
ابوجا (جیوڈیسک) برطانوی میڈیا کے مطابق اغواء کا یہ دوسرا واقعہ ہے جو حکومت کی جانب سے شدت پسند تنظیم بوکوحرام کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے بعد پیش آیا ہے۔ اس سے پہلے گزشتہ جمعرات کو شمال مشرقی ریاست اڈاماوا میں مقامی رہائشیوں کے مطابق مشتبہ عسکریت پسندوں نے دو دیہات سے درجنوں مزید لڑکیاں اور خواتین کو اغواء کر لیا تھا۔
حقوق انسانی کے عالمی ادارے ہیومن رائٹس واچ کے مطابق سال 2009ء سال سے اب تک بوکوحرام گروپ نے پانچ سو سے زائد لڑکیوں اور خواتین کو اغواء کیا ہے۔ ادارے کے مطابق حکومت کی جانب سے چھ ماہ پہلے اغواء کی جانے والی دو سو لڑکیوں کے بازیابی کے لئے اختیار کئے جانے والا طریقہ کار بری طرح سے ناکام ہوا ہے۔ حکومت پرامید ہے کہ مذاکرات کے پس منظر اور جنگ بندی کے اعلان کے بعد بوکو حرام اپریل میں اغواء کی گئی 200 سے زائد لڑکیوں کو رہا کر دے گی۔ تاہم بوکوحرام نے ابھی تک حکومت کے ساتھ جنگ بندی کی تصدیق نہیں کی۔
دو ماہ پہلے بوکوحرام پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ اب خواتین کو بھی خود کش بمباروں کی صورت میں جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر یہ الزامات اس وقت سامنے آئے جب شمال میں سب سے بڑے شہر کانو میں حملے میں چار نو عمر لڑکیوں نے حملہ کیا۔ تاہم حکومت اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیتی ہے کہ بوکو حرام کی جانب سے اِغواء ہونے والی 200 سے زائد طالبات کو انسانی بموں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
