Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اَے حرم قرطبہ ! ہم تجھ سے شرمندہ ہیں….!

May 13, 2014 0 1 min read
Muslim Ummah
Cordoba Mosque
Cordoba Mosque

اُندلس، اسپین میں اسلامی سلطنت کا دور صدیوں پر محیط ہے، جس وقت دنیا جہالت کے اندھیروں میں غرق تھی،یورپ کیچڑ اور گندگی کا ڈھیراور علم وحکمت سے بے بہرہ تھا،اُس وقت اسلامی اُندیس میں فقہ و حدیث، طب و جراحت، ریاضی و کیمیااور آج کی جدید سائنسی علوم وفنون کی بنیاد ڈالی جاچکی تھی ،وہاں علم وحکمت اور صنعت وحرفت کے نئے باب کھل رہے تھے، اُندلس کے سینکڑوں کتب خانے لاکھوں علمی وتحقیقی کتابوں سے مزین تھے،اُس زمانے میں اندیسی مسلمان دنیاکی سب سے زیادہ تعلیم اور ترقی یافتہ قوم شمار ہوتے تھے اور یہ خطہ دنیا کا سب سے زیادہ زرخیز خطہ مانا جاتا تھا، جہاں سے دنیا جہاں کے تشنگانِ علم اپنی پیاس بجھاتے تھے،اسلامی اُندیس علم وفن،تہذیب وتمدن، سیاست ومعاشرت اور اخلاق وشائشتگی کا ایک ایسا گہوارہ تھا جس نے انسانی تاریخ پر اپنے اَنمٹ نقوش ثبت کیے،اُس دور میں اُندلس مختلف تہذیبوں اور قوموں کا سنگم تھا،جہاں باشندوں کو مذہبی، معاشرتی، ثقافتی اور فکری آزادی حاصل تھی۔

اُندیس کی اسلامی حکومت نے آٹھ سو سال میں کئی عروج زوال دیکھے،مگر1236ء میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب اندیسی مسلمان ” شمشیر وسناں کو ترک کرکے طاؤس و رباب” میں گم ہوگئے اور اُن کی باہمی نااتفاقی و چپقلش ،مذہبی منافرت اور لسانی و قومی تعصب کا فائدہ اٹھاکر فرڈنیارڈ نے اُندلس میں اسلامی اقتدار کا خاتمہ کردیا،وہ اُندلس جسے مسلم سپہ سالار طارق بن زیاد کی قیادت میں اسلامی لشکر نے فتح کیا تھا،ج ہاں آٹھ سو سال مسلمانوں نے حکومت کرکے اُسے پناہ ترقی دی اور علم و حکمت ،تہذیب وتمدن اور علوم و فنون کا ایسا مرکز بنایا،جس کی کرنوں نے یورپ سمیت موجودہ دنیا کے تمام خطوں کو منور کیا،وہاں سے اسلامی تہذیب و تمدن کے آثار اور مسلمانوں کے وجود کو ایسے مٹادیا گیا۔

جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں۔حسن ودلکشی،علم وادب،مروت ورواداری کے وصف سے آراستہ اُندلس پر جب اخلاق باختہ ،اُجڈ،تہذیب ناآشنا،کم ظرف اور تنگ نظر متعصب صلیبیوںنے قبضہ کیا توبے شمار مسلمانوں کا خون بہایا گیا،بچوں کا غلام بنایا گیا، مسلمان خواتین اور بچیوں کی حرمتیں، عزتیںاور عصمتیں پامال ہوئیں،لائبریریوں کو نیست و نابوداور لاکھوں کتابوں کو جلا کر خاکستر کیا گیا،مساجد اور خانقاہیں کلیساؤں میں تبدیل کردی گئیں،جبکہ لاکھوں مسلمانوں کو ہجرت پر مجبور کردیا گیا،جو بچ رہے انہیں جبراً عیسائیت اختیار کرنے ،خنزیر کا گوشت کھانے اور گلے میں صلیب لٹکانے پر مجبور کردیا گیا،یہ طرز عمل مغربی تہذیب کے ظلم و استبداد،متعصب رویئے ،عدم برداشت پر مبنی انتہا پسندانہ طرز فکر اور اسلام دشمن فکر کا عکاس اور اُندلس کی مسلم تاریخ کا سب المناک اور خونچکاں پہلو ہے۔

قارئین محترم !اُندلس کی تاریخ کا مطالعہ جہاں ہمارے اسلاف کے قابل فخر ماضی کے عروج کا اظہار ہے ،وہیں یہ ہمارے حال کی بدحالی کا نوحہ اور مستقبل میں بے مستقبل ہونے کا سامان عبرت بھی ہے،آج اُندلس میں اسلامی فن تعمیر کے چند ہی نادر شاہکار بچے ہیں،جنھیں دیکھ کر اغیاربھی یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ جو قوم آج بدحالی ،بے یقینی اور جمود و خزاں کا شکار ہوکر بکھرے ہوئے ریوڑ کی مانند ہے۔

اُس کا ماضی کتنا روشن اور شاندار تھا،”قرطبہ کی جامعہ مسجد” لے کر غرناطہ میں آخری اسلامی حصار” الحمرائ” کے محلات تک آج اسپین جانے والے انہیں دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہ کیسی قوم تھی” جہاں سے بھی گزری اپنی تہذیب وتمدن کے اَنمٹ نقوش چھوڑ گئی۔”تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ وہی جامع مسجد ہے جس کی تعمیر عبد الرحمان اوّل الداخل نے آٹھویں صدی کے اواخر میں میں شروع کی،یہ مسجد وادی الکبیر میں دریا کے پل پر اُس جگہ تعمیر کی گئی جہاں سینٹ ونسنٹ کا گرجا موجود تھا،جس کاکچھ حصہ مسلمان پہلے ہی بطور مسجد استعمال کر رہے تھے۔

Churches
Churches

چنانچہ عبدالرحمان اوّل الداخل نے بہت بھاری قیمت ادا کر کے باقی گرجا بھی عیسائیوں سے خرید لیا اور 754ء میںمسجد کی تعمیر کا کام شروع ہوا،یہ شاندار مسجد صرف دو سال کی قلیل مدت میں تیار ہوئی اور اِس کی تعمیر پر 80 ہزار دینار خرچ ہوئے ، یہ مسجد دنیا میں ”مسجد قرطبہ” کے نام سے مشہور ہوئی ، یوںعبدالرحمن اوّل الداخل نے اُندیس میں اسلامی فن تعمیر کے نادر شاہکار جامع مسجد قرطبہ کی بنیاد رکھی،جس کی چوڑائی ایک سو پچاس اور لمبائی دوسو بیس میٹر کے قریب تھی،اِس مسجد میں چودہ سو سے زائد ستون تھے۔

مسجد اتنی بڑی تھی کہ اگر کوئی دور سے دیکھتا تو اُس کی آخری حد نظر نہیں آتی تھی، مسجد کی صفائی ستھرائی کیلئے تین سو خادم مامور تھے،آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اُس زمانے کے تعمیراتی ماہرین نے مٹی کے بنے پائپوں کے ذریعے ٔ مسجد تک پانی پہنچانے کیلئے باقاعدہ پائپ لائین بچھائی تھی،یہ پانی مسجد کے اطراف میں پہاڑی چشموں سے نکلتا تھا، مسجد کے صحن میں بہت ہی خوبصورت فوارے نصب تھے۔

جامع مسجد قرطبہ کی دیواریں اِس قدر بلند تھیں کہ دور سے شہر کی فصیل کا گماں ہوتا تھا،مسجد کی چھت تیس فٹ کی بلندی پر تعمیر کی گئی تھی،جس سے ہوا اور روشنی کا بہتر نکاس ممکن ہوا،چھت کو سہارا دینے کیلئے کئی ستون تعمیر کئے گئے، اِن ستونوں کی کثرت سے مسجد میں خود بخود راستے بن گئے،ہر ستون پر دوہری نعلی محرابیں نصب کی گئیں جو بعد میں اُندلس کے فنِ تعمیر کا حصہ قرار پائی ، ہر دوسری محراب کو پہلی محراب کے اوپر ایسے نصب کیا گیا کہ وہ چھت سے جا ملی،چھت میں دو سو اسی ستارے نصب کئے گئے،وہ ستارے جو اندرونی دالان میں نصب تھے۔

خالص چاندی کے بنے ہوئے تھے،مسجد کے مرکزی ہال میں ایک بہت بڑا فانوس نصب کیا گیا ،جس میں بیک وقت ایک ہزار چراغ روشن ہو تے تھے،مسجد میں روشنی کیلئے استعمال ہونے والے چراغوں کی درست تعداد تو نہیں ملتی مگر ایک روایت بتاتی ہے کہ اِن کی تعداد ساڑھے سات ہزار سے زائد تھی،مسجد میں روشنی کا انتظام اِس قدر بہتر تھا کہ رات کے وقت بھی دن کا گماں ہوتا تھا۔

مسجد قرطبہ میں نصب ستون زیادہ تر اشبیلیہ، اربونہ اور قرطاجنہ سے منگوائے گئے تھے لیکن تعداد کم ہونے کی وجہ سے امیر عبد الرحمان اوّل الداخل نے بعد میں اندلسی سنگِ مر مر ترشوا کر ایسے ستون تیار کروائے،جنھیں سونے اور جواہرات سے مزین کیا گیا،اِن ستونوں نے مسجدکی تزئین و آرائش میں مزید اضافہ کردیا،یہ سارا کام نہایت نفاست اور ماہرانہ فنکاری کے ساتھ انجام دیا گیا۔

ابتداء میں مسجد میں نو دروازے نصب کئے گئے ،بعد میں اِن کی تعداد اکیس تک جا پہنچی، اِن میں سے تین دروازے شمال اورنو نو دروازے مشرق اور مغرب کی جانب تھے،مشرق اور مغرب کی جانب نصب دروازوں میں ایک ،ایک دروازہ صرف خواتین کیلئے مخصوص تھا، مسجد کے تمام درودیوار اور فرش کو خوبصورت پتھروں سے مزین کیا گیا تھا ،جبکہ چھت نقش ونگار اور مختلف چوبی پٹیوںسے آراستہ تھی، خاص دالان کے دروازہ پر سونے کا کام کیا گیا،اسی طر ح مسجد قرطبہ کی محراب جس سنگ مر مر سے تیار کی گئی وہ دودھ سے زیادہ سفید اور چمکیلا تھا، صناعوں نے اِسے ہفت پہلو کمرے کی شکل دے دی تھی ،جس کے اندر کی جانب سنگ تراشی کے ذریعے ٔخوبصورت گل کاری کا کام کیا گیا ،اُس کے سامنے کی طرف قوس کی شکل میںجو آرچ بنائی گئی تھی اُسے دونوں طرف سے دو ستونوں نے سہارا دے رکھا ہے۔

اِس محراب پرخوبصورت اور رنگین نقش ونگار بنائے گئے، جس کے گرد کوفی رسم الخط میں قرآنی آیات لکھی گئیں، مسجد کا منبر خوشبو دار قیمتی لکڑی کے 36ہزار ٹکڑوں سے بنایا گیا تھا،جنھیںجوڑنے کیلئے سونے اور چاندی کے کیلیں استعمال ہوئیں ،جبکہ مسجد کی دیواروں اور چھت پر خوبصورت خطاطی سے مزین قرآن مجید کی آیات مبارکہ کنندہ کی گئیں۔

اِس مسجد کی تعمیر آٹھویں صدی عیسوی میں شروع ہوئی اور آٹھ صدیوں تک ہر آنے والے مسلم حکمران نے مسجد کی تزئین و آرائش میں اپنا حصہ ڈالا تھا،غرضیکہ مسجد ایک خوبصورت شاہکار تھی، اِس کی خوبصورتی کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں عیسائیوں کی اکثریت کے باوجود کبھی کلیسا بنانے کی حمایت نہیں کی گئی، عیسائی خود کہتے تھے کہ اگر یہاں کلیسا بنایا گیا تو مسجد کا حسن خراب ہو جائے گا،لیکن بعد میں آرچ بشپ نے اِس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے مسجد کے وسط میں کلیسا کی تعمیر کا حکم دیا،تعمیر مکمل ہونے کے بعد اُس نے جب مسجد کو دیکھا توتاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا” اگر مجھے معلوم ہوتا کہ مسجد اتنی حسین ہے تو میں یہاں کبھی کلیسا کی تعمیر کی اجازت نہ دیتا۔

اِس پرشکوہ مسجد کے نقوش آج بھی مسلم فن تعمیر کے اعلیٰ ذوق کی علامت اور اسپین میں مسلمانوں کی شاندار حکمرانی کا زندہ ٔ وجاوید حوالہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ آٹھویں صدی عیسویں میں تعمیر ہونے والی قرطبہ کی جامع مسجد اسلامی فنِ تعمیر کا ایک نادر شاہکار ہے،یہ دنیا کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے ،جسے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ قراد دیا ہے ،اِس مسجد کو دیکھنے کیلئے دنیا بھر سے ہر سال 14لاکھ سے زائد سیاح اسپین آتے ہیں۔

مگر سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ اب صدیوں سے یہ مسجد اپنے امام اور اُن مقتدیوں کی منتظر جو طاؤس رباب میں کھوگئے ہیں،مسجد کے بلند وبالا مینار صدیوں سے موذّن کی اذان کو ترس رہے ہیں،اُندلس میں مسلمانوں کے زوال کے بعددوسری مساجد کی طرح مسجد قرطبہ بھی عیسائی راہبوں کے تسلط میں آگئی، پندرھویں صدی میں مسجد کے وسط میں ایک کیتھولیک گرجا قائم کردیا گیا جہاں عیسائیوں کو عبادت کی اجازت ہے ،لیکن مسلمانوں کیلئے مسجد میں اذان دینے اورنماز کی ادائیگی پر آج بھی پابندی عائد ہے،1931۔ میں شاعر مشرق علامہ اقبال وہ پہلے فرد تھے

جنھوں نے آٹھ سو سال بعد قرطبہ کی جامع مسجد میں پابندی کے باوجود اذان دی، نماز ادا کی اورمسجد قرطبہ کے عنوان سے ایک خوبصورت نظم بھی کہی ،مگر اُن کے بعد مسجد پر پھر اُسی خاموشی کا راج ہے ، دسمبر 2006ء میں اسپین کے مسلمانوں نے پوپ بینڈکٹ سے اپیل کی تھی کہ انہیں جامع مسجد قرطبہ میں عبادت کی اجازت دی جائے ،مگر اُن کی درخواست مسترد کردی گئی۔

اِس وقت مسجد کی تاریخی عمارت ریاست کی ملکیت ہے لیکن اِس کا انتظام وانصرام مسجد کے وسط میں قائم گرجے کے ہاتھ میں ہے،المیہ یہ ہے کہ مسلم تاریخ کی اِس یادگار نشانی کو حکومت نے صرف 30یورو( یعنی 4ہزار 315روپئے) میں کلیسا ہاتھ فروخت کردیا ہے، ملکی قانون کے تحت اب اِس مسجد کو گرجے کی ملکیت قرار دیا جارہا ہے اور آئندہ دو برسوں میں یہ مسجد مکمل طور پر چرچ کی ملکیت بن جائے گی،جو اسپین میں اِس عظیم مسلم تاریخی ورثہ کے خلاف ایک مبینہ سازش ہے،مسجد کو مکمل طور پر گرجے میں تبدیل کرنے کے فیصلے نے دنیا بھر کے مسلمانوںمیں بے چینی کی لہر دوڑادی ہے،خود اسپین میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد اِس متنازع فیصلے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں ،انٹر نیٹ پر ساڑھے تین لاکھ سے زائد افراد نے ایک آن لائین پٹینشن داخل کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔

کہ قرطبہ کی جامع مسجد اسپین کی تاریخ کی علامت ہے،لہٰذااِسے سابقہ حیثیت میں برقرار رکھا جائے اور کیتھولک چرچ کی ملکیت نہ بنایا جائے ،اُن کا موقف ہے کہ ملک کا کیتھولک چرچ اِس مسجد کی اسلامی حیثیت پر عیسائیت کو غالب کرنا چاہتا ہے،اِس وقت اسپین میں مسجد کے تاریخی تشخص کو بچانے کیلئے تحریک زور پکڑتی جارہی ہے ، جبکہ یورپ سمیت دنیا بھر کی مسلم تنظیموں نے بھی یونیسکو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسپین کی حکومت کے اِس اقدام کو روکوانے میں اپنا کردار ادا کرے، دوسری جانب دنیا کے نقشے پر موجود پچاس سے زائد اسلامی ممالک اور اُن کے سربراہان مملکت کا حال یہ ہے وہ مسلم تاریخ کے اِس عظیم ورثے کی پامالی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں،آج اندلس میں مسلم تاریخ کا یہ عظیم ورثہ دنیا کے دیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے خوابیدہ ٔ ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے۔

Muslim Ummah
Muslim Ummah

اُن کی قومی وملی غیرت اور دینی حمیت کو للکار رہا ہے اور سوال کررہا ہے کہ کیا اُمت مسلمہ میں اتنا بھی دم خم نہیں کہ وہ اپنے تاریخی ورثے اورشعائر اسلامی کے تحفظ کو یقینی بناسکے اور اِسے صلیبی دستبرد سے محفوظ رکھ سکیں۔ (نوٹ:۔ اس مضمون کی تیاری میں وکی پیڈیا اور دیگر ویب سائٹ پر موجود مواد اور کتاب”مسلمانان اندلس کی تاریخ ”ترجمہ ظفر اقبال کلیار سے ستفادہ کیا گیا ہے۔)

تحریر:۔محمداحمد ترازی
mahmedtarazi@gmail.com

Share this:
Tags:
heritage historic Muslim social تاریخی خلاف سازش مسلم معاشرتی ورثہ
Brazil
Previous Post برازیل میں خاتون ریفری نے دھوم مچادی
Next Post نائیجیریا: مغوی طالبات کی تلاش کیلئے جاسوس طیاروں کی پروازیں
Nigeria

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close