
یارب مجھے لوٹا دے میری جوانی
وہ ٹانگوں کی طاقت وہ ہاتھوں کی روانی
وہ رات بھر لکھنا نئی اک کہانی
وہ نانا وہ دادا کی گونج پرانی
بڑھاپا اک بوجھ ہے یہ بات آج جانی
یارب دہرائے نہ وقت پھر کہانی
اولڈہاؤس میں بیت رہی تھی جس کی زندگانی
شمائل کو نہ دینا اے مالک ایسی حیات جاودانی
ازقلم: شمائلہ زاہد، کراچی
