
ممتاز ثنا ء خوان رسول قاری محمد شفیع نوشاہی کی والدہ محترمہ کے ایصال ثواب کے لئے مرکزی
گجرات(جی پی آئی)ممتاز ثنا ء خوان رسول قاری محمد شفیع نوشاہی کی والدہ محترمہ کے ایصال ثواب کے لئے مرکزی انجمن ثناء خوان مصطفےٰ ڈوگہ شریف کے زیر اہتمام عظیم الشان محفل درودو سلام 8اکتوبر بروز بدھ بعد از نماز عصر مسجد غوثیہ صدیقیہ ڈوگہ شریف میں منعقد ہوگی ۔علاقہ بھر سے عاشقان رسول کثیر تعداد میں شرکت کریں گی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گجرات(جی پی آئی)پاکستان مسلم لیگ ن یوسی 47محلہ امین آباد کے کونسلر ملک ضیاء اللہ اعوان کی نواسی اورملک سعید اعوان المشہور دیسی گھی والی کی بیٹی رضائے الٰہی سے وفات پاگئیں۔مرحومہ کی نماز جنازہ بجلی گھر والے قبرستان میں ہوا مرحومہ کی نماز جنازہ میں ممتاز شخصیات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔جن میں ملک رفیق اعوان،ملک احمد حسن اعوان،ڈاکٹر ملک مبشر،ڈاکٹر ملک سجاد،ملک اکرم،رضوان،عرفان،تنویر،ابراہیم،حاجی ظفر اقبال،منظور حسین ڈار،شیخ فضل باری،علی جنجوعہ۔ابدال شاہ،شاہد بھٹی و دیگر شامل تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گجرات(جی پی آئی)پولیس تھانہ بی ڈویژن نے موٹر سائیکل چور رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیاتفصیلات کے مطابق ڈی پی او گجرات نے ضلع میں موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں کو روکنے کیلئے پولیس گشت کو موثر کر دیا ۔تھانہ بی ڈویژن کے محافظ اسکوارڈ نے دوران گشت سرور گولڈ پلازہ کے قریب موٹر سائیکل چور رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا ۔حبیب سرور ولد غلام سرورقوم گجر سکنہ عادووال گجرات ملزم پلازہ کے باہر سے 70-CCموٹر سائیکل کا لاک کھول رہا تھا جو محافظ پولیس کے جوانوں نے ملزم کو موقع پر سے ہی حراست میں لے لیا اور موٹر سائیکل مالک کے حوالے کر دیا ۔ملزم کی تھانہ بی ڈویژن میں انٹیروگیشن جاری ہے اور توقع ہے کہ کئی موٹر سائیکل چوری کی وارداتیں ٹریس ہوں گی۔ DPO رائے اعجاز احمد نے ملزم کی گرفتاری پرایس ایچ او بی ڈویژن اور محافظ اسکوارڈ کے جوانوں کو تعریفی سرٹیفکیٹ دینے کا اعلان کیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گجرات(جی پی آئی( ڈی سی او لیاقت علی چٹھہ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر گجرات ڈاکٹر افشاں رباب نے نت کلاں کے مقام پر بروقت کاروائی کرتے ہوئے دریائے چناب سے غیر قانونی طور پر ریت نکالتے ہوئے دو افراد کو رنگ ہاتھوں گرفتار کروا دیا ہے جبکہ جی ٹی روڈ پر غیر قانونی طور پر قربانی کے جانوروں کو فروخت کرنے والے 5بیوپاریوں کے خلاف بھی مقدمات درج کروا دئیے گئے ہیں ،جنہیں پولیس نے گرفتار کر لیا ہے ، اسسٹنٹ کمشنر افشاں رباب نے بتایا کہ ملزمان دریائے چناب سے غیر قانونی طور پر ریت نکال کر سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا رہے تھے ، جس کے بارے میں ضلعی انتظامیہ کو شکایت ملی اور ڈی سی او لیاقت علی چٹھہ نے انہیں فوری طور پر کاروائی کی ہدایت کی تھی ، انہوںنے بتایا کہ غیر قانونی طور پرریت نکالنے کیلئے استعمال ہونیوالی دو ٹریکٹر ٹرالیاں کو بھی قبضہ میں لیکر تھانہ صدر گجرات کے حوالے کر دی گئیں ہیں ، جہاں مقدمہ درج کر کے تفتیش جاری ہے ، دریں اثناء ایک اور کاروائی کے دوران دفعہ 144کی خلاف ورزی کر کے جی ٹی روڈ پر جانور فروخت کرنے والے 5بیوپاریوں کے خلاف تھانہ لاری اڈا میں مقدمات درج کروائے گئے ہیں ، اے سی افشاں رباب نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کو مقررہ سیل پوائنٹ کے علاوہ اور مقامات پر جانور فروخت کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائیگی اور ایسے افراد کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائیگی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گجرات(جی پی آئی)ہر عہد میں سماجی تبدیلی اور معاشرتی ترقی میں دانشوروں نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ دانشور اور صاحب علم کا کمال یہ ہے کہ وہ تاریخی تسلسل کے پہیے کو سبک گام بنائے۔ دور حاضر میں ہم جن معاشرتی الجھنوں اور عذابوں کا شکار ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ معاشرہ کے طبقاتی معاشرہ اور مکالمہ کا فقدان ہے ۔ ہمارے معاشرہ میں جبر مسلط ہو گیا ہے کیونکہ ہم نے مکالمہ کی راہیں مسدود کر دی ہیں۔ مکالمہ دراصل لفظوں کے ہتھیاروں کی کاریگری کا نام ہے مگر انحطاط پذیر معاشروں میں ہتھیار ہی لفظ بن جاتے ہیں۔ برداشت، رواداری، مساوات اور جمہوری رویے ہی ہمیں ایک ترقی یافتہ اور کامیاب معاشرہ بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ پروفیسر سید شبیر حسین شاہ ہماری سر زمین کے متعدل سوچ رکھنے والے اور علمی حلقوں میں پہچان رکھنے والے ایک ایسے دانشور تھے جن کی سوچ نے ہمارے سماجی و تہذیبی رویوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان خیالات کا اظہار سابق وزیر اطلاعات مشہور سیاسی شخصیت قمر زمان کائرہ نے جامعہ گجرات کے زیر اہتمام ممتاز دانشور سید شبیر حسین شاہ مرحوم کی یاد میں منعقدہ قومی سیمینار ”سماجی تبدیلی میں دانشور کا کردار” کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جامعہ گجرات کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد نظام الدین نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ پروفیسر شبیر شاہ ایک ایسی علمی شخصیت تھے جنہوں نے اپنے اقوال و افکار کے ذریعے پاکستانی معاشرہ کو مثبت رویوں سے شناسا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ شاہ صاحب میرے دوست ہونے کے ساتھ ساتھ میرے استاد و مرشد کا درجہ بھی رکھتے تھے۔ شاہ صاحب کے خیال میں جامعات تعلیم و تربیت کا مرکز ہونے کے ساتھ قومی تربیت کے ادارے بھی تھے۔ ان کے نزدیک جامعات کا اصل مطمع نظر معاشرہ کا چہرہ نکھارنا ہوتا ہے ۔ جامعات کا کام معاشرہ کے مختلف اداروں اور سماج کو ترقی کی نت نئی راہوں سے آشنا کرنا ہوتا ہے ۔ دانشور کسی بھی معاشرہ میں علم و ترقی کا استعارہ ہیں۔ سید شبیر حسین شاہ کی فکر، مقاصد اور مشن کو آگے بڑھانا اب ان کے دوستوں اور ساتھیوں کی اولین ذمہ داری ہے ۔ مشہور ترقی پسند دانشور اور استاد مصنف پروفیسر سحر انصاری نے اپنے کلیدی خطبہ میں کہا کہ صداقت کے دیئے روشن کرنے والے انسان دوست دانشوروں کا نام تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ جگمگاتا رہتا ہے ۔ مسلم دنیا میں اس وقت سائنسی فکر و سوچ کا بحران و فقدان ہے ۔ دانشور کا اصل کام معاشرہ میں عقلی و سائنسی فکر کو بڑھاوا دینا ہے ۔ قرآن میں عقل و فکر کی تعلیم دی گئی ہے مگر افسوس بحیثیت مسلم معاشرہ ہم نے عقل و فکر کے دامن کو چھوڑ دیا اور رجعت پسندی کے مقلد ہو کر رہ گئے ہیں۔ عہد حاضر میں دانشوروں کا فرض ہے کہ وہ اپنی علاقائی سطحوں پر فکری حلقے قائم کریں اور عوام الناس میں تدبر، تحمل، برداشت، رواداری کی تعلیمات کو عام کریں۔ ممتاز دانشور اور صحافی امتیاز عالم نے کہا کہ پاکستانی معاشرہ میں اخلاقی قدروں ، فکری رویوں اور اچھائی و برائی کے پیمانوں کے از سر نو تعین کی اشد ضرورت ہے ۔ کبھی مغربی دنیا کی حالت بھی ہمارے جیسی تھی مگر پھر وہاں پر فکری اصلاح اور احیاء العلوم کی تحریکوں نے جنم لیا اور عقل و فہم کی پیروی کرتے ہوئے یورپ آج ترقی یافتہ مقام پر پہنچا آج کا پاکستان فکری زوال کا شکار ہے ۔ ہماری جامعات اور معاشرہ میں فن مکالمہ و مباحثہ کا رواج ختم ہو گیا ہے ۔ ہمارے معاشرہ میں سید شبیر شاہ جیسے سینکڑوں ہزاروں دانشور پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہاں سے فرقہ پرستی کے عفریت کو بھگایا جاسکے۔ فرقہ پرست فکری طور پر کنگال لوگ ہیں۔ حقوق انسان کے علمبردار مشہور صحافی وجاہت مسعود نے کہا کہ دانشور بہترین عالم اور فکری راہنما ہوتا ہے وہ کبھی بھی متکبر، رعونت پرست اور لالچی نہیں ہوتا وہ ہمیشہ انسانیت کو جینے کے نئے قرینوں سے آشنا کرتا ہے ۔ دانشور غلط رویوں سے جرأت انکار کا حوصلہ سکھاتا ہے سید شبیر شاہ خرد افروزی اور روشن خیالی کا استعارہ تھے۔ مثبت کام کرنے والا ہر شخص دانشور ہے ۔ دانشور ممکنہ حد تک تعصب سے پاک ہوتا ہے اور ہمارے معاشرہ کو آج تبدیلی لانے کے لیے ایسے ہی دانشوروں کا سہارا درکار ہے۔ مشہور ادبی شخصیت اصغر ندیم سید نے کہا کہ سچائی اور علم ایسا راستہ ہے جس پر چلنے سے کئی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ دانش، دلیل ، تجزیہ اور تفکر سوچ بچار کے راستہ کے پڑائو ہیں۔ دانشور کے پاس انسانی اقدار، اخلاقیات اور سماجیات کا بنیادی علم ہوتا ہے جس کی تبلیغ سے وہ معاشرتی حالت میں سدھار پیدا کر تا ہے ۔ سید شبیر شاہ سچائی کے راستوں کا مسافر تھا ۔ ہمارے معاشرہ نے دانشور کے کردار اور تعلیمات کو فراموش کر کے اس کا خمیازہ بھگتتا ہے ۔ معروف ترقی پسند ادیب اور ڈائریکٹر جنرل UOG سیالکوٹ کیمپس ڈاکٹر انور احمد نے کہا کہ موجودہ دور میں دانشور کی ذمہ داریاں بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ ہمارے معاشرہ میں ایک ابنارملٹی پیدا ہو چکی ہے اور اس ابنارملٹی کو صرف اور صرف علمی مباحثوں اور صحت مند مکالمہ کے ذریعے ہی نارمل بنایا جاسکتا ہے ۔ آج ہمارے معاشرہ کو کشادہ دلی اور رواداری کی اشد ضرورت ہے ۔ سید شبیر شاہ زندگی میں بامقصد اور واضح نصب العین رکھتے تھے ۔ وہ معاشرہ میں بگاڑ نہیں بلکہ بنائو کے قائل تھے ۔ شبیر شاہ سادہ طرز زندگی سے مزین ایک ایسی شخصیت تھے جن کا علمی حلقوں میں بہت احترام کیا جاتا تھا ۔ ڈائریکٹر PILACاور مشہور کالم نگار ڈاکٹر صغریٰ صدف نے کہا کہ سید شبیر شاہ کی شخصیت و فکر خوبیوں سے معمور تھی۔ ان کی شہادت ہمارے معاشرہ کا بہت بڑا المیہ ہے ۔ ہمارے معاشرہ میں تشدد روز بروز بڑھ رہا ہے کیونکہ ہر کسی نے اپنے سچ کو آفاقی سچ سمجھنا شروع کر دیا ہے ۔ ہمارا معاشرہ ایک یرغمال اور ژولیدہ سوسائٹی کا منظر پیش کر رہا ہے ۔ ہم نے صوفیائے کرام کی سیکولر فکرکو پس پشت رکھ کر انتہا پسند قوتوں کو اپنا آئیڈیل بنا لیا ہے ۔ ہمیں اپنے معاشرہ کی تطہیر کے لیے فکر کی سیکولر روایت کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ مشہور علمی شخصیت ڈاکٹر محمد قاسم بھوگیو نے کہاکہ سید شبیر شاہ ترقی پسندانہ سوچ کی حامل ایسی شخصیت تھے جو معاشرہ میں امن کی فضا قائم کرنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے مگر افسوس وہ ہمارے معاشرہ میں بڑھتے ہوئے تشدد اورفرقہ واریت کی بھینٹ چڑھ گئے ۔ شبیر شاہ جامعہ گجرات کی ایک نمائندہ شخصیت تھے انہوں نے موجودہ ملکی صورتحال میں بھی ہمیشہ رجائیت پسندی کا درس دیا ۔ ارتقاء انسٹی ٹیوٹ کے بانی مشہور دانشور راحت سعید نے کہا کہ سماجی تبدیلی میں دانشور اپنی دیانت اور علم و عمل کے بل بوتے پر ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔ دانشور اپنے عہد کی برائیوں کو سمجھتا اور پہچانتا ہے ۔ شبیر شاہ ایسی شخصیت تھے جنہوں نے عوامی راہوں میں بچھے کانٹوں کو صاف کرنے کی کوشش کی۔ مشہور ماہر تعلیم اور معتبر استاد پروفیسر ظفر علی خاں نے کہا کہ شبیر شاہ کا تعلق گجرات کی مردم خیز دھرتی سے تھا۔ شبیر شاہ مصمم ارادہ کے مالک اور معاشرہ میں مثبت تبدیلیوں کے خواہش مند تھے ۔ شبیر شاہ رجعتی سوچ کے سخت مخالف ا ور طبقاتی مساوات کے قائل تھے ۔ جامعہ گجرات کی داغ بیل ڈالنے میں شبیر شاہ نے اہم کردار ادا کیا ۔ علم دوستی، حق گوئی اور بیباکی شاہ صاحب کی شخصیت کے خاص پہلو تھے۔ چیئر مین پاکستان ہائوس اسلام آباد رانا اطہر جاوید نے کہا کہ تمام دنیا اس وقت بحرانی دور سے گذر رہی ہے وقت کے ساتھ ساتھ دانشور طبقہ کی ترجیحات بدلتی رہیں۔ ہمارے معاشرہ میں رواداری اور برداشت کی روایت ختم ہو چکی ہے ۔ لمحہ موجود میں ہمیں پاکستانیت اپنانے کی ضرورت ہے ۔ دانشوروں کو مل کر معاشرہ پر چھائے ہوئے ناامیدی کے بادلوں کو ختم کرنا ہے ۔ شبیر شاہ ایک سچے اور کھرے پاکستانی دانشور تھے۔ ڈائریکٹر میڈیا UOG شیخ عبدالرشید نے کہا کہ دانشور وہ چراغ ہے جسکی روشنی میں راہنما اور معاشرہ قدم اٹھاتے ہیں۔ دانشور اپنی علمی حیثیت میں ایک سماجی ادارہ ہوتا ہے ۔ ہمارا سماج اس وقت تضادات کا شکار ہے ایسے میں سید شبیر شاہ کی فکر کے چراغ کو جلائے رکھنا بہت ضروری ہے ۔ شاہ صاحب امید، خوشی اور رجائیت کے پیامبر تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر عاطف جعفری نے کہا کہ شبیر شاہ ایک عالم بے بدل تھے ۔ ایک عزیز ہونے کے ناطے ان کے ساتھ میری اکثر علمی بحثیں رہتی تھیں۔ انہوں نے ہمیشہ علم، دانائی ، جمہوری اقدار اور برداشت و رواداری کا درس دیا ۔ وہ جمہوری قدروں پر مبنی امن پسند معاشرہ کے قیام کے خواہاں تھے۔ مشہور علمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر اظہر محمود چوھدری نے فیض احمد فیض کی نظم پیش کی جو سید شبیر حسین شاہ کو بہت پسند تھی۔ پروفیسر ہمایوں غوری نے مشہور شاعر و ادیب کرنل محمد الیاس کا منظوم خراج تحسین پڑھ کر سنایا۔ شعبہ تاریخ کی طالبہ ایمان نجویٰ نے سید شبیر شاہ کی وفات پر کہی گئی اپنی نظم سنائی۔ خراج تحسین کے اس سیمینار میں جامعہ گجرات کے طلباء و طالبات و اساتذہ کے علاوہ سول سوسائٹی کے چیدہ اراکین، سید شبیر شاہ کے خاندان، وکلاء برادری کے نمائندگان اور پاکستان کے طول و عرض سے دانشوروں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ تقریب کے اختتام پر جامعہ گجرات کی جانب سے سید شبیر شاہ مرحوم کے خاندان کو ڈاکٹر محمد نظام الدین نے ایک یادگاری شیلڈ پیش کی جو ان کے بیٹے سید عمران شبیر نے وصول کی ۔ تقریب کے آغاز میں ڈائریکٹر سٹوڈنٹس سروسز محمد یعقوب کی تیار کی ہوئی سید شبیر شاہ کی یادوں پر مشتمل تصویری فلم بھی پیش کی گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گجرات(جی پی آئی)گجرات پریس کلب کے صدروسیم اشرف بٹ اور جنرل سیکرٹری محمود اختر محمودنے گجرات پریس کلب کے ممبررانا نذیر کے بھائی رانا محمد شفیق کے انتقال پر رنج وغم کا اظہارکیا انہوں نے مرحوم کے لئے مغفرت اور ان کے بلندی درجات کی دعا کی کہ اللہ تعالی مرحوم کو جنت الفردوس میںاعلی مقام اورپسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سینئر صحافی محمود شام نے فیضان مدینہ کا دورہ کیا ،دعوت اسلامی
گجرات(جی پی آئی)تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کے ترجمان کے مطابق سینئر صحافی محمود شام نے دعوت اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کا دورہ کیا ۔مجلس نشرواشاعت کے ذمہ دار اسلامی بھائیوںنے استقبال کیا۔اپنے دورے کے دوران انہوں نے فیضان مدینہ میں قائم مختلف شعبہ جات کا بھی دورہ کیا اور متعلقہ ذمہ دار اسلامی بھائیوں سے ملاقات کی ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے اپنے اپنے شعبہ جات میں ہونے والے دعوت اسلامی کے مدنی کاموں کے حوالے سے انہیں آگاہ کیا ۔محمود شام نے مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن ونگران باب المدینہ مشاورت حاجی محمد امین عطاری مدظلہ العالی سے بھی ملاقات کی سعادت حاصل کی ۔اس موقع پر رکن شوریٰ نے انفرادی کوشش فرماتے ہوئے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی جس پر انہوں نے اجتماع میں شرکت نیت کی ۔رکن شوریٰ نے دعوت اسلامی کے مطبوعہ کتب ورسائل بھی تحفةً پیش کئے ۔مدنی چینل کے دورے کے موقع پر انہوںنے کہا ہے ۔شیخ طریقت امیر اہلسنت بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ کی نیکی کی دعوت کی بدولت آج دنیابھر میں دعوت اسلامی کا پیغام عام ہوا ہے ۔دعوت اسلامی حقیقی اسلام کو دنیا کے سامنے پیش کررہی ہے ۔ فیضان مدینہ میں آکر مجھے قلبی وروحانی سکون ملا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گجرات(جی پی آئی)اپنے حقوق سے آگاہی اور ان کے حصول کے لئے ڈٹ جانے اور قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے جدوجہد کرنے والی شخصیت کا نام محمد علی جناح ہے ،محنت اور دیانتداری کو اپنا شعار بناتے ہوئے مسلسل جدوجہد سے کامیابی حاصل کرنے اور اپنے زمانے سے آگے کی سوچ رکھنے والی طلسمی شخصیت محمد علی جناح نے میٹرک امتحان کے بعد بار ایٹ لا کے لئے انٹری ٹیسٹ اپنی خود اعتمادی کی بناپر پاس کیا اور اپنے والد کی خواہش کے برعکس کاروباری تعلیم کی بجائے لاء کی ڈگری محض اس لیے حاصل کی کہ برطانوی پارلیمنٹ میں موجودممبران کی اکثریت کاروباری نہیں بلکہ لاء کی تعلیم حاصل کرنیوالوں کی تھی۔ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر میڈیا اینڈ پبلی کیشنز گجرات یونیورسٹی شیخ عبدالرشید نے گجرات پبلک سکول کڑیانوالہ میں ”محمد علی جناح اور ہم ” کے موضوع پر طلباء و اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا انھوں نے مزید کہاکہ وکالت کا پیشہ اختیار کرنے کے بعد تین سال تک کوئی کیس نہ ملنے کے باوجود اپنے دفترہر روز بروقت آنا ان کامعمول تھا جس اس بات کا ثبو ت ہے کہ وہ اپنے فرائض میں کوتاہی نہیں کرتے تھے پھرایک وقت وہ بھی آیا کہ محمد علی جناح ہندوستان کے مہنگے اور مصروف ترین وکیل شمار ہونے لگے،محمدعلی جناح کی زندگی کا ایک اور پہلو بھی بڑا روشن ہے کہ انھوں نے اس وقت اپنی بہن کو ایک عیسائی سکول میں داخل کروایا جب ہندوستان کے مسلمان لڑکیو ں کی تعلیم پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتے تھے ایک غیر مسلم سکول میں اپنی بہن کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے ان کی کوشش اس بات کی دلیل ہے کہ وہ زمانے سے ٹکراجانے والی شخصیت تھے،یوں تو عالمی سطح پر بہت سے سیاسی راہنمائووں کو ”قائد اعظم ” کے لقب سے نوازا گیا مگر یہ لفظ محمد علی جناح کے ساتھ ہی سجا۔محمدعلی جناح نے ہندوستان کے مسلمانوں کو شعور دیا، ان کی راہ متعین کی ،اور الگ وطن کا قیام عمل میں لائے جو ان کو خاصہ ہے دنیا کے کسی بھی اور سیاسی راہنماء نے بیک وقت یہ تین کام نہیں کیے،محمد علی جنا ح کی زندگی ہمیں ،دیانتداری،محنت اور حقوق سے آگاہی کے ساتھ ساتھ قانوان کے احترام کا سبق سیکھاتی ہے۔ممتازسماجی شخصیت کیئرز پاکستان کے بانی پروفیسر تنویراحمد نوید نے اپنے خطاب میں کہا کہ محمدعلی جناح قانون کا اخترام کرنے والی شخصیت کا نام ہے انھوں نے ایسے نوجوانواں کے ساتھ ملاقات سے انکار کر دیا تھا جو اس وقت اپنی سائیکلوں پر لائٹ نہیں لگوا کر آئے تھے جس کا حکومت وقت نے اعلان کر رکھا تھا ہمیں بھی قانون کا اخترام کرتے ہوئے محمد علی جناح کے نقش قدم پر چلنا ہوگا۔ گجرات پبلک سکول کی پرنسپل میڈیم سمیراء رفیق نے اپنے خطاب میں کہاکہ شیخ عبدالرشید صاحب نے محمدعلی جناح کے حوالہ سے جو مفید معلومات فراہم کی ہیں اس کے لیے ان کے انتہائی مشکورہیں یقینا محمدعلی جناح کے بارے میں ہمارے بچوں کے پاس مستند معلوما ت موجودنہیں تھیں یقیناآج بچے ایک نئے محمدعلی جناح سے متعارف ہوئے ہیں بچوں نے جس شوق اور لگن سے یہ تمام گفتگوسنی امید کرتے ہیں کہ وہ یہ تمام خوبیاں اپنی ذات میں منتقل کرکے معاشرے کے لیئے مفید کردار ادا رکریں گیے اوران معلومات سے نہصرف خود مسنتفیدہونگے بلکہ اپنے اردگرد رہنے والوں کو بھی فراہم کریں گے آخر میں سکول کے طلباء و طالبات نے مقررین سے وعدہ کیا کہ وہ آج کے بعد محمد علی جناح کی کوئی ایک خوبی اپنے اندر ضرور پیدا کرکے خود کوان کے نقش قدم پر چلنے کا پابند بنائیں گے،محمدعلی جناح کے حوالہ سے مفید معلومات کے بعد سکول کے طلباء و طالبات پر عزم اور پر جوش نظر آرہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گجرات(جی پی آئی)مجاہد اہلسنت مرکزی راہنما تحریک تحفظ اسلام پاکستان محمد فیصل گوندل جلالی نے اپنے بیان میں کہاہے ۔کہ یکم اکتوبر پاکستان کی تاریخ کاسیاہ دن ہے اس دن غازی ممتاز قادری کو سزا سنائی گئی جس کی ہم پر زور مزمت کرتے ہیں اورحکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ غازی ناموس رسالت ۖ غازی ممتاز قادری کو فوری طورپر رہا کیاجائے ورنہ عاشقانہ رسول اٹھ کھڑے ہونگے جس کو کنٹرول کرناحکومت کے بس میں نہ ہوگا انہوں نے مزید کہا کہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ ایک گستاخ کوواصل جہنم کرنے والے کواپنے ہی مسلمان ملک میںسزاسنا دی گئی ہے ۔ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں امن امان کی فضا قائم رہے اور ملک پاکستان کا وقار عالمی سطح پر بلندہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گجرات(جی پی آئی)شہزادہ احسا ن طاہر کے ہاں چاند جیسے بیٹے کی پیدائش صدر تاجر اتحاد چیئرمین مسلم لیگ ن کنجاہ شہزادہ طاہریوسف دادا بن گئے چیئرمین تاجر اتحاد کنجاہ چیئرمین ہائیڈرو الیکٹرک لیبر یونین ڈویژ ن نمبر 2گجرات حاجی محمد افضل گوندل،سینئر نا ئب صدر محمد اصغر انصاری ،جنرل سیکرٹری حاجی محمد یو نس چشتی نے مبارکباد دیتے ہو کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ یہ بچہ بڑا ہو کر اپنے والدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عوام النا س کی خدمت کرے اور ملک پاکستان کا نام روشن کرے ۔
