Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

دوقومی نظریہ کی تلوار

March 22, 2015 0 1 min read
Quaid e Azam
Quaid e Azam
Quaid e Azam

تحریر : قاضی کاشف نیاز
23مارچ1940ء کو قراردادِ پاکستان پیش کی گئی۔ گویا دو قومی نظریہ کو باضابطہ طور پر پیش کر دیا گیا۔ کسی مسئلے پر کسی خاص دن قرارداد پیش کرنے کامطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ مسئلہ یا نظریہ وتصوراسی دن پیداہوا اور اسی دن پیش کردیاگیا بلکہ مسئلہ یا نظریہ توعموماً پہلے سے موجود ہوتاہے’ صرف اس کا باضابطہ یاپرزور اظہاربعض اوقات کسی خاص دن کیاجاتاہے۔ قراردادپاکستان کے متعلق بھی ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ قراردادِپاکستان کی بنیاد بننے والا دوقومی نظریہ تو صدیوں پہلے سے موجودتھا لیکن برصغیر میں اس نظریہ کی بنیاد پر مسلمانوں کے لیے الگ ملک پاکستان کے قیام کامطالبہ 23 مارچ1940ء کوکیاگیا۔ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے اس آفاقی حقیقت کو اپنے ان الفاظ میں طشت ازبام کیاتھا۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہاتھا کہ ” پاکستان تواسی دن معرض وجود میں آگیا تھا جس دن یہاں پہلا ہندومسلمان ہواتھا۔” یعنی اسی دن برصغیر میں دوقومی نظریہ کی تلوار چل پڑی تھی جس دن یہاں پہلا شخص مسلمان ہوااوربالآخر 23 مارچ 1940ء کو یہ نظریہ وتصور قراردادِپاکستان کی صورت میں ڈھلا اور 14اگست 1947ء کو پاکستان کے قیام کی صورت میں اس نظریہ نے متجسمّ شکل اختیار کرلی۔یوں دو قومی نظریہ کی اس تلوار نے ہندوؤں کی گاؤماتا کے بالآخر تاابد دوٹکڑے کردئیے۔ ماؤنٹ بیٹن کو یہی بات سمجھاتے ہوئے قائداعظم نے کہا تھا: ”لارڈ صاحب! یہاں دوالگ الگ قومیں بستی ہیں جن کا جینا مرنا ‘اٹھنا بیٹھنا الگ الگ ہے۔ غمی وخوشی کے طورطریقے علیحدہ ہیں۔پیداہونے سے لے کرمرنے تک کی ساری رسومات جداجداہیں۔ ہندؤوں کے سینکڑوں بھگوان اور اوتار ہیں۔ہمارا صرف ایک خداہے۔ وہ جس گائے کو بھگوان کادرجہ دیتے ہیں’ہم اسے شوق سے ذبح کر کے کھاجاتے ہیں۔”

کہاجاسکتاہے کہ تحریک پاکستان سے پہلے دو قومی نظریہ کاعملاً وجود نہ تھا اور نہ اس میں کوئی حقیقت و صداقت تھی۔ اگربالفرض ایک لمحے کے لیے یہ بات مان بھی لی جائے توکیاوجہ ہے کہ دو قومی نظریہ پاکستان کے قیام کے پہلے دن سے لے کر آج تک مسلسل اپنے وجود اور صداقت کی گواہی دے رہاہے۔ ہندو کو جب بھی مسلمانوں پر طاقت اور اقتدار و اختیار ملا’وہ انہیں دیوار سے لگانے اورصفحۂ ہستی تک سے مٹانے سے بازنہیں آتا۔ 1937ء میں یہ کانگریسی وزارتوں کا دور ہی تھا جس نے مسلمانوں کو آنکھیں کھولنے پرمجبور کردیا’ مسلمانوں پر گائے کے ذبیحہ پرپابندی لگادی گئی۔ تمام سرکاری محکموں سے مسلمانوں کو چن چن کر فارغ کیاجانے لگا ‘مسلمانوں کی بھرتی عملاً ناممکن بنادی گئی’مسلمانوں کے خلاف قتل وغارت کا بازار گرم کردیا گیا… اس دورمیں مسلمانوں پر بڑھائے جانے والے مظالم کا تذکرہ سرکرپس نے برطانوی ایوان میں یوں کیا: ”کلکتہ کے فسادات میں چارہزارآدمی موت کے گھاٹ اتاردیے گئے۔مشرقی بنگال میں دوسومارے گئے اور پچاس ہزار بے گھر ہوئے۔بہارکے خونی ہنگاموں میں پانچ ہزارمسلمان شہیدہوئے۔”(بوئے گل از شورش کاشمیری) لوگ آج بھی حیران ہوتے ہیں کہ مسلم لیگ نے 1940ء کوقراردادِپاکستان منظورکی اور صرف 7سال کی مختصر ترین جدوجہدمیں وہ ایک الگ ملک حاصل کرنے میں کیسے کامیاب ہوگئی۔اس راز کوبھی خودبانیٔ پاکستان محمد علی جناح نے ان الفاظ میں طشت ازبام کیاتھا’ا نہوں نے اپنے ایک خطاب میں کہاتھا”پاکستان مسلمانوں نے نہیں بلکہ ہندو کے تعصب نے بنایا۔”یہ کتنی بڑی راز اور حقیقت کی بات ہے ۔ہندو چاہتے توبعد میں اپنے عمل وکردار اورمسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک سے ان کے اس نظریہ کو غلط ثابت کرسکتے تھے لیکن جو قوم نچلی ذات کے اپنے ہم مذہب لوگوں کو اپنے ساتھ برابری کادرجہ دینے پرتیارنہ ہو’ اعلیٰ ذات اورنیچ ذات کے ہندؤوں کی آج بھی عبادت گاہیں یعنی مندرتک الگ الگ ہوں’اکٹھے ایک برتن میں کھانے پینے کے بھی روادار نہ ہوں’ مسلمانوں کی طرح وہ انہیں بھی ملیچھ اور ناپاک سمجھتے ہوں توبھلاوہ مسلمانوں کو کب برابری کادرجہ دے سکتے تھے۔

ایک بھارتی کانگریسی مسلمان عالم مولانا ارشد مدنی صدرجمعیت علمائے ہند نے دوسال قبل کہاتھا کہ” قیام پاکستان سے اب تک بھارت میں 60ہزار سے زائد مسلم کش فسادات ہوچکے ہیں۔ ”ان فسادات میں لاکھوں مسلمان شہیدہوچکے۔ آئے روز کے ان فسادات کو دیکھ کر پھربھی کوئی کہے کہ ہندومسلم اکٹھے رہ سکتے ہیں تواس کی عقل کاماتم ہی کرناچاہیے۔ ہندو چاہتے توبھارت کو مسلمانوں کے لیے پرامن ترین جگہ بنادیتے لیکن مسلمانوں کے خلاف ان کا بغض وتعصب کم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھتا جارہاہے۔ نوبت یہاں تک پہنچی اور مسلمانوں کو اس قدر دیوار سے لگادیاگیا کہ خود گزشتہ کانگریس حکومت کی سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی حالت دلت (شودروں) سے بھی بدترہوچکی ہے۔نہ وہاں ان کی جان ومال محفوظ ہے’نہ ان کی عزتیں اورنہ مسجدیں۔بابری مسجد سمیت یہاں سینکڑوں مسجدیں شہید کردی گئیں۔ ملک کی اعلیٰ ملازمتوں میں ان کاکوئی حصہ نظرنہیں آتا ۔مسلمانوں کی اکثریت محض اب وہاں مزدور پیشہ ہے۔ پاکستان میں ایک مندر یاگرجاتباہ ہو توفوراً ازسرنو پہلے سے بھی بہترتعمیرکردیاجاتاہے لیکن بھارت میں بابری مسجد شہید کرکے ہندو دہشت گردوں نے دن دیہاڑے اتنا بڑا ظالمانہ اقدام کیا لیکن بابری مسجد کی شہادت کو آج 22سال بیت گئے’ بھارت میں کتنی ہی حکومتیں آئیں اور گئیں لیکن کسی بھی پارٹی کی حکومت مسلمانوں کو بابری مسجد دوبارہ بناکر دیناتوکیا’اس کاجھوٹا وعدہ کرنے کوبھی تیار نہیں۔اس سانحۂ عظیم کے کسی ایک مجرم کو بھی آج تک سزا نہیں ملی’نہ ہی کسی اورفساد میں کسی ہندوکوکبھی کوئی سزا ملی۔ آج بمبئی جیسے بھارت کی ایک بڑے اقتصادی شہر میں مسلمانوں کو نہ تومسجد بنانے کی اجازت ہے اور نہ پرانی مسجدوں میں توسیع کی اجازت ۔اس کانتیجہ ہے کہ وہاں مسلمان تین تین شفٹوں میں جمعہ کی نمازیں پڑھنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف کوئی نادانستہ زیادتی بھی ہوجائے’ہمارے سیکولرزم کے دعویداروں سمیت پورا بھارت اس معمولی زیادتی کے خلاف چیخ اٹھتاہے لیکن مسلمانوں کے خلاف زیادتی پر کوئی بات کرنے کو بھی تیار نہیں۔

Muslims Prison
Muslims Prison

آج بھارت میں ہر دوسرے مسلمان کو دہشت گرد قرار دے کرجیلیں بھری ہوئی ہیں۔بھارت میں مسلمانوں کی آبادی 15-20 فیصدہے لیکن جیلوں میں ان کاتناسب 75فیصد سے زائد ہے۔تازہ رپورٹ کے مطابق 52ہزارسے زائد مسلمان جیلوں میں بند ہیں۔ آج آندھرا پردیش ‘ مدھیہ پردیش ‘ راجستھان ‘دہلی’گوا’ گجرات ‘کرناٹک سمیت بھارت کی اکثرریاستوں میں گائے ذبح کرنے پر پابندی ہے۔ابھی حال ہی میں فیس بک پر ایک وڈیو سامنے آئی جس میں گائے ذبح کرنے والے مسلمانوں کو ہندوپکڑکر ویرانے میں لاتے ہیں اور پھر انہیں باندھ کر ان پرمختلف قسم کے جسمانی تشدد اور ٹارچرکرتے ہیں۔ ان کی ٹانگیں باندھ کر پاؤں کھڑے کر کے ان پر لوہے کے راڈ برساتے ہیں اور انہیں ننگی گالیاں دے کر ان کے منہ پرپیشاب کرکے انہیں پیشاب پینے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کوکھلم کھلا کہاجاتاہے کہ تم سب پاکستان چلے جاؤ یاعرب چلے جاؤ۔ہندوستان میں رہنا ہے تو ہندوبن کر رہناہوگا۔ مسلمانوں کی بے بسی یہاں تک ہے کہ وہ اپنے خلاف ظلم پرآواز تک نہیں بلند کرسکتے ‘کوئی ان کے حق میں آواز بلند کرے تواس سے بھی سخت خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور ان کی حالت کل کے بغداد اورآج کے وسطی افریقہ کے مسلمانوں کی طرح ہوتی جارہی ہے جہاں وہ اپنے آپ کو ذبح کے لیے خود آکر پیش کرتے رہے۔ہم تاریخ کی کتابوں میں پڑھتے تھے کہ قیام پاکستان سے قبل ہندؤوں نے مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنانے کے لیے شدھی کی تحریک شروع کی تھی۔ اس وقت ہم اسے کم تعلیم کی وجہ سے دورتاریک کی بات سمجھتے تھے لیکن آج ہی کے دور میں ہندؤوں نے ایک بار پھر اسی تحریک کا دوبارہ پہلے سے بھی شدت کے ساتھ آغازکردیاہے اور وہ ہزاروں غریب مسلمانوں اور عیسائیوں کو پیسے کا لالچ اور جان ومال اور عزت کا خوف دلاکر انہیں زبردستی ہندو بناتے ہیں اور ان کے رہنمایہاں تک دعوے کر رہے ہیں کہ آئندہ 20-25 سالوں میں ہندو ستان سے مسلمانوں کا مکمل صفایا کردیں گے۔

آج یہ ہندو تعصب ہی ہے کہ بھارت کاایک انتہا پسند دہشت گرد وزیراعظم بن کر بھارت کے اقتدار پر قابض ہے۔ پاکستان میں اگرپروفیسرحافظ محمدسعیدd اپنی صرف دعوتی سرگرمیاں ہی جاری رکھیں تو بھارت کی حکومتی اوراپوزیشن سمیت تمام پارٹیوں اور بھارتی میڈیا کو سخت اعتراض ہوتاہے کہ حافظ سعیدdکھلم کھلا اپنی سرگرمیاں کیوں جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن مودی پرکوئی حرف لانے کوتیار نہیں جو گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کاقاتل ہے۔ بھارت نے پاکستان کے ساتھ توہرظلم روا رکھا’ جوناگڑھ’حیدرآباد دکن اور مناوادر پر قبضہ کیا’مشرقی پاکستان میں کھلم کھلا فوجی مداخلت کرکے پاکستان کے دو ٹکڑے تک کردیے لیکن اسے کوئی دراندازی ماننے کو تیار نہیں’ پاکستان کی شہ رگ کشمیر کواقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود چھوڑنے کو تیار نہیں’پاکستان کے دریاؤں پر قبضہ کرکے اوریہاں بیسیوں ڈیم بناکر پاکستان کو صحرا بنانے کے مشن پرکاربند ہے’سیاچن اور سرکریک جیسے آسان مسائل بھی حل کرنے کوتیار نہیں۔سمجھوتہ ایکسپریس میں 60سے زائد پاکستانیوں کوزندہ جلانے والے مجرموں کو ہمارے حوالے کرنے کوتیار نہیں ‘اب وہ ہمارے عام ماہی گیروں کی راستہ بھولنے والی کشتی کو بھی دہشت گردوں کی کشتی قرار دے کر دیدۂ دلیری سے تباہ کرنے کا اعتراف کرچکاہے لیکن اس سے پوچھنے والا پھربھی کوئی نہیں۔ ہندو پاکستان کو تو ایک دشمن ملک قرار دے کر ہر زیادتی کرنااپناحق سمجھتاہے لیکن اگر اس کے اندر تھوڑی سی بھی انسانیت ہوتی توکم ازکم بھارت کے مسلمانوں کو ہی عزت سے جینے کابرابرحق دے دیتا اوردنیاپریہ ثابت کر دیتا کہ اس کی دشمنی مسلمانوں سے نہیں ‘صرف پاکستان اور نظریۂ پاکستان کے حامیوں سے ہے لیکن ہندو نے پاکستان کے قیام کے بعد60سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود تحریک پاکستان کے قائدین کے ہندؤوں سے متعلق اپنے خدشات کی پہلے سے بھی بڑھ کر تصدیق کی۔ آج بانی ٔپاکستان کے اس فرمان کی صداقت پہلے سے زیادہ اظہرمن الشمس ہوکرسامنے آگئی ہے

Quaid e Azam Meeting
Quaid e Azam Meeting

‘ 13 ستمبر1942ء کو قائداعظم نے نئی دہلی میں ایک امریکی نامہ نگارسے ہندورہنماؤں کے طرزِعمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا: ”وہ کھلم کھلا کہتے ہیں کہ وہ اس برصغیرمیں ہندو راج قائم کرناچاہتے ہیں اور مسلمانوں کو اس کے سامنے سرتسلیم خم کردیناچاہیے اوراگرمسلمان سیدھے نہ ہوئے تو ان کے ساتھ وہی سلوک کیاجائے گا جو جرمنی میں یہودیوں کے ساتھ کیاجاتا ہے” کیاآج بھارت میں وہی انتہاپسندپارٹی برسراقتدار نہیں جس کاکھلم کھلا ایجنڈا ہی یہی ہے کہ وہ بھارت میں ہندو راج اور رام راج قائم کرناچاہتی ہے اور مسلمانوں کا بھارت سے مکمل صفایا کرناچاہتی ہے۔گجرات’بمبئی اور مظفرنگر کے حالیہ فسادات اس کامنہ بولتا ثبوت ہیں جن میں مسلمانوں کی بستیوں کی بستیاں صاف کردی گئیں۔ کیایہ بات پھر ظاہر نہیں ہوگئی کہ دو قومی نظریہ کی صداقت کل بھی ثابت تھی اور آج بھی ثابت ہے ۔آج کوئی بھی بھارت جائے تووہ اپنی کھلی آنکھ سے دیکھ سکتاہے کہ وہاں بھی ہندو مسلمان اکٹھے نہیں رہ رہے۔ ہندوکی بستیاں’ آبادیاں اورمحلے الگ اور مسلمانوں کی بستیاں اورمحلے الگ ہیں اورانہیں منی پاکستان کا نام دیا جاتا ہے۔غرض دوقومی نظریہ آج بھی بھارت کے اندرخود کو منوا رہاہے اور دوقومی نظریہ کی یہ تلوار گاؤماتا کے مزید ٹکڑے ٹکڑے تاابد کرتی رہے گی۔ان شاء اللہ

تحریر : قاضی کاشف نیاز

Share this:
Tags:
ideology Muslim nation pakistan problem quaid e azam sword پاکستان تلوار قائداعظم قوم مسئلے مسلمان نظریہ
Pakistan
Previous Post ”دو قومی نظریہ ہی اساس و استحکام پاکستان ہے”
Next Post حکومت مان گئی ہے، اب جوڈیشل کمیشن بن گیا ہے، ہم خیر مقدم کرتے ہیں

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close