Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

دختر مشرق ۔۔۔۔۔۔۔فرعون مغرب کے شکنجے میں

November 17, 2014 0 1 min read
Pakistan
Pakistan

تحریر :نعمان قادر مصطفائی ،

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی کچھ گماشتے ایسے ہیں جو اپنے آپ کو ماڈریٹ ،اپ ٹو ڈیٹ اور لبرل ثابت کرنے کے لیے اسلامی شعائر کا مذاق اُڑانے سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیں حالانکہ حجاب ہمارے اسلامی کلچر کا لازمی جزو ہے پاکستان میں ہر مذاہب کے ماننے والوں کواپنے کلچر کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی حاصل ہے مگر اسلامی اقدار سے اظہارِ نفرت کیوں ؟ فرانس میں حجاب پر پابندی دراصل مسلمان بچیوں کے لیے حصول ِ تعلیم کے دروازے بند کرنے کے مترادف تھافرانس میں نئے قا نون کے تحت عوامی مقامات اور عدا لتوں میں چہرہ چھپانے پر پا بندی لگا ئی گئی ہے ایسا کرنے والی کسی بھی عورت کو پو لیس اسٹیشن بلا کر نقاب اُتارنے کو کہا جائے گا حکم عدولی پر ڈیڑھ سو یو رو جر مانہ کیا جائے گااس موقع پر مقامی مسلمانوں نے نئے قا نون پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا مسلم خواتین کا موقف تھاکہ وہ نقاب پہن کر اپنا کام جاری رکھیں گی فرانس میں 2ہزار سے زائد خواتین برقع پہنتی ہیں فرانس چہرے پر نقاب پر پابندی پر عمل کرنے والا پہلا ملک بن گیا تھا حجاب پر پابندی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے

کیونکہ فرانس میں اس وقت 60لاکھ کے قریب مسلمان بستے ہیں وہ یہاں سب سے بڑی اقلیت ہیں فرانس کی حکومت کو اقلیت کا احترام کر نا چاہیے تھاپا کستان دنیا میں واحد ملک ہے جہاں اقلیت محفوظ ہے اور اُن کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی حاصل ہے ہم نے آج تک احتجاج نہیں کیا کہ اقلیتیں مسلمانوں والا لباس استعمال کریں حتیٰ کہ گرجا گھروں میں اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنے والی نن ز اور رہبائیں بھی آزاد ہیں کہ وہ اپنے مذہبی لباس میں عبادت کریں ،سکھ اپنے لباس میں اور ہندو اپنے لباس اور کلچر کے مطابق زندگی گزارتے ہیں ہماری طرف سے کبھی بھی تعصب کا اظہار نہیں کیا گیا ، اسی طرح جہاد کوبھی اسلام میں اہم قرار دیا گیا ہے اور اسلام کی بقا جہاد ہی سے وابستہ ہے مگر امریکی گماشتے جہاد سے یوں بیزار نظر آتے ہیں کہ جو کوئی بھی جہاد کی بات کرتا ہے

امریکی گماشتے اُسے اُٹھا کر نہ جانے کہاں سے کہاں پہنچا دیتے ہیں ؟اس کارِ بد میں ہمارے حکمران بھی برابر کے شریک ہیں اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بھی امریکی گماشتوں نے مجاہدہ تصور کرتے ہوئے گوانتے ناموبے اذیت گاہ میں پہنچا دیا ہے ،خانوادہ صدیقِ اکبر کی شہزادی کو کس بھائو امریکیوں کے عوض بیچا گیا؟اپنا شجرہ نسب سادات سے جوڑنے والے سیاہ رو ڈکٹیٹر اور بُزدل جرنیل نے اپنی کتاب میں خود بردہ فروشی کا اعتراف بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کیا ہے کہ ”سینکڑوں افراد کو امریکہ کے حوالے کر کے ہم نے لاکھوں ڈالرز وصول کیے ہیں ”
جس طرح زمانہ جاہلیت میں عورت کی مظلوم ذات ذلت اور بے بسی کا شکار تھی،عزت و توقیر کا کوئی لفظ اس کے لیے وضع نہیں ہواتھا۔ابن آدم کی ہوس کا نشانہ بننے والی یہ صنف نازک مجروح جسم اور تارتار دامان عصمت کے ساتھ اپنی عزت و ناموس اور حقوق کے لیے سر گر داں تھی ۔آفتاب رسالت ۖجلوہ گر ہوا تو اس کی تابناک کرنوں نے نجاست و غلاظت سے لتھڑی ہوئی نسوانیت کو ماں، بہن،بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے شرف و وقار کے دیدہ زیب تاج پہنائے
ہما رے ”سُوٹڈ بُوٹڈ ”حکمرانوں کو ہمت نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی دولت کے پُجاری موجودہ حکمرانوں کو احساس ہوا ہے

وہ امریکہ کے صدر باراک او بامہ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے خالی خولی احتجاج ہی کر سکیں ،احتجاج کیسے کرتے اور کس منہ سے کرتے ؟ جنہوں نے ہمیشہ غیروں کے ٹکڑوں پر اپنی زندگی کی سانسیں باقی رکھی ہوں اُن کی غیرت اور اسلامی حمیت کب سلامت رہتی ہے ؟وہ اور تھے جنہوں نے یورپ کی سرزمین میں ببانگ ِ دہل کہا تھا کہ
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش ِ فرہنگ
سُرمہ ہے میری آنکھ میں خاک ِ مدینہ و نجف

ہمارے موجودہ حکمرانوں کو فرصت ہی نہیں کہ وہ عافیہ صدیقی کو یاد ہی کر لیں اُن کی تو ترجیحات ہی دوسری ہیں کہ ملکی سرمایہ کو کیسے اونے پونے داموں نجکاری کے نام پر اپنے نام کرانا ہے حالانکہ کسی بھی زندہ قوم کا اصل سرمایہ اُس کے غیرت مند وہ افراد ہوتے ہیں جو ملک و قوم کی خاطر مرتے اور جیتے ہیں قوم کا سرمایہ دُختر ِ مشرق ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہیں جو اِس وقت امریکہ کے قبضے میں ہے اُس کے حصول کے لیے ہماری تمام تر سیاسی ، دینی ، سماجی تحریکیں اور تنظیمیں چُپ سادھ لیے ہوئے ہیں اور تو اور انسانی حقوق کی چیمپیئن اور مغربی سوچ کی حامل اور مغربی افکار کی پہریدار این جی اوز کے نمائندوں عاصمہ جہانگیروں ، عاصمہ جیلانیوں ، ہود ،ہنود ،یہود بھائیوں، مبشر حسنوں ،نام نہاد مولوی محمود اشرفیوں ،تحسین مفتیوں کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگ رہی ، مغرب کی نوکری ، چاکری کرنے اور اُن کی دہلیز پر چند ڈالرز کے عوض سجدہ ریز ہونے والے کیسے اپنے ”آقائوں ” کے خلاف احتجاج کر سکتے ہیں ؟بے حسی ، مادہ پرستی ، بے غیرتی ، بے

حمیتی کے اس جھُلستے صحرا میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے جدوجہد کرنے والی تن تنہا عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی ہیں جو میں سمجھتا ہوں ”آبِ زُلال ” کی حیثیت رکھتی ہیں ۔۔۔عافیہ کی بہن فوزیہ نے بھی کیا کیا جتن کیے ، لیکن راکھ کے ڈھیر میں توانا چنگاری نہ سلگی ، سُلگی بھی تو شعلہ نہ بن سکی ایسی چنگاریوں کو شعلہ بننے کے لیے غیرت و حمیت کی آکسیجن چاہیے جو اس آب و ہوا میں کمیاب ہوتی جا رہی ہے بقول عرفان صدیقی ”جہاں قومی خودی کی نگہبانی فدویوں کے ہاتھ آجائے اور ریاستی انا کی پاسبانی خواجہ سرائوں کی ذمہ داری ٹھہرے وہاں بیٹیاں اسی طرح جِنسِ ارزاں بن جایا کرتی ہیں ”

مادر پدر آزاد سوسائٹی شترِ بے مہار کی طرح ہے جو جس کے جی میں آتا ہے اُسی طرف چل پڑتا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، ملک میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی اورمریکی دہشت گردی کے خلاف محراب و منبر سے بھی توانا آواز آنی چاہیے اور ہمارے علماء کرام اپنے خطبوں میں عوام کو امریکہ کی دہشت گردی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے بھی آگاہ کریں ،پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بھی دُختر مشرق ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی مجاہدانہ کاوشوں کو نوجوان نسل تک پہنچانے میں بُخل کا مظاہرہ کر رہا ہے بلکہ امریکہ کی بد بودار، کثیف ، غلیظ اور تعفن زدہ فضا کو عام کرنے میں اپنا ”خاص”رول پلے کر رہا ہے کیونکہ ہم سراپاکمرشلائز ہو کر رہ گئے ہیں ہر ادارہ عورت کو اشتہارات کی زینت بنا کر اُس کی تذلیل کر رہا ہے اور عورت بھی ہوس کے طبلے کی تھاپ پر سرکاری و اشتہاری محفلوں میں رقص و سرور میں مصروف ِ عمل نظر آتی ہے وہ عورت جو کبھی چادر اور چار دیواری کی آبرو ہوا کرتی تھی اور اُس کے گھر کی دہلیز پر شرم و حیا باندی بن کر کھڑے ہوا کرتے تھے تو پھر اُس کی پاکیزہ گود سے حضرت امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ جیسے مردانِ حُر جنم لیتے تھے آج جب سے عورت غیروں کی ثقافت اپنانے لگی ہے اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنے لگی ہے اس کی گود سے لُٹیرے ، فصلی بٹیرے ، نیب زدہ ،بدعنوان ، چور اُچکے ، بد معاش ، بد کردار اور اسلامی اقدار و شعائر کی پا مالی کرنے والی نسل ِ بد پیدا ہونے لگی ہے

امریکی دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے اس سیلاب کے آگے اگر جرات و حمیت ،غیرت ِ ملی اور قومی شعور کا بند نہ باندھا گیا تو پھر آنے والی نسل کو یہ بد تہذیبی ،بد تمیزی اور امریکی مداخلت کا طوفان بہا کر لے جائے گا اور پھر کوئی باوردی بے غیرت حکمران اپنی تسکین کی خاطر چندڈالرز کی ہوس میں قوم کی کسی ماں ، بہن اور بیٹی کو امریکہ کے پاس گروی رکھوا دے گا اس پر وطن عزیز کی تمام تر دینی ، سماجی اور سیاسی تحریکیں چُپ سادھ لیے ہوئے ہیں خانقاہوں کے سجاد گان بھی لمبی تان کے سو رہے ہیں جبکہ یورپ اور مغرب ہماری ثقافت اور غیرت کی دھجیاں بکھیرنے پہ تُلا ہوا ہے مادر پدر آزاد،فارن فنڈڈ ، فارن پیڈ اور میڈ این جی اوز مختاراں مائی کے مسئلے پر تو آسمان سر پر اُٹھا لیتی ہیں اور پلے کارڈ لے کر ”پلے بوائز ” و ”کال گرلز ” کا تحفظ کرنے کے لیے پریس کلبز کے باہر ہنگامہ کھڑا کر دیتی ہیں اور پھر ڈالرنائنز ڈ این جی اوز کی حمایت میں امریکی سفارت خانہ بھی حرکت میں آجاتا ہے امریکی راتب پر پلنے والوں کی ”حالت زار” دیکھ کر ٹیلی فون کی گھنٹیاں کھڑکنے لگ جاتی ہیں اور ہمارے حکمرانوں کے دل بھی ساتھ ساتھ دھڑکنے لگ جاتے ہیں

مگرجینوئن دُختر مشرق ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مسئلے پر اس طرح کی خاموشی ،چہ معنی دارد ؟ ”امن کی آشا ” والے بھی حکمرانوں کی اس بے حسی پر چُپ سادھ لیے ہوئے ہیں کیونکہ ہمارے ملک میں امریکی دہشت گردی باقاعدہ حکمرانوں کی سرپرستی میں پروان چڑھ رہی ہے اور حکمران فقط اپنے ذاتی اور سیاسی فائدے کے لیے ایک دوسرے کے ہاں حاضری ہی کو منزل ِ مقصود تصور کر رہے ہیں اور اپنے کیسز کو ختم کرانے کے لیے کل کے حریف آج کے حلیف بنے ہوئے ہیں امریکی دہشت گردی کی مخالفت میں اور اس کی روک تھام میں کوئی پالیسی بیان جاری نہیں کیا ایوانِ وزیر اعظم اور ایوان ِ صدر نے دُختر ِ مشرق ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے ”چُپ کا روزہ ” رکھا ہوا ہے اور نہ معلوم یہ خاموشی و چُپ کا روزہ کب کھُلے گا ؟

ہمارے حکمران بھی کاش ہوس کے طبلے کی تھاپ پر رقص کرنے والی کے پائوں میں پہنی پائل کی جھنکار سے خواب ِ غفلت سے بیدار ہو جائیں اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے عملی قدم اُٹھا سکیں ! ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا امریکہ کی جیل میں قید ہونا دراصل اس بات کا غماز ہے کہ وہ خالصتاََ اسلامی اور فکری سوچ رکھنے والی قوم کی بیٹی ہیں جس کی وجہ سے وہ امریکی گماشتوں کو دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح چُبھتی رہتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ کائنات ِ اسلام میں مدینہ طیبہ کے بعد دو قومی نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والی دوسری بڑی نظریاتی و فکری ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی ہر لحظہ ،ہر لمحہ ،ہر گام قادیانیت نواز گماشتوں کو دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی رہتی ہے اور ہر گھڑی اور ہر آن گندے گٹر میں رینگنے والے گندے کیڑے کی طرح ان کے کثیف و غلیظ اذہان میں ہلچل مچائے رکھتی ہے قادیانیت نوازگماشتے اپنے ”تھنک ٹینکس ” کے ذریعے ڈالروںاور پائونڈز کی جھنکار میں تفرقہ و انتشار کا بیج بونے اور اس کو تن آور درخت کی شکل دینے کے لیے آئے روز گھنائونے منصوبے بناتے رہتے ہیں

افتراق و انتشار کے اس گھنائونے منصوبے کی ابتدا ہمارے اذلی دشمن بھارت کے ہائی کمشنر کی صدارت میں منعقدہ اس اجلاس میں کی گئی تھی جو 1974ء میں لندن کی زمستانی ہوائوں اور پراگندہ فضائوں میں ہوا تھا جس کے انتظام وانصرام میں وہ لوگ پیش پیش تھے جن کو 7ستمبر 1974ء کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر غیر مسلم قرار دیا تھا پاکستان کو فرقہ واریت کی دلدل میں زبر دستی دھکیلنے والے اس گروہ کے ”اکابرین ” نے اول اول اس منصوبے کے لیے 10کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کر کے ایک مخصوص فنڈ قائم کیا تھا اور پھر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہر سال اپنے گھنائونے نیٹ ورک کو پھیلانے کے لیے اس رقم میں اضافہ ہوتا رہا اوربا خبر ذرائع کے مطابق کم و بیش 50ارب روپیہ سالانہ خرچ کیا جا رہا ہے اور اب اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہمارا اذلی دشمن بھارت ،ہمارا ”آقا” امریکہ ،اسرائیل اور برطانیہ بھی اپنے اپنے حصے کا فنڈ جمع کرا رہا ہے اور گاہے گاہے وطن میں شوشے چھوڑتا رہتا ہے اور سرحد پار بیٹھا ہمارا دشمن اسلامی جمہوریہ پاکستان کو مذہبی ،لسانی ،علاقائی اور صوبائی بنیادوں پر حصے بخروں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے

اس مقصد کے لیے وہ ڈالروں کی ہوس کے طبلے کی تھاپ پر رقص کرنے والی این جی اوز کو بھی زرِ خطیر دریا دلی سے فراہم کر رہا ہے مغربی ٹکڑوں پر پلنے والی ان این جی اوز کا فقط ایک ہی ایجنڈہ ہے کہ جیسے تیسے ہو سکے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کر کے ان میں فرقہ واریت کا ایسا بیج بو دیا جائے جو آنے والی نسلوں کو اسلام سے بر انگیختہ کر دے ،آج یہی مغربی راتب اور امریکی ”بھاڑے ”پر پلنے والی این جی اوز کی شکل میں ”گائیں اور بھینسیں ”توہین رسالتۖ کاارتکاب کرنے والی آسیہ مسیح کے جیل جانے پر سیخ پا ہو رہی ہیں اور ہمیں انسانیت کا درس دینے پر تلی ہو ئی ہیں کہ انسانیت کے ناطے آسیہ مسیح کو معاف کر دیا جائے بلکہ ان کے ”پاپ”بینڈکٹ نے بھی بینڈز کی دُھنوں میں یہ راگ الاپتے ہوئے کہا تھا کہ ”توہین رسالت ۖ کا قانون ختم اور آسیہ مسیح کو جلد رہا کیا جائے ”مگر انہی ڈالر نائزڈ اور پائونڈ نائزڈ این جی اوز کی ”بیگمات”اوران کے ”پاپوں ”بینڈکٹوں کو بے گناہ اور معصوم پاکستانی قوم کی مسلم بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی نظر نہیں آئی جن کو نام نہادتحفظ انسانی حقوق کے علمبردار امریکہ کی گماشتہ عدالت نے 86سال کی قید با مشقت سزا سنا دی اور امریکہ کی تاریخ میں کسی کو سنائی جانے والی یہ سب سے زیادہ سزا ہے

اس پر تو نام نہاد دانشوروں کے کسی گروہ ،دینی تعلیمات سے نابلد کسی اینکر پرسنزاورانسانی حقوق کی چیمپیئن این جی اوز کے کسی کونے کھدرے سے ذرا سی بھی آواز بلند نہیں ہوئی اور نہ ”پاپ” بینڈکٹ جی کو خیال آیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بھی رہا کیا جائے حالانکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے کسی دھرم ،کسی مذہب اور کسی شخصیت کی توہین نہیں کی تھی پھر بھی ان کو اتنی بڑی سزا سنادی گئی ،کیا ڈاکٹر عافیہ کسی کی ماں ، بہن اور بیٹی نہیں تھی ؟عیسائیوں کے”پاپ”بینڈکٹ نے یہ بیان دے کر دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کی دل آزاری ہے اور دنیا میں امن و سلامتی کے عمل کو سبوتاژ کر نے کی گھنائونی کوشش کی ہے ناموس رسالت ۖ کے لیے مسلمانوں کا بچہ بچہ کٹ مرے گا مگر توہین رسالت ۖ قانون کو ختم نہیں ہو نے دے گا مغربی ٹکڑوں پر پلنے والے بے حس امریکی پٹھو،امریکی عقوبت خانے سے جُرات و استقامت کا پہاڑ بنے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی یہ صدا بھی سن لیں کہ ”کائنات کی تمام تر سلطنتیں رسول ِ رحمت ۖ کے نعلین مقدس کی نوک پر قربان کی جا سکتی ہیں ”

مجھے یاد پڑتا ہے کہ معروف دانشور اور صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے ایک پروگرام ”میرے مطابق ”میں صدر پاکستان کی سندھی ٹوپی پر اپنے الفاظ میں تنقید کی تھی ،تو اس وقت حکومتی حلقوں اور ”جیالوں ”نے صدر کی سندھی ٹوپی پر تنقید کو سندھی ثقافت کی توہین قرار دے کر پورے سندھ میں با لخصوص اور پورے پاکستان میں با لعموم”تقدس سندھی کلچر ” مہم چلا ڈالی تھی اور اس دن سے لے کر آج تک اب ہر سال باقا عدگی سے اپنے کلچر کی پاسداری اور حفاظت کا یوم ”تقدس سندھی کلچر ”منایا جاتا ہے ،سوچنے والی بات ہے جو لوگ اپنے سیاسی” قائد” کی سندھی ٹوپی پر تنقید کو برداشت نہیں کر سکتے عام مسلمان یہ کیسے برداشت کر سکتا ہے کہ دنیائے کائنات کے عظیم ترین قائد ،کمانڈر انچیف امت کے غم خوار آقاء ،رسول رحمت ،حضور نبی کریم ۖ کی شان میں کوئی توہین کرے اور وہ بر داشت کر جائے ؟ ڈاکٹر علامہ اقبال نے مسلمانوں کے اسی والہانہ ، بے ریا اور بے لوث جذبے کی اپنے کریم آقاء ۖ سے محبت کی تصویر یوں کھینچی ہے کہ ”یہ مسلمان فاقہ کشی کی بدولت تو زندہ رہ سکتا ہے مگر اس کے قلوب و اذہان سے اگر روح ِ محمد ۖ نکال لی جائے تو یہ فوراََ مر جائے گا ”کیونکہ ایک مسلمان کی زندگی کی سانسیں گنبدِ خضراء سے وابستہ ہیںاگر اس کو گنبدِ خضراء کی روحانی تسکین اور ٹھنڈک سے الگ کر لیا جائے تو زمانے کی گرمی اسے جھُلساکے رکھ دیتی ہے

Dr. Aafia
Dr. Aafia

مسلمانوں کا مرنا جینا غلامی رسول ۖ سے وابستہ ہے دُختر مشرق ڈاکٹر عافیہ صدیقی کاقصور صرف اور صرف یہ ہے کہ اپنے کریم آقا ۖ کی عظمت کے گُن گاتی تھی اور سیرت عائشہ و فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی روشنی میں زندگی گزارنے اور دوسری خواتین کو اس پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کیا کرتی تھی ، ڈاکٹر عافیہ صدیقی خالصتاََ ایک مومنہ اور مجاہدہ ہیں جنہوں نے ہمیشہ اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ریاست ِ مدینہ کے بانی پیغمبر انسانیت ، رسول ِ رحمت حضور نبی کریم ۖ کے آفاقی پیغام کی بالا دستی کے لیے اپنا تن من دھن حتیٰ کہ سب کچھ قربان کردیا اور اپنے کریم آقاۖ کے فر مان لَا ےُومِنُ اَحَدُ کُم حتَیٰ اَکُونَ اَحَبَ اِلیہِ مِن وَالِدِ ہِ وَ لَدِ ہِ وَالنَاسِ اَجمَعِین کی روشنی میں اُمت ِ مسلمہ کی مائوں ، بہنوں اور قوم کی بیٹیوں کودُختر ِ مشرق نے شاعر ِ مشرق کی زبان میں یہ آفاقی ، کائناتی پیغام دیا کہ
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دَہر میں اسم ِ محمد ۖ سے اُجالا کردے
اور
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

دُختر مشرق ڈاکٹر عافیہ صدیقی جن کا حوصلہ ہمالیہ سے بلند اور عزم چٹان سے زیادہ مضبوط ہے امریکی عقوبت خانے بھی اِن کے جواں عزم حوصلوں کو شکست نہیں دے سکے بظاہر اِن کے جسمانی اعضاء پر خبیث امریکیوں کا کنٹرول ہے مگر دل آج بھی یاد ِ مُصطفیٰ ۖ میں دھڑکتا رہتا ہے اور زباں سے قرآن کریم کی تلاوت کا نور ایسے برستا ہے جیسے صُبح صادق کے وقت شبنمی قطروں سے رس ٹپکتا ہے
اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ سارا فیضان ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اپنی ماں ہی سے حاصل کیا ہے کیونکہ ماں جس قدر عظیم ہوتی ہے بیٹی بھی اُس قدر عظمت کی بلندیوں پر فائز ہوتی ہے مقدس اور نور کے سانچے میں ڈھلی حضرت بی بی فاطمہ جیسی ماں اگر طیبہ ، طاہرہ ، صادقہ ،آمنہ تھی تو پھر اُن کی مقدس ، پاکیزہ اور مطہر گود مبارک سے بیٹی بھی حضرت بی بی زینب ایسی پیدا ہوتی ہے جو میدان ِ کرب و بلا میں 72پاکیزہ تن شہید کراکے بھی یزید کے دربار میں نہایت ہی جُرات و استقامت کے ساتھ خطاب فر ماتی ہیں اگر ماں عظیم نہ ہوتی تو آج ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکی عقوبت خانے میں یوں جُرات و استقامت کی تصویر بنی نظر نہ آتی
ماں ہی ایک ایسا شجر سایہ دار ہے جس کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھائوں اولاد کو سکون و راحت نصیب کرتی ہے ماں اپنی اولاد کے لیے سراپا شفقت و محبت ہو تی ہے ،دنیا کے تمام تر رشتے مفادات کی کچی ڈوری سے بندھے ہو ئے ہیں مگر کریم و رحیم آقانبی حضرت محمد ۖ کی مبارک و محترم ہستی کے بعد ایک ایسا رشتہ ایسا بھی ہے جو مفادات کے بندھنوں سے آزاد ہے اور وہ پاکیزہ ، اخلاص کے سانچے میں ڈھلا اور بے غرض و بے

لوث رشتہ ماں ہی کاہے ،کسی نے ماں کو کیاریوں میں کھلتے ہوئے گلاب کے پھول کی مہک سے تشبیہہ دی تو کوئی بلبل کی چہک سے متعارف کراتا ہے ،کسی نے شبنم سے تو کسی نے بادِ نسیم کے جھونکوں سے ،مگر ان تمام تر حیثیتوں سے بڑھ کر حیثیت جس کی ہے وہ ماں ہی ہے ،پھول کچھ دیر کے لیے کھِلا پھر مُرجھا گیا،بادِ نسیم بھی کچھ دیر کے لیے چلتی ہے پھر وہی بادِ سموم کے تھپیڑے ،بُلبُل بھی صرف باغوں میں چہکتی ہے، باغ جب اُ جڑ جاتے ہیں تو بُلبل پھر چہکنابھی بھول جاتا ہے ،ہاں ہاں مجھے کہنے دیجئے کہ اس کا ئنات ِ رنگ و بو میں ماں ایک ایسی ہستی ہے جس کو ربِ لم یزل نے سدابہاری کے روپ سے نوازا ہے ، بہار ہو یا خزاں ، گرمی ہو یا سردی ، صبح ہو یا شام ، عسرت ہو یاےُسرت ، خس و خاشاک سے تیار کردہ جھونپڑی میں رہائش پزیر ہو یا سنگِ مر مر سے آراستہ و پیراستہ عالیشان محل میں تشریف فرما ہو ، جوانی ہو یا بڑھاپا، اولاد کے لیے اس کے پیار و محبت ،شفقت اور دل لگی میں ذرا برابر بھی فرق نظر نہیں آئے گا کیو نکہ اللہ رب العزت نے ماں کی ہستی میں اپنی ربو بیت کو گوندھ دیا ہوا ہے جس طرح وہ کریم رب انسانوں کو ہر حوالوں ، ہر حیثیتوں سے ، ہر جہتوں سے ہر لمحہ نوازتا رہتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی عظیم صفت ربوبیت کے پیکر میں ڈھلی عظیم ترین ہستی ماں بھی اولاد کے لیے ہر عمر میں سراپا شفقت و محبت کا سر چشمہ ہو تی ہے ،سیانے کہتے ہیں ”جس گھر میں ماں کی عزت نہیں وہ گھر ضرور بر باد ہو گا ”اور یقیناََ ایسے ہوتے دیکھا بھی گیا ہے کیو نکہ ماں برکت دینے کے لیے پیدا کی گئی ہے ماں کے بغیر گھر میں برکتیں نازل نہیں ہوتیں جہاں ماں کا احترام ہوتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ بھی خوش ہو تا ہے

اپنی اولاد سے سراپا مامتا کے پیکر میں ڈھلی ماں کی محبت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریم ۖ چند صحابہ کرام کے ساتھ جنگل کے سفر پر روانہ ہوئے چلتے چلتے ایک صحابی نے چڑیا کے گھونسلے سے چڑیا کے بچے نکال لیے ،اس پر چڑیا نے شور مچانا شروع کر دیا ، کائنات کے لیے سراپا رحمت بن کر تشریف لانے والے کریم و شفیق آقاۖ نے پو چھا ، کیا ماجرا ہے ؟ عرض کیا !چڑیا کے بچے میرے پاس ہیں اس لیے شور کر رہی ہے آپ ۖ نے فرمایا کہ ”چڑیا کے بچے واپس گھونسلے میں رکھ دو ” الفاظ کی دنیا میں ،،ماں ،، ہی ایک ایسا لفظ ہے جس کو کسی بھی زبان میں اگر ادا کیا جائے تو ادائیگی کے وقت دونوں ہونٹوں کا ملنا قدرتی امر ہے گو یا اس بات کی دلیل ہے کہ ،،ماں ،، ہی ایک ایسی عظیم ہستی ہے جو اس دنیا میںٹوٹے اور شکستہ دلوں کو جوڑنے کا سبب بنتی ہے ۔ہندی میں میا،انگریزی میں ممی یا مدر ،فارسی میں مادر ،عربی میں اُم ،اردو میں ماں،امی یا اماں،پنجابی میں ماں،ان تمام لفظوں کو ادا کرنے سے جوڑنے کا تصور اور ملاپ کا خیال ذہن کے دریچوں اور سوچوں کے روزنوں میں ابھرتا ہے اگر اس ہستی کا وجود دھرتی پر موجود نہ ہو تو دل شکستہ، حوصلے پست ،ارادے ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور سوچیں منتشر ہو جاتی ہیں ہمتیں شکست و ریخت کا مقدر ٹھہرتی ہیں ماں ایک ایسی ہستی ہے جو زندگی کے جھلستے صحرا میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو تی ہے اور زندگی کے نشیب و فراز میں مصائب کی کڑاکے کی دھوپ میں ماں کی ہستی ایک شجر سایہ دار کی حیثیت رکھتی ہے جس کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھائوں تلے زمانے کی گرمی سے جھلسا ہوا انسان سکون لے کر یوں محسوس کرتا ہے گویا جنت کے درخت تلے سکون لے رہا ہے اس لیے مقولہ ہے

”ماواں ٹھنڈیاں چھاواں ” ہمارے بے حس حکمرانوں کو کیا خبر کہ امریکی عقوبت خانے میں استقامت کی تصویر بنی اُس ماں کے دل پرکیا گزر رہی ہو گی جو سالہا سال سے اپنے لختِ جگر سے دور ہے اور اُس کی مامتا کتنی بے چین ہوگی ؟ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک مجاہدہ اور مومنہ کے ساتھ ساتھ ماں بھی ہے اُس کے سینے میں بھی ایک جیتا جاگتا دِل ہے جو اپنے بچوں کی محبت میں دھڑکتا رہتا ہے موجودہ حکمرانوں کی طرح پتھر کی سِل نہیں ہے کہ جس پر کوئی احتجاج اثر ہی نہیں کر رہا ، بے حِس حکمرانوں کو نہ تو کچھ سُجھائی دیتا ہے اور نہ ہی کچھ دکھائی دیتا ہے انہوں نے اپنی آنکھوں پر بے حِسی اور بے غیرتی کی پٹی باندھ رکھی ہے اور اپنے کانوں پر کاگ چڑھا رکھے ہیں ۔۔۔۔نہ جانے اُس عظیم ماں کے بچوں پر کیا بیت رہی ہو گی جنہوں نے عرصہ دراز سے اپنی ماں کی شکل تک نہیں دیکھی جس ماں کے بارے میں رسول ِ رحمت ۖ نے ارشاد فر مایا کہ ”جنت ماں کے قدموں تلے ہے ” اور مردوں سے کہا کہ تم اپنی ماں کے قدموں میں رہا کرو تاکہ اس واسطے سے تم بی بی پاک حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے قدموں میں پہنچ جائو ، جب وہاں پہنچ گئے تو اللہ تمہیں جنت میں حضور ۖ کی معیت عطا فر مادے گا ”اولاد کو اپنی ماں یعنی جنت سے جُدا کرنے والے اُمتی کل روز محشر رسول ِ رحمت ۖ کو کیا منہ دکھلائیں گے ؟اور جنہوں نے ہوس ِ زر کے طبلے کی تھاپ پر رقص کرتے ہوئے ایک ماں کو کافروں کے سُپرد کیا ہے یقیناََ اُنہوں نے جیتے جی اپنے آپ کو دوزخ کا ایندھن بنا ڈالا ہے

ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکی عقوبت خانے اوراذیت گاہ میں بھی قال اللہ و قال الرسول ۖ کی صدا کو بُلند رکھا ہوا ہے اور اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ماضی میں بر طانوی سامراج کے پٹھوئوں نے قال اللہ و قال الرسول ۖ کی صدائے حق بلند کرنے والے ہمارے اکابرین کو جذیرہ انڈیمان کالے پانی کی سزا دی اور آج امریکی سامراج نے اُسی بدعتِ بد کو گوانتے نا موبے جیسی اذیت گاہیں بنا کر زندہ رکھا ہوا ہے مگر یاد رہے کہ جس طرح ہمارے اسلاف اور اکابرین کے کارنامے آج اُمت کے سینے میں دلِ کی طرح ہمیشہ دھڑکتے رہتے ہیں اسی طرح ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کارنامے بھی ہمیشہ قوم کے ماتھے کا جھومر بنے رہیں گے
امریکی پٹھو لاکھ اُس کے گردے نکالیں ، دانت توڑیں ، ناک توڑیں ، اُس کی یاد داشت پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑیں مگر ایک بات یاد رکھیں کہ جس طرح اُمیہ بن خلف نے حضرت بلال پر اپنے تمام تر ریاستی مظالم کے کوڑے بر سائے ، جھُلستے صحرا میں تپتی ریت پر ننگی پیٹھ لٹا کر سینے پر وزنی پتھر رکھ دیے تھے اور ہاتھوں میں کیل گاڑھ دیے تھے اور کہا تھا کہ رب کی وحدانیت سے باز آجائو اور ہُبل و منات کو رب مانیں مگر پھر بھی بازارِ مصطفیٰ ۖ میں بکنے والے اس عاشق رسول ۖ کی زباں سے ایک ہی جملہ ادا ہوتا رہا ”اَحد اَحد اَحد ”۔۔۔۔۔۔۔عالم تخیل اور تصور میں جب میں دیکھتا ہوں تو مجھے بھی عافیہ صدیقی موجودہ عہد کے اُمیہ بن خلف (امریکہ)کے ظلم و ستم کے جواب میں وہ یہ کہتے ہوئے نظر آتی ہے کہ ”ظالمو۔۔۔تم میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالو مگر میری زباں اور جسم کے ہر ٹکڑے سے ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ” کی صدا بلند ہوگی ۔۔۔۔اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ اللہ پاک قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ظالموں کے شکنجے سے جلد رہائی عطا فر مائے (آمین)

Nouman Qadir
Nouman Qadir

تحریر :نعمان قادر مصطفائی ، 03314403420

03314403420،03424731909
e mail :jamianoor786@gmail.com
www.facebook.com/nouman qadir

Share this:
Tags:
clutches daughter EAST Islamic Muslim Pharaoh West اسلامی شکنجے فرعون مسلمان مغرب
Previous Post ہپو کریٹک اوتھ لینے والے ڈاکٹروں کی مسیحائی کہاں چلی گئی لاکھوں روپے تنخواہ اور نان پریکٹس الائونس کی مد میں ہزاروں روپے ماہانہ وصول
Next Post دبئی ٹیسٹ، پاکستان کیخلاف نیوزی لینڈ کی پہلی وکٹ گر گئی

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close