Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

قیامت آ بھی سکتی تھی

September 16, 2013September 16, 2013 0 1 min read
Imtiaz Ali Shakir
Pakistan
Pakistan

سنا ہے کہ شیطان بدکاری، بے حیائی، فحاشی اور بے غیرتی کو لوگوں کے سامنے لذت آور، پرکشش فعل بنا کر پیش کرتا ہے لیکن آج ہمار معاشرہ شیطان کی درس گاہ معلوم ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ آج کا انسان شیطان کو پیچھے چھوڑ چکا ہے شیطان بھی سوچتا ہوگا کہ آخر اُسے ہی کیوں شیطان کہا جاتا ہے؟ جبکہ دنیا میں اُس کے سینئر بھی موجود ہیں۔ جس میں شیطان بھی شرما جائے یہ ہے اُس آزاد خیال، ترقی یافتہ، باخلاق، باحیائ، خودمختار، تعلیم یافتہ، جمہوری، خوبصورت، خوف سیرت، مسلم معاشرے کا اصل چہرہ جس میں پانچ سالہ معصوم بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بننا پڑاملک میں منتخب جمہوری حکومت بھی ہے۔

آزاد اور خود مختار عدلیہ بھی موجود ہے، پڑھا لکھا باصلاحیت محکمہ پولیس بھی پوری طرح فعال ہے اور بہت ساری سرکاری و غیرسرکاری انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں معذوروں، بچوں، بزرگوں اور خاص طور پرعورتوں کے حقوق کے نام پر گلا پھاڑ پھاڑ کر دنیا بھر سے فنڈز اکھٹے کرنے میں اپنی مثال آپ ہیں، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں خلاف اسلام خواتین کے جسم بازار میں با آسانی سستے اور مہنگے داموں سر عام فروخت ہوتے ہیں۔

شہر، شہر گائوں ِگائوں فحاشی اور جسم فروشی کا دھندہ کرنے والے اڈے گلی محلے کی سطح پر کام کر رہے ہیں۔ جسم فروش عورتیں بازاروں میں مردوں کو خود روک کر سستے داموں بدکاری کی دعوت دیتی ہیں پھر بھی اس معاشرے کے مردنے صرف پانچ سالہ معصوم کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناڈالا اور اسلامی معاشرے میں کوئی قیامت برپا نہیں ہوئی کہیں کوئی زلزلہ نہیں آیا اور نہ ہی کسی حکمران کو شرم آئی کہ وہ اس بے غیرتی کو اپنی نااہلی تصور کرتے ہوئے کرسی اقتدار سے الگ ہو جائے۔

Girl Rape
Girl Rape

کیا یہی ہے پڑھا لکھا پنجاب جس کے دارالحکومت لاہور کے لوگ اس قدر پڑھے لکھے، باشعورہیں کہ آسانی سے جسم دستیاب ہونے کے باوجود ایک معصوم جس کوابھی اپنی جنس کا بھی علم نہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا ؟کیا یہی ہے وہ مسلم معاشرہ جسے قائم کرنے کیلئے برصغیر کے مسلمانوں نے ہندوئوں اور انگریزوں سے آزادی مانگی تھی؟ کیا یہی ہے وہ پاکستان جس کا خواب مصور پاکستان ڈاکٹر علامہ اقبال نے دیکھا تھا؟ کیا یہی ہے وہ پاکستان جس کے حصول کے لئے قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی صرف کر دی تھی؟ کیا یہی ہے وہ پاکستان جس کی ہزاروں بیٹیوں نے دشمنوں کے ہاتھوں بے آبرو ہونے سے موت کو گلے لگانا بہتر سمجھا تھا۔

ہندوئوں اور انگریزوں کی غلامی کے باوجود جن مسلمانوں میں غیرت و حیاء زندہ تھی کہاں ہیں آج وہ مسلمان؟ پاکستانی قوم سے معذرت کے ساتھ کہ اگر میری قوم کی بیٹیوں کے ساتھ یہی سلوک ہونا تھا تو پھر ہندوئوں یا انگریزوں کی غلامی میں ہوتا تو آج اتنا دکھ نہ ہوتا جتنا آزاد، خودمختار اسلامی جمہوریہ پاکستان کا شہری بن کر ہورہا ہے، مسلم قوانین، مسلم حکمران، مذہبی تنظیموں کی ٹھاٹھ باٹھ کے باوجود معاشرے میں بے حیائی، بدکاری اس قدر عروج حاصل کر گئی کہ صر ف پانچ سالہ معصوم کو اپنی مردانگی دیکھا دی بے حیاء، لعنتی معاشرے کے جہنمی افراد نے ا سلامی احکامات کی پیروی، قوم کی بیٹیوں کی آبرو کا تحفظ، مسلمانوں کی معاشی ترقی اور خوشحالی، آزاد، خودمختار اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی غرض سے برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لئے آزاد ریاست(پاکستان )کے لئے جدوجہد کی تھی۔افسوس کہ آج مسلمانوں کے آزاد ملک میں نہ تو اسلامی تعلیمات کا کہیں وجود نظر آتا ہے۔

نہ قوم کی بیٹیوں کی عزت محفوظ ہے اور نہ ہی اسلامی احکامات کی پیروی کی کوئی مثال باقی ہے۔ ہمیںجس ہندو اور انگریزبے حیاء کلچر سے اپنی آنے والے نسلوں کو بچاکر ایک خوبصورت، خوب سیرت اسلامی تہذیب و تمدن کے مطابق معاشرہ تشکیل دینا تھاہم آج اگرماضی کی طرف پلٹ کر دیکھیں جب غلامی ہمارا مقدر تھی، تو اسکے مقابلہ میں ہم آج بھی اُسی بے حیاء کلچر کے دل دادا ہیں۔ جب تک گھر، دفتر، گاڑی میں ناچ گانا نہ ہو ہمیں سکون نہیں ملتا۔ قارئین آج آپ کو بھی محترم کہنے کو دل نہیں کرتا۔ میں اور آپ کیوں اور کہاں کے محترم ہیں؟ بے حیاء، بے غیرت، بے شرم، بدکردار، بدکار معاشرے کا خوبصور ت حصہ ہوکر ہم کس طرح محترم ہو سکتے ہیں۔

مسلمان ہو کر جو دشمنوں کی بیٹیوں کا بھی احترام کیا کرتے ہیں اپنی قوم کی بیٹیوں کی عصمت کو نوچ رہے ہیں اپنے بیٹوں کی ایسی تربیت کرنے کے بعد بھی ہم محترم ہیں توپھر ایسا محترم ہونے سے موت اچھی کیا ہوا اگر آج جس معصوم کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے وہ میری یا آپ کی بیٹی نہیں ؟ کیا ہوا اگر آج ہمارے دل خون کے آنسو نہیں رورہے ؟کیا ہوا جو آج ہمارے گھر میں صرف پانچ سالہ بیٹی کی عصمت لُٹ جانے کا ماتم نہیں؟ اگر ہمارا رویہ یہی رہا تو اللہ نہ کرنے وہ وقت دور نہیں جب ہمارے گھر میں بھی ایسا ہی ماتم ہوسکتا ہے، ہوسکتا ہے میں یا آپ ایسا صدمہ برداشت نہ کرسکیں اور خودکشی کر لیں۔ ویسے بھی ایسے بے ضمیر، بدکار، بدکردار، بے حیاء معاشرے میں زندہ رہنے کو کسی غیرت مند کا دل نہیں چاہے گا۔ چیف جسٹس صاحب نے مغلپورہ لاہور میں پانچ سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی پر از خود نوٹس لے لیا ہے۔ ہونہار ایس پی عمر ورک اس مقدمہ کی تفتیش کررہے ہیں جو یقینا مجرموں کو جلد گرفتار کر لیں گے۔

ممکن ہے عدالت مجرموں کو سزائے موت سنا دے لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ کراچی میں قتل ہونے والے شاہ زیب کے والدین کی طرح مجبور ہو کر کل سُنبل کے والدین بھی اپنی معصوم بچی کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے والوں کو اللہ کی راہ میں معاف نہیں کریں گے؟کیا اسی کو انصاف کہتے ہیں کہ عدالت مجرموں کو سزائیں سنائے اور اُن کے ورثا مقتولین کے والدین اور بہن بھائیوں کو بھی قتل کرنے کی دھمکیاں دے کر مجرموں کے لئے معافی کا انتظام کرلیں؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کار حکمران کس چیز پر حکمرانی کر رہے ہیں۔

Supreme Court
Supreme Court

عدالتیں کس کے ساتھ انصاف کر رہی ہیں؟ کیا حکمران صرف ملکی وسائل پر حکومت کر رہے ہیں؟کیا عوام کے جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کرنا، غیرت مند، باحیاء معاشرہ تشکیل دینا حکمرانوں کی ذمہ داری نہیں؟ کیا ایسے سفاک درندہ صفت لوگوں کو سر عام گولی نہیں مار دینی چاہئے جو جسموں کے بازار میں رہائش پزیر ہونے کے باوجود پانچ سالہ معصوم کو اپنی حوس کا نشانہ بناتے ہیں۔ شرم آرہی ہے مجھے کہ میں اُس معاشرے کا حصہ ہوں جس کی معصوم بیٹی کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے والے ابھی زندہ ہیں اور معاشرے کا ہر فرد اپنی ہی لگن میں مگن ہے۔ کسی سیاسی جماعت کے کارکن، کسی بڑے خاندان کے فرد یا پھر کسی حکمران کے رشتہ دار کو کوئی تکلیف پہنچی ہوتی تو شہر کے شہر بند کر دیئے جاتے لیکن کسی غریب کی معصوم بیٹی کی عصمت لُٹ جانے پر کوئی قیامت نہیں آتی۔

اگر سُنبل کسی، میاں، رانا، زرداری، خان، مگسی، چودھری، عباسی، مخدوم، بھٹو، شریف، چٹھہ، بھائی یاکسی اور بڑے، دولت مند خاندان کی بیٹی ہوتی تو قیامت آبھی سکتی تھی لیکن افسوس کے غریب اپنی عصمت لُٹ جانے پر بھی آواز بلند نہیں کرتا۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا وزیراعلیٰ پنجاب متاثرہ بچی کے گھر جاکر فوٹوسیشن کرلیں گے، دوچار لاکھ روپے امداد کا اعلان کر دیں گے جو شاید صرف اعلان ہی رہ جائے گا، میڈیا کو گرما گرم خبروں اور نااہل، جاہل، نام نہاد، بے حس، شہرت کے لالچی،شاہ کا قصیدہ لکھنے والے کالم نگاروں کو اپنا اپنا تجزیہ پیش کرنے کے لئے نیا مواد حاصل ہوجائے گا اور پھر کسی دوسرے اہم موضوع کے سر اُٹھانے پر یہ معاملہ پس پشت چلا جائے گا۔ چیف جسٹس صاحب مجرموں کو سزائے موت سنا دیں اور اُس پر عمل بھی ہو جائے۔

تب بھی ایسے واقعات رُکتے نظر نہیں آتے ۔جب تک معاشرے میں پھیلی بے حیائی، فحاشی، جسم فروشی اور دیگر بے غیرتی والے معاملات کی روک تھام نہیں ہو گی تب تک حوا کی بیٹی اسی طرح بے آبرو ہوتی رہے گی۔ کتنا خوبصورت(خوف صورت) ہے ہمارا آزاد خیال جمہوری معاشرہ جس میں کہیں تو حوا کی بیٹی اپنے بوڑھے والدین کے کندھوں سے اپنے جہیز کا بوجھ کم کرنے، کہیں اپنے یتیم بہن بھایئوں یا اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے نا چاہتے ہوئے بھی اپنی مرضی سے اپنی عصمت کا سودا کرتی ہے تو کہیں اُس کے جسم کو مفت میں اُس کی مرضی کے بغیر نوچ لیا جاتا ہے یعنی آج حواکی بیٹی ہونا دنیا کا سب سے بڑا جرم بن چکا ہے۔

کیا یہ وہی معاشرہ نہیں ہے جس میں والدین اپنی بیٹی کی عصمت لُٹ جانے کے ڈر سے بیٹی پیدا ہوتے ہی اُس کو زند ہ دفن کر دیا کرتے تھے؟ کون سے والدین ہونگے جو مغلپورہ میں ہونے والی درندگی کے بعد بیٹی کو جنم دینا چاہیں گے؟ لعنت ہے ایسے معاشرے پر، لعنت ہے ایسے عوام پر اور لعنت ہے ایسے حکمرانوں پر جو اپنی بیٹیوں کی آبرو کا تحفظ نہیں کر سکتے اور لعنت ہے ایسے نظام پر جس میں صرف امیر کو انسان ہونے کا حق حاصل ہو۔ لعنت ہے ایسے قانون اور ایسے انصاف پر جو مجرم کو صرف سزا سناتا ہے دیتا نہیں۔ لعنت ہے ایسی تہذیب پر جو انسان کو حیوان بناتی ہے، لعنت ہو ایسی تعلیم و تربیت پر جسے حاصل کرنے والے جاہل ہی رہ جائیں۔ لعنت ہے ایسے انسان نما حیوان پر جس کی حرکات دیکھ کر شیطان بھی شرما جائے۔

Imtiaz Ali Shakir
Imtiaz Ali Shakir

تحریر : امتیاز علی شاکر:کاہنہ نولاہور
imtiazali470@gmail.com

Share this:
Tags:
Hour law pakistan Satan Society شیطان قیامت معاشرہ
Lahore
Previous Post لاہور : بیٹی کو راوی میں پھینکنے والے باپ کا مزید 4 روزہ جسمانی ریمانڈ
Next Post جنسی تشدد اور حکومتی کردار
Mohammad Gulzar Chaudhry

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close