Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

جوہری نشتر تحقیق برائے امن اور خدمتِ انسانیت پاکستان ایٹمی انرجی کمیشن

July 14, 2020 0 1 min read
Pakistan Nuclear Program
Pakistan Nuclear Program
Pakistan Nuclear Program

تحریر : میر افسر امان

عام پاکستانی جب اپنے ملک کی ایٹمی قوت کے متعلق سوچتا ہے تو اس کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ ایٹمی قوت ہی پاکستان کو بچائے ہوئے ہے۔ ایٹمی قوت کی وجہ سے ہمارے ازلی دشمن کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ہمارا ایٹمی پروگرام ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شروع ہوا ترقی کرتا ہوا نواز شریف کے دور میں١٩٩٨ء میں چھ ایٹمی دھماکوں کی شکل میں ظہور پذیر ہوا۔ ہمارے مایا ناز ایٹمی سائنسدانوں نے پاکستان کے چاغی میں پانچ اور خاران کی پہاڑیوں ایک ایٹمی دھماکہ کر کے بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوںکے مقابلے میں چھ ایٹمی دھماکے کر کے بھارت کو اُس کی اوقات بتا دی۔

مگر ایٹمی طاقت صرف ایٹمی بم ہی نہیں کہ جس نے ہمیں دشمنوں سے محفوظ کر دیا۔ بلکہ ایٹمی قوت کے پراُمن استعمال برائے تعلیم،توانائی،صحت اور زراعت بھی ایک انقلابی کام ہے۔ پاکستان کے پر امن ایٹمی پروگرام کی کس وقت اور کس نے بنیاد رکھی۔ کس کے زمانے میں یہ مکمل ہوئی۔ایٹمی قوت کون کون سے کارنامے انجام دے رہی ہے۔ یہ باتیں پہلی دفعہ ١٥ کتابوں کے مصنف، سابق مشیر مرکز اور صوبہ سندھ،چیئرمین رابطہ فورم انٹر نیشنل، چیئر مین ویسٹ ایسٹ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن(پاکستان) سینئر صحافی، دفاحی تجزیہ کار، خاص کر پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کی کاردگی پر درجنوں سیمینار کرانے والے، نصرت مرزا نے اپنی کتاب ”جوہری نشتر تحقیق ”میں پاکستانی عوام کے سامنے رکھیں ہیں۔ اس کتاب کے بار ے میں موجودہ چیئر مین پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن جناب محمد نعیم فرماتے ہیں کہ” ایٹمی توانائی کمیشن زراعت،صحت،اور توانائی جیسے سماجی بہبود کے کام و دیگر اہم کاموں میں دن رات مصروف ہے۔

نصرت مرزا صاحب کی کتاب” جوہری نشتر تحقیق” برائے، امن اور خدمت انسانیت میں درج ہیں۔یہ اس طرز کی اُردو میں پہلی کتاب ہے۔پاکستان کے عوام اس کتاب سے پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کی کاوشوں سے بہتر آشنا ہو سکیں گے” نصرت مرزا صاحب نے محمد نعیم صاحب کا ٹی وی انٹر ویو بھی سچ ٹی وی پر نشر کیا ہے۔ پاکستان کے پرامن ایٹمی پروگرام کو سابق کا چیئرمین جناب ڈاکٹر نذیر احمد،ڈاکٹر عشرت حسین عثمانی، منیر احمد، ڈاکٹر اشفاق، پرویز بٹ،انور علی،ڈاکٹر انصر پرویز اور محمد نعیم صاحبان نے اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق ترقی دی ہے۔

مصنف لکھتے ہیں کہ پاکستان نے ٨دسمبر ١٩٥٣ء کو ”ایٹم برائے امن” کے پروگرام کے تحت اس کی ابتدا کی۔ امریکا سے اس سلسلے میں ١١ اگست ١٩٥٥ء کو ایک معاہدہ طے پایا۔امریکا نے پاکستان کو ایک پروٹو ٹائپ ایٹمی ری ایکٹر ر فراہم کر دیا۔١٩٥٦ء میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن یا پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن وجود میں آیا۔ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے ١٦دسمبر ١٩٧١ء کو بنگالی قومیت کے نام پر مشرقی پاکستان کو پاکستان سے علیحدہ کر دیا۔ ہمیں ڈرانے کے لیے ١٩٧٤ء میں پکھران میں پانچ ایٹمی دھماکے کر دیے۔ ان ایٹمی دھماکوں نے پاکستان کے جذبہ،غیرت ،جوہر ادراک، جذبہ تحقیق کو جگایا۔ حکیم الامت علامہ شیخ محمد اقبال کے ان اشعار میں جو سوال اُٹھے تھے اُن کے جواب میں کام شروع کیا:۔

آتی ہے دم صبح صدا عرش بریں سے!
کھویا گیا کس طرح ترا جوہر اداراک؟
کس طرح ہوا کُند تیرا جوہر اداراک؟
ہوتے نہیں کیوںتجھ سے ستاروںکے جگر چاک؟

مصنف لکھتے ہیں کہ١٩٦١ء میں پاکستان نے معدنی اشیاء کے دو مراکز ایک لاہور اور دوسرا ڈھاکہ میں قائم کیے۔ ہمارے سائنسدانوں نے یورینیم کے ذخاہر دریافت کرنے کی ٹھان لی۔ڈیرہ غازی خان میں خام یورینیم کے ذخائرملے۔کینڈین کمپنی سے ١٩٧٠ء میں کراچی پیرا ڈایز پوائنٹ میں ری ایکٹر لگایا۔ یہ بعد میں کینپ کہلانے لگا۔١٩٧٤ء کے بھارتی ایٹمی دھماکہ کے بعد اس پر پابندی لگا دی گئی۔ پاکستان ایٹمی سائنسدانوں نے اس کوخود چلایا اور اب تک چلا رہے ہیں۔ اب چین کی مدد سے کینپ ٢ اور کینپ ٣ بھی لگائے

٢
جا رہے ہیں ۔جن سے ٢٠٢١ء میں بجلی کی فراہمی شروع ہو گی۔ ٢٠٣٠ء تک ٨٨٠٠ میگا واٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہو جائے گی۔١٩٨٩ء میں چشمہ کے مقام پر چین کی مدد سے چشمہ ١،چشمہ ٢ ،چشمہ ٣ اور چشمہ ٤ سے بجلی کی پیدا وار مل رہی ہے۔

مصنف لکھتے ہیں کہ پاکستان کے پرامن ایٹمی پروگرام کے تحت تعلیم،صحت،توانائی،زراعت اوراعلی ٹیکنالوجی میں ترقی ہو رہی ہے۔تعلیم وتربیت کے تحت پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیو کلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (پیسٹیک) اسلام آباد میں نیلور کے قریب واقع ہے۔ یہ ادراہ دسمبر ١٩٦٥ء کو قائم ہوا۔جہاں سے بہترین سائنسدان، گریجویٹ اور ڈاکٹر پڑھ کر نکلتے ہیں۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈسائنسز(پیاس) ١٩٦٧ء اسلام آباد میں قائم ہوا۔ یہ ایک تسلیم شدہ ممتاز فیڈرل یونیورسٹی ہے اور یہ اعلیٰ تعلیم کے لیے وقف ہے۔یہاں انجینئرنگ، قدرتی سائنسز، فیزیکل سائنس کی تعلیم دی جاتی ہے۔ کراچی انسٹیٹیوٹ آف نیو کلیئر پاور انجینئرنگ (کنپو) یہ ادراہ کراچی میں واقع ہے۔ ملک کو سند یافتہ آپریٹرز اور انجیئنرنگ جو کینپ ایٹمی بجلی گھر کو چلانے کے لیے تعلم اور تربیت اور دیکھ بھال کی تربیت دیتا ہے۔چشنپ سینٹر فار بیو کلیئر ٹرینینگ(چیسنیٹ) یہ ادراہ چشمہ ایٹمی بجلی گھر کے قریب و جوار میں واقع ہے۔کینیپ کی طرح یہ بھی آپریٹرز اور انجینئرز جو چشمہ بجلی گھروں کو چلانے اور دیکھ بھال کا کام کرنے والوں کوتعلیم فرہم کرتا ہے۔

پاکستان ویلڈنگ انسٹیٹیوت(پی ڈبلیو آئی) یہ ادارہ اسلام آباد میں ١٩٨٥ء میں قائم ہوا۔ ویلڈنگ ،پلوں کی تعمیر،ریلوے ٹریک وغیرہ بنانے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ صحت کے تحت کینسر کا تحقیقی ادارہ( پی سی آر)پاکستان ایٹمی انرجی کمیشن نے خدمت خلق میں پورے پاکستان میں لا علاج و موزی مرض کینسر کے مفت علاج کے لیے جدید ترین آلات اور ادویات سے آراستہ ١٨اسپتال قائم کیے ہوئے ہیں۔جوہری ادراہ برائے زراعت (نیا)زراعت و خوراک کے لیے جوہری توانائی برائے زراعت تحقیقی مرکز ٢٢ نومبر ١٩٦٩ء میں حیدر آباد سندھ کے قریب ٹنڈو آدم میں افتتاح کیا گیا۔ اس میں پودوں کی افزائش اور جینیاتی نقشہ پر مثبت تبدیلیاں کر کے پیدا وار کو بڑھانے اور پودوں کے تحفظ کے علاوہ مٹی یا زمین کے سائنسی مطالعہ اور پودوں کے اعضا کے مطالعہ میں یہ ادارہ مہارت حاصل کر چکا ہے۔

جوہری ادارہ برائے زراعت و حیاتیات (نیاب) یہ ادارہ ١٦ اپریل ١٩٧٢ء کوزراعت، صنعتی اور سائنسی تحقیق کے لیے فیصل آباد پنجاب میں قائم کیا گیا۔ یہ زراعت اور خوراک کا تابکاری سے بچائو کے لیے قومی تحقیقی ادارہ بن چکا ہے۔یہ ادراہ جوہری توانائی اور جوہری ادارہ برائے خوراک اورزراعت(نیفا) کے زیر نگرانی کا کرتا ہے۔نیوکلیئر انسٹیٹیوٹ آف فوڈ اینڈ ایکلچر(نیفا) جوہری ادارہ برائے خوراک و زراعت پشاور خیبر پختونخواہ نے ٢٦ اپریل ١٩٨٢ء سے وزارت خوراک کے لیے پاکستانی جوہری توانائی کمیشن کے دائرہ کار انتظام میں کام شروع کیا۔فصلوں کی پیداوار اور تحفط پر تحقیق کرنے، زمین کو زرخیز بنانے، پانی کا نظام و بندوبست اور خوراک کے وسائل کو قیمتی بنانے کے لیے جوہری توانائی کا استعمال کرنا ہے۔ قومی ادارہ برائے جوہری ٹیکنالوجی اور جینیات سے متعلق انجینئرنگ (نجی)

پاکستان جوہری توانائی کمیشن کو یہ اعزاز حاصل ہو گیا ہے کہ اس نے جوہری ٹیکنالوجی کو استعمال کر تے ہوئے زراعت کی پیداوار کو بڑھانے اورز مین درست کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔اس میں ١١١ قسم کی فصلیں تیار کی ہیں۔پاکستان جوہری توانائی کمیشن کسانوں کا دن بھی مناتی ہے۔تحقیق برائے توانائی میں توانائی کے حصول کے ذرائع، پانی کے بہائو جسے ہائیڈرو پاور کہا جاتا ہے۔پاکستان کے پاس ڈیم کی کمی ہے۔ کالا باغ ڈیم بننا چاہیے تھاجو سیاست کی نظر ہو گیا۔ ویسے گلگت بلتستان کا علاقہ پاکستان کی بجلی کی ضرورت پوری کر سکتا ہے۔پاکستان کو اسوقت توانائی کی سخت ضرورت ہے۔پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے۔توانائی کے حصول کا جوہری ذریعہ محفوظ، سستا، دیر پا اور ماحولیات دوست ہے۔ اعلی ٹیکنالوجی صنعتی انجینئرنگ کے تحت ہیوی مکینکل کمپلیکس ٣ ٹیکسلا میں قائم ہیوی میکینیکل کمپلیکس ایک بڑی بھاری انجینئرنگ کمپنی ہے جو ریاستی انجینئرنگ کارپوریشن کی ایک شاخ ہے۔ اس ادارہ کو ١٩٧٩ء میں چین کی مدد سے قائم کیا گیا ۔ قومی مرکز برائے عدم تخریب جانچ پڑتال ١٩٧٤ء میں اسلام آباد میں قائم کیا گیا۔

اس ادرارہ نے فضائی حدود،کیمیاوی، بھاری میکینیکل مشینوں یا پزاہ جات کی پیدا وار، بجلی کی پیدا وار، ہر قسم کی گاڑیاں، جہازسازی کا کام ہے۔ قومی ادارہ برائے لیزر اور آپٹرونکس ٢٠٠٧ء میں لیزر پر تحقیق اور اس کی نئی ایجاد اور استعمال کے آگے بڑھانے کے لیے ایک مرکزی ادارہ بنایا گیا۔جو لیزر پر نئی ٹیکناوجی کو پروان چڑھانے کا کام کر رہا ہے۔پاکستان جوہری توانائی کی ریگولیشن کاا دارہ جو تمام جوہری بجلی گھروں اور اداروں کے سلسلے میں موجود کاوشوں اور تابکاری کے اخراج کو رکونے اور اُن کو محفوط بنانے کے لیے ،پاکستان نے ٢٠٠١ء میں ایک مکمل خود مختیار ادارہ کی داغ بیل ڈالی جسے پاکستان جوہری ریگولیٹری اتھارٹی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ جوہری ایندھن کاحصول اور استعمال کے لیے پاکستان نے ڈیرہ غازی میںیورینیم کی سپلائی کی فراہمی کا نظام وضع کر رکھا ہے۔ یہ عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی (آئی اے ای ایف اے) کے زیر نگرانی ہے۔ پاکستان نے دنیا بھر کو اپنی اس صلاحیت سے فائدہ اُٹھانے کی پیشکش کر رکھی ہے۔

جوہری توانائی سستی اور محفوظ ہے۔ اس لیے پاکستان اسے استعمال کر رہا ہے۔ اس طرح پاکستان کو٢٠٣٠ء تک ٨٨٠٠ میگاواٹ بجلی مل جائے گی۔جوہری توانائی سے ٣١ ممالک ٣٩٢ گیگا واٹ بجلی حاصل کر رہے ہیں۔ زراعت میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زرعی ادارے ٹنڈو آدم،فیصل آباد،لاہور اور پشاور میں کام کر رہے ہیں۔ ١١١ اقسام کے بیجوں کو متعارف کرایا گیا ہے۔چاول کی ٣٠ کپاس کی ٢٠،گندم کی ٢٠ اور ١٢ فی صددیگر اجناس حاصل کی جارہی ہیں۔لائیو اسٹاک میں بھینس، گائے اور دیگر جانوروں تحقیق ہو رہی ہے۔ساہیوال کی زیبی گائے دنیا میں بہترین دودھ دینے والی بہترین گائے سمجھی جاتی ہے۔ صحت کے شعبہ میں پاکستان انرجی کمیشن نے کینسر کے علاج کے لیے ١٨ مراکز قائم کیے ہوئے ہیں۔تعلیم کے میدان میں کنپو کے نام سے چار بجلی گھروں کا چلانے والوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔چشمہ کے مقام پر چشنم کے نام سے انجینئر پیدا کیے جارہے ہیں۔

غذا کے تحفظ کے متعلق یہ بات ہے کہ کاشتکار پاکستان ایٹمی کمیشن کے تیار کردہ بیج استعمال کر کے بہتر پیداوار حاصل کرتے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں پاکستانی جوہری جوانائی کمیشن نے پیش بہا خدمات دی ہیں۔پنسٹیک کے نام سے ایک تحقیقی ادارہ کام کر رہا ہے۔این ایس جی کے تحت نیو کلیئر سپلائی گروپ کو کہتے ہیں۔ پہلے پانچ ایٹمی ممالک تھے۔ بھارت نے ١٩٧٤ء میں دھماکے کر کے چھٹا ملک بن گیا ۔ پاکستان نے٨ ١٩٩ء پانچ چاغی اور ایک خاران کی پہاڑیوں میں ایٹمی دھماکے کر کے ساتواں ایٹمی ملک بن گیا۔ دنیا بھارت کے ایٹمی ملک ہونے پرواجبی سا رد عمل کیا۔ مگر پاکستان کا ایٹمی ہونا انہیں ہضم نہیں ہو رہا۔ پاکستان دشمنی میں نیو کلیئرسپلائر ز گروپ تشکیل دیا گیا۔پہلے ٧سے٨ممبران تھے۔ پھر ٤٨ ہو گئے۔ ان سب کو ویٹو پاور حاصل ہے۔سوائے پاکستان کے دوست ملک چین کے سارے ممبران بھارت کو اس کا ممبر بنانے پر راضی ہیں۔ جبکہ پاکستان کو ممبر نہیںبنایا جارہا۔چین کہتا ہے کہ جب تک پاکستان ممبر نہیں بنے گا بھارت بھی نہیں بن سکتا؟پاکستان جوہری پروگرام کے لیے توصیفی اسناد ملی ہیں۔پاکستان ہمیشہ سے ایٹمی ٹیکنالوجی کے پھیلائو کے خلاف ہے۔اس لیے امریکا نے بھی پاکستان کی تعریف کی ہے۔ عالمی سربراہی کانفرنسز برائے ایٹمی تحفظ کی پہلی جو ٢٠١٠ء امریکا واشنگٹن ڈی سی میں،دوسری٢٠١٢ء جنوبی کوریا سیول میں تیسری ٢٠١٤ء نیدر لینڈ( ہالینڈ) چوتھی ٢٠١٦ء امریکا میں منعقد ہوئیں۔ ان سب میں پاکستان نے بھر پور شرکت کی۔

مصنف نصرت مرزا صاحب رابطہ فورم انٹر نیشنل کے سربراہ ہیں۔ اس ادارے کے تحت یکم مارچ ٢٠١٤ء کراچی میں ایک سیمینار کا انعقاد کیاگیا۔ جس میں ایٹمی سائنسدان، یونیورسٹیوں کے پروفیسرز اور دیگر دانشورں کے سامنے ایٹمی توانائی کے بجلی گھروں کے متعلق سوالات کے جوابات پیش کئے گئے۔ ١٠ مارچ ٢٠١٥ء کو کراچی میں دوسرا سیمینار منعقد کر کے عوام کے ذہنوں میں ڈالے گئے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ عوام کو بتایا گیاایٹمی بجلی گھر ماحولیات دوست اور سستی بجلی حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ایک اور سیمینار ٤ جون ٢٠١٥ء کو کراچی میں منعقد کر کے عوام کو بتایا گیا کہ جوہری بجلی گھر سمندری مخلوق کے لیے نقصان دہ نہیں۔ ان سیمینار کے علاوہ مذید آگاہی کے لیے نصرت مرزا صاحب نے٢٤ دسمبر ٢٠١٧ء کو پاکستان ایٹمی انجی کمیشن کے چیئر میںمحمد نعیم صاحب اور جناب شاہد ریاض کے تعاون سے کراچی کے پروفیسروں ، اخبارات کے ایڈیٹروں، طلبا کی ایک بڑی تعدادکو پاکستان جوہری توانائی کمیشن کے تعاون سے کراچی میںکے ون کے ٹو اور کے تھری بجلی گھروں کا دورہ کرایا۔

صاحبو! یہ ہیںپاکستان ایٹمی انرجی کمیشن کی ترقیاں، جسے نصرت مرزا صاحب نے اپنی کتاب” جوہری نشتر تحقیق ”برائے امن اور خدمتِ انسانیت میں بیان کی ہیں

۔ایٹمی پروگرام صرف ایٹمی بم ہی نہیں بلکہ پاکستان کا پر امن ایٹمی پروگرام انسانیت کی خدمت بھی کر رہا ہے جسے دنیا نے توصیفی سرٹیفیکیٹ بھی جاری کیے ہیں۔ نیو کلیئر سپلائی گروپ کے ٤٨ ملکوں کو چاہیے ہے کہ پاکستان سے تعصب نہ برتیں۔ بھارت کے ساتھ پاکستان کو نیوکلیئر سپلائی گروپ کا ممبر بنائیں تاکہ پاکستان انسانیت کی مذید خدمت کرے۔ بقول شاعرخواہ میر درد:۔
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو۔
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

Mir Afsar Aman
Mir Afsar Aman

تحریر : میر افسر امان

Share this:
Tags:
Atomic Energy commission humanity Mir Afsar Aman nuclear pakistan Peace Research امن انسانیت ایٹمی انرجی پاکستان جوہری نشتر تحقیق کمیشن
Coronavirus - Pakistan
Previous Post ملک میں کورونا کے 1 ہزار 979 نئے کیسز سامنے آگئے، مزید 50 اموات
Next Post مفتی محمد نعیم کے صاحبزادے مولانا فرحان 4 ماہ بعد ساؤتھ افریقہ سے کراچی پہنچ گئے
Maulana Farhan Naeem

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close