
تحریر : خواجہ مظہر گنجیال
کیا ھماری قومیت پاکستانی ھے؟ کیا ھم سعودی ھیں؟ کیا ھم نائجیرین ھیں؟ یا ھم افغانی ھیں؟ یا شاید ھمیں یاد ھی نہیں کہ ھم کون ھیں؟ جہاں تک ھماری تاریخ بتاتی ھے ھم مسلمان تھے اور ھم سرحدوں کے غلام نہیں تھے۔
ھم ایک عظیم قوم تھے جو ایک امیرالمومنین کے ماتحت دنیا پر حکمرانی کرتے تھے. لیکن پھر صیہونی طاقتوں نے ھمارے دل سے ھمارے عظیم سربراہ امیرالمومنین کا تصور ختم کر کے ھمیں سرحدوں کا غلام بنا ڈالا۔
پھر جہاں جس کو امیرالمومنین نے سپاہ سالار بنا کر بھیجا وہ وہاں کا خودساختہ سربراہ بن بیٹھا۔اور پھر صیہونیوں نے جمہوریت کا وہ جال بنا کہ آج ھر اٹھتا ھوا نوجوان اپنی ذات میں ایک لیڈر بنا ھوا ھے۔
اگر آج کسی کو امیرالمومنین بنانے کی بات چل نکلے تو سوال اٹھتا ھے کے فلاں ملک سے کیوں ھمارے ملک سے کیوں نہیں۔
تو جب تک سب مسلمان ممالک کسی ایک مرد بحران کو اپنا امیر مقرر نہیں کر لیتے اللہ کا عذاب نازل ھوتا رھے گا کبھی مسئلہ افغان کی صورت تو کبھی مسئلہ عراق مسئلہ فلسطین مسئلہ کشمیر اور کبھی مسئلہ شام کی صورت۔
یا پروردگار جلد حضرت مہدی علیہ السلام کو بھیج کے مسلم امت کا ڈوبا ھوا سورج پھر سے طلوع ھو۔ آمین
تحریر : خواجہ مظہر گنجیال
