Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کلیم الدین شمس کے بہانے بہت یاد آئے مسلم قائدین

January 8, 2018 0 1 min read
Dr syed Ahmad Quadri
Dr syed Ahmad Quadri
Dr syed Ahmad Quadri

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری
لیجئے مہاراشٹر حکومت کی نظر میں اب مولانا ابولا اکلام آزاد اور ڈاکٹر ذاکر حسین بھی معتوب ہو گئے۔ یہاں کی حکومت کی جانب سے جن مجاہد آزادی کی فہرست جاری کی گئی ہے، اس فہرست میں شامل یہ دو نام جو پہلے سے شامل تھے ، انھیں ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ پورے ملک میں جاری ہے۔ یعنی اب کوئی بھی مسلم قائد یاد نہیں کیا جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ملک کے جو حالات ہیں اور جس تیزی سے ملک کا منظر نامہ بدل رہا ہے ، اس بدلتے منظر نامے میں مسلمانوں کے ساتھ جس طرح کا جارہانہ اور ظالمانہ سلوک کیا جا رہا ہے ۔ وہ بہت ہی منظم اور منصوبہ بند طور پر تیار کیا گیا ہے۔ جس کے باعث ملک کے مسلمان خوف و دہشت کے سائے میں جینے پر خود کو مجبور پا رہے ہیں ،کہ کب راہ چلتے انھیں زد وکوب کیا جا ئے اور بے رحمی سے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا جائے اور اس قتل کے بعد قاتل کو ‘ہیرو’ بنا کر پیش کیا جائے۔ انتہا تو یہ ہے کہ اب ایسے قاتلوں سے نفرت کی بجائے اس کے لئے محبت اور ہمدردی کا جذبہ پیدا کرنے کی باضابطہ کوششیں ہو رہی ہیں ۔ بے گناہ اخلاق کے قاتل کی قدرتی موت کے بعد اس کے مردہ جسم کو ترنگے جھنڈے میں رکھ کر سرکاری اعزاز سے نوازا جا رہا ہے، تو ادھر معصوم افروز السلام کو شرمسار کر دینے والی حیوانیت کے ساتھ قتل کرکے اس کی لاش کو آگ کے حوالے کر دیا جا تاہے۔ جس کے صلہ میں اس قاتل کو ایسی ہمدردی اور محبت سے نوازا جاتا ہے کہ اس نے جیسے کتنا بڑا ”کارنامہ” انجام دیا ہے ۔ اس قاتل اور اس کے لواحقین کے لئے باضابطہ عوامی چندہ جمع کیا رہا ہے، سوشل میڈیا پر اس کی بہادری کے قصے بیان کئے جا رہے ہیں ۔ کہیں ایسے قاتلوں کی عدلیہ کی جانب سے بے گناہ قرار دئے جانے پر کئی کمپنیوں کے دروازے ، ان کی ملازمت کے لئے کھول دئے جا رہے ہیں۔ ایسی تشویشناک صورت حال اور ایسے سانحات سے ہم آئے دن روبرو ہو رہے ہیں، لیکن واہ رے ہمارے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مسلم کوٹے سے پہنچنے والے مسلم ممبران ، جن کے سروں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے اور نہ ہی انھیں کسی طرح کی تشویش ہے۔ ایسے شرمسار کر دینے والے واقعات اور سانحات کے بعد احتجاج میں ان ایوانوں سے استعفیٰ تو دور کی بات ، ایک سخت بیان تک دینے کی جرأت تک نہیں کرتے کہ کہیں ان کے اس طرح کے بیان سے ان کی پارٹی کے سربراہ خفا نہ ہو جائیں۔

ایسے ناگفتہ بہہ حالات میں ملک کے مسلمانوں کے اندر خوف و ہراس اور دہشت کا پیدا ہونا فطری ہے ۔عدم تحفظ کا احساس شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ایسے مشکل اور غیر یقینی حالات میں ملک کے مسلمانوں کی نگاہیں اپنے مسلم قائدین کو تلاش رہی ہیں ، لیکن ہر جانب سے مایوسی اور ناامیدی ہی نظر آرہی ہے۔ ایسے نازک اور مشکل وقت میں کولکتا میں شیر بنگال کے نام سے مشہو ر سیاسی اور سماجی شخصیت کلیم الدین شمس کے فرزند اور ترنمول کانگریس سے مغربی بنگال اسمبلی کے رکن معین الدین شمس نے ایک اہم کام ایسا ضرور کیا ہے ، جو مسلمانوں کی بے بسی اور مسلم رہنماوں کی بے حسی میں ارتعاش پیدا کرسکتا ہے۔ معین الدین شمس نے اپنی سیاسی بصیرت اور دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے والد کلیم الدین شمس کے یوم ولادت کے موقع پر گزشتہ 13 دسمبر کو مغربی بنگال اردو اکادمی کے مولانا ابوالکلام آزاد آڈیوٹوریم میں کلیم الدین شمس ویلفئیر فاؤنڈیشن کی جانب سے ایک جلسہ کا اہتمام کیا ۔ جس میں کلیم الدین شمس کی شخصیت اور سیاست کے حوالے سے انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ عصر حاضر میں مسلمانوں کے مسائل اور موجودہ قائدین کا رول کے عنوان سے شہر و بیرون شہرکے سیاست اور صحافت سے تعلق رکھنے والی کئی اہم شخصیات کو کھل کر اظہار خیال کی دعوت دی۔اس موقع پر جہاں کلیم الدین شمس کے سلسلے میںمختلف مقررین نے ان کی سیاسی بصیرت، جرأت اور بے خوفی و بے باکی کو یاد کیا اور کہا کہ کلیم الدین شمس کی شخصیت اور سیاست کی اہمیت عہد حاضر میں اس لئے زیادہ توجہ طلب ہے کہ انھوں نے اپنے دور کے سیاسی اور سماجی حالات کی ستم ظریفی کے آگے کبھی سپر نہیں ڈالی اور اپنی جوانمردی اور ہمت و استقلال کی علامت بن کر مایوسی وناامیدی کے تلاطم میں ڈوب ابھر رہے ، ملک کے مسلمانوں کے لئے نہ صرف بنگال بلکہ پورے ملک کے لئے امید کی روشنی بن کر سامنے آئے تھے۔

جمشید پور میں بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے قتل عام کے وقت اپنی جان جوکھم میں ڈال کر وہ جمشیدپور پہنچے تھے اور وہاں کے مسلمانوں کی تباہی و بربادی دیکھ کر و ہ خود خون کے آنسو رو دئے تھے ،اور قتل کئے جانے والوں کے لواحقین کے آنسو پونچھنے کی کوشش کی تھی ۔ یہ وہی مرد مجاہد تھے ، جنھوں نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیرپولیس اسٹیشن پہنچ کر فرقہ وارانہ فساد میں مارے گئے مسلمانوں کے قاتلوں کو سزا دلانے کے لئے ایف آئی آر درج کرانے کی ہمت دکھائی تھی ۔ اس ایف آئی آر کے باعث انھین جان سے مارنے کا منصوبہ بنا یا گیا ، لیکن چند مسلم افسروں نے کسی طرح ان کی جان بچانے اور وہاں سے نکل جانے میں مدد کی تھی۔ کلیم الدین شمس کی بہت ساری تقاریر اور تحریروں کے حوالوںمیں ایک کتابچہ ‘جانب منزل’ کا حوالہ دیا گیا کہ وہ کس قدر دور اندیش تھے ۔ اس کتابچہ کا ایک اقتباس اس بات کا مظہر ہے کہ ان کی دور بین نگاہیں کتنی دور تک دیکھ رہی تھیں۔ اس کتابچہ میں انھوں نے لکھا تھا کہ ” مسلمانان ہند اس وقت انتہائی نازک دور میں ہیں ۔ فاسسٹ فرقہ پرست طاقتیں منظم اور متحد ہو کر صف آرأ ہو گئی ہیں۔ سیکولر طاقتیں کمزور پڑ رہی ہیں۔ ملک کا اتحاد اور ملت کی سلامتی خطرے میں ہے ۔ یہ وقت ہے کہ مسلمان اور تمام انصاف پسند ہندوستانی متحد ہو کر کندھے سے کندھا ملا کر ملک وملت کے دشمنوں کے مقابلے میں مورچہ لگا دیں۔” کلم الدین شمس کی اس بات میں کس قدر صداقت ہے ، اس کا اندازہ عصری حالات کو دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

ایک زمانے میں جب بمبئی کے مسلمانوں پر ظلم وتشدد کا سلسلہ دراز ہونے لگا اور فرقہ واریت ، وہاں کے مسلمانوں کے وجود کو ختم کرنے کے درپئے تھی ، تب ایسے نا مساعد حالات میں فلمی دنیا کی کئی اہم ہستیاں بشمول دلیپ کمار مسلمانوں کی حمایت میں کھل کر سامنے آئی تھیں ۔ اس تعلق سے ایک سوال کے جواب میں کلیم الدین شمس نے بڑے خوبصورت اور دانشورانہ انداز میں کہا تھا کہ ” دلیپ کما رسے میرے بڑے اچھے تعلقات ہیں ۔ مگر میں انھیں دلیپ کمار کی حیثیت سے کم اور یوسف خان کی حیثیت سے زیادہ جانتا ہوں ۔ ہندوستان میں جس قدر نا انصافیاں اور ظلم و ستم کو جاری و ساری رکھا گیا ہے ، اسے دیکھتے ہوئے اب دلیپ کمار مر گیا اور یوسف خان زندہ ہو گیا ہے ۔’ ‘ کلیم الدین شمس کی یہ بات بھی عصری تناظر میں کافی اہمیت کی حامل ہے کہ موجودہ حالات میں مسلمانوں پر ہو رہے ظلم وبربریت کے خلاف کسی نے لب کشائی کی ، تو وہ غدار وطن قرار دیا جاتا ہے ۔ حالیہ دنوں میں ہم آپ نے یہ دیکھا ہے کہ عامر خان، شاہ رخ خان ، سلمان خان وغیرہ نے عدم رواداری کے خلاف بس ذرا سی لب کشائی کی تو کس طرح ان لوگوں کے خلاف احتجاج اور مظاہرے ہونے لگے تھے، اور طرح طرح کی دھمکیاں دی جا نے لگی تھیں اور آخر کار انھیں ان کے آگے خود سپردگی کرنا پڑی تھی۔

ایسے تشویشناک حالات میں یہ فکر بہت ضروری ہے کہ اس ملک میں اب جب کہ مسلمانوں کی آبادی پچیس کروڑ سے بھی تجاوز کر چکی ہے ، لیکن المیہ یہ ہے کہ اتنی بڑی آبادی میں ایک بھی ایسا مسلمانوں کا اپنا رہنما یا قائد نہیں ہے ، جو مسلمانوں پر ہو رہے ظلم و تشدد، بربریت وستم اور استحصال ونا انصافیوں کے خلاف آواز بلند کر سکے۔ آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کرنا تو دور ہمارے کچھ مذہبی نام نہاد رہبر تو بادشاہ وقت کے سامنے سجدہ ریز ہوتے بھی دیکھے جا رہے ہیں۔

ہم ماضی کے اپنے سنہری تاریخی اوراق کو ا س وقت پلٹنے کی بجائے گزشتہ چند دہایوں پر ایک نگاہ ڈالین تو ہمارے سامنے ایسے کئی مسلم قائدین کی تصویریں ابھر کر سامنے آئینگی ، جنھوں نے اپنے ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر اپنی قوم و ملت کے مفادات کو ترجیح دیتے نظر آتے ہیں ۔ گرچہ آزادیٔ ہند کے بعد ایسے مسلم قائدین کی تعداد دھیرے دھیرے کم ہوتی چلی گئی ۔ پھر بھی ہمیں بدر الدین طیب جی ، حکیم اجمل خان ، مختار احمد انصاری، سید الدین کچلو، آصف علی، محمد برکت اللہ ، یوسف میر علی، مولانا آزاد، مظہر الحق، مغفور احمد اعجازی، رفیع احمد قدوائی، سر سید سلطان احمد، ڈاکٹر سید محمود، شاہ محمد زبیر، شاہ محمد عمیر، مسٹر عبدلعزیز، سر علی امام، پروفیسر عبدالباری،عبد القیوم انصاری، غلام سرور، حسن امام،امحمد ایوب، فدا حسین انصاری،شاہ لعل قادری، کامریڈ حبیب الرحمان،مولانا حفظ الرحمان،حیات اللہ انصاری، ہمایوں کبیر، جی ایم بنات والا ،محمد ادیب، بابو خان، وغیرہ کے قوم وملت کے لئے دئے گئے ایثار و قربانیوںکی یاد ضرور آتی ہے۔ لیکن افسوس کہ آزادی کے بعد ملک کے اندر قومی یکجہتی، اتحاد واتفاق،آپسی میل ومحبت، بھائی چارگی اور گنگا جمنی تہذیب وتمدن کو بہت ہی منظم اور منصوبہ بند طریقہ سے متعصبانہ افکار و عمل کے ذریعہ ختم کرنے کے نا پاک ارادے شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

مسلمانوں کا وجود متزلزل ہوتا جا رہا ہے ۔ راشٹریہ سوئیم سنگھ اور ان کی کئی ذیلی کمیٹییوں نے بڑے شاطرانہ طریقے سے اور اتنے منظم طور پر سازش کاجال بچھا کر فرقہ پرستی کی ایسی فصل تیار کر دی ہے کہ ہر جانب فرقہ واریت، تعصب اور منافرت کی مسموم گرم ہوا بہہ رہی ہے۔ ملک کی پوری فضا اس وقت اس قدر مکدر ہورہی ہے کہ لوگوں کو سوچنے سمجھنے کا بھی موقع نہیں مل رہا ہے اور امن پسند مسلمان ٹوٹتے بکھرتے چلے جا رہے ہیں ۔ ان ٹوٹتے بکھرتے ہوئے مسلمانوں کو سمیٹنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی جا رہی ہے، بلکہ سیاسی بازیگروں نے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے انھیں مذید ٹوٹنے اور بکھرنے اور خوف و دہشت کے عالم میں جینے کے لئے چھوڑ دیا ہے ۔ جس کا نتیجہ بہت ہی بھیانک شکل میں روز بروز سامنے آ رہا ہے ۔ ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے ہیں ، حالیہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے وقت بھی ہمارے سامنے ایک بھی ایسا مسلم قائد سامنے نہیں آیا ، جو آپسی اتحاد و اتفاق کے لئے مسلکی اختلافات کو وقتی طور پر ہی سہی دور کر نے کی کوشش کرتے ہوئے مسلمانوں کوایک دھاگے میں پرونے کی کوشش کرتا ۔ ہر انتخابات کے وقت برساتی مینڈکوں کی طرح نام نہاد مسلم رہنما اور جیبی تنظیمیں سامنے آتی ہیں ۔ یہ سب اپنے اپنے طور پر مسلم ووٹوں (اتحاد) کا سودا کرتے ہیں اور پھر مسلمانوں کوبے یار و مددگار چھوڑ کر ‘ہائبر نیشن’ میں چلے جاتے ہیں۔

مسلمانوں کی رہبری کا دعویٰ کرنے والے یہ دراصل رہبر نہیں ، رہزن ہوتے ہیں ، جنھیں یہ مسلمان اپنی معصومیت اور لا علمی کے باعث سمجھ نہیں پا تے ہیں ۔ کاش کہ یہاں کے مسلمان بھی اپنے مذہب اسلام کی اس بات پر عمل کرتے ، جس نے یہ بتا یا گیاہے کہ جہاں کہیں دو شخص بھی ہوںاور کسی کام کو انجام دینا ہو ، وہاں ان دونوں میں سے کسی ایک کو اپنا امیر منتخب کرلینا چاہئے۔ لیکن افسوس کہ ملک کے پچیس کروڑ مسلمانوں کی اتنی بڑی تعدا د بے سمت نظر آ رہی ہے ، جس کے باعث ملک کی سیاست میں ان کی کوئی اہمیت اور وقعت نہیں رہ گئی ہے ۔ پہلے مسلمان کا مطلب مسلمان ہوا کرتا تھا ، لیکن اب ان میں بھی بہتر فرقے ہو گئے ہیں ۔ اتنے خانوں میں منقسم ہونے کی وجہ کر ان کا شیرازہ بکھرتا چلاجا رہا ہے ۔ جس کا فائدہ دشمن پوری طرح اٹھا رہے ہیں۔

اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے ہر شہر میں آپسی اختلافات اور چھوٹی موٹی رنجشوں کو فراموش کرتے ہوئے ہر مکتبہ فکر کے لوگ اپنے اپنے سیاسی ، سماجی رہنمأ اور قائدین کے یوم ولادت یا یوم وفات کے موقع پر ان کے کارناموں کو یاد کرتے ہوئے انھیں خراج عقیدت پیش کریں ، ساتھ ہی ساتھ عصری مسائل اور مسلم قائدین کے کردار وعمل پر بھی باتیں کی جائیں ۔ اس سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ان دنوں جس طرح مسلم قائدین کے نام اور کام کو تاریخ اور نصاب سے ختم کرنے کی منظم کوششیں ہو رہی ہیں ، وہ سلسلہ رکے گا اور بہت ممکن ہے کہ عہد حاضر کے مسلم رہنماوں کو اپنی اپنی ذمہّ داریوں کا احساس بھی جاگے ، نیز نئے جوش اور امنگ او رحوصلہ سے بھرے نوجوان بھی اپنے اسلاف کے شاندار کارناموں کو سن اور سمجھ کر میدان عمل میں آئیں اور اداسیوں او رمایوسیوں کے اندھیرے میں ڈوبے مسلمانوں کے لئے امید کی کرن بن کر ابھریں۔ بنگال میں معین الدین شمس نے اپنے والد کے بہانے یقیناََ اپنی سیاسی بصیرت او ردور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے ایسا جلسہ منعقد کر ایک بڑا اچھا اور مثبت پیغام دینے کی کوشش کی ہے ۔ جس کے لئے معین الدین شمس کے ساتھ ساتھ ان کے دو بھائی ڈاکٹر جمال الدین شمس او رنظام الدین شمس لائق ستائش ہیں کہ ان لوگوں کی مساعی کوششوں سے ملک کے ناامید اور مایوس مسلمانوں کے درمیان ایک امید جگ سکتی ہے۔بس شرط ہے کہ مسلمان نیند سے جاگیں او ر خاکستر کر دینے والے اٹھتے شعلوں کی لپک کی شدت کو محسوس کریں ، ورنہ روہنگیا مسلمانوں کی بے سر و سامانی اور تباہی و بربادی کاخونچکاں منظر نامہ ابھی ہمارے سامنے موجود ہی ہے۔

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری رابطہ: 9934839110

Share this:
Tags:
country government murder muslims parliament اسمبلیوں پارلیمنٹ حکومت قتل مسلمانوں ملک
Donald Trump
Previous Post یار نہیں، یار مار
Next Post کشمیریوں کو پاکستان سے جدا نہیں کیا جا سکتا، سابق صدر سردار یعقوب کا نورپور سیداں میں مرحوم مدنی شاہ کی برسی کے اجتماع سے خطاب
Anniversary

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close