Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

مودی حکومت کی بظاہر کامیابی کا سفر اور ملکی حقائق

May 6, 2017May 6, 2017 0 1 min read
Narendra Modi
Narendra Modi
Narendra Modi

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری
زیادہ عرصہ نہیں ہوئے، اب سے صرف تیس سال قبل یعنی 1984 ء کے لوک سبھا انتخاب میں صرف دو سیٹ، ایک آندھرا پردیش اور دوسری سیٹ گجرات سے حاصل کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی، ان دنوں نہ صرف لوک سبھا ، بلکہ مختلف ریاستوں میں مسلسل کامیابی کی طرف گامزن ہے۔ ابھی حالیہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے پنجاب کو چھوڑ کر چاروں ریاستوں میں اپنی حکومت قائم کر لی۔ اس شاندار کامیابی کے بعد مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات میں اور پھر ابھی دہلی کی تینوں میونسپل کارپوریشنوں میںجس طرح سے بھارتیہ جنتا پارٹی پئے در پئے کامیابی سے ہمکنار ہو رہی ہے، اس سے نہ صرف نریندر مودی اور امت شاہ کا بلکہ راشٹریہ سویم سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا حوصلہ بڑھنا بالکل فطری ہے۔ اس بڑھتے حوصلے سے ان جماعتوں کے کارکنان بھی پورے جوش وخروش میں ہیں اور طرح طرح سے اپنے جوش وخروش کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

اتر پردیش ،گورکھ پور کی گورکھ ناتھ مندرکے مہنت یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد تو ایسا لگتا ہے کہ یہاں کا پورا قانونی نظام ہی بدل کر کسی اور کے ہاتھوں میں دے دیا گیا ہے ، اس حد تک کہ بارہ بنکی لوک سبھا کی ممبر پرینکا سنگھ نے بارہ بنکی کے ایڈشنل پولیس سپر نٹنڈنٹ کے جسم سے کھال اتروانے کی دھمکی دینے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ نہیں محسوس کر رہی ہیں۔ بھاجپا کے کارکنان اور یوگی کے ہندو واہنی سر بازار بے قصور لوگوں کی پٹائی کر رہے ہیں اور پولس کھڑی تماش بین بنی ہوئی ہے ۔پہلو کان کی موت سے ابھی لوگوں کے آنسو تھمے بھی نہیں تھے کہ بلند شہر کے 62 سالہ بزرگ غلام محمد کو زد وکوب کر بڑی بے رحمی اور بربریت کے ساتھ پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا۔ قاتلوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے ، لیکن جگہ جگہ پوسٹر چپکا کر جس اس کارنامے پر پیٹھ تھپ تھپائی جا رہی ہے، وہ اس بات کا مظہر ہے کہ اس ظلم و بربریت پر قاتلوں کو کو ئی افسوس نہیں، بلکہ اس پر انھیں حکومت وقت کی جانب سے بڑا اعزاز وانعام کی توقع ہے۔ کاش کی پہلو خان کی بے دردی سے کئے جانے قتل پر اگر بازپرس کی جاتی ، تو شائد اسی ریاست میں غلام محمد کا قتل نہ ہوتا۔اب تو مسلمانوں کے ساتھ دلت بھی نشانے پر ہیں ۔ ان کے گھر جلائے جا رہے ہیں ، انھیں موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے ۔ ان کے کنویں میں کیروسن تیل ملایا جا رہا ہے ۔ یہ سب کیوں اور کس لئے ہو رہا ہے ، یہ سوال اٹھ رہا ہے ، جس کا بہت ہی واضح جواب یہ ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہندو یوا واہنی قائم کر کے جو کارنامے انجام دئے ہیںاس کا صلہ تو انھیں ملنا ہی چاہئے تھا ۔ اب انھیں اپنی پوری ٹیم کے ساتھ مل کر اپنے ‘ہندوتو’ ایجینڈے کو نافذ کرنا ہے۔ حزب مخالف بھی خاموش تماشائی کا بہتر رول ادا کر رہا ہے ،کہ ا ن میں اب وہ دم خم نہیں رہا ۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت پورے ملک میں مودی جی کی شاندار کامیابی پر خوب ڈنکے بج رہے ہیں ، بجنا بھی چاہئے۔ ایسی بے مثال کامیابی انھیں ملک کے مختلف حصوں میں ملی ہے کہ خوشی میںجتنا بھی ڈنکا بجایا جائے اور سنکھ پھونکا جائے ، کم ہے۔ یہ کامیابی کیوں اور کیسے ملی۔ اس کی بحث اب فضول ہے۔ وجہ جو بھی رہی ہو، کامیابی مودی اور شاہ کی بہرحال ہوئی ہے۔جو جیتا وہی سکندر، اور سکندر کی حیثیت سے مودی کا اگر لوک سبھا میں خیر مقدم ‘جئے شری رام’ اور راجیہ سبھا میں ‘شیر آیا’ کے نعروں سے کیا گیاہے ۔تو غلط اس لئے نہیں ہے کہ اس شیر کو رام نے تو ہی شہرت اور کامیابی سے ہمکنار کیا ہے ۔

مختلف انتخاب میں مودی ،شاہ ، بھارتیہ جنتا پارٹی یا راشٹریہ سویم سنگھ کو جس طرح کی کامیابی ملی ہے ۔اس پس منظر میں جو منظر نامہ ملک کا سامنے آیا ہے،وہ یہ ہے کہ اب اس ملک کے لئے غربت، بے روزگاری،مہنگائی، صحت، تعلیم، تحفظ،رواداری،کرپشن،ذخیرہ اندوزی،اظہار آزادی،صنعتی و تجارتی انجماد،اقتصادی مساوات،سماجی استحصال، جمہوری قدروں کی پامالی، آئین کی بے وقعتی وغیرہ جیسے مسئلے ، اب مسئلے نہیں رہ گئے ۔ یہ سب کے سب اب حاشیہ پر چلے گئے ہیں۔اب اگر ملک کے لئے سب اہم مسئلہ ہے ، تو یہ ہے کہ پورے ملک میں ‘ہندوتو’ ایجنڈہ کیسے نافذ ہو اور ملک کی صدیوں پرانی گنگا جمنی تہذیب اور شاندار روایات کو روندتے ہوئے’ ہندو راشٹر’ کیسے بنایا جائے۔

لیکن میرے خیال میں مشکل یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم مودی جی بیرون ممالک کی آئے دن سیر کرتے رہتے ہیں اور وہ جہاں جاتے ہیں وہاں کے لوگ اور حکومت، مودی جی کے ملک بھارت کے عوام کی خوشحالی، ان کی تعلیم و صحت کی سہولیات،اظہار آزادی اور جمہوری قدروں کی اہمیت اور آئین کے تئیں روئے پر سوالات کئے جاتے ہیں ۔ جن کے جواب میں عام طور پر ہمارے وزیر اعظم مودی جی حزب اختلاف کو ذمّہ دار قرار دیتے رہے ہیں کہ قبل کی حکومت نے ان مسائل پر کبھی توجہ ہی نہیں دیا ۔ لیکن اب تو لوک سبھا میں بھاری اکثریت ہے ہی ہے ، راجیہ سبھا میں بھی اب ہو جائیگی ، اب صدر و نائب صدر بھی ان ہی کی پارٹی کے ہونگے۔ اب ایسے سوالات کا جواب دینا ان کے لئے بڑا مشکل ہو جائیگا کہ آپ کی حکومت نے اتنے دنوں میں اپنے ملک کے عوام کے بنیادی مسائل کیوں نہیں حل کئے۔ ملک کے کسان مسلسل خودکشی کر رہے ہیں ، خودکشی سے قبل مستقل احتجاج کر رہے ہیں ، ننگے بدن ہو کر مظاہرے کر رہے ہیں ، احتجاج میں پیشاب پی رہے ہیں۔ حکومت کی نااہلی ، لاپرواہی اور خفیہ شعبہ کی بے اعتنائی کے باعث صرف ڈیڑھ سال کی مدت میں صرف سکما (چھتیس گڑھ) میں نکسلی حملے میں 123 فوجی جوان مارے گئے ہیں ، پاکستان کی سرحد پر مسلسل ہمارے نوجوان شہید کئے جا رہے ہیں ، ان کے سر تن سے جدا کر حیوانیت کا مظاہرہ ہو رہا ہے اور اب تک کوئی ٹھوس کاروائی نہ ہونے کے سبب ۔ پڑوسی ملک اور نکسلیوں کی ہمت اور حوصلے دن بدن بڑھتے ہی جا رہے ہیں ۔ صرف بیان بازی اور مذمت اس اہم مسئلہ کا حل نہیں ہے ۔ کشمیر میں جس طرح ظلم اور بربریت کا مظاہرہ کر احتجاج کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، اب تو انتہا یہ ہو گئی کہ کہ اتر پردیش کیا مختلف ریاستوں سے کشمیر میں امن وشانتی کے لئے۔ وہاں امن کے پیامبروں کو بھیجا جاتا ،لیکن افسوس کہ کشمیر میں طلم و زیادتی کے لئے کانپور سے ایک ہندو تنظیم جن سینا کے بینر تلے تقریباََ ایک ہزار سادھو، سنتوں کی فوج ایک ٹرک بھر کر اینٹ پتھر لے جانے کی اطلاع ملی ہے ، جو وہاں کے پتھر بازوں کو ان ہی زبان میں جواب دینگے ۔ اب زرا غور کیجئے کہ سادھو، سنت ، جو کبھی امن وسلامتی کے پیامبر ہوا کرتے تھے ، وہ اب کسی کی منشأ پر کشمیر جا کر پتھر چلائینگے۔حقیقت یہ ہے کہ ایسی منفی سوچ اور کوششوں سے مسئلہ مذید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ ان سارے بہت اہم مسئلوں سے رو گردانی سے مسئلہ کم نہیں ہو رہا ہے ، بلکہ ان میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے اور ہوگا۔

مشکل یہ بھی ہے کہ بڑی فیاضی کے ساتھ یہ حکومت سرکاری شعبوں کو فروغ دینے کی بجائے دوسرے نجی شعبوں کو فروغ دینے میں منہمک ہے۔مثلاََ ریلوے کو ڈیژل مہیا کرانے والی سرکاری کمپنی انڈین اوائل اور بھارت پیٹرولیم کی بجائے یہ ٹھیکہ ریلائنس کو دے دیا گیا ہے۔ اسی طرح حکومت کے شعبہ مواصلات کی بجائے ریلائنس کے ‘جیو’ کو فروغ دیا گی ۔ نوٹ بندی کے زمانے ‘پے ٹی ایم’ کی تشہیر پر زیادہ توجہ دی گئی۔ ایسی کوششوں اور عنایات کی ایک لمبی فہرست ہے، جو آئے دن اخبارات کی زینت بنتی رہی ہیں۔ اس عمل سے سرکاری شعبوں کو جو مالی طور پر بھاری نقصان پہنچ رہا ہے اور نجی کمپنیوں کی جس طرح تجوریاں بھری جا رہی ہیں ،اس سے ملک کے خزانہ پر زبردست منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ جن کی بھرپائی ظاہر ہے کہ مختلف ٹیکس کی شکل میں ملک کے غریب عوام سے ہی وصولا جا رہا ہے اور وصولا جائے گا ۔ اس سلسلے میں جب یہ ہنگامہ ہوا کہ یہ حکومت، اڈانی اور امبانی وغیرہ کی جانب داری کے ساتھ انھیں مالی منعفت پہنچا رہی ہے ، تو اس کے جواب میں پارلیامانی امور کے وزیر وینکیا نائڈو نے جو جواب دیا ، وہ یہ کہ’ یہ لوگ قبل سے ہی دولت مند ہیں۔

بڑھتی مہنگائی ، غربت اور بے روزگاری کا ہی یہ نتیجہ سامنے آ رہا ہے کہ کرپشن سرکاری محکموں میں اُپر سے نیچے تک ناقابل یقین حد تک داخل ہو چکا ہے ۔ یوں تو اس حکومت کے زیر سایہ کرپشن کی فہرست کافی لمبی ہے ، لیکن میں صرف ایک کرپشن ‘ ویاپم ‘ کا ہی ذکر کروں ، تو بھی کام چل جائگا کہ اس کرپشن نے گزشتہ کئی دہائیوں کی بدعنوانیوں کے ریکارڈ توڑ دئے ہیں ، رہی سہی کسر منی پور اور گوا میں پورا کر دیا گیا، جہاں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کے الزام کے مطابق ہزار کروڑ سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ اب ایسی حکومت کس مُنھ سے کرپشن دور کرنے کی بات کرے گی۔ رشوت خوری کا اس طر ح بازار گرم ہے کہ ایشیائی ممالک میں بڑھتی بد عنوانیوں پر سروے کرنے والی ایک تنظیم ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق رشوت خوری کے معاملے میں بھارت کافی اُنچی پائدان پر ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 69 فی صد بھارتیوں کو اپنے کام کے لئے رشوت دینا پڑتی ہے۔ ٹرانس پیرنسی کے چئیرمین جوس اگاز نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو کرپشن مخالف قانون کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ کروڑوں لوگ رشوت دینے پر مجبور ہوتے ہیں اور اس کا منفی اثر غریبوں پر پڑتا ہے۔

بھارت کی معیشت کو بار بار ترقی کی راہ پر بتایا جا رہا ہے اور ملک کے عوام کو گمراہ کرنے کے لئے ان کے سامنے غلط طور جی ڈی پی کو پیش کیا جا رہا ہے ۔ جوان معاملے کے ماہرین کے سامنے مذاق ما موضوع بن رہا ہے۔ ‘ دی اکنامسٹ ‘ان جھوٹے اور من گڑھنت ترقی کے اعداد وشمار کو پوری طرح خارج کرتے ہوئے بتا رہا ہے کہ ملک کے بینکوں اور تجارتی اداروں کے نتائج بالکل اس کے برعکس ہیں۔ملک کے 70 فی صد بینک سرکاری تحویل میںہیںاور ان بینکوں نے حکومت کی سفارش پر بڑے صنعتی و تجارتی کمپنیوں کو اب تک سات لاکھ کروڑ روپئے قرض دے رکھے ہیں ۔ وجئے مالیا چونکہ ملک کی معیشت کو چونا لگا کر فرار ہو گیا ہے ، اس لئے اس کے قرض کی تفصیل عوام کے سامنے آ گئی، ورنہ نہ جانے ایسے کتنے صنعت کار اور تاجر ہیں ، جو ملک میں بیٹھ کر بینکوں کو چونا لگا رہے ہیں۔ جس کا خمیازہ ملک کے عوام بھگت رہے ہیں ، جو بینکوں کے ذریعہ آئے دن سروس ٹیکس کے طور دینے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

ان چند مثالوں کے بعد اب یہ دیکھا جائے کہ ان سب حالات کے اثرات سے ہمارے ملک کے عوام کس قدر خوش اور خوشحال ہیں، تو اس سلسلے میں بھی عالمی سطح پر برطانیہ کے لیگا ٹم انسٹی چیوٹ کی دسویں سالانہ رپورٹ کو دیکھنے کے بعد بڑی مایوسی ہوتی ہے کہ 149 ملکوں کی مالی حیثیت ، فی کس آمدنی، کام کرنے والے افراد کی تعداد شرح وغیرہ جیسے104 نکات کو مد نظر رکھتے ہوئے انھیں 9 حصوں میں منقسم کیا گیا ہے ۔ جن میں اقتصادی مساوات، کاروباری ماحول، طرز حکومت، صحت، تعلیم، تحفظ،ذاتی آزادی اور قدرتی ماحول وغیرہ میں جہاں نیوزی لینڈ سر فہرست ہے ، وہیں ہمارا ملک بھارت 104 ویں مقام پر کھڑا اپنی کسمپرسی پر آنسو بہا رہا ہے۔

اب ایسی صورت حال میں ہمارے ملک کے وزیر اعظم اور دوسرے ‘ ذمّہ دار ‘ وزرأ ملک کے عوام کے سامنے ملک کی جس طرح کی تصویر پیش کر رہے ہیں ، وہ زمینی حقائق سے کوسوں دور ہے۔ میں یہ بات مانتا ہوں کہ موجودہ حکومت کو پارلیامنٹ اور بیشتر ریاستوں میں بھاری اکثریت حاصل ہے اور وہ اپنے ‘ہندوتو’ ایجنڈے پر کافی تیزی سے آگے بھی بڑھ رہی ہے۔ لیکن خوف اس بات کا ہے کہ بھارت کے عوام جب کبھی مڑ کر ‘ہندوتو’ ایجینڈے کے ساتھ ساتھ اپنی غربت، بے روزگاری، صحت، تعلیم، سماجی استحصال، اقتصادی مساوات اور آزادیٔ اظہار پر نظر ڈالینگے، تو پھر کیا ہوگا ؟ اس لئے کہ ایسی ہی بھاری اکثریت سے نوازنے والی عوام، اب سے تیس سال قبل کانگریس کو پارلیامنٹ میں 414 اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو 2 سیٹوں تک پہنچا چکی ہے ۔ لیکن کانگریس کی نااہلی اور عوام کی بنیادی ضرورتوں سے چشم پوشی نے اسے کہاں پہنچا یا ، یہ بھی اب سامنے ہی ہے۔’ ہندوتو ‘ کا نظریہ اور فرقہ واریت کے جنون سے عوام کو تھوڑے دنوں تک ضرور ورغلایا اور بہلایاجا سکتا ہے، لیکن بہت دنوں تک نہیں۔ اس لئے کہ یہ نظریہ او ر یہ جنون بنیادی ضرورتیں پورا نہیں کرتے ہیں ۔ اس لئے توقع ہے کہ تاریخ کی اس حقیقت کو وقت رہتے موجودہ حکومت ضرور سمجھنے کی کوشش کرے گی، او ر وہ ملک کے غریبوں، مزدوروں، کسانوں کے بنیادی مسائل پر بھی توجہ دے گی ۔ اس لئے کہ یہاں کے عوام بہت سارے فروعی معاملے کی بجائے اپنے بنیادی مسائل کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ اپنے مسائل سے حکومت وقت کی چشم پوشی پر کب سراپا احتجاج بن جائینگے ، نہیں کہا جا سکتا ہے۔

Dr Syed Ahmad Quadri
Dr Syed Ahmad Quadri

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری
رابطہ: 09934839110

Share this:
Tags:
government narendra modi states Success travel حکومت ریاستوں سفر کامیابی نریندر مودی
Haveli Lakha
Previous Post حویلی لکھا کی خبریں 6/5/2017
Next Post جو زندگی بھر ترستے ہیں زندگی کے لئے
Thalassemia Patients

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close