
ابوجا (جیوڈیسک) نائیجیریا میں ورلڈ کپ فٹبال کا میچ دیکھنے کے دوران دھماکے کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ ریاست یوبے کے علاقے داماتورو کے پولیس چیف کا کہنا تھا کہ خود کش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی اس وقت لوگوں کے مجمع سے ٹکرا دی جب وہ ایک دکان کے باہر بڑی اسکرین پر فٹ بال میچ دیکھنے میں مصروف تھے، دھماکے کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک اور 25 زائد زخمی ہو گئے جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
دھماکے کی ذمہ داری ابھی تک کسی گروپ نے قبول نہیں کی لیکن قیاس کیا جارہا ہے کہ دھماکا شدت پسند تنظم ’’بوکو حرام‘‘ نے کیا ہے کیوں کہ ان کے رہنما ابوبکر شکاؤ فٹ بال میچ کے حوالے سے فتوٰی جاری کر چکے ہیں جس میں ان کا کہنا تھا کہ فٹ بال میچ دیکھنا اور موسیقی سننا مغرب کے ہتھیار ہیں جن کا مقصد مسلمانوں کو دنیاوی کاموں میں مصروف رکھنا ہے۔
یوبے کی ریاست ان 3 ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں حکومت نے مسلسل بم دھماکوں کے بعد سے ایمرجنسی نافذ کر رکھی ہے، دوسری جانب نائیجیرین حکومت نے شمالی ریاست سے 500 کے قریب افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا جس میں پولیس کا کہنا ہے کہ اس میں بوکو حرام کے شدت پسند بھی شامل ہیں۔
