بارش، خوشی، اداسی تیرے نام کی
ہم نے اب ہر ستم گری تیرے نام کی
ہمیں بھی پتہ تھا بدل جاتے ہیں لوگ
سارے جہاں کی بے وفافئی تیرے نام کی
جب بھی چاہا ،محبت کو تماشہ بنا دیا
یہ ساری کج ادائی تیرے نام کی
دل میں چاہے جانے کی خواہش توتی ہے
ہم نے اپنی ہر خواہش ،تیرے نام کی
کاش تُو آئے،اور گلے لگ کر کہے
میں نے اپنی ساری زندگی،تیرے نام کی
عالیہ جمشید خاکوانی
