
سرینگر (جیوڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین نے پولیس سٹیشن پر حملہ کر کے 3 بھارتی اہلکاروں کو جہنم واصل کر دیا جبکہ جھڑپ کے دوران دو مجاہدین شہید ہو گئے۔ فائرنگ سے 3 بھارتی اہلکار زخمی بھی ہو گئے۔
دوسری طرف سرینگر میں جموں کشمیر ماس موومنٹ کے زیراہتمام لاپتہ کشمیریوں کی بازیابی کیلئے اور بھارتی فورسز کے مظالم کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ بھارتی سکیورٹی فورسز نے کل جماعتی حریت کانفرنس کی سینئر رہنما فریدہ بہن جی سمیت متعدد رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔ گذشتہ روز پاکستان سے متصل بھارتی سرحد کے قریب مقبوضہ کشمیر کے ضلع کٹھوبہ کے پولیس سٹیشن پر مجاہدین نے آتشیں اسلحہ سے لیس ہو کر دھاوا بول دیا اور فائرنگ کر کے پیرا ملٹری فورس کے 3 اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
مجاہدین کے حملہ کے بعد بھارتی فوج بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور فائرنگ کے تبادلہ میں دونوں مجاہد شہید ہو گئے۔ بی بی سی کے مطابق پولیس حکام نے بتایا مجاہدین کی تعداد 3 سے 4 تھی اور وہ جدید اسلحہ اور گولہ بارود سے لیس تھے۔
ایک پولیس افسر نے بتایا مجاہدین نے پہلے پولیس تھانے کے باہر نیم فوجی اہلکاروں کی حفاظتی چوکی پر حملہ کیا جس میں کئی نیم فوجی اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعد میں مجاہدین نے دستی بم پھینکے اور تھانے میں کئی مقامات پر پوزیشن سنبھال لی۔ 7 گھنٹے جاری رہنے والے تصادم کے بعد حکومت نے کہا دونوں مجاہدین کی شہادت کے بعد آپریشن ختم ہو گیا ہے۔
ادھر سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے حملہ آور سرحد پار سے آئے ہونگے، ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔ کے پی آئی کے مطابق سرینگر میں فریدہ بہن جی کی زیر قیادت مظاہرین نے جلوس نکالا۔ بھارتی پولیس نے مظاہرین کو گزرنے سے روک دیا اور کئی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔
مسلم خواتین مرکز جموں و کشمیر نے 23 مارچ کو یوم پاکستان بھرپور انداز میں منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشن میں منعقدہ تقریب میں بھرپور شرکت کرینگے۔ مسلم خواتین مرکز جموں کشمیر کی ترجمان طاہرہ پروین نے یوم استقلال پاکستان کی خصوصی تقریب میں شرکت کی دعوت ملنے پر پاکستانی حکام سے اظہار تشکر کیا ہے۔
علاوہ ازیں کل جماعتی حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کی زیرصدارت سرینگر میں منعقدہ اجلاس کے دوران کہا ہے مسئلہ کشمیر پر پاکستان بھارت اور کشمیری قیادت کے مذاکرات ہی نتیجہ خیز ثابت ہو سکتے ہیں۔ سہ فریقی مذاکرات کی حمایت کرینگے۔
حریت کانفرنس نے 23 مارچ کو نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشن میں ہونیوالی تقریب میں شرکت کا فیصلہ کر لیا جبکہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سپریم ہیڈ امان اللہ خان نے میرپور میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا مقبوضہ کشمیر جلد آزاد ہو گا۔فائرنگ کے تبادلے میں ایک راہگیر کے مرنے کی بھی اطلاع ملی تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
