص کے مزہب یا فرقہ کی دل آزاری مت کرے.لیکن اس قانون کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ اس کا سہارا لیکر سماج میں بسنے واکی اقلیتوں مختلف عقائد یا پھر ایسے افراد جو کہ سس حوالے سے اپنا نظریہ الگ رکھتے ہیں ان کو زاتی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے بے رحمی سے قتل کر دیا جائے.

مشعال خان جیسے بچے امن و محبت اور زندگی کے مختلف اور خوبصورت رنگوں کا نمونہ ہوتے ہیں.یہ بچے جو سوالات اٹھاتے ہیں یا تنقید کرتے ہیں وہ سماج کی فکری بلوغت کیلیے خلیفہ کردار ادا کرتی ہے. جبکہ مزہب اور عقائد کے نام پر تشدد کا پرچار کرنے والے دراصل سماج میں تعفن پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں. کاش مـاہب اور عقائد کے نام پر نفرتوں کا پرچار کرنے والوں کی سرکاری سرپرستی ختم ہو سکے تا کہ ہم مشعال خان جیسے بچوں کو بربریت کا شکار ہونے سے بچا سکیں. یہ بچے ہمارا آنے والا مستقبل ہیں جبکہ سوچنے سمجنے کی نعمروں سے نابلد نفرتوں کا زہر پھیلاتے افراد اس روشن مستقبل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں.اپنے مستقبل کو بچانے کیلئے ریاست کو اپنا کردار اور بطور معاشرہ ہمیں اپنی اپنی زمہ داری نبھانے کی اشد ضرورت ہے ایسا نہ ہو کہ کل آپ کا یا میرا بچہ بھی نفرتوں کے اس اندھے پن کا شکار ہو جائے اور ہم مشعال خان کے والدین کی طرح بے بسی سے ہاتھ ملنے یا تاسف کرتے ہوئے اس ناقابل برداشت دکھ کا بوجھ باقی ماندہ زندگی میں اٹھاتے پھریں.

Imad Zafar
Imad Zafar

تحریر : عماد ظفر

Share this:
Tags:
Charges Imad Zafar Social Media university الزام سوشل میڈیا واقعہ یونیورسٹی
kulbhushan Yadav
Previous Post بھارت کی تلملاہٹ
Next Post امرت نگر میں آل پنجاب ایسٹر فٹبال ٹورنامنٹ کا انعقاد
Foot Ball Tournament

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close