Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بے سرا راگ اور عطائیے‎

January 22, 2017 0 1 min read
Amir Liaquat and Orya Maqbool
Vulgarity in Pakistani Media
Vulgarity in Pakistani Media

تحریر : عماد ظفر
بے حیائی، عریانی فحاشی دین سے دوری ہمارے معاشرے کے زوال کا سب سے بڑا سبب ہیں. یہ باتیں روزانہ کی بنیاد پر نیم خواندہ افراد سے لیکر پڑھے لکھے دانشوروں سے سننے کو ملتی ہیں. ہوش سنبھالنے سے لیکر آج تک زیادہ تر دانشوروں اور پڑھے لکھے افراد سے بھی یہی سننے کو ملا. اسی طرح ہمیں یہ بھی دیکھنے اور سننے کو ملتا رہا کہ کفار دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں بھی. آخرت کا تو پتا نہیں البتہ آج تک کفار کو ان گنہگار آنکھوں نے ہمیشہ دنیا کی ترقی یافتہ ترین قوموں اور دنیا پر راج کرنے والی قوموں کی حیثیت سے ہی دیکھا. ہم جیسے کم عقلوں کو نہ تو پہلے یہ منطق سمجھ آتی تھی اور نہ اب. لیکن اس منطق کو ماننے والے بے شمار بلکہ زیادہ تر افراد معاشرے میں بستے ہیں. یہ وہ افراد ہیں جو طوائفوں کے جسموں سے اپنی جبلتیں پوری کرتے ہیں لیکن زلزلوں اور قدرتی آفات کو دل سے عورتوں کے ہاف بازو قمیضیں پہننے یا ان کی بے حیائی کا نتیجہ سمجھتے ہیں.

اکثر دودھ چینی پتی ادوایات میں ملاوٹ کرنے کے بعد جمعوں کے خطبے کے بعد گڑگڑا کر یہ حضرات رب سے ملک سے کرپشن کے خاتمے اور بے ایمان لوگوں کے نیست و نابود ہونے کی دعائیں مانگتے پائے جاتے ہیں. جب امریکہ یا دیگر ممالک کی ترقی کی جانب توجہ مبذول کی جائے تو جواب ملتا ہے کفار کیلئے دنیا میں آسانیاں ہیں. اس جواب کو سن کر منٹو کا وہ جملہ یاد آ جاتا ہے کہ دکھ اس بات کا ہے کہ زندگی کتوں والی ملی لیکن حساب انسانوں والا لیا جائے گا.

اس قدر تنگ نظری تعصب اور دوغلے پن کے باوجود کمال یہ ہے کہ معاشرے میں بسنے والے زیادہ تر افراد نہ صرف خود کو رب کریم کی پسندیدہ قوم سمجھتے ہیں بلکہ ملک میں موجود ہر اقلیتی فرقے اور مذہب کا جینا حرام کر دیتے ہیں.یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ریاست کا یہ فرض نہیں کہ معاشرے میں پیدا ہونے والےاس بگاڑ کو درست کرنے کیلیے راست اقدامات اٹھائے ؟ملک میں بسنے والے ہر شہری کو یکساں طور پر جان و مال کی ضمانت دے . خیر مسئلہ یہ ہے کہ ریاست خود کبھی اپنے مفاد اور کبھی مذہبی شدت پسندوں کے دباؤ کی وجہ سے نہ صرف مجرمانہ خاموشی اختیار کیئے رکھتی ہے بلکہ شدت پسندی کے عفریت کو ہوا دینے کا باعث بھی بنتی ہے. رہی سہی کثر عامر لیاقت ،اوریا مقبول جان جیسے نوٹنکییے پوری کر دیتے ہیں.

تازہ ترین واقعات ہی دیکھ لیجیئے جناب عامر لیاقت ایک نجی ٹی وی چینل کے پلیٹ فارم سے گلا پھاڑ پھاڑ کر حال ہی میں لاپتہ ہونے والے افراد کو گستاخ مزہب کا مجرم قرار دے کر نہ صرف انہیں سولی چڑھانے کی فرمائشیں کر رہے ہیں بلکہ رائے عامہ کو بھی اپنی نوٹنکی سے مشتعل کرنے کا باعث بن رہے ہیں. یاد رہے یہ وہی عامر لیاقت ہے جسے خود ایک فرقے سے تعلق رکھنے والیایک کالعدم تنظیم نے ایک زمانے میں گستاخ صحابہ کا مجرم دیکر واجب القتل قرار دے ڈالا تھا اور موصوف نے منتیں ترلےکر کے اور بڑے بڑے علمائے کرام کو بیچ میں ڈال کر معافیاں مانگ کر جان بخشی کروائی تھی. یہی نہیں موصوف خود ایک رات رینجرز کی تحویل میں بھی رہے تھے جس کے فورا بعد جناب نے سیاست سے اور ایم کیو ایم کا ساتھ دینے سے توبہ کر لی تھی. ہونا تو یہ چائیے تھا کہ محترم عامر لیاقت ہوش کے ناخن لیتے اور اس کرب اور دکھ کو سمجھتے ہوئے کسی پر بھی بنا ثبوت یا جواز کے توہین یا گستاخی کا الزام لگانے کی واشگاف الفاظ میں مذمت کرتے. اور ریاستی اداروں کی جانب سے شہریوں کو جبری اغوا کیئے جانے کے خلاف آواز بلند کرتے . لیکن کم بخت شوبز کی چمک پیسہ اور مزہبی چورن بیچ کر کمائی گئی کھوکھلی عزت کا نشہ ہی ایسا ہے کہ آدمی کئی دفعہ انسانیت کی ہی معراج سے گر جاتا ہے.

دوسری جانب تازہ ترین مثال محترم اوریا مقبول جان کی ہے جو شاید اپنی افسر شاہی کے ایام اور کرسی کی طاقت کے کھو جانے کا غم، تکلیف اور غصہ مذہبی اور فرضی تاریخی چورن بیچ کر نکالتے ہیں.حال ہی میں اسلام آباد میں ایک جواں سوال بچے کے اپنی استانی سے عشق میں مبتلا ہونے اور پھر اس استانی کے عشق میں خود کشی کرنے کے فعل کی بنیاد موصوف نے انٹرنیٹ مخلوطی نظام تعلیم موبائل فون اور بےحیائی کو قرار دے ڈالا. ایک نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں موصوف نے علم نفسیات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے کمال ڈھٹائی سے فرائیڈ میسلو اور دیگر نفسیات دانوں کا نام لیئے بنا ہی محرکات کے لفظ کو اس کمال مہارت سے بے راہروی اور انٹرنیٹ اور موبائل فون سے جوڑا کہ ان نفسیات دانوں کی یقینا قبروں میں چیخیں نکل گئی ہوں گی.

نہ صرف اس واقعے کا زمہ دار اوریا صاحب نے موبائل فون انٹرنیٹ اور پردہ نہ کرنے کو قرار دیا بلکہ یہ ثابت کرنے پر تلے رہے کہ انسان کی بنیادی جبلتیں وجود ہی نہیں رکھتیں اور آج سے چند صدیوں پہلے دنیا اور بالخصوص ہمارے معاشروں میں کبھی اس طرح کے واقعات ہوتے ہی نہیں تھے. یہ دونوں مثالیں بیان کرنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ غور کیا جائے کہ بطور معاشرہ ہماری مجموعی نفسیات نہ صرف ان دونوں حضرات جیسی ہو چکی ہے بلکہ معاشرے میں بسنے والے زیادہ تر افراد اسی قسم کے زہنی اور نظریاتی شدت پسند ہیں. ایک بچہ خود کشی کرتا ہے استانی سے عشق کے چکر میں. ٹین ایج یعنی نوجوانی میں اکثر ہارمونن کی تبدیلیاں جسم کے ساتھ ساتھ جزبات پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں اور اکثر بچے یا بچیاں اس عمر میں ان تبدیلیوں کے باعث وقتی طور پر طور پر صنف مخالف کی جانب متوجہ ہو جاتے ہیں اور اسے پیار یا عشق سمجھ بیٹھتے ہیں.یہ ایک عام سی بات ہے اور کوئی بھی بچہ یا بچی اس عمر میں ایسے ہی جزبات یا خیالات رکھتا ہے.

اگر والدین رشتہ دار یا اساتذہ بروقت ایسے بچوں بچیوں کی رہنمائی کرتے ہوئے ان کی کونسلنگ کر دیں تو بچے یا بچیاں بہت جلد اس کو بھول کر زندگی میں مصروف ہو جاتے ہیں اور بعد میں ان حماقتوں کو یاد کر کے خود پر ہنستے بھی ہیں. اس بدقسمت بچے کے کیس میں معاملہ یہ تھا کہ اس بچے کو کونسلنگ مہیا نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی نے اس کو سننے کی کوشش کی.نتیجتا وہ بچہ تنہائی کا شکار ہو کر ڈیپریشن میں مبتلا ہو گیا اور اپنی جان خود لے بیٹھا.اگر اس سکول کا پرنسپل بچے سے بات کر کے اسے سمجھاتا. اس بچے کے والدین بچے سے بات کر کے اسے سمجھاتے ،تو شاید وہ بچہ آج زندہ ہوتا.اس واقعے نے دو اہم پہلووں کی جانب توجہ مبذول کروائی اول بچوں کے ساتھ ہر بات اور ہر معاملے میں کمیونیکیشن بے حد ضروری ہے دوئم یہ کہ ہمیں نصاب میں سیکس اور ہارمون کی تبدیلیوں سے متعلق معاملات کو شامل کرنے کی اشد ضرورت ہے اور سکولوں میں بچوں کے لیئے ماہرین نفسیات کی موجودگی کی بھی فوری ضرورت ہے . بدقسمتی سے ان محرکات اور اسباب پر غورو فکر کے بجائے طالبانی مائنڈ سیٹ پر مشتمل معاشرہ اسی موبائل فون کو اس کی وجہ قرار دے رہا ہے جس کے بنا نہ تو ان کا کوئی کاروبار چل سکتا ہے اور نہ ہی معاملات.اسی انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کو گالیاں دی جا رہی ہیں جن کی بدولت شعور و آگہی سے لیکر ،نہ جانے کتنی ہی ان گنت سہولیات سے لطف اندوز ہوا جاتا ہے. رہی سہی کثر بنیادی جبلتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر کے پوری کر دی جاتی ہے.

Amir Liaquat and Orya Maqbool
Amir Liaquat and Orya Maqbool

عامر لیاقت یا اوریا مقبول جان جیسے افراد کا تو خیر یہ دھندہ ہے. پیسہ کمانے کا زریعہ اس لیئے وہ یہ چورن بیچیں گے. لیکن جو افراد یہ چورن خریدتے ہیں ان کو کبھی کبھار واقعتا سیلوٹ کرنے کو جی چاہتا ہے.یقین کیجئے آج کے دور جدید میں جہاں معلومات کمپیوٹر کے ایک کلک کے ذریعے مل جاتی ہیں اس دور میں علم و تحقیق سے منہ موڑ کر بنیادی جبلتوں سے انکار کر کے ان حضرات کا چورن خریدنے والے افراد دراصل کمال کرتے ہیں.شاید یہی وجہ ہے کہ مولانا روم نے بہت عرصہ قبل کہا تھا کہ علم و آگہی خدا کی بخشی ہوئی جنت جبکہ جہالت خدا کی مسلط کی گئی جہنم ہے. لیکن کیا کیجئے کم.بخت ہماری سوچ بھی جنت میں موجود حوروں سے مباشرت کے تصور سے آگےا جاتی ہی نہیں اس لیئے مولانا رومی جیسے عالموں کی باتوں اور فلسفہ سمجھنے پر کون دھیان دے.بہر حال کافر کافر گستاخ یا بے حیائی کا یہ بے سرا راگ نہ تو زمانہ جدید کی لے سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی اس کی دھن کے شور سے بنیادی جبلتوں یا انسانیت کے ضابطوں کو کچلا جا سکتا ہے.

پیمرا اور ٹی وی چینلز کو شاید اب ایک ضابطہ اخلاق طے کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت کم سے کم وہ افراد الیکٹرانک میڈیا پر آ سکیں جنہیں یہ معلوم ہو کہ کونسی بات کب اور کیسے موقع پر کرنی ہے. اور جو شدت پسندی تعصب اور جھوٹی پرفریب باتوں کے چورن کی جگہ دلیل عقل اور منطق پر مبنی بات کر سکیں.جاوید احمد غامدی صاحب جیسے معتدل مزاج اور زمانہ جدید کے تقاضوں اور انسانی نفسیات اور جبلتوں سے آشنا افراد کو نہ صرف حساس موضوعات پر مکالمے کیلئے تمام تر پلیٹ فارم مہیا کرنے چائیے بلکہ سرکاری سطح پر ان کی سرپرستی بھی کرنی چائیے. تا کہ کسی کو مرتد یا واجب القتل قرار دینے کو علاوہ بھی معاشرہ کچھ اور سوچنے کے قابل ہو. بطور معاشرہ ہم پہلے ہی انتشار کا شکار ہیں اور اس انتشار کو مذہبی اجارہ دار اور فاشسٹ اپنی اپنی دکانیں چمکانے کیلیے مزید ہوا دیتے ہیں.ہونا تو یہ چاہیے کہ پیمرا کسی بھی ایسے پیغام یا بات کو نشر کرنے پر پابندی لگا دے جس سے مزہبی منافرتوں یا ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کے سرٹیفیکیٹ دئیے جاتے ہیں. یا پھر دلیل و عقل کے منافی باتیں کر کے بنیادی جبلتوں کے رکھنے کو جرم قرار دیا جاتا ہے. کم سے کم اب یہ کافر کافر اور بے حیائ کی گردان بند ہونی چائیے کہ سن 1947 سے لیکر آج تک ہم نے ایک دوسرے کو سوائے کافر قرار دینے کے سرٹیفیکیٹس اور غداری کے الزامات کی اسناد تقسیم کرنے کے علاوہ کچھ بھی ایسا قابل تعمیری کام نہیں کیا جسے جدید دنیا میں مانا یا جانا جا سکے. یا جو جدید دنیا کی ترقی میں معاون ثابت ہو. شدت پسندی کی ابتدا ان رویوں سے ہوتی ہے جنہیں ہم اپنے اپنے فرقے کو درست اور دوسرے فرقوں کو غلط قرار دینے کیلئے اپناتے ہیں یا جس سوچ کی بدولت ہم دنیا بھر کو اپنے سے کمتر گردانتے ہیں.

غضب خدا کا کہ دنیا مریخ تک جا پہنچی ہے اور ہم آج بھی کافر کافر کھیل رہے ہیں.دنیا میں جدید سائینس اور ایجادات پر مکالمے اور مناظرے ہوتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں ناف سے نیچے ناڑا باندھنا اور مباشرت کے آداب آج بھی زیادہ تر مباحثوں کا حاصل ہیں. کون کافر ہے کون نہیں خدا نے اس معاملے میں کبھی ہم سے رائے طلب نہیں کی ہے. کون بے حیا ہے اور کون حیا دار کون بے راہروی کا شکار ہے اور کون درست راستے پر گامزن ہے. اس کا تعین اس زات کو کرنے دیجئے جس کے پاس سارے جہانوں کا اختیار ہے .محض مذہبی چورن فروشوں کے پراپیگینڈے میں آ کر ایک دوسرے کو جان سے مار دینا اور کمتر سمجھنا کہاں کی انسانیت ہے اور کم سے کم دین اسلام میں تو ایسی منافرت یا فرقہ بازیوں یا دقیانوسی خی کی کوئی گنجائش نہیں. بطور معاشرہ ہمیں خود بھی اس امر کے ادراک کی ضرورت ہے کہ ناڑے باندھنے سے لیکر جسم ڈھکنا یا کافر قرار دینے کے مباحث کی بنا پر نہ تو معاشرے ترقی کرتے ہیں اور نہ ہی آگے کو بڑھنے پاتے ہیں. کوئی بھی انسان اپنی مرضی سے کسی خاص فرقے یا اقلیتی گروہ یا کسی خاص ماحول میں پیدا نہیں ہوتا اس لیئے کسی خاص فرقے مذہب، قومیت یا طرز زندگی کی بنا پر اس سے نفرت کی نہ تو کوئی وجہ ہے اور نہ ہی کوئی منطق. رہی بات اس کافر کافر والے کھیل اور بے حیائی کی، تو یہ بے سرا راگ شاید چند عطائیوں کے چورن بیچنے میں تو معاون ثابت ہوتا ہے.

معاشرے میں نفرتوں کا اتنا زیادہ تعفن پھیلا دیتا ہے کہ جسے صاف کرتے کرتے صدیاں لگ جاتی ہیں. ہم تو یوں بھی جدید دنیا سے صدیوں پیچھے بستے ہیں اور سوائے قتل و غٍارت گری یا دنیا کو بزور شمشیر فتح کرنے کے خواب دیکھنے کے علاوہ عملی طور پر کچھ نہیں کرتے. کیوں نہ کم سے کم انسانوں اور انسانی رویوں اور جبلتوں کی تضحیک کرنا ہی بند کر دیں .کہ کم سے کم ہماری آنے والی نسلیں تو حبس و جبر اور نفرت کی گھٹن سے نجات حاصل کر لیں. کیوں نہ اس بے سرے راگ کی جگہ ایک دوسرے سے انس محبت اور احترام کا اظہار کیا جائے. یہ سب نہ تو کوئی راکٹ سائنس ہے جسے سمجھنا مشکل ہے اور نہ ہی کوئی ایسی چیز جو کہ ممکن نہ ہو بس ان عطائیوں کے چورن کو خریدنے کی عادت ترک کرنی ہو گی. بصورت دیگر ہمارے آنے والے بچے بھی کافر کافر اور بے حیا کا کھیل کھیلتے ایک دوسرے کو جہنمی سمجھتے نفرتوں کے سائے میں جیتے رہیں گے.

Imad Zafar
Imad Zafar

تحریر : عماد ظفر

Share this:
Tags:
disasters Imad Zafar Intellectuals nation obscenity people Society آفات افراد دانشوروں فحاشی قوم معاشرے
Supercomputer
Previous Post کروڑوں کمپیوٹر سے زیادہ طاقور سپر کمپیوٹر
Next Post گرم پانی اور سی پیک
Pak-China Economic Corridor

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close