
مظفرآباد(جیوڈیسک)مظفرآباد میں ایک رکشہ ڈرائیور کا کہنا ہے کہ صرف چوری کے الزام پر پولیس نے اس پر انسانیت سوز تشدد کیا۔ جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے رکشہ ڈرائیور نوید کا کہنا تھا کہ تین دن قبل منظور شیخ نامی ایک شخص اپنے ایک ساتھی سمیت اس کے رکشے میں سوار ہوا تھا۔
تاہم رکشے سے اترتے وقت اس کے پیسے رکشے میں ہی گر گئے۔ نوید کا کہنا تھا کہ وہ پیسے لوٹانے سواری کے گھر پہنچا تو اس شخص کا کہنا تھا کہ اس کی رقم بیس ہزار نہیں بلکہ دو لاکھ تھی اور چوری کا الزام لگا کر پولیس کے حوالے کردیا۔
اور پولیس نے تھانے لے جاکر اس پر انسانیت سوز تشدد کیا۔ جس کے باعث وہ چلنے پھرنے سے معذور ہوگیا ہے۔ ایس ایس پی مظفرآباد راجہ شفقت تنویر نے انکوائری کمیٹی بناکر سارے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔ جبکہ رکشہ ڈرائیور نوید کی ماں نے آزاد کشمیر حکومت سے اپیل کی ہے کہ انہیں انصاف دلایا جائے۔
