
جوہانسبرگ (جیوڈیسک) نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کی علامت بننے والے نیلسن منڈیلا کی الوداعی دعائیہ تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار کو جنوبی افریقہ میں یومِ سوگ منایا گیا۔ جوہانسبرگ میں نیلسن منڈیلا کے پرانے گھر کے باہر ان کے چاہنے والوں کا تانتا بندھا رہا۔
ملک بھر سے آنے والے افراد میں بچے بڑے سب ہی شامل ہیں جو پھولوں کا نذرانہ لے کر آئے۔ گھر کے دروازے کے باہر لوگوں نے گلدستوں کا ڈھیر لگا دیا اور شمعیں بھی روشن کیں۔ اس دوران اکنامک فریڈم فائٹرز پارٹی کے رہنما جولیس مالیما وہاں پہنچے تو تناو کی فضا پیدا ہو گئی اور سرخ لباس پہنے منڈیلا کے پر جوش عقیدت مندوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا، تاہم موقع پر موجود اہلکاروں نے صورتحال کو قابو میں رکھا۔
ادھر منڈیلا فاونڈیشن میں بھی دعائیہ تقریب ہوئی، جس میں منڈیلا کے پوتے اور ان کے جیل کے ساتھی احمد قطردا نے بھی شرکت کی۔ تقریب کے شرکا نے منڈیلا کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا، ان کی یاد میں گیت گائے اور شمعیں روشن کیں۔
