Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

مختاراں مائی کا جھوٹ

February 3, 2014February 3, 2014 0 1 min read
Ali Imran Shaheen
Mukhtaran Mai
Mukhtaran Mai

پاکستان یا دنیا کے کسی کونے میں کسی عورت کے ساتھ زیادتی کی کو ئی بھی خبر آئے مختاراں مائی کا نام میڈیا میں گونجنے لگتا ہے۔ ابھی بھارت میں ایک لڑکی سے اجتماعی زیادتی کی خبر آئی اور اس کے بعد مظفر گڑھ میں پھر پنچائیت کے ذریعے زیادتی کر کے انتقام لینے کا جھوٹ سامنے آیا، مختاراں مائی منظر عام پر تھی، جو 10 سال کی طویل و صبر آزما سماعت کے بعدمبنی بر حق فیصلے پر اعلیٰ ترین عدلیہ کو مطعون کر رہی ہے اور سب خاموش ہیں۔ 2002 میں مختاراں مائی کی کہانی سامنے کیا آئی، ساری دنیا اسی کے ساتھ ہو گئی اور اس کے خلاف کچھ بھی ماننے سے انکا ر کر دیا گیا۔

یہ مقدمہ جس نے ساری دنیا میں 13سال بعد بھی پاکستان کو پریشان اور بدنام کر رکھا ہے، کا آغاز 22 جون 2002ء کی شام سے ہوتا ہے۔ اس شام مختاراں مائی کے گجر خاندان اور مستوئی خاندان میں جھگڑا ہوا۔ اس جھگڑے سے پہلے، دن کے وقت مختاراں کے بھائی عبدالشکور عرف شکورے کو عمر قید کی سزا پانے والے ملزم عبدالخالق کی بہن سلمہ کے ساتھ انتہائی قابل اعتراض حالت میں پکڑا گیا۔ اسے پکڑنے والوں میں عبد الخالق بھی شامل تھا ۔معاملہ تھانے تک پہنچا ،تو صلح صفائی کی کوشش شروع ہوئی۔ طے یہ پایا کہ مختاراں جو کہ طلاق یافتہ تھی، کی شادی عبدالخالق سے کر دی جائے اور مختاراں کا باپ فریق مخالف کو 10 ہزار روپے بھی ادا کرے اور شکورے کی شادی سلمہ سے کی جائے۔ عہد پورا کرتے ہوئے گواہوں کی موجودگی میں مختاراں کے چچامولوی عبدالخالق نے مختاراں نکاح پڑھا دیا (لیکن یہ نکاح لکھا نہ جا سکا)۔ اسی بات پر شکورا رہا ہو کر آ گیا۔ لیکن مختاراں کے خاندان نے 10 ہزار روپے دینے سے انکار کیا۔ دوسری طرف عبدالخالق کو بھی یہ معاہدہ پسند نہیں تھا، اسی پر جھگڑا شروع ہوا اور 22 جون ہفتہ کی ہی شام دونوں خاندان لڑ پڑے۔ اس موقع پر مختاراں بھی موجود تھی۔ لیکن معاملہ وقتی طور پر رفع دفع ہو گیا۔ اس کے بعد عبدالخالق نے 27 جون کو بہن کا نکاح ماموں کے بیٹے سے کر کے رخصتی بھی کر دی۔

اگلے جمعہ یعنی 28 جون کو مختاراں کے چچا مولوی عبدالرزاق نے مقامی مسجد میں خطبہ جمعہ کے دوران واویلا کیا کہ 7 دن پہلے جو جھگڑا ہوا تھا۔ اس میں مختاراں کے ساتھ سو ڈیڑھ سو لوگوں کی موجودگی میں ”پنچایت ”کے حکم پر اجتماعی طور پر زیادتی کی گئی ہے۔ اس کے جھوٹے واویلے کی وجہ یہ تھی کہ عبدالخالق نے نہ صرف اس کا پڑھایا نکاح قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا بلکہ بہن کی شادی بھی معاہدے کے خلاف دوسری جگہ کر دی تھی۔ ساتھ ہی مولوی عبدالرزاق نے خبر ایک مقامی صحافی کو دی جسے مقامی اخبار نے تین کالمی خبر کے طور پرچھاپ دیا۔

اگلے روز معاملہ تھانے پہنچا جہاں مولوی عبدالرزاق کے ہاتھ سے لکھی درخواست پر مختاراں مائی نے انگوٹھے لگا دیئے کیونکہ وہ اپنا نام تک لکھنے سے قاصر تھی اور اسے پتہ تک نہیں تھا کہ کاغذ پر کیا لکھا گیا ہے؟ خبر چھپنے سے ایف آئی آر درج ہوئی اور خبر مزید بڑی ہو کر قومی اخبارات اور عالمی میڈیا تک پہنچ گئی۔ 30 جون کو مختاراں کا میڈیکل ٹیسٹ ہوا ،جس میں بے پناہ عالمی دبائو اور زبردست پراپیگنڈے کے نتیجے میں یہ بات لکھی گئی کہ مختاراں سے ایک شخص نے زیادتی کی ہے۔ رپورٹ پر جتوئی کی ایک عام لیڈی ڈاکٹر نے دستخط کر دیئے۔ مقدمہ عالمی بننے کی وجہ سے حکومت نے زبردست کارروائی شروع کی جس کے نتیجے میں 14 لوگ گرفتار ہوئے۔ اسی دوران محمد شفیق ولد حضور بخش نامی ایک نوجوان جان بچانے کے لئے بھاگا تو دریائے سندھ میںڈوب کر مربھی گیا۔

گرفتار شدگان کے بارے دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں 7 افراد ایسے تھے جن کے نام ایف آئی آر میں درج تک نہیں تھے۔ وہ لوگ اللہ دتہ ولدجان محمد، نذر ولد اللہ بخش، حضور بخش ولد جندوڈا، قاسم ولد جندوڈا، خلیل ولد غلام حسین، غلام حسین ولد جندوڈا اور اسلم ولد محمود تھے۔ گرفتار شدگان میں باپ بیٹا بھی شامل تھے، یعنی باپ اور بیٹا اس الزام میں پکڑے گئے کہ انہوں نے بھی اس اجتماعی زیادتی میں اکٹھے حصہ لیا ہے۔ گرفتار شدگان میں 8 واں ملزم محمدفیاض ولد کریم بخش بھی تھا۔ اس کا تعلق میروالا کے قریبی گائوں بیٹ رام پور سے تھا ۔یہ ملزم گرفتاری کے وقت چھٹی جماعت کا طالب علم تھا لیکن کمال حیرت کی بات کہ جس محمدفیاض کا نام ایف آئی آر میں تھا، اس کا تعلق میروالا سے تھا، جو آخر وقت نہیں پکڑا گیا۔ گرفتار شدگان میں چار سگے بھائی اور ان کا سگا بھانجا عبدالخالق بھی شامل تھا۔یعنی4 سگے بھائیوں پر مل کر مختاراں سے اجتماعی زیادتی کا الزام عائد ہوا۔

یکم ستمبر 2002ء کو رات کے پونے ایک بجے ڈیرہ غازی خان کی انسداد دہشت گردی کی جس عدالت نے پہلا فیصلہ سنایا تھا، نے بھی 8 افراد کو بری کیاتھا لیکن وہ بھی کئی برس بعد جا کر رہا ہوئے۔ ان لوگوں کودیگر پانچ بے گناہوں کے ساتھ6 جون 2005ء کو لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ نے 50، 50 ہزار کے مچلکوں کے بدلے رہائی کا حکم دیا تھا لیکن بیشترلوگ اتنے غریب تھے کہ وہ مچلکے نہ بھر سکے اور جیلوں میں ہی پڑے رہے اور مقدمہ آگے چل پڑا۔ ان بے گناہوں کے بارے میں نہ صرف مختاراں مائی بلکہ اس کے عالمی شہرت یافتہ وکلاء کے پینل اور انسانی حقوق کی تنظیمیں سبھی بخوبی آگاہ تھے لیکن ان کی مدد کی کبھی کسی نے کوئی بات نہ کی۔ آخر کیوں…؟ اس کا سوال کا جواب بھی کوئی نہیں دیتا۔

High Court
High Court

مختاراں مائی کی جو میڈیکل رپورٹ بنی ، اس میں ڈی این اے ٹیسٹ شامل نہیں تھا۔ حالانکہ ہائیکورٹ کے ایک فیصلے کے مطابق اجتماعی زیادتی کے واقعہ میںیہی ٹیسٹ اصل بنیاد ہے۔ ایک اور حقیقت جس کا کوئی شخص انکار نہیں کرتا کہ جھگڑا 22 جون 2002 کو ہوا ۔ایف آئی آر 29 جون 2002 اور میڈیکل ٹیسٹ 30 جون 2002کو ہوا… آخر کیوں…؟ اتنے دن مختاراں اور اس کا خاندان کہاں تھا؟ اگر انہیں مستو ئی قبیلے کا خوف تھا تو آٹھ نو دن بعد یہ خوف اچانک کیسے ختم ہو گیا؟ یہ بات بھی اہم ہے کہ اس حوالے سے کوئی ماہر ڈاکٹر یہ تسلیم نہیں کرتا کہ 9دن بعدزیادتی کی رپورٹ مثبت آ سکتی ہے۔ دیگر بہت سی وجوہات کے ساتھ اس لحاظ سے بھی یہ رپورٹ انتہائی مشکوک تھی لیکن اس معمولی سے شک پر بھی پہلے ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ نے ملزم عبدالخالق کو عمر قید سنائی کیونکہ یہ بات عدالت کو بتائی گئی تھی کہ عبدالخالق کا نکاح مختاراں کے ساتھ پڑھایا گیا تھا ،اگرچہ اسے لکھا نہیں گیا لیکن جو زیادتی بے شک نامکمل اور ادھوری رپورٹ سے ہی ثابت ہوئی، سمجھا گیا کہ وہ لازماً عبدالخالق نے ہی کی ہو گی کیونکہ وہ اسے جائز بیوی سمجھتا تھا۔

اس مقدمے میںپنچائیت کے حکم پرا جتماعی زیادتی کا ہنگامہ آج بھی سنا جاتا ہے حالانکہ سارے علاقے میں ایک بھی گواہی ایسی نہیں جس سے یہ ثبوت ملتا ہو کہ سرے سے پنچایت بیٹھی بھی تھی ۔مختاراں مائی اپنے بیانات میں سب سے زیادہ زور اس بات پر دیتی ہے کہ اسے مستوئی قبیلہ سے خطرہ ہے، حالانکہ یہ لوگ اتنے غریب اور درماندہ ہیں کہ 27 اپریل 2011 کی شب جب ملتان جیل سے 13 بے گناہوںکو رہا کیا گیا تو انہیں لینے کے لئے جیل کے باہر کوئی موجود ہی نہیں تھا کیونکہ ان کے لواحقین کرائے کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے انہیں لینے کے لئے آ ہی نہیںسکے اور رہا ہونے والوں کو ملتان کے ایک پولیس آفیسر نے فی سبیل اللہ کرائے کے پیسے دیکرروانہ کیا۔سپریم کورٹ میں یہ چھ سال مقدمہ چلا لیکن مستوئی خاندان کا کوئی ایک فرد ایک دفعہ بھی مقدمہ کی سماعت کے لئے اسلام آباد نہ جا سکا۔

مختاراں کے گھر سے متصل گھر مرکزی ملزم عبدالخالق کا ہے۔ اس گھر میں آج بھی بجلی نہیں ،بلکہ اس کے تین رشتہ داروں کا بھی یہی حال ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مختاراں مائی ان کے گھروں میں کنکشن لگنے ہی نہیں دیتی ۔وکی لیکس نے بتایا تھاکہ مختاراں کاسگا بھائی حضوربخش اب علاقے کا”جگا” بن چکا ہے۔یہ بات سامنے آتے ہی مختاراں نے پھر جھوٹ بولتے ہوئے حضور بخش کو بھائی ماننے سے ہی انکار کر دیا تھا۔

میر والا میںآج بھی منظر یہ ہے کہ ایک طرف مختاراں کی عالیشان کوٹھی اور اس کا وسیع کمپلیکس ہے جن میں کروڑوں مالیت کی گاڑیاں کھڑی اور آتی جاتی نظر آتی ہیں۔اس کی حفاظت کے لئے بڑی پولیس چوکی قائم ہے ۔ہر طرف دولت کی ریل پیل ہے تو دوسری طرف مخالف مستوئی خاندان کے مٹی کے گھروندوںمیں کیچڑ اور دھول میں لتھڑے، گندے کپڑے پہنے، ننگے پائوں آوارہ پھرتے بچے ہیں جنہیں مختاراں مائی کے سکولوں میں داخلے تو کجا اس کے علاقے کی طرف جانے کی بھی اجازت نہیں۔ فیض احمد جسے سرپنچ اور بہت بڑا جاگیردار کہا جاتا رہا، محض چند کنال زمین کا مالک ہے جبکہ دیگر لوگ 2 سے 3 کنال کی بھی بمشکل ملکیت نہیں رکھتے ۔اس مقدمے کے بعد میروالا کی دو مساجد مکمل طورپر ویران و شکستہ ہیں کیونکہ ان کے امام اور متولی بھی اجتماعی زیادتی کے الزام میں دس سال جیل میں پڑے رہے۔

22 جون 2002 سے شروع ہونے والی وہ بدنام زمانہ جھوٹی کہانی جس نے پاکستان کے لئے بے شمار مسائل کھڑے کئے، آج بھی ان سوالوں کے جواب چاہتی ہے، جو کوئی نہیں دیتا۔ مظفر گڑھ غیرملکی این جی اوز کا گڑھ بن چکا ہے جہاں 200 سے زائد این جی اوز رجسٹرڈ ہیں ۔یہ این جی اوز کیا کررہی ہیں؟ یہ کوئی نہیںپوچھتا۔ مختاراں مائی کو اس مقدمے کے بعد یورپ، امریکہ اور دیگر مغربی دنیا نے بے پناہ مقبولیت دی۔ اعلیٰ ترین حکومتی عہدیداران اس کا استقبال کرتے۔ کہیں اسے شہریتیں دی جاتیں، کہیں ایوارڈ، اعزازات اور بھاری رقوم تو کہیں اسے اعلیٰ اعزازی بشمول ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں۔ انہی ممالک میں اس پر کتابیں لکھی گئیں، فلمیں تیار ہوئیں۔اسے دنیا کی ْ”عظیم خواتین” کی فہرست میں شامل کیا گیا۔

دوسری طرف یہ سوال آج بھی تشنہ ہے کہ پاکستان و پاکستانی معاشرے کو بدنام کرنے و الے وہ لوگ جو اصل میں بغاوت اور غداری کے مرتکب ہوئے ،ان کے خلاف آج تک کوئی کارروائی کیوں نہیں ہو پائی؟تاکہ آئندہ کوئی ایسا جھوٹ نہ بولتا۔

Ali Imran Shaheen
Ali Imran Shaheen

تحریر: علی عمران شاہین

Share this:
Tags:
facts incredible Lies تردید جھوٹ حقائق
Previous Post بوچھال کلاں: حلقہ مکھیال بولہ کا پٹواری اور منشی عوام کے لئے وبال جان بن گئے
Next Post طالبان سے مذاکرات اور پاکستانی عوام
Ghulam Murtaza Bajwa

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close