Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

عدم تشدد کے پیامبر مہاتما گاندھی خود تشدد کے شکار

October 2, 2017October 2, 2017 0 1 min read
Mahatma Gandhi
Mahatma Gandhi
Mahatma Gandhi

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری
2 اکتوبر 1869ء ہی وہ اہم تاریخ ہے ، جس دن گجرات کے کاٹھیاواڑ، پوربندر میں موہن داس کرم چند گاندھی نے جنم لیا تھا ۔جو اپنے اخلاق ، اپنے کردا ر ، اپنی تعلیمات اور اپنے نظریات سے مہاتما گاندھی بنے ۔ ملک کے لئے جو خدمات ان کی رہی ہیں ، وہ روز روشن کی طرح عیاں ہیں ، انھیں بیان کرنے کی اس لئے اب ضرورت نہیں ہے کہ ملک کے لئے دی گئی ان کی قربانیاں ،نہ صرف اپنے ملک کے لئے، بلکہ بیرون ممالک کی تاریخ کا حصہ ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی تاریخ میں درج ہو چکا ہے کہ اپنے ان ہی اوصاف کی بنأ پر انھیں سینکڑوں لوگوں کے سامنے ملک کی آزادی کے صرف پانچ ماہ بعد یعنی30 جنوری 1948 کو آر ایس ایس اور ہندو مہا سبھا کا حامی ناتھو رام گوڈسے نے گولی مار کر انھیںقتل کیا تھا اور جب اس پر قتل کا مقدمہ چلا ، اس وقت اس نے اپنا جرم قبول کرتے ہوئے عدالت میں کہا تھا کہ گاندھی قیام پاکستان کے لئے ذمّہ دارتھے اور مسلمانوں کی حمایت کیا کرتے تھے ۔ اس مقدمہ میں ہندو مہا سبھا کے سابق صدر ونائک ساورکر کو بھی ملزم بنایا گیا تھا ۔ لیکن جرم ثابت نہیں ہو سکا تھا ۔ اس سلسلے میں مشہور تاریخ داں ایم اے نورانی کا کہنا ہے کہ سردار پٹیل نے وزیر اعظم وقت پندت نہرو کو لکھا تھا کہ قتل کی سازش جن لوگوں نے تیار کی تھی ، ان کی براہ راست سربراہی ساورکر نے ہی کی تھی ۔ مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد اس وقت کے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے آر ایس ایس پر عارضی پابندی بھی لگائی تھی او ر گاندھی جی کے قتل کے جرم کی پاداش میں گوڈسے کو پھانسی کی سزا دی گئی تھی ۔ مہاتما گاندھی کی یہ قربانی رائگاں نہیں گئی اور ملک کے لوگ ہمیشہ ان کی دی گئی قربانی سے خود کو ان کا مقرو ض سمجھا اور ملک کے کونے کونے میں نہ صرف ان کی یادگار قائم کی گئیں بلکہ ملک کے ایک ایک فرد خواہ وہ امیر ہو ، غریب ہو ، صنعت کار ہو ، مزدور ہو سبھی انھیں کرنسی نوٹوں پر آویزاں تصویر کی شکل میں دل سے لگائے ہوئے ہیں ۔ اس سے بڑا خراج عقیدت اور ان کی عظمت کا اعتراف اور کیا ہو سکتا ہے۔

لیکن ان دنوں ان کے ساتھ جس طرح کا سلوک روا رکھا جا رہا ہے ۔ وہ پورے ملک کے لئے خطرناک صورت حال کا پیش خیمہ بن سکتا ہے ۔یوں تو پہلے بھی لیکن چھپ چھپا کر وہ لوگ جن کا آزادیٔ ہند میں کوئی مثبت رول نہیں رہا ، وہ لوگ گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو اپنا ہیرو بنا کر پیش کرتے رہے اور صرف یہی نہیں بلکہ گاندھی جی کے یوم شہادت کو ”شوریہ دیوس” یعنی یوم افتخار کے طور پر مناتے رہے ہیں ۔ لیکن جب سے آر ایس ایس کی سیاسی تنظیم بھارتیہ جنتا پارتی اقتدار میں آئی ہے ، ان کے حوصلے کافی بڑھ گئے ہیں اور وہ مہاتما گاندھی کے قاتل گوڈسے کا ،ملک کے دارالسلطنت نئی دلی میں نہ صرف مجسمہ بلکہ اس کے نام پر مندر تعمیر کا بھی منصوبہ بنا کر اسے عملی جامہ پہنانے کی کوشش میں لگے ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ اب آر ایس ایس کی یہ بھی کوشش ہو رہی ہے کہ مہاتما گاندھی کے قتل کی دوبارہ انکوائری کرا کر کر آر ایس ایس کو اس الزام سے بری کر دیا جائے کہ گاندھی کا قتل اسی تنظیم نے کرائی تھی ۔ حالانکہ گاندھی جی کے قتل کی سچائی صاف و شفاف آئینہ کی طرح عیاں ہے۔

سبرامنیم سوامی جو ہمیشہ متنازعہ بیان دینے اور منافرت پھیلانے کے لئے مشہور ہیں ، انھوں نے نہ صرف گاندھی جی کے قتل کی انکوائری کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں ، تاکہ آر ایس ایس کو مہاتما گاندھی کے قتل کے الزام سے بری قرار دیا جا سکے ۔ ساتھ ہی ساتھ ان کا مطالبہ یہ بھی ہے کہ ملک کے کرنسی نوٹوںپر سے مہاتما گاندھی کی تصویر ہٹا کر آر ایس ایس اور دوسرے رہنماؤں کی تصویر لگائی جائے ۔ اس تناظر میں اب ہم یہ دیکھیں کہ آخر ان فرقہ پرستوں اور متعصب لوگوں کے دلوں ،مہاتما گاندھی اب تک کانٹے کی طرح کیوں چبھ رہے ہیں ۔ دراصل مہاتما گاندھی نے وطن دوستی، حب الوطنی، انسانی اقدار کی جو تعلیمات دی ہے ، وہ ملک کے لوگوں کو اب تک اپنے سحر میںلئے ہوئے ہے ۔ جس کے باعث ان کے ”ہندوتو” نظریہ کو لاگو کرنے میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ موہن داس کرم چند گاندھی بلا شبہ ایک عظیم شخصیت کا نام ہے ۔ جنھوں نے اپنی زندگی میں سچائی ، عدم تشدد،انصاف اور رواداری کے اقدار کو اتار کر جو تعلیمات اور نظریات دئے ۔ انھیں آسانی سے فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ خاص طور پر عدم تشدد ، جو ان کی زندگی کا جزولا ینفک تھا ، اورجن پر وہ نہ صرف پوری زندگی خود چلے بلکہ دوسرے لوگوں کو چلنے کی ترغیب دی ۔ اس سلسلے میں ان کا خیال تھا کہ ‘ عدم تشدد سے پیدا ہونے والی طاقت انسان کے ایجاد کردہ ہتھیاروں سے بدجہا بہتر ہے ۔’ مہاتما گاندھی کی شخصیت کی جو سحر انگیزی تھی ، وہ ان کے گفتار اور کردار کی ہم آہنگی کی وجہ کرتھی۔ انھیں انسانی ، روحانی اور مذہبی افکار ونظریات پر مکمل یقین تھا ۔ جس کے باعث وہ محبت، اخوت، مساوات،صداقت، انسانی دوستی اور یکجہتی کے پیکر بنے ۔ سماجی نابرابری ،ناانصافی اور غیر انسانی عمل و دخل کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے خاردار راستوں سے گزرکر جب سیاست کے میدان میں قدم رکھا ، تب بھی انھوں نے سیاست کو مذہب سے الگ نہیں کیا بلکہ سیاست اور مذہب کو ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم قرار دیا ۔ ان کا یہ خیال تھا کہ جہاں بھی ، جس جگہ بھی جن کے دلوں میں مساوات اور سچائی کا عنصر ہوگا ، وہاں تشددغالب نہیں ہوگا ۔ مہاتما گاندھی کی ان ہی بنیادی اصولوں کی علمبرداری اور اوصاف سے متاثر ہو کر رابندر ناتھ ٹیگور جیسی عظیم شخصیت نے ان کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں ”مہاتما” کا درجہ دیا تھا، جو ہمیشہ کے لئے ان کے نام کا حصہ بن گیا اور اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک موہن داس کرم چند گاندھی ، اپنے مہاتما ہونے کا ثبوت دیتے رہے ۔ ان کی پوری زندگی انسانی رواداری اور اقدار کے لئے وقف رہی۔ ہندو مسلم اتحاد کو بھی مہاتما گاندھی ضروری قرار دیتے تھے ۔ اس سلسلے میں ان کا یہ خیال تھا کہ ‘اتحاد ایک طاقت ہے ، یہ صرف کتابی کہاوت نہیں بلکہ زندگی کا ایک اصول ہے، جو سب سے واضح طور پر ہندو مسلم اتحاد کے سوال پر صادق آتا ہے۔

اگر ہم میں پھوٹ ہوگی تو ہم تباہ ہو جائینگے۔ اگر ہم ہندو مسلمان ایک دوسرے کے گلے کاٹنے پر تیار رہینگے تو کوئی تیسری طاقت آسانی سے ہندوستان کو غلام بنا لے گی ۔ہندو مسلمان اتحاد کا مطلب صرف ہندوؤں اور مسلمانوں ہی نہیں بلکہ ان سب جماعتوں کا اتحاد ہے، جو ہندوستان کو اپنا وطن سمجھتی ہیں ، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہوں …’انسانیت کے لئے جذبۂ ایثار وقربانی کا عنصر جس طرح سے ہماری زندگی سے غائب ہوتا جا رہا ہے ۔ اس ضمن میں مہاتما گاندھی کا خیال تھا کہ ‘جو قوم بے شمار قربانیاں پیش کرنے کا جذبہ اور حوصلہ رکھتی ہے، وہ ترقی کی لا محدود بلندیوں پر پہنچنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ جس قدر قربانی حقیقی ہوگی، اسی قدر کامیابی جلد ہوگی ‘۔ نفرت اور عداوت کے تئیں ان کا نظریہ تھا کہ ‘ ہم اپنے دشمنوں کو محبت سے جیت سکتے ہیں، نفرت سے نہیں ۔ نفرت اور تشدد میں بہت باریک سا فرق ہے ‘۔

جمہوریت جس طرح ان دنوںہمارے ملک میں مجروح اور پامال ہو رہی ہے ، اس کے بارے میں مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ ‘ اگر جمہوریت کا صحیح مفہوم پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں قوتِ برداشت اور رواداری پیدا کرنا پڑے گی ۔’اس کے ساتھ ہی جمہوری نظام حکومت کے سلسلے میں ان کا بہت ہی واضح نظریہ تھا کہ ‘ جمہوری نظام حکومت کو کسی ایک شخص کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا ، خواہ وہ شخص کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہو ۔’ اس سیاق و سباق کے ساتھ ہی ان کا ایک خواب یہ بھی تھا کہ ‘ بھارت کے تمام مذاہب اور نسلوں کے افراد کو ایک ہی جھنڈے کے نیچے لا کر جمع کر دو اور ان میں اتحاد اور یکجہتی کا جذبہ اس شدت کے ساتھ پید اکر دو کہ ان کے ذہنوں سے فرقہ واریت اور تنگ نظری کا نام و نشان تک مٹ جائے ۔ ‘ لیکن افسوس کہ لاکھوں لوگوں نے اپنی جان کی قربانی دے کر ملک کو انگریزوں کی غلامی اور ظلم وتشدد سے آزاد کرایا ، اس ملک کی آزادی کے اتنے طویل عرصہ کے بعد بھی ملک میں اتحاد واتفاق اور یکجہتی واخوت کے پیڑوں کی شاخیں دن بدن سوکھتی جا رہی ہیں ۔ آج ہمارے ملک میں مذہبی منافرت اور تعصب کی ایسی گرم ہوا بہہ رہی ہے کہ ہر وہ انسان جو محبت، اخوت، مساوات، یکجہتی پر یقین رکھتا ہے ، وہ پریشان ہے ، ڈرا ڈرا، سہما سہما سا اور خوف زدہ ہے ۔ ملک کے گوشے گوشے سے نفرت، عداوت، تشدد اور عدم رواداری کے شعلے بھڑک رہے ہیں ، جو ملک کے نہ صرف امن وامان ، دوستی ، بھائی چارگی اور گنگا جمنی تہذیب و اقدار کو خاکستر کر رہے ہیں ۔ سیاست کی ایسی گرم فضا تیار کی جا رہی ہے کہ اقلیت واکثریت جو اس ملک میں برسہا برس سے شیر وشکر ہو کر رہتے آئے ہیں ، ان کے درمیان منافرت اور اختلافات کی خلیج پیدا کر ملک کی سا لمیت کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔ نام نہادمذہب اور حب الوطنی کاسہارا لے کر دوسرے مذاہب کے لوگوں کو سرے عام ذلیل و رسوا ہی نہیں بلکہ انھیں بڑی بے رحمی سے قتل تک کیاجا رہا ہے اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ ایسے تمام خونین سانحات پر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ کہا تو یہ بھی جا رہا ہے کہ ایسے واقعات کے انجام دینے والو ں کو حکومت پشت پناہی حاصل ہے ۔ مہاتما گاندھی کی دور اندیش نگاہیں ان امور پر بھی تھیں اور انھوں نے اس سلسلے میں بھی بہت واضح طور پر کہا تھا کہ ….

“Religion is not test of nationality, but a personal matter between man and his god. In the sense of nationality they are Indians first and Indians last , no matter what religion they protess”
اس ضمن میں ہم کہنا چاہتے ہیں کہ ان تمام مذہبی منافرت، عداوت، تشدد، نا انصافی، استحصال، ظلم و بربریت ، قتل وغارتگری کو فراموش کر مہاتما گاندھی کے اصولوں اور ان کی تعلیمات و ترجیہات ،جو ہر مذہب و ملت کے ماننے والوں کے لئے ،اس لئے قابل قبول ہو سکتی ہے کہ ان تعلیمات میں ان تمام مذاہب کی تعلیمات کی روح کو پیش کیا گیا ہے ۔ انسانیت اور انسانی اقدار کی حفاظت اور ان پر عمل کرنے کی تاکید اور تعلیم ہر مذہبی کتابوں اور پیامبروں نے دی ہے ، پھر ان میں اختلاف کہاں ہو سکتا ہے ۔ لیکن افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ عدم تشدد کے پیامبر مہاتما گاندھی خود ہی ان دنوں متعصبانہ ، فرقہ وارانہ اور جارحانہ ذہنیت کے لوگوں کے نشانے پر ہیں ، ایسے میں مہاتما گاندھی کی تعلیمات او رنظریات پرعمل تو دور ان کی شناخت تک مٹانے کے لئے یہ لوگ درپئے ہیں ۔ ان کے قاتل کو نہ صرف بے گناہ بلکہ مسیحا تک قرار دیا جا رہا ہے اور ان کے قاتل کی جگہ جگہ مجسمہ لگانے اور ان کی عقیدت میں مندر تک تعمیر کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں ۔

پورے ملک میں گوڈسے کا مجسمہ لگا کر آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگ علامتی طور پر ملک کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں ۔ اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اب اس ملک میں مہاتما گاندھی کے عدم تشدد اور آپسی اتحاد و اتفاق کی تعلیمات کے بجائے نفرت ، عداوت،عدم رواداری ، عدم مساوات اور انتشارو خلفشار ترجیحات میں شامل ہیں ۔ 30 اکتوبر 1948 ء کو مہاتما گاندھی کے جسم کو گولیوں سے چھلنی کیا گیاتھا اور اب ان کی روح کو قسطوں میں قتل کیا جا رہا ہے ۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے بڑی جرأت کے ساتھ گزشتہ پارلیامانی انتخاب کے دوران یہی بات کہی تھی کہ مہاتما گاندھی کا قتل آر ایس ایس کے لوگوں نے کرایا تھا ۔ راہل گاندھی کے اس بیان پر آر ایس ایس نے ان پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا ،لیکن راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اس بات پر قائم ہیں اور اس کے لئے وہ مقدمہ کا سامنا کرنے کو تیار ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو تاریخی حقائق ہیں ، انھیں کیسے جھٹلایا جا سکتا ہے ۔ ملک میں مہاتما گاندھی کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے ، وہ بہر حال افسوسناک ہی نہیں بلکہ تشویشناک ہے۔

Syed Ahmad Quadri
Syed Ahmad Quadri

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری
رابطہ:09934839110
squadri806@gmail.com

Share this:
Tags:
country Mahatma Gandhi Syed Ahmad Quadri violence تشدد ملک
Love
Previous Post قیمت تو چکانا پڑتی ہے
Next Post عبدالغفار قیصرانی DPO جہلم کا نوٹس۔ پنڈدادنخان SHO کو قانون کے مطابق کاروائی کرنے کا حکم
Jhelum

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close