
اسلام آباد (جیوڈیسک) نیٹو فورسز کے افغانستان سے انخلاء کے حوالے سے وزیراعظم سیکریٹریٹ نے کام شروع کر دیا ہے۔ وزیراعظم سیکریٹریٹ میں قائم سیل کی سمری میں کہا گیا ہے کہ نیٹو فورسز کے انخلاء کیلئے استعمال سے گوادر روٹ کی تجارتی اہمیت اجاگر ہو گی۔ بلوچستان میں روزگار کے مواقع بڑھنے سے شدت پسندی کم ہو گی۔ وزیراعظم سیکریٹریٹ کی سمری میں کہا گیا ہے کہ گوادر کے راستے نیٹو فورسز کے انخلاء کی شرائط اور طریقہ کار کا تعین صرف پاکستان ہی کرے۔
انخلاء کے دوران امریکیوں کی مدد سے بی ایل اے سمیت شدت پسند گروپوں کی کارروائیاں کنٹرول کی جا سکتی ہیں۔ سمری میں گوادر کے راستے نیٹو اور ایساف فورسز کے انخلاء کو ملکی معیشت کیلئے سود مند قرار دیتے ہوئے تجویز کیا گیا ہے کہ منصوبے پر عملدرآمد کیلئے بلوچستان میں ریلوے اور روڈ انفراسٹرکچر کی فوری تعمیر بھی یقینی بنانا ہو گی۔ خیال رہے کہ پاکستان سے نیٹو افواج کے لئے 70 فیصد سامان طورخم جبکہ 30 فیصد چمن بارڈر کے راستے افغانستان جاتا ہے۔ پاکستان نیٹو سپلائی لائن پر کوئی ٹیکس وصول نہیں لیتا۔
کراچی سے کھانے پینے کی اشیاء سمیت نیٹو افواج کا 70 فیصد سامان افغانستان پہنچانے کے لئے طورخم بارڈر استعمال کیا جاتا ہے۔ کنٹینرز پر لدا یہ سامان خیبر ایجنسی سے گزرتا ہے جہاں ماضی میں شدت پسندوں کے حملوں میں بے شمار کنٹینر تباہ کئے گئے۔ یہ سامان کابل، بگرام اور قریبی علاقوں میں پہنچایا جاتا ہے۔ 30 فیصد سامان بلوچستان سے چمن بارڈر کے راستے جاتا ہے۔ یہ سامان قندھار اور قریبی علاقوں میں جاتا ہے۔ بلوچستان میں بھی نیٹو کنٹینرز پر کئی حملے ہو چکے ہیں۔ افغانستان میں نیٹو افواج کو سپلائی بلوچستان کے راستے بھی کی جاتی ہے۔ کراچی سے روزانہ 100 سے زائد کنٹینرز نیٹو کا سامان لے کر بلوچستان سے افغانستان جاتے ہیں۔ کراچی سے چلنے والے یہ نیٹو کنٹینرز پاک افغان سرحد تک 877 کلومیڑ کا فاصلہ طے کرتے ہیں اور چمن سے بارڈر عبور کر کے نیٹو افواج کو فوجی ساز وسامان، اشیاء خورونوش، ادویات اور ایندھن سپلائی کرتے ہیں۔ امریکہ اور نیٹو ممالک کو افغانستان رسائی کے لئے بلوچستان کا راستہ سب سے قریب اور آسان ہے۔
حالیہ ڈرون حملوں کے بعد پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ خیبر پختونخوا کی حکومت نے اپنے صوبے سے نیٹو کی سپلائی روکنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم بلوچستان کی صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ نیٹو سپلائی بند کرنے کا فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ واضع رہے کہ 26 نومبر 2011ء کو سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو افواج کے حملے کے بعد ملک بھر سے افغانستان میں نیٹو افواج کو سپلائی بند کر دی گئی تھی۔ پاکستان سے دوبارہ سپلائی بند ہونے پر امریکا روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے راستےاستعمال کر سکتا ہے۔ امریکا نے اس منصوبےکو ”ناردرن ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک ”کا نام دے رکھا ہے۔ یہ روٹ یورپ، وسط ایشیاء سے ہوتا ہوا افغانستان تک پہنچتا ہے۔ پہلا روٹ کوہ قاف ریجن اور وسط ایشیائی ممالک پر مشتمل ہے جو ریل کے ذریعے طے کیا جاتا ہے اور عراق اور ترکی سے ہوتا ہوا یورپ تک جا پہنچتا ہے۔
امریکا کرغزستان کے شہر بشکیک کے ہوائی اڈے کو ماضی میں سپلائی اور آمدورفت کیلئے استعمال کرتا رہا ہے۔ غالب امکان یہی ہےکہ اس بار بھی اس اڈے کو استعمال میں لائے گا۔ لیکن وسط ایشیائی ممالک سے ہونےوالے معاہدے کے تحت امریکا یہاں سے صرف غیر مہلک آلات اور جنگی گاڑیوں پر ہتھیار افغانستان لے جا سکتا ہے۔ امریکا سپلائی کیلئے اپنی فضائیہ سے بھی مدد لے سکتا ہے جو ایک مہنگا طریقہ ہے۔
سلالہ چیک پوسٹ حملے کے بعد نیٹو سپلائی کی بندش پر امریکا نے فضائی سروس شروع کی تھی جس پر پینٹاگون کو 369 ملین ڈالرز اضافی رقم مانگنی پڑ گئی۔ ایک اندازے کے مطابق امریکا کو 2 متبادل راستوں پر اعشاریہ ایک بلین ڈالر اضافی خرچ برداشت کرنا پڑے گا۔
