Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے

February 9, 2018 0 1 min read
MQM
MQM
MQM

تحریر : شیخ خالد زاہد
آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد ڈھاکہ میں دسمبر ۱۹۰۶ میں رکھی گئی اور برصغیر میں مسلمانوں کی نمائدہ جماعت کے بانی نواب وقار الملک تھے ، وقت اور حالات کیساتھ تبدیلیاں آتی گئیں اور آل انڈیا مسلم لیگ کی وجہ شہرت محمد علی جناح بن گئے اور اس جماعت نے قائد اعظم محمد علی جناح کی سربراہی میں پاکستان حاصل کرلیا۔ پاکستان کی سیاست ،سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کے مرہون منت ہوتی ہے ، اس سیاست میں نا تو سیاسی جماعتوں کا عمل دخل ہوتا ہے اور ناہی ان جماعتوں کے منشورکا۔ یہ بھی لکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخض جوکہ جماعت کا سربراہ ہوتا ہے وہ ہی منشور ہوتا ہے اور جماعت اسی سے شروع ہوکر اسی پر ختم ہوجاتی ہے۔ ہم پاکستانیوں نے یہ بات سمجھنے میں دیر کردی ، ہمیں اسی وقت سمجھ آجانا چاہئے تھا جب پاکستان مسلم لیگ قائدِ اعظم کے ساتھ ہی دفن کردی گئی تھی، اس مسلم لیگ کی داغ بیل کسی اور نے ڈالی تھی مگر اس وقت وہ پاکستان نہیں تھا ، جب سے پاکستان بنا ہے کوئی بھی فرد اپنے منشورکی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت بنا لیتا ہے اور کچھ نامعلوم ارباب اختیار اس کو اپنے کسی خاص مقصد کیلئے ایک وقت تک استعمال کرتے ہیں پھر یا تو اس جماعت کا سربراہ نہیں رہتا یا پھر وہ جماعت نہیں رہتی ہاں البتہ وہ منشور بتدریج تقسیم ہوجاتاہے اور جماعت سے کچھ وابستہ لوگ اس میں سے نکل کر نئی جماعت بنالیتے ہیں۔ حقیقتاً سیاسی مقاصد سوائے کاروبار کہ اور کچھ بھی نہیں ہیں اگر ہوتے تو پاکستان اور پاکستان کی عوام کی جو حالت ہے ایسی کبھی نا ہوتی۔

مذکورہ بالا معاملہ نا تو پیچیدگی لئے ہوئے اور نا ہی کسی سے پوشیدہ ہے ، ہر کھلی آنکھ رکھنے والاپاکستانی سمجھتا بھی ہے اوراچھی طرح سے یہ سب جانتا ہے۔ کسی بھی جماعت سے وابسطہ افراد کے مقاصد کی ترجیحات میں تبدیلی ، جماعت میں شگاف ڈالنے کا بنیادی عنصر ہوسکتا ہے۔بدلتی ہوئی دنیا کی روشوں میں ہر روز طلب اور رسد میں فرق آتا ہے یہ فرق ہی تبدیلی کا پیش خیمہ بنتا چلا جاتا ہے۔ کچھ بنیادی اصول اور اقدار ہوتے ہیں جو جماعتوں کو منظم رکھنے اور ایک دوسرے کے مزاج کے خلاف ہونے کے باوجود جڑے رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اب اسے جمہوریت کا حسن کہہ کر سب کچھ اپنے آنکھوں سے تباہ و برباد ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں تو دیکھئے کہ کس طرح سے چھوٹے چھوٹے اختلافات کی بنیاد پر برسوں کے تعلقات بھینٹ چڑھا دئیے جاتے ہیں۔

حالیہ اس جمہوری طرز کے مزاج رکھنے والے پاکستانی سیاست میں ایک معتبر نام رکھنے والے مشاہد حسین سید صاحب نے مسلم لیگ (ق) سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کر لی، ان کے اس اقدام سے انکی ذاتیات پر سوالیہ نشان اٹھ گیا اب وہ سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی کرینگے۔ سید صاحب کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف نے جمہوریت کیلئے بہت کچھ کیا ہے ، اگر یہ جملہ سوشل میڈیا پر لکھاجاتا تو بہت سارے ایموجی اسکے ساتھ لگائے جاسکتے تھے۔ یہ لکھنا تکلیف کا باعث ہے کہ کوئی بھی جماعت اپنی تقسیم کی بدولت انجام کو پہنچنا شروع ہو جاتی ہے ۔ ہمارے ملک میں کتنی ہی کلعدم تنظیمیں اپنے منشور کیساتھ اپنی قیادت کے ساتھ نام بدل کر اپنا مشن رکنے نہیں دیتیں تو پھر وہ سیاسی جماعتیں جنہیں کلعدم بھی قرار نہیں دیا گیا ہو کیسے ختم ہوسکتی ہے۔ اس بات سے واجبی اختلاف تو کیا جاسکتا ہے کہ کسی بھی جماعت کا بنیادی منشور جماعت کی تقسیم کے بعد بھی تبدیل نہیں ہوتا، کیونکہ جس کسی مقصد کے حصول کیلئے جماعت قائم کی جاتی ہے وہ قائدین کے ذہنوں سے کسے نکالا جاسکتا ہے۔

ایم کیوایم سندھ میں پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کو سندھ میں کمزور کرنے کیلئے بنائی گئی ۔ ایم کیو ایم بن تو گئی لیکن پہلے دن سے ہی عدم تحفظ کی آب و ہوا میں پلتی اور بڑھتی چلی گئی ۔ ایم کیو ایم کا وجود جامع کراچی میں تشکیل پایہ تھا تو اس سے وابسطہ ہونے والے کراچی کا اعلی تعلیم یافتہ طبقہ تھا۔ ایم کیوایم کا مسلۂ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے مختلف دیکھائی دیتا ہے، ایم کیو ایم والوں کو کیا کچھ نہیں کہا گیا اور کہا جاتا ہے مگر یہ جماعت اپنے قائد کی طبعی غیر موجود گی کے باوجود بھی منظم طریقے سے چلتی رہی ۔ اس جماعت کو بارہا دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی ، طرح طرح کے الزامات بھی لگائے گئے مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان الزامات کے غلط ثابت کرنے والے بھی منظر عام پر آتے رہے ، یہ جماعت ایک منظم تنظیم ہونے کے باعث اپنی بقاء کی جنگ لڑتی ہوئی یہاں تک تو پہنچ گئی ہے مگر اس ایم کیوایم کی اوائل کا تعلیم یافتہ طبقہ کہیں بہت پیچھے رہے گیا اور تعلیم کو بیکار اور وقت ضائع کرنے والی شے سمجھنے والے اس تنظیم میں اکثریت کی صورت میں جمع ہوگئے اور انہوں نے جیسے قیادت کو اپنے نرغے میں لے لیا۔ایم کیوایم سے تعلق رکھنے والا ہر شخص مشکوک ہوتا چلا گیا، کراچی جو ناصرف برقی قمقمو ں کے جلنے سے روشنیوں کا شہر مانا جاتا تھا وہیں علم و شعور کا مرکز بھی تھا ۔ایم کیوایم پر اس سے بڑا کوئی الزام نہیں ہوسکتا کہ انہوں نے تعلیم جیسے زیور کو کسی خاطر میں نہیں رکھا اوراس پر بلکل دھیان نہیں دیا اپنی تنظیم سازی میں رکنیت سازی میں تعلیم کا کوئی میعار نہیں رکھا۔ شائستگی اور ادب جو کراچی کی تہذیب تھی آج کہیں دروازوں کے پیچھے بیٹھی سسکیاں لیتی ہے اور ان سسکیوں کی صدائیں سارے شہر میں سنی جاتی ہیں۔ کراچی کے قبرستانوں میں جتنی نوجوانوں کی قبریں ہیں اتنی عمر رسیدہ لوگوں کی نہیں ہیں۔ کراچی کا تقریباً ہر نوجوان کسی نا کسی نشے کی لت میں لتھڑا ہوا ہے۔

کراچی والوں نے ایم کیوایم پر ایسا بھروسا کیا جو شائد ہی اس ملک کی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت پر اس کے چاہنے والوں نے کیا ہوگا۔ یہ کراچی والوں کا ہی حوصلہ اور ہمت ہے کہ اتنے نا مصائب و حالات کے ساتھ جی رہے ہیں لیکن ابھی تک اف نہیں کررہے ۔ ایم کیوایم اپنی ان مسلسل بے دھیانیوں اور شہر میں ہونے والی بے ضابطگیوں پر کچھ بھی نا کرسکی اور ایم کیوایم کا ووٹر بد ظن ہوتا چلا گیا۔ درحقیقت ایم کیوایم کے کاندھوں پر نسلوں کا بوجھ ہے اور یہ ایسا بوجھ ہے جسے کہیں پھینکا نہیں جاسکتا اور نا ہی منتقل کیا جاسکتا ہے۔لیکن ایک سوال ملک بڑی سیاسی جماعتیں جو ایم کیوایم کو تمام تر خرابیوں کیساتھ سیاسی اتحاد کیلئے سر آنکھوں پر بیٹھاتی رہیں کیا وہ کراچی کی تباہی کے ذمہ دار نہیں ہیں ۔ وہ تمام سیاسی جماعتیں جنہوں نے اپنے مفادات کیلئے کراچی میں قدم جمانے کیلے ، ایوانوں میں اعلی عہدے لینے کیلئے کیوں ایم کیوایم کو باربار اپنا حلیف بنایا۔ اگر یہ جماعت ملک کیلئے اتنی ہی نقصان دہ تھی تو کیوں بروقت اقدامات نہیں کئے گئے۔

ایک طرف جب ملک میں تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان صاحب اپنے بام عروج پر پہنچے ہوئے اور ملک کو ہرقسم کی تقسیم سے نجات دلانے کا عزم لئے ہوئے ہیں ، تو ایسے میں پاک سرزمین پارٹی کے وجود نے محترم مصطفی کمال صاحب کی سربراہی میں کراچی میں جنم لیااس جماعت کے سربراہ بھی عمران خان کی سیاسی بصیرت سے متاثر نظر آتے ہیں اور انہیں کی طرز کا منشور لئے اپنی پیش قدمی شروع کی ہے ۔ پی ایس پی کا وجود میں آنااس بات کی دلیل سمجھی جاسکتی ہے کہ اب ایم کیو ایم کو سیاسی داؤ پیچ سے پس پشت دھکیلنے کی کوشش کی جائے گی ۔پاکستان کا وجود غیر مرئی طاقتوں کی مدد سے عمل میں آیا ہے اوریہاں بھی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کوئی طاقت اس سارے عمل کے پیچھے موجود ہوتی ہے ،جو قدرت کے بعد ہمیشہ ہی رہتی ہے اور انتہائی منظم بھی ہے۔ایم کیوایم سے دیرینہ مائنس ون کا تقاضا تھا وہ پورا ہوگیا ، ایم کیوایم کے قائد پر پابندی لگائی گئی اور انہیں منظر عام و خاص سے ہٹا دیا گیا ، ایم کیوایم نے اپنے نام کیساتھ پاکستان لگا لیااور ایم کیوایم اپنے مرکز سے بے دخل کردی گئی (عنوان کے توسط سے)اور ابھی تک مرکزیت ڈھونڈ رہی ہے۔

اب ایم کیو ایم کی پھر تقسیم ہوئی اور پاکستان اور لندن کے لحیقے لگا دئیے گئے پھر ایم کیو ایم پاکستان میں حالیہ تقسم کی خبریں گردش کر رہی ہیں جن کے ساتھ ایم کیوایم پاکستان (پی آئی بی) اور (بہادرآباد) لکھا جانے والا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ۱۹۹۲ میں ایم کیوایم (حقیقی) سے شروع ہونے والا سلسلہ۲۰۱۸ میں ایم کیوایم پاکستان (پی آئی بی) اور (بہادرآباد)تک پہنچ چکا ہے ۔ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ کیا قیادتیں تقسیم ہوئی ہیں یا کارکنان بھی تقسیم ہوچکے ہیں ۔ ہم کسی کے جلسے کی بنیاد پر اسکے ووٹر ز کا اندازہ نہیں لگا سکتے اور ویسے بھی اب وہ وقت دور نہیں ہے جب ووٹ ہی فیصلہ کن کردار ادا کرینگے۔ اس مضمون کے توسط سے تمام سیاسی جماعتوں سے درخواست ہے ،مسائل پر سیاست نا کریں مسائل کے حل کیلئے سیاست کریں ، پوائنٹ اسکورنگ چھوڑدیں اب عوام بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے والی ہے ، ملک کے اداروں کی تعظیم و تکریم کا خصوصی خیال رکھیں کیونکہ نئی نسل آپ کو دیکھ کر آگے بڑھے گی اور اب وہ وقت آچکا ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ کوئی سیاسی ضابطہ اخلاق مرتب دیں جس میں سیاست کو تقویت دینے پر زور دیا جائے نا کہ سیاست دانوں کو۔ تمام سیاسی جماعتیں اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کئے بغیر کام کریں اور ایک دوسرے کی عزت و احترام یقینی بنائیں۔ بدعنوانی کسی بھی نوعیت کی ہو کسی دیمک سے کم نہیں ہوتی اور ہمارا ملک پاکستان اب اور بدعنوانیاں برداشت نہیں کرسکتا۔ ہمیں اس بات کا خصوصی خیال رکھنا ہے کہ اپنے مرکز سے دور نا نکل جائیں۔

اس مضمون کے اختتام پر اپنے قارئین کی نظر اقبال عظیم صاحب کی ایک بہت ہی خوبصورت غزل جس کا ایک مصرعہ بطور عنوان لیا ہے کے چنداشعار پیش کرنا چاہونگا ؛
اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے خواب ہو جاؤ گے افسانوں میں ڈھل جاؤگے
تیز قدموں سے چلو اور تصادم سے بچو بھیڑ میں سست چلو گے تو کچل جاؤ گے
تم ہو اک زندہ جاوید روایت کے چراغ تم کوئی شام کا سورج ہو کہ ڈھل جاؤگے
صبح صادق مجھے مطلوب ہے کس سے مانگوں تم تو بھولے ہو چراغوں سے بہل جاؤ گے

Sh. Khalid Zahid
Sh. Khalid Zahid

تحریر : شیخ خالد زاہد

Share this:
Tags:
muslims pakistan politics values اقدار پاکستان تعلقات سیاست عوام مسلمانوں
Farooq Sattar
Previous Post ایم کیو ایم کے آنسو
Next Post زمین ایکسپو لاہور 2018ء کا انعقاد 10 اور 11 فروری کو انٹرنیشنل ایکسپو سنٹر لاہور میں ہو گا۔ ذیشان علی خان
Zameen Expo LHR FEB 2018

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close