Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

لہو لہو مسلمان کشمیری

February 2, 2019 0 1 min read
Kashmir Issue
Kashmir Issue
Kashmir Issue

تحریر : علی رضا رانا

انسان اور حیوان میں بہت مماثلتیں ہیں۔ مثلاً سانس لینے کے لیے ہوا کی ضرورت ، زندگی کی نشونما کے لیے پانی اور خوراک کی طلب، دیکھنے کے لیے آنکھیں، سننے کے لیے کان، انسانوں کی طرح نظام انہضام ، چلنے کے لیے پاؤں، مذکر اور مؤنث بچوں کی پیداوار، انکی خوراک کے لئے جسمانی دودھ کی موجودگی اور انکی حفاظت کی فکر وغیرہ لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل عطا کرکے اشرف المخلوقات بنادیا۔ اس عقل کے باوجود اگر انسان کا دل پتھر بن جائے اور ضمیر مردہ ہوجائے تو پھر انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ اپنے سیاسی، عسکری اور معاشی مفادات کے لیے جب طاقتوار قوتیں اپنے ہتھیاروں کے بل بوتے پر انسانوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح تلف کردیتی ہیں تو انسانیت حیوانیت کے بد ترین روپ میں سامنے آتی ہے۔

آج سے تقریباً دس سال قبل امریکہ اور اسکے اتحادی مسلمان دنیا کے گنجان آباد تاریخی شہر بغداد پر حملہ آور ہوئے۔ رات کی جگمگاتی روشنیوں میں آبادیوں، محلوں اور ہوائی اڈوں کو لیزر گائیڈڈ بموں کا نشانہ بنایا گیا۔ جس سے انسانی اجسام کے پرخچے اڑتے دکھائے گھے لیکن سنگ دل اور مردہ ضمیر انسانیت یہ سب کچھ ٹی وی اسکرینوں پر خاموش تماشائی بن کر دیکھتی رہی۔ کسی نے احتجاج کیا نہ سلامتی کونسل میں کوئی آواز اٹھائی۔ ابو غریب اور گوانتا ناموبے کی بدنام زمانہ جیلوں میں قیدیوں کو ننگا کرکے ان پر کتے چھوڑے گئے اور انسانیت سوز مظالم ڈھائے گئے۔ اس کی اگر خبر لیک ہوئی یا معمولی احتجاج سامنے آیا تو وہ بھی مغرب کی طرف سے لیکن پورا ایشیا ، آسٹریلیا اور افریقی براعظموں سے اس بربریت کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھی، نہ کسی نے سلامتی کونسل میں اس انسانی تضحیک کے خلاف کوئی احتجاج کیا۔

افغانستان میں تو انسان کے ہاتھوں انسان کی تذلیل اس وقت پر انتہاپر نظر آئی جب انسانی تاریخ میں پہلی دفعہ جارح افواج کے سپاہی مقامی لوگوں کے مردہ اجسام پر پیشاب کرتے دکھائے گئے۔ مقبوضہ کشمیر میں عورتوں کو عصمت دری اور پھر قتال اور اجتماعی قبریں، فلسطین میں نہتے مسلمانوں پر شطیلہ اور سابرا مہاجر کیمپوں میں مظالم کی داستانیں اور کشمیر میں بے گناہ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کی اجتماعی قبروں کا انکشاف یہ سب انسانیت کے نام پر شرمناک دھبے ہیں۔

اتفاقیہ 25مئی2012ء کا دن تھا، جس دن اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق شام کے دارلحکومت دمشق میںمغربی طاقتوں کی مدد سے لڑی جانے والی خانہ جنگی میں 108لوگ لقمہ اجل بنے جن میں 34عورتیں اور آپ یقین کریں 49بچے شامل تھے۔ ایک طرف جانوروں سے ہمدردیاں اور دوسرے طرف انسانوں کے خلاف درندگی، انسان کس چیز پر یقین کرے کہ وہ بدنصیب مائیں جو ان معصوم بچوں کی ہلاکت کے بعد زندہ رہتی ہیں، کیا کبھی کسی نے انکے جذبات کا اندازہ بھی لگایا ہے۔ خون میں لت پت اپنے معصوم بچوں کی لاشیں اٹھا کر وہ کتنے کرب کا شکار ہوتی ہونگی۔ وہ شاید یہ نہیں چاہتیں کہ اپنے مردہ بچوں کے خود آلود کپڑوں کو دھوڈالیں چونکہ اس طرح ان کپڑوں سے انکے لخت جگر کے جسم کی مہک کے غائب ہونے کا خطرہ ہے۔ آپ خود اندازہ کرلیں کہ مسلمانوں کے دنیا میں خاندان اجڑ گئے، کنبے تباہ ہوگئے، بچے بچھڑ گئے، ماں باپ قتل ہوگئے، جائیدادیں ختم ہوگئیں، بوڑھے مرد، حاملہ عورتیں اور معصوم بچوں کا تکہ بوٹی ہوگیا لیکن انسانیت خاموش رہی ہے۔

ہم سب تماشائی ہیں۔ بغداد ہو یا دمشق ، افغانستان ہو یا پاکستان ، لیبیا ہو یا مقبوضہ کشمیرمسلمان دنیا اور علمی دنیا کے ضمیر بھی مردہ اور دل پتھر ہوچکے ہیں۔ کشمیر دنیا کا وہ بد قسمت خطہ ہے جس کو انسانوں سمیت 75لاکھ نانک شاہی میں خرید کر غلام بنایا گیا تو کبھی جابر انہ فیصلے کے ذریعے اقلیت نے اکثریت پر حکمرانی کی، انصاف کے عالمی دعویداروں نے ہمیشہ انصاف کے نام پر کشمیریوں کی نسل کشی اور تباہی کے منصوبوں کا ساتھ دیا۔ کشمیریوں نے آزادی کے لیے کئی لاکھ جانبازوں کی قربانی دی مگر عالمی قوتوں کی منافقت کے باعث آزادی کی یہ جنگ ظلم جبر اور تشدد کا نہ صرف سبب بنی بلکہ جنت نظیر وادی ایک فوجی کیمپ خوف، مایوسی اور تاریکی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔

کشمیر وہ خطہ ہے جس کی ماضی میں مثال خوبصورتی، سر سبز و شادابی، قدرتی حسن، بلند و بالا پہاڑ، دنیا کے بہترین پھلوں ، میووں ، برف پوش پہاڑی سلسلوں ، حسین وادیوں ، یہاں کے باسیوں کے مثالی اخلاق اور جفا کشی، اسلام دوستی، محبت و بھائی چارہ، دنیا کے مختلف خطوں میں کشمیری نوجوانوں کی مثالی خدمات اور اعلیٰ صلاحیتوں کے حوالے سے دی جاتی تھی اور کشمیر کا ذکرآتے ہی انہی چیزوں کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ تاہم اس سب کچھ کے باوجود کشمیریوں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا ہے۔

بے انتہا جانی و مالی نقصانات کے باوجودکشمیر کے عظیم سپوتوں نے اپنی آزادی کا سودانہیں کیا ۔تنازع کشمیر کو دنیا کا قدیم ترین تنازع کہا جاتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر نام نہاد مہذب دنیا نے اس تنازع کو حل نہیں کیا تو شاید دنیا میں پہلی باقاعدہ عالمی ایٹمی جنگ اور پھر دنیا کی ایک بڑی تباہی کا سبب کشمیر ہی بنے گا۔ کشمیریوں کی جرأت و بہادری اور بھارتی تسلط سے آزادی کے حصول کی جدو جہد سے اظہارِ یکجہتی کے طورپر پاکستان قوم گزشتہ کئی دہائیوں سے ہر سال 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر مناتی ہے۔

ریاست جموں و کشمیر بنیادی طور پر 7بڑے ریجنوں وادی کشمیر، جموں ، کر گل ، لداخ، بلتستانی ، گلگت اور پونچھ اور درجنوں چھوٹے ریجنوں پر مشتمل 84ہزار471مربع میل پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہ ریاست آبادی کے حساب سے اقوام متحدہ کے 140اور رقبے کے حساب سے 112رکن ممالک سے بڑی ہے۔ مذکورہ بالا تمام ریجنوں کی اپنی اپنی ایک تاریخ ہے جو ہزاروں سال پر محیط ہے۔ ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ دس کروڑ سال قبل یہ خطہ سمندر میں ڈوبا ہوا تھا مگر آہستہ آہستہ خطے کی سر زمین وجود میں آئی اور اس عمل کو بھی 10کروڑ سال گزرچکے ہیں۔ ہزاروں سالہ تاریخ کا جب مطالعہ کیاجاتا ہے تو کبھی کشمیر کی ریاست دہلی سے کا بل، کبھی لداخ سے سندھ کے ساحل کراچی تک پھیلی نظر آتی ہے اورکبھی اسی ریاست میں درجنوں چھوٹی بڑی آزادریاستیں نظر آتی ہیں۔

آج کی دنیا میں جس ریاست کی بات کی جاتی ہے وہ 15اگست 1947ء کو قائم ہوئی، ریاست جموں و کشمیر ہے اور اقوام متحدہ میں یہی پوری ریاست متنازعہ کشمیر قرار پائی۔ کشمیریوں کی بد قسمتی کا آغاز16مارچ 1846کو میں معاہدہ امر تسر کے ساتھ ہی ہوا جس کے ذریعے گلاب سنگھ نے انگریز سے 75لاکھ نانک شاہی میں جموں و کشمیر اور ہزار ہ کا علاقہ خرید کر غلام بنایا جبکہ گلگت بلتستان، کرگل اورلدخ کے علاقوں پر قبضہ کرکے ایک مضبوط اور مستحکم ریاست قائم کی، مہاراجہ کشمیر نے مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا کردی کیونکہ حکمران طبقہ اقلیتی تھا جبکہ خطہ کی 85فیصدآبادی مسلمانوں کی تھی اس لیے حکمران ہمیشہ مسلمانوں سے ہی خطرہ محسوس کرتے تھے۔مہاراجہ نے مسلمانوں کو پسماندہ رکھنے کے لئے بڑی کوششیں کیں یہی وجہ ہے کہ 1846کے بعد ڈوگرہ حکمرانوں کے خلاف 1931تک کوئی نمایاں آواز نہیں اٹھی اگرچہ اس عرصے میں مسلمانوں کی نصف درجن سے زائد انجمنیں یا جماعتیں بن چکی تھیں مگر دوگرہ کے ظلم و ستم کی وجہ سے مسلمان سرنہ اٹھا سکے۔

ہم جب ریاست جموں و کشمیر کا جائزہ لیتے ہیں تو ڈوگرہ حکمرانوں کے دور میں 1924تک سیاسی خاموشی نظر آتی ہے۔ یہ خاموشی 1924میں اس وقت ٹوٹی جب سرینگر میں کام کرنے والے ریشم کے کارخانوں کے مزدوروں نے اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی اور پوری ریاست نے ان کی آواز میں آواز ملائی اوریوں پوری ریاست سراپا احتجاج بن گئی، اس تحریک کو بھی ڈوگروں نے طاقت کے زور پر ختم کرنے کی کوشش کی، وقتی طورپر یہ تحریک کمزور ضرور ہوئی مگر اس کے بعد ریاست کے عوام میں بیداری آئی اور آزادی کا جذبہ تونا ہوا۔ ڈوگرہ حاکم کی کوشش رہی کہ ریاست کو بھارت کا حصہ بنایا جائے یا اس کی خود مختار حیثیت کو بحال رکھا جائے جبکہ مسلمانوں کا مطالبہ ریاست کو پاکستان کا حصہ بنانا تھا مگر ڈوگرہ تاخیر ی حربے استعمال کرتا رہا یہی وجہ ہے کہ 24اکتوبر کو آزاد کشمیر میں آزاد حکومت کے قیام کے ساتھ ہی مجاہدین نے سرینگر کی طرف رخ کیا او رسرینگر تک کے علاقے پر قبضہ کرلیا اور مہاراجہ کشمیر دارلحکومت سے بھاگ کر جموں چلا گیا۔

اکتوبر 1947کو مہاراجہ کشمیر نے نہ صرف بھارت سے فوجی امداد طلب کی بلکہ بھارت کے ساتھ الحاق کی درخواست بھی دی اور 26بھارت چونکہ کشمیر پر قبضے لیے موقع کی تلاش میں تھا لہذا 27اکتوبر1947کو بھارتی افواج کشمیرپر قابض ہوگئیں ، دوسری طرف پاکستان کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے مجاہدین کو آزادکیا ہوا ایک بڑاعلاقہ بھی خالی کرنا پڑا اور مجبوراًپسپائی اختیار کرنا پڑی ، بھارت کشمیر میں اس وعدے کے ساتھ داخل ہوا تھا کہ امن کے قیام کے بعد کشمیر سے واپس چلا جائیگا مگر آج تک بھارت کی واپسی نہیں ہوئی۔ دوسری طرف جب سرینگر میں بھارتی قبضہ ہوا اور کشمیر میں آزاد حکومت قائم ہوئی تو یکم نومبر 1947کو گلگت میں بھی بغاوت ہوئی۔ ڈوگرہ گورنرگھنسا را سنگھ کو گرفتا کرکے اسلامی جمہوریہ گلگت کی بنیاد رکھی گئی جبکہ بلتستان اور وادی گریز (تراگبل، قمری ، کلشئی، منی مرگ) اور دیگر علاقوں میں 1948تک جنگ جاری رہی۔16نومبر1947کو پاکستان نے اس پر کنٹرول کیا انگریزکے برِ صغیر سے جانے کے بعد کشمیریوں کو ڈوگرہ سے آزادی تو ملی مگر ریاست جموں و کشمیر کا ایک بڑا حصہ بھارتی غلامی میں چلا گیا۔

جب سے اب تک تنازع کشمیرپوری دنیا با لخصوص جنوبی ایشیاء کے لئے ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔ آج کشمیریوں کی آہ سننے والا کوئی نہیں ہے سب کے سب نے بلکہ دنیا کے بڑے بڑے رہنمائوں نے اپنی آنکھیں بند کرلی ہے، ہندوستان بد معاشی کی حد بھی آگے نکل گیا ہے سال 2018کے اندر 7سے زائد تحریکی رہنمائوں اور 100سے زائد عام تحریکی کارکنوں کو شہید کر دیا گیا ہے، مگر دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ، اقوام متحدہ کی پالیسی اگر بہتر ہوجائے اور اقوام ِ متحدہ چاہے تو انڈیا کو سخت ترین حکم دے کر کشمیر کی عوام کوریلیف دلا سکتا ہے، مگر طاقت کا نام لینے والی امریکی سرکار خود ہندوستان کو اپنی گود میں لے کر بیٹھی ہے اور انڈیا اس بات کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔

پاکستان کی سابقہ اور موجودہ 3حکومتیں کشمیریوں کے نام پر نعرہ آزادی لے کر قائم ہوئی اور دو اپنی مدت پوری کرکے ختم ہوگئی مگر مسئلہ جوکا توہی ہے مگر 2018میں بننے والی عمران خان حکومت نے اقوام متحدہ میں ہندوستان کی بدمعاشی اور ظلم و زیادتی پر آواز بلند کی اور سخت ترین احتجاج بھی ریکارڈ کردیاوزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اس بہترین اقوام کے مستحق ہیں کہ انھونے کشمیریوں کے احساس کو مزید اجاگر کیا اور دنیائے حکمران کو بتایا کہ کشمیری عوام اس وقت ایک ایسی عزیت میں مبتلا ہے جو کسی جہنم سے کم نہیںہے مگر مسئلہ جموں کشمیر سال 2018کے ختم ہونے کے ساتھ ہی اب تک ایک جموں کشمیر مسئلہ ہے آج سال 2018ختم ہونے پر بھی کشمیر شہد کئے جارہے ہیں عورتوں کی عصمت دری جاری ہے بچے یتیم کئے جارہیں ، مگر جس طرح عمران خان حکومت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کے لئے آواز بلند کر رہے ہیں امید کی جا سکتی ہے کہ ، سال2019کشمیریوں کے لئے حق راہ اور آزادی کی صبح بن کر طلوع ہوا ہے، اللہ سے دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ مسلمانوں بلخصوص کشمیرکے مسلمانوں کے لئے آسانیاں عطا فرمائیں اور کافر کے ظلم سے نکات دلائیں اور کافر کو تباہ و برباد کریں آمین۔
لکھنے کو تو ہاتھ رک نہیں رہا مگر کہانی کا اختتام کچھ یوں ان اشعار پر کرتا ہوں

شہر شہر نگر نگر لہو گرا شہید کا
جدھر اُٹھی میر نظر لہو گرا شہید کا
گلی گلی میں خون ہے چمن چمن میں خون ہے
نہا رہے ہیں خشک و تر لہو گرا شہید کا
زمین کی پیاس جو بجھی تو بجھ گئی ہے خون سے
ملا ہے پھر یہ سیم و زر لہو گرا شہید کا

Ali Raza Rana
Ali Raza Rana

تحریر : علی رضا رانا

Share this:
Tags:
kashmiri murder muslims oppression protest World احتجاج بچوں دنیا قتل کشمیری مسلمان مظالم
Hajj Pilgrims
Previous Post حج اخراجات میں ہوشربا اضافہ
Next Post جس کی لاٹھی اُس کی بھینس
Corruption

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close