Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک

April 22, 2019 0 1 min read
Fawad Chaudhry
Fawad Chaudhry
Fawad Chaudhry

تحریر : پروفیسر رفعت مظہر

مشہور پنجابی محاورہ ہے ”ڈاچی اوس ویلے سُوئے گی جَدوں سائیں مَرگئے” (اونٹنی تَب بچہ پیدا کرے گی جب مالک مر گئے)۔کچھ ایسی ہی صورتِ حال کا سامنا قوم کو ہے جس کو سہانے سپنے دکھائے گئے اور کہا گیا کہ پہلے 100 دنوں میں ہی قوم کی تقدیر بدل دی جائے گی۔ 100 دِن تو کیا اڑھائی سو دِن گزر گئے لیکن ہر روز مصائب وآلام میں اضافہ ہی ہوا۔ جب کچھ بَن نہ پڑا تو کہہ دیا گیا کہ یوٹرن کے بغیر کوئی بڑا لیڈر نہیں بن سکتا۔ ریاستِ مدینہ کی تشکیل کے دعویداروں کی کمند اب ”صبر” پہ ٹوٹی۔ سوال مگر یہ کہ اگر ”صبر” پر بھی یوٹرن لے لیا گیاتو مفلسوں کے پاس باقی کیا بچے گا سوائے خودکشی کے۔

ہمیں تو یہ بھی علم نہیں کہ اِس صبر کی حد کہاں تک ہے۔ کوئی دو سال صبر کی تلقین کر رہا ہے تو کوئی تین سال اور کچھ ”محتاط” پورے پانچ سال بھی مانگ رہے ہیں۔ سوال مگر یہ کہ صبر کب تک؟۔ مہنگائی، لوڈشیڈنگ، کریش کرتی سٹاک مارکیٹ، روپے کی ناقدری، ڈالر کی اونچی اُڑان، پٹرولیم مصنوعات اور گیس کی تیزی سے بڑھتی قیمتوں اور معیشت کی بربادی پر صبر کب تک؟۔ اڑھائی روٹیوں کی جگہ ایک روٹی کھانے کا ”مفیدمشورہ” دینے والے وزیر باتدبیر کے ارسطوانہ مشورے پر صبر کب تک؟۔ جھوٹ کی آڑھت سجاتے وزراء کی لاف زنی پر صبر کب تک؟۔ ایک وزیر نے فرمایا کہ عافیہ صدیقی کے معاملے پر قوم کو جلد خوشخبری ملے گی۔ معروف صحافی سلیم صافی نے پول کھول دیا ” وزارتِ خارجہ کے مطابق سِرے سے کوئی پیش رَفت نہیں ہوئی۔ یہ بیان محض اخبارات میں سُرخی لگوانے کے لیے دیا گیا”۔ ایک وزیرِمملکت دور کی کوڑی لائے۔ اُنہوں نے ہزارہ کمیونٹی کے دھرنے میں انکشاف کیا کہ وزیرِاعظم عمران خاں نے ایرانی صدر ہاشمی رفسنجانی سے طویل مذاکرات کیے۔

بھائی! ہاشمی رفسنجانی تو 2017ء میں وفات پاچکے۔ کیا اُنہیں قبر سے نکال کر کپتان سے ملاقات کروائی گئی یا پھر کپتان خود ملاقات کے لیے قبر میں تشریف لے گئے؟۔ نَووارد وزیر پارلیمانی امور بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کہا کہ عوام احتجاج کے لیے باہر نکلے تو شدید گرمی میں اُن کی ”چھترول” ہوگی۔ شاید جمہوریت کا حُسن یہی ہے کہ ووٹ لینے کے بعد ووٹرز کی ”چھترول” کی جائے۔ شاید اِسی لیے اعجاز شاہ کو وزارتِ داخلہ کا قلمدان دے دیا گیا ہے تاکہ ”چھترول” میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو سکے۔ اسد عمر المعروف عالم چَنّا 27 ارب قرضے کی نوید سناتے سناتے وزارت سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے۔ صرف اسد عمر ہی کیا حکومت میں تو وزارتوں کی ”اُکھاڑ پچھاڑ” کا سونامی آگیا۔ پہلے یہ سونامی بیوروکریسی میں آیا ہوا تھااب وزراء بھی اِس میں شامل ہوگئے ہیں۔

فواد چودھری جہلمی کو اطلاعات ونشریات کی بجائے سائنس وٹیکنالوجی کا وزیر بنا دیا گیاجس پر نوازلیگ کی مریم اورنگ زیب نے کہا کہ یہ بہت اچھا ہوا، اب پاکستان میں ہیلی کاپٹر 55 روپے فی کلومیٹر کے حساب سے کرائے پر چلا کریں گے۔ فوادچودھری کی جگہ فردوس عاشق اعوان کو اطلاعات ونشریات سونپنے پر ہم خوش کہ کپتان نے میڈیا کو اُس کی اوقات یاد دلا دی۔تحریکِ انصاف کی حکومت میںپرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر پارلیمانی کی جگہ صدارتی نظام کا شور تو سب نے سُنا اور پڑھا، اب عملی نمونہ بھی سامنے آگیا۔ منتخب ارکان کی جگہ غیر منتخب ٹیکنو کریٹس کی حکومت قائم ہو چکی۔ معاونینِ خصوصی اور مشیران کی بھرمار دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ صدارتی نہیں، پارلیمانی نظام ہے،نام البتہ پارلیمانی نظامِ حکومت ضرور۔ اب پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں میں عنقریب اُکھاڑ پچھاڑ شروع ہو جائے گی۔ کپتان نے جس ”تبدیلی” کا نعرہ لگایا تھا، وہ شاید یہی تھی۔

بات دوسری طرف نکل گئی، ہم کہہ رہے تھے کہ دیکھتے ہیں کہ قطرے کو گہر میں ڈھالنے کے دعویدار ”قومی صبر” کا اور کتنا امتحان لیتے ہیں۔ فی الحال تو ڈھلتی عمر کے گہرے ہوتے سایوں میں ہم سوچ رہے ہیں کہ کیا دَمِ واپسیں سے پہلے ہم اُس پاکستان کی ایک جھلک دیکھ پائیں گے جو علامہ اقبال کا خواب اور قائدِاعظمکی محنتوں کا ثمر تھا۔ چہارجانب مایوسیوں کی تَنی ہوئی دبیز چادر میں اختر شیرانی یاد آئے۔

اے عشق کہیں لے چل اِس پاپ کی بستی سے
نفرت گہہ عالم سے ، لعنت گہہ ہستی سے
اِن نفس پرستوں سے ، اس نفس پرستی سے
دور اور کہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
آکاش کے اُس پار اِس طرح کی بستی ہو
جو صدیوں سے انساں کی صورت کو ترستی ہو
اور جس کے نظاروں پہ تنہائی برستی ہو
یوں ہو تو وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

صبر کی تلقین کرنے والے کہتے ہیں کہ گزشتہ حکومت نے قیمتوں پر مصنوعی کنٹرول کرکے ”بے ایمانی” کی۔ وہ کہتے ہیں کہ مصنوعی طریقے سے لوڈشیڈنگ پر قابو پایا گیا، مصنوعی طور پر ڈالر کنٹرول کیا گیااور مصنوئی طریقے سے گروتھ ریٹ بڑھایا گیا۔ 27 ارب ڈالر قرضے کی نوید سنانے والے ”ایماندارو”! کہیں یہ سڑکیں، موٹرویز، اوورہیڈز اور انڈرپاسز بھی مصنوعی تو نہیں؟۔ کہیں 100 ارب روپے میں چلنے والی 3 میٹرو بسیں بھی محض خواب وخیال تو نہیں (ایمانداروں نے پشاور میں 100 ارب لگا دیا لیکن تاحال میٹرو کی جگہ کھڈے ہی کھڈے)۔ کہیں ساڑھے گیارہ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا دعویٰ بھی تو مصنوعی نہیں؟۔ 66 روپے فی لٹر فروخت ہونے والا پٹرول تو یقیناََ مصنوعی ہی ہوگا ، اِسی لیے تو ایمانداروں نے پٹرول 100 روپے فی لٹر کر دیا۔ ہم یہ سوچنے پر مجبور کہ یقیناََ ”اقتصادی راہداری منصوبہ” بھی مصنوعی ہی ہوگا اور ہسپتالوں میں ملنے والی مفت ادویات تو ”دو نمبر”ہوں گی ہی۔ حیرت ہے کہ بے ایمانوں نے پانچ سالوں میں 40 ارب ڈالر قرضہ لیا اور 46 ارب واپس کیا۔ پھر بھی حکومت چھوڑتے وقت قومی خزانے میں 19 ارب ڈالر موجود۔ اگر یہ سب ”بے ایمانی” کی برکتوں سے ہوا تو خُدارا آپ بھی بے ایمان بن جائیں کہ بے ایمانوں کے جانے کے بعد خزانہ خالی اور ہم دَر دَر کے بھکاری، اگر مذید بھیک نہ ملی تو ملک دیوالیہ۔

صبر کی تلقین کرنے والوں نے ادویات کی قیمتوں میں 55 سے 200 فیصد اضافہ کر دیا۔ پنجاب کی وزیرِصحت فرماتی ہیں کہ صرف اُن ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا جو ایمرجنسی اور آپریشن تھیٹر میں استعمال کی جاتی ہیں۔ اُنہوں نے فرمایا ”ہم سارے پنجاب کا بجٹ ادویات کے لیے نہیں دے سکتے، نہ ہی آوٹ ڈور والے ہر مریض کو دوائی دے سکتے ہیں”۔ محترمہ کے بیان سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ اپنی ”گِرہ” سے ادویات خرید کر قوم پر احسانِ عظیم کر رہی ہوں۔ اُنہیں علم ہونا چاہیے کہ یہ عوام کی نَس نَس سے نچوڑا ہوا لہو ہی تو ہے جس کے بَل پر وہ ایسے بیانات داغ رہی ہیں۔ اگر صرف آپریشن تھیٹر اور ایمرجنسی ادویات مہنگی کی گئی ہیں تو اُنہیں خریدے گا کون؟۔ کیا محترمہ نہیں جانتی کہ اشرافیہ تو ”متعفن” سرکاری ہسپتالوں کا رُخ ہی نہیں کرتی۔ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے تو علاج کے لیے یورپ اور امریکہ کا رُخ کرتے ہیں یا پھر مہنگے ترین پاکستانی ہسپتالوں کا۔ سرکاری ہسپتالوں میں تو نجبور، مقہور اور راندہ درگاہ ہی آتے ہیں۔ اُنہیں اگر مفت ادویات نہیں مل سکتیں تو اُن کے لیے ادویات مہنگی کرنا کہاں کا ”انصاف” ہے۔ محترمہ ساری زندگی شعبۂ طِب سے وابستہ رہی ہیں، اُن سے سوال ہے کہ کیا ایمرجنسی اور آپریشن تھیٹر کا تعلق شعبۂ طِب سے نہیں۔ کیا سرکاری ہسپتالوں کے سارے آؤٹ ڈورز بند کر دینے چاہییں تاکہ ”نہ رہے بانس، نہ بجے بانسری”۔

سوال یہ بھی ہے کہ جب پنجاب حکومت وزیروں، مشیروں اور ارکانِ اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں 3 گُنا اضافہ کر رہی تھی، تَب محترمہ کہاں تھی۔ جب پنجاب کے وزیرِاعلیٰ کی تنخواہ میں یک لخت 6 گُنا اضافہ کیا گیا، تَب محترمہ نے کیوں نہیں کہا کہ یہ بھوکوں مرتی قوم پر ظلمِ عظیم ہے۔ ارکانِ اسمبلی تو اپنی ”توندیں” بڑھانے کے لیے تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کروا رہے تھے حالانکہ کروڑوں روپے صرف کرکے اسمبلیوں میں پہنچنے والوں کو تنخواہوں کی ضرورت ہے نہ مراعات کی لیکن جن مجبوروں کی زندگیاں داؤ پر لگی ہیں، اُن کے لیے مفت ادویات پر حکمران چیں بہ چیں کیوں؟۔ محترمہ کے ”بڑے صاحب” تو ریاستِ مدینہ کا ماڈل تھامے گلی گلی پرچار کر رہے ہیں لیکن ریاستِ مدینہ میں تو دریائے فرات کے کنارے مر جانے والے کتّے کی روزِ قیامت پُرسش پر بھی امیرالمومنین حضرت عمر لرزہ بَراندام تھے۔ بڑے صاحب کو یاد رکھنا ہو گا کہ ریاستِ مدینہ میں انصاف تھا، ”تحریکِ انصاف” نہیں۔ تحریکِ انصاف کی حکومت میں مفلسوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے اُسے دیکھ کر تو بے اختیار یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ

پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار
اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو

اگر کوئی لاوارث مر جائے تو اُس کی لاش میڈیکل سٹوڈنٹس کے کام آئے اور اگر لواحقین ہوں تو لاش لے جانے کے لیے ایمبولینس کے پیسے نہیں۔ کیا یہی ہے ریاستِ مدینہ؟۔

Prof Riffat Mazhar
Prof Riffat Mazhar

تحریر : پروفیسر رفعت مظہر

Share this:
Tags:
Inflation journalist leader nation state ریاست صحافی قوم لوڈشیڈنگ لیڈر مہنگائی
Indian Election
Previous Post بھارتی انتخابات میں پیسوں کا بے دریغ استعمال
Next Post اٹل حقیقت ! مائیکل جیکسن
Michael Jackson

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close