
تحریر: نسیم الحق زاہدی
میں کسی مذہبی وسیاسی جماعت کا کارکن یا رکن تو نہیں ہوں لیکن مجھے اپنے مذہب اور ملک سے بے حد پیار ہے میں بنیادی طور پر ایک امن پسند انسان ہوں مجھے لڑائی جھگڑوں سے بہت خوف آتا ہے اور احباب اس بات کو میری کمزوری سمجھتے ہیں میں نے کچھ ادیان کا مطالعہ کیا مگر مجھے مذہب اسلام دنیا کا بہترین مذہب لگا کیونکہ اس کی باقاعدہ آئیڈلوجی موجود ہے اس کی بنیاد ہی امن و آتشی اور انسانی حقو ق پر رکھی گئی ہے میں ذاتی طور پر ہر اس عالم دین کا معتقد ہوں جو اللہ اور اس کے رسول ۖ کے احکامات پر چلتے ہوئے۔
امن و بھائی چارے کی با ت کر تا ہے پیشہ ور مفتیوں سے ناقد ہوں جن کا مقصد حیات اشتہار ، سرکار، سیاست ہے مولانا ابو الا مودودی صاحب کے افکارات ، نظریات ، خیالات ، تعلیمات سے بہت متاثر ہوں جب میں نے تفہیم القرآ ن کا مطالعہ کیا مو لا نا نے قرآن پاک کی ایسی آسان تفسیر کی کہ جسے ایک پرائمر ی پاس انسان باآسانی پڑھ اور سمجھ سکتا ہے قرآن پاک پڑھنے کے ساتھ سمجھنے والی کتاب اللہ جو کہ ہماری کامیاب زند گی کی ضامن ہے جسکی تعلیمات پر ہم عمل پیرا ہو کر دنیا و آخرت میں بہترین زند گی گزار سکتے ہیں افسو س ہو تا ہے کہ ہم اپنے مقصد حیات کر فرامو ش کر چکے ہیں ہم مسلما ن ہیں مگر ہمارے ہر کام میں مذہب گریز پالیسی پر علم کیا جا تا ہے۔

حتی کہ ایسے کالمز اور مضامین جن میں اسلام کی افادیت ہو وہ شائع ہی نہیں کئے جاتے یہ ایک الگ بحث ہے جو کہ موضوع کالم نہیں مولانا نے مذہبی حوالے سے بہت سے اہم کارنامے سر انجام دیئے فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے آپ نے جو اپنا مؤقف بیان کیا اس کی مثال نہیں ملتی کاش اگر ہم نے مولانا صاحب کے مؤقف کو اپنا لیا ہوا ہے تو آج فرقہ واریت کی دہشتگردی کا نشانہ نہ بنتے یہ کہنا ہر گز غلط نہ ہو گاکہ پاکستان کی تحریک میں سود کے خلاف وضاحت کے ساتھ اور عورتوں کے شرعی پر دے پر لکھنے والے آپ پہلے شخص تھے۔
تحریک ِ ختم نبوت میں آپ نے بہت اہم کردار ادا کیا آپ نے قادیانیوں کو باقاعدہ غیر مسلم قرار دیا یہ اتنا بڑا کام تھا جو کہ آج کے علما ء شاید کبھی نہ سکتے آپ نے ایک نظریاتی جماعت ، جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی موروثی سیاست سے اس قدر خائف تھے کہ آپ کی اولاد میں سے وہی جما عت میں آئے جو اہلیت رکھتے تھے جما عت اسلامی نے پاکستان کی سیاست میں ہمیشہ مثبت کر دار ادا کیا میری اس با ت سے بہت سے افراد کو اختلاف بھی ہو سکتا ہے کیونکہ دو سرا شعبہ ہائے زندگی کی طرح شعبہ صحافت میں بھی ایسے افراد کی کمی نہ ہے جن کی زندگیوں کا مقصد صرف تنقید برائے تنقید ہوتا ہے تفہیم القرآن 6 جلدوں پر مشتمل قرآن کر یم کی مکمل تفسیر ہے جو کہ انتہائی شگفتہ اور سادہ الفاظ میں تحریر کی گئی ہے جس کا مطالعہ کر نے کے بعد انسان اپنی زند گی میں واضح تبد یلی لا سکتا ہے۔

کیونکہ ہم عجمی ہیں قرآن کریم کو عربی میں پڑھنے میں ہمیں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے قرآن کر یم پڑھنے سے زیا دہ سمجھنے والی کتاب ہے مولا نا صاحب نے مذہنی اٹھنے والے ہر فتنے کے خاتمے کیلئے بروقت لکھا آواز اُٹھائی مگر ہمارے ہاں عجب رواج ہے کہ ہم احسان فراموش لو گ ہیں نہ صر ف اپنے محسنوں کو فرامو ش کر تے ہیں بلکہ ان کے ذات پر بہتان لگانا ہما را شیوہ ہے یہ با ت بڑے وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ آج اگر ہمار ا حکمران طبقہ صرف تفہیم القرآن کا بغور مطالعہ کر لیں تو ہم پستیوں سے نکل کر ترقیوں کی راہ پر گامز ن ہو سکتے ہیں۔

لٹن روڈ پر واقع جماعت اسلامی لاہور کے دفتر میں کئی بار جانے کا اتفاق ہو ا امیر جماعت اسلامی لاہور میاں مقصود صاحب سے ملا قاتوں کا شرف حاصل ہو تا رہتا ہے میں جما عت اسلامی کے با نی مولا نا ابو الا مو دودی صاحب سے لیکر پوری جما عت کر خراج ِتحسین پیش کرتا ہوں جو کہ آج کے پرُ فتن دور میں بھی امن کا الم بلند کئے ہوئے ہیں اور ظاہر ی با طنی طاغوتی طاقتوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں تربیتی نشتیوں میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا حکومت میں رہتے ہوئے۔
حکومتی اصلاح کی با ت کر نا کوئی معمولی بات نہیں میرا یہ کالم ان احبا ب کیلئے خاص طور پر جنہوں نے مولانا کو سرے سے پڑھا ہی نہیں اور ان کے خیا ات ، افکارات ، نظریات ، تعلیمات پر انگلیاں اُٹھاتے ہیں ان سے گذارش ہے کہ کسی کے علم کو جاننے کیلئے اس علم کو پڑھنا نہا یت ضروری ہو تاہے لاہور میں فلاحی، رفاہی ، اصلاحی خدمات کے حوالے سے میاں مقصود امیر جما عت اسلامی کا نام سر ِفہر ست ہے میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس جماعت کا حامی و ناصر ہو۔

