Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

صلیب اور ہلال کی نئی کشمکش

November 24, 2014 0 1 min read
Muslims
Muslims

تحریر: پروفیسر محسن عثمانی ندوی

حدیث میں علماء کو ورثة الانبیاء کہا گیا ہے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ مسلمانوں کے معاملات ومسائل سے جو دلچسپی نہ لے وہ ہم میں سے نہیں۔ چونکہ پیغمبر کو اپنی امت کی فکر ہمیشہ لاحق رہتی ہے اس لئے امت کے مسائل کی فکر کرنا اور امت کی پریشانیوں سے بیچین ہونا اور ان کے غم کو اپنا غم بنانا اوامت کی صحیح فکری رہنمائی کرنا پیغمبروں کی وراثت ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ اہل علم جنہوں نے اسلامی دنیاکے حالات پر اپنی نگاہ رکھی ہے اور جنہوں نے عالم اسلام کے غم کو اپنا غم بنایا ہے۔ جب اسلامی دنیا کراہ رہی ہو اور جب وہ استبداد اور ظلم کا شکار ہورہی ہواور مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہو اور بے گناہ لوگوں کو پس دیوار زنداں ڈالا جارہا ہو اس وقت سب سے اہم کام مظلوم کی حمایت اور مدد ہوتی ہے، قرآن میں ہے و من احیا ہا فکانما احیا الناس جمیعا یعنی جس نے انسان کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخشی۔

زندگی بخشنے کا مطلب بے جان مردہ لاش کوزندہ کرنا اوراس میں روح پھونکنا نہیں ہے، زندگی بخشنے کا مطلب موت سے بچانا ہے اور کسی کو موت سے بچانے طریقے متعدد ہوسکتے ہیں ظالم کو ظلم سے روکنا ، انصاف کی عدالت میں ظالم کے خلاف مقدمہ قائم کرنا ، تحریر یا تقریر یا بیان کے ذریعہ احتجاج کرنا اور لوگوں کو ظلم کی طرف متوجہ کرنا، یہ ساری تدبیریں زندگی بخشنے کے مفہوم میں داخل ہیں۔ یہاں مسلمانوں کی تنظیمیں بہت سی ہیں، لیکن ہم نے نہیں دیکھا کہ مسلم ملک میں اسلامی شخصیات کوپھانسی دی جائے چمن اسلام کے گل ہائے تازہ کو کچل دیاجائے اور غنچوں کومسل دیا جائے تو کسی مسلمان قائد کا دل اس پر مضطرب ہوا ہو ، مصر میں سیکڑوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتاردیاجائے اور دار ورسن کی منزلوں سے دینی ذہن وفکر رکھنے والی شخصیتوں کو گذارا جائے تواس پر کسی کا د ل اس طرح دکھا ہو کہ اس نے اخبارات کے ذریعہ اپنے غم اور کرب کا اظہار کیا ہو،

عرب ملکوں میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جائے اور عوام پر ظلم ہو اور غیر قانونی طور پر کوئی سیسی اقتدار پر قابض ہوجائے اور اپنے مخالفوں کو جیلوں میں بند کردے تو ہم نے نہیںدیکھا کہ کسی عالم اور کسی جماعت کے امیر نے کسی صوفی اور کسی فقیر نے کسی جمعیت کے مقتدا اور پیشوانے غم اور غصہ کا اظہار کیا ہو الا ماشاء اللہ ۔یعنی اب خون سفید ہوگیا ہے اور مسلمانوں کے معاملات سے دوری اور بے تعلقی پیدا ہوگئی ہے اور ہم اس حدیث کا مصداق ہوگئے ہیں من لم یہتم بامر المسلمین فلیس منا یعنی جو مسلمانوں کے معاملات سے بے نیاز ہو وہ ہم میں سے نہیں ۔ اتنا ہی نہیں جو اہل علم ان موضوعات پر لکھتے ہیں اور اپنے کرب کا اظہار کرتے ہیں انہیں معمولی درجہ کا مضمون نگار اور قلم کار سمجھاجاتا ہے، اور منبر ومحراب کے فضیلت مآب علماء کے مقام بلند سے انہیں فروتر سمجھا جاتا ہے ۔ زیادہ تر علماء حالات کے سمندر میں خود کو کتابی جزیرہ کے اندر نظر بند رکھتے ہیں انہیں کوئی خبر نہیں ہوتی کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کہاں کیاکیاسازشیں ہورہی ہیں اور کہاں کیا افتاد پڑی ہے۔

لیکن ہندوستان میں شاہ ولی اللہ دہلوی سے لے کر شیخ الہند مولانا محمود الحسن ، مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر ،مولاناشبلی نعمانی ، مولانا مودودی اور مولانا ابوالحسن علی ندوی تک بہت سے علماء اور مفکرین اپنے وقت کے حالات سے غافل نہیں رہے، وہ عالم اسلام سے بے تعلق نہیں رہے، وہ باطل کے خلاف شمشیر بے نیام رہے، انہوں نے اپنے قلم کواور اپنی زندگی کوملت کی صحیح رہنمائی کے لئے وقف کردیا تھا،

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ صلیبی صہیونی جنگ اسلامی دنیا کے خلاف چھیڑ دی گئی ہے اور شیعی دنیا بھی صلیبیوں اور صہیونیوں کے ساتھ مل گئی ہے ایرانی رہنما آیت اللہ خامنہ ای کا بیان اکتوبر 2014 کے تیسرے ہفتہ میں دہلی کے اردو اخبارات میںآ چکا ہے کہ اگر بشارالاسد کو تخت اقتدار سے ہٹایا گیا تو اسرائیل کے وجود کی کوئی ضمانت نہیں ہے ، اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ ایران اسرائیل کی بقاء چاہتا ہے اور یہ کہنا چاہتا ہے کہ اگر بشار کو ہٹایاگیا تو اقتدار پر جولوگ آئیں گے ان سے اسرائیل کوخطرہ ہے اس لئے امریکہ مغربی طاقتین بشار الاسد کو ہٹانے کی کوششوں سے باز آجائیں ۔ اگر بشار کو شام سے نکالا گیا تو جولوگ اقتدار میں آئیں گے وہ اسرائیل کے خلاف کاروائی سے باز نہیں آئیں گے ۔ہر مسلمان کو یہ جاننا چاہئے کہ اس وقت عالم اسلام بے حد کمزور اور صلیبی صہیونی شیعی متحدہ محاذکے نرغہ میں ہے

تاریخ میں پہلے بھی شیعی اور صلیبی اتحاد وجود میں آچکا ہے۔ تاریخ میں اسلام کے بطل جلیل عماد الدین زنگی کو صلیبیوں سے مل کر شہید کرنے والے شیعہ تھے۔ صلیبیوں کے خلاف جنگ آزما ایک سلجوقی مجاہد کو دمشق کی جامع مسجد میں قتل کرنے والے بھی شیعہ تھے، شیعیت اور صلیبیت کا یہی اتحادتھا جس کی وجہ سے شیعوں کی سرکوبی کے لئے نور الدین زنگی نے مصر کی فاطمی حکومت کے خلاف فوج کشی کی تھی اور سلطان صلاح الدین ایوبی خود بھی اس مہم میںشریک ہوئے تھے اور انہوں نے شیعی فاطمی خلافت کے خلاف جہاد کیا اور پھر شیعی فاطمی خلافت کے خاتمہ کا اعلان کیا تھا سلطان صلاح ادین ایوبی نے اپنے زمانہ میں مصر میں جامع ازہر کو بھی بند کیا جو شیعیت کی تعلیم وتلیغ کا سب سے بڑا مرکز تھا ۔ بہت کم لوگوں کو یہ بات معلوم ہے کہ مصر میں جب محمد مرسی اقتدار میں آئے تو ایرانی حکومت نے جامع ازہر اور سیدنا زینب کے علاقہ کو ایرانی انتظام میں دینے کا مطالبہ کیا تھا، محمد مرسی نے یہ مطالبہ ٹھکر ادیا تھا۔ محمد مرسی نے ایران جاکر بھی ناوابستہ ممالک کی کانفرنس کے موقعہ پرشامیوں کی جنگ آزادی کی حمایت کی تھی اور بشار الاسد کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی آواز اٹھائی تھی، لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کا ایک چھوٹا سا حلقہ ہر حال میں سعودی حکومت کی حمایت پر تلا ہوا ہے، وہ محمد نرسی پر یہ الزام عائد کرتا ہے کہ وہ ایران سے بہت قریب ہو گئے تھے۔ سعودی عرب کی اس اندھی حمایت کے پیچھے درہم ودینار کی طلب کے سوا کچھ نہیں ہے۔

America
America

اس وقت مشرق وسطی صلیب کے نشانہ پر ہے اگرچہ نام صلیبی جنگ کا نہیں ہے، تاریخ میں یہی خطہ پہلے بھی صلیبی حرص و آز کا نشانہ تھا اور آج بھی یہی علاقہ اس کی سازِش کا ہدف ہے۔ غم اس بات کا ہے کہ عربوں کو اورپوری اسلامی دنیا کو اس خطرہ کا احساس نہیں۔ متاع کارواں کے لٹ جانے کا غم اتنا شدید نہیں جتنا اس بات کا غم ہے کہ کارواں کے دل سے احساس زیاں بھی جاتا رہا ہے ۔عرب ممالک میں امریکہ کھلے آسمان سے بمباری کررہا ہے، عرب انتہائی کمزور ہیں وہ ہتھیلی پر رکھے ہوئے اس گوشت کی طرح ہیں جسے کوئی چیل کسی وقت بھی جھپٹا مار کر لے جاسکتی ہے ۔ یہ عرب ممالک امریکہ اور مغربی ملکوں سے ہتھیار لیتے ہیں ۔ یہ عر ب ملک بھی کیا سادہ ہیں جس کے بیمار ہوئے ہیں اسی سے دوا لیتے ہیں ۔عربوں کو ہتھیار امریکہ اور مغربی ملکوں سے بس اسی قدر مل سکتے ہیں کہ وہ اسرائیل کو نقصان نہ پہونچاسکیں ۔غلطی یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ پٹرول کی دولت جو اللہ نے دی تھی اس کا صحیح استعمال نہیں ہوسکا ، پٹرول کی دولت سے عرب ملکوں میں صنعتی اور سائنسی انقلاب آنا چاہئے تھا، اسلحہ سازی ہونی چاہئے تھے، ان ملکوں کو خود کفیل ہونا چاہئے تھا، افسوس کہ یہ سب نہ ہوسکا ، باہر سے سامان منگا کر عیش کرنے کے سوا عربوں نے کچھ نہیں سیکھا ۔صحیح تعلیمی اور سائنسی منصوبہ بندی نہ ہوسکی ۔

اس وقت امریکہ اور اس کے ساتھ کئی ملکوں کا اتحاد جو داعش کو عراق اور شام میں مسلسل بمباری کا نشانہ بنا رہا ہے یہ بالواسطہ طور پر صلیبی جنگوں کا احیاء ہے، یہ مسلمانوں کو برباد کرنے کی سازش ہے ۔صرف ترکی ہے جس نے بجا طور یہ سوال اٹھایا ہے کہ صرف داعش پر بمباری کیوں جس نے صرف چند ہزار جانوں کو ختم کیا ہے ، بشار الاسد اور اس کی حکومت کو نشانہ کیوں نہیں بنایا جارہا ہے جس نے دولاکھ انسانوںکا قتل کیا ہے۔ ظاہر کچھ ہے اور باطن کچھ ، کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ ۔ ظاہر میں داعش کے خلاف کاروائی باطن میں اسرائیل اور بشار کو مضبوط کرنے کامصمم ارادہ ۔حقیقت یہ کہ بشار سے اسرائیل کوکوئی خطرہ نہیں ، اسرائیل کو خطرہ ان اسلام پسندوں سے ہے جو شام میں انقلاب کی کامیابی کے بعداقتدار میں آئیں گے۔

داعش کے خلاف جنگ احزاب چھیڑ دی گئی ہے، سارا یورپ متحد ہے اور چشم بد دور عرب خلیجی ممالک بھی ساتھ ہیں اور سب امریکہ کے زیر قیادت داعش پر بمباری کر رہے ہیں ۔شام میں کئی لاکھ لوگوں کاقتل اور لاکھوں لوگوں کی جلاوطنی اور پناگزینی کی حالت امریکہ کو بیچین نہیں کرسکی لیکن جیسے ہی نوری المالکی کے ظلم وعدوان اور سنیوں پر مظالم کو چیلنج کرتے ہوئے عراق میں داعش میدان میں آئے امریکہ ان لوگوں کو میدان سے ہٹانے اور مارنے کیلئے میدان میں آگیا۔ اس لئے کہ اگر داعش کا عراق میں پٹرول کے ذخیرے پر کا قبضہ ہوتا ہے تو اس سے امریکہ کی معاشی شہرگ کٹ جاتی ہے ۔داعش پر حملہ اس لئے بھی ہو رہا ہے اس سے بشار کواور اس کے اقتدار کو خطرہ ہے اور بشار کے جانے سے اسرائیل کو خطرہ ہے ، یہ ہے اصل وجہ داعش پر حملہ کرنے کی ۔ صہیونی اور صلیبی طاقتیں اسلام کو مٹانے ہٹانے اور گرانے پر متحد ہوگئی ہیں اور ایران کی شیعی طاقت خوش ہو رہی اور خوشی سے پھولے نہیں سمارہی ہے کہ اہل سنت کا خون بہایاجارہا ہے اور شام میں بشار مضبوط تر ہورہا ہے ۔ ایران کا موقف تو سمجھ میں آتا ہے لیکن خلیجی عرب حکومتوں کا داعش کے خلاف امریکہ کا ساتھ دینا حیرت انگیز ہے

پرستاران خاک کعبہ اس وقت ناقوس کلیسا کے ہمساز اور ہم آواز بن گئے ہیں ، یہ بیچارے ملک اپنی ملوکیت کے مستقبل کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں ۔انہیں فلسطین اور مسجد اقصی کی کوئی فکر نہیں۔ امریکہ نے دہشت گردی کو مٹانے کے نام سے داعش کے خلاف جنگ چھیڑی ہے لیکن اسے نوری المالکی اور بشار الاسد کی اسٹیٹ دہشت گردی نظر نہیں آتی ہے۔

عیسائیوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی شام کے مقدس شہر دمشق میں اتریں گے، اس لئے عیسائی اس پورے خطہ ارض سے خود کو وابستہ رکھنا چاہتے ہیں اور اس پر اپنا حکم چلانا چاہتے ہیں اسی لئے ان کا اتحاد صہیونیوں سے ہے اور صہیونیوں کی حکومت انہوں نے قائم کی ہے ، صہیونیوں کے ذریعہ وہ اس خطہ کے کے بڑے حصہ پر اپنا تسلط رکھ سکتے ہیں ۔ ظہور مسیح کی روایتوں کی سرزمین بھی یہی ہے اور ظہور مہدی کی روایتوں کا تعلق بھی اسی علاقہ سے ہے ۔ مہدی کے ظہور کا اسٹیج ایران کی جانب سے تیار کیا جارہا ہے ۔ اسی لئے شیعی اقتدار کی توسیع ہورہی ہے چنانچہ ایران وشام و عراق و لبنان یمن اور بحرین کو ملا کر شیعی استعمار کا ہیولی تیار ہورہا ہے، اس طرح سے صہیونیوت صلیبیت اور شیعیت کا اتحاد قائم ہوگیا ہے اور اسی لئے ان تینوں طاقتوں کی متحدہ جنگ مسلمانوں کے خلاف جاری ہے ۔ اس جنگ میں مسلمانوں کے خلاف بہت سے مغربی ملک شریک ہیں اور خود مسلمان عرب ملک بھی امریکہ کے اشارہ سے شریک ہیں ، صرف ترکی ایسا ملک ہے جس نے اپنی عزت نفس کا سودا نہیں کیا ہے اور اس نے امریکہ کے دباو کا مقابلہ کیا ہے۔

اس وقت عیسائیوںکی مذہبی تثلیث کی طرح مشرق وسطی میں سیاسی تثلیث ابھرکر سامنے آئی ہے ۔ اور اس سیاسی تثلیث نے خطرہ کو شدیدتر کردیا ہے، پہلے امریکہ محض پٹرول کی وجہ سے اس خطہ میں سعودی عرب کو اہمیت دیتا تھا اور ایران سے اس کے تعلقات خراب ہوگئے تھے، ایرانی انقلاب کے بعد تعلقات کے شیشہ میں بال پڑ گئے تھے بلکہ سخت دشمنی کا دور شروع ہوگیا تھا ۔ امریکہ نے ایران پر معاشی پابندیاںعائد کردی تھیں ۔ ایران نے امریکہ کو شیطان اکبر کہنا شروع کردیا تھا ۔ لیکن شیطان اکبر کی” شیطنت ”بھی اب دیدنی ہے کہ اس نے ایران کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا شروع کردیا ہے ۔ بارک اوباما نے آیت اللہ خامنہ ای کو ایک اہم اور خفیہ خط بھیجا ہے جس میںداعش پر حملہ کرنے کے ساتھ تعلقات کی استواری کی دعوت دی گئی ہے ، یعنی یہ کہاجارہا ہے
آو مل جاو مسکراکے گلے
ہوچکا جو عتاب ہونا تھا

Bashar al-Assad
Bashar al-Assad

ایران کو بھی احساس ہے کہ امریکہ بالواسطہ ایران کو اور بشار الاسد کو اور بحیثیت مجموعی پوری شیعہ کمیونیٹی کو فائدہ پہونچارہا ہے اور عراق کی شیعی حکومت تو پہلے سے امریکہ کے تابع ہے ۔جب جب شام میں النصرہ فرنٹ کو امریکی جنگی جہاز نشانہ بناتے ہیں بشار الاسد کی حکومت مضبوط تر ہوتی ہے اور جب بھی عراق میں داعش پر حملے ہوتے ہیں اس کاسیدھافائدہ ایران اور عراق کی حکومتوں کو ہوتا ہے ۔ یمن میں جب بھی القاعدہ اور انصار الشریعہ کو نشانہ بنایاجاتا ہے یمن کے حوثیوں اور شیعی گروہوں کے گھروں میں گھی کے چراغ جلتے ہیں اور ایران میں بھی چراغاں ہوتا ہے لبنان اور بحرین میں بھی خوشیاں منائی جاتی ہیں ۔ اس وقت صلیبیت اور صہیونیت اور شیعیت کا ایسا تال میل ہوگیا ہے اور ایسا تابنا تیار ہوگیا ہے جو پہلے کبھی نہ تھا ۔ سعودی عرب اب سہ طرفہ اتحاد کے گھیرے میں ہے ۔

ایران کا اثر ونفوذ شیعہ آبادی کے ذریعہ سعودی عرب کے اند دو دورر تک پھیلا ہواہے ۔ پھر صلیبیوں کی فوجی چھاونیاں سعودی عرب کے اندر اور اس کے گرد وپیش میں موجود ہیں ۔ کتنا شدید خطرہ ہے ۔کہیں یہ شعلہ دامان حرم تک نہ پہونچ جائے ،کہیں یہ آگ مرغان حرم کے آشیانہ کو خاکستر نہ کردے، کہیں اسلام کی مقدس سرزمیں غارت گری کا شکار نہ جائے،شطرنج کی بساط پر شہ پڑچکی ہے ۔اور بس ظالم کی نیت کے بگڑنے کی دیر ہے ۔
بگڑتی ہے جس وقت ظالم کی نیت
نہیں کام آتی دلیل اور حجت

اس وقت عالم اسلام کے خلاف صلیبی جنگ ایک نئے انداز سے برپا کی گئی ہے ۔ نیا انداز یہ ہے کہ اس میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بظاہر کچھ نہیں کہا جاتا ہے لیکن وہ سارے جتن کئے گئے ہیں جن سے اسلام کہیں سرنہ اٹھاسکے ۔امریکہ میں اناجیلی تحریک جسے Evangelicans کی تحریک بھی کہتے ہیں نائین الیون کے بعد سے خاص طور پر عالم اسلام کے شکست وریخت کے لئے بہت سرگرم ہے اور حکومت پر اس کے اثرات ہیں ، سوویت یونین کا جو دشمن نمبر ایک تھا خاتمہ ہو چکا، سوویت کے بکھر جانے کے بعد سے کئی مفکرین کی کتابیں آچکی ہیں کہ مغرب کو خطرہ اب صرف اسلام سے باقی ہے ، جاپانی نزاد مفکر فوکویاما کی کتاب End of History and the last man میں یہ کہا گیا ہے کہ سویت یونین کے خاتمہ کے بعد اب تاریخ اپنی انتہا کو پہونچ گئی ہے اب آخری آدمی جس کے سر پر دنیا کی شہنشاہیت کاتاج ہے وہ وہائٹ ہاوس میں جلوس افروز ہے ۔ سیمویل ہنٹنگٹن کی کتاب Clash of civiliztion میں جو دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتابوں میں ایک ہے یہ بتایاگیا ہے کہ سوویت یونین کے خاتمہ سے امریکہ کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ تمام خطروں کا خاتمہ ہو گیا ہے ۔اسلام سے الحذر ، سوبار الحذر، اصل ٹکراو اسلام سے ہے ،جس کے پھیلنے اور آبادی میں اضافہ ہونے کی رفتار اندیشہ ناک ہے ، اب مغربی طاقتوں کی ساری کوشش یہ ہے کہ ایک دشمن جو باقی رہ گیا ہے اس کا قصہ بھی ختم کیا جائے ۔

عالم اسلام میں جو کچھ ہورہا ہے اس کو اس روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ اس وقت عرب ملکوں میں مغربی طاقتوں کے فوجی اڈے موجود ہیں اور پھر ہوائی اڈے ہیں جن میں جدید ترین سامان حرب سے لیس جنگی جہاز کھڑے ہوئے ہیں ۔عرب ملکوں کے سمندر میں ساحل کے قریب امریکی بحری بیڑے ہیں ۔ امریکہ دنیا کا ”پولیس مین” بن چکا ہے ، امریکہ اور مغربی طاقتوں کو برداشت نہیں کہ ان کی مرضی کے خلاف کوئی عرب ملک اپنی سیاسی فوجی اور اقتصادی پالیسی بنائے ۔ عراق میں امریکہ کی قائم کی ہوئی شیعی حکومت تھی جوپورے طورپر ایران کے زیر اثر تھی جو رات دن اہل سنت کو ظلم کی چکی میں پیس رہی تھی جب تک سنی عراق میں خاک وخون میں لوٹتے رہے ایران خوش ہوتا رہا ،نوری المالکی کی دشمن اہل سنت حکومت اور بشار الاسد سے مقابلہ اورمقاوت کے لئے داعش کے لوگ جب کھڑے ہوئے تو ایران کے سینہ پر سانپ لوٹنے لگا اور جب عراق کے بڑے حصہ پر ان کا قبضہ ہوگیا تو امریکہ کا دل بھی دھڑکنے لگا اور اسے بھی خطرہ پیدا ہوا کہ عراق کا پٹرول کا دریا اس کے لئے اب سراب ثابت ہوگا ،امریکہ کا اصل مقصد عرب ملکوں کے تیل کے چشموں پر قبضہ کرنے کا ہے ، اب اس نے مغربی ملکوں کو ساتھ لے کر اور عقل سے محروم اور شعورسے بے

بہرہ ایمان ویقین سے عاری خلیجوں ملکوں کو اپنا ہمنوا اور ہم خیال بنا کررات دن داعش پر بمباری شروع کر رکھی ہے ۔ داعش کی حمایت مقصود نہیں اور اس کی سنگین غلطییوں پر پر دہ ڈالنا بھی مقصود نہیںاور علماء نے بجا طور پر اس کی مذمت کی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اہل سنت کے شہیدان وفا کا خون ہے جو داعش کی شکل میں سامنے آیاہے ۔یہ نظریہ غلط ہے کہ داعش کو امریکہ اور اسرائیل نے کھڑا کیا ہے ،سیاسی مبصرین دور کی کوڑی لانے کے عادی ہیں ،داعش پرمسلسل بموں کی اس بارش کے پیچھے اہل سنت کو کمزور کرنا اور بشار الاسد اور اسرائیل کو مضبوط کرنے کا جذبہ کام کررہا ہے ۔ یہ گذشتہ صلیبی جنگوں کا تسلسل ہے دہشت گردی کو ختم کرناتو صرف ایک بہانہ ہے، یہ صرف فسوں اور فسانہ ہے، اصل نشانہ تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا ہے ۔اس وقت پورے عالم اسلام میں تنہا ترکی نے ببانگ دہل یہ اعلان کیا ہے کہ یہ سخت نا انصافی ہے کہ جس درندہ صفت انسان (بشار الاسد) نے دولاکھ انسانوں کا خون بہایا ہو اور ہنگامہ آہ وفغاں برپا کیا ہو اورحسن وخوبصورتی میں بے مثال ملک کو جس نے مسمار کرڈالا ہو اس کوتو چھوڑ دیا جائے اورصرف داعش کو نشانہ بنایا جائے ۔ ترکی نے وہ حق بات کہی ہے جو کسی بھی مسلمان ملک نے نہیں کہی ہے ۔ اس حق گوئی اور بیباکی کی توفیق کاش عرب ملکوں کو مل جاتی اور کاش وہ صلیب اور ہلال کی اس نئی کشمکش کو سمجھ پاتے ۔ اور امریکہ کے اشارہ پر رقص کرنے کے لئے تیار نہ ہوتے۔

صلیب وہلال کی اس نئی کشمکش کو عربوں نے نہیں سمجھا ہے ۔اس وقت ایران بھی صلیب کا طرفدار اور حمایتی بن گیا ہے ۔اس وقت سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں نے سب سے بڑی غلطی یہ کی ہے کہ وہ سب امریکہ کے دام ہم رنگ زمیں میں گرفتار ہوگئے ہیں ۔ ان سب نے عبد الفتاح سیسی کی زور شور سے حمایت کرڈالی ہے اور عالم اسلام کی سب سے بڑی دینی جماعت کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے متحدہ امارات کی حکومت نے ایک قدم آگے بڑھ کر نہ صرف اخوان المسلمون کو بلکہ دنیاکی بے شمار دینی اصلاحی کام کرنے والی جماعتوں کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے اس کی فہرست میں انٹر نیشنل یونین آف مسلم اسکالر ز کی تنظیم بھی ہے جس کے سربراہ علامہ یوسف القرضاوی ہیں اس کی فہرست میں یورپ میں کام کرنے والی فڈریشن آف اسلامک آرگنائزیشن جیسی تنظیم اور دیگر تنظیمیں بھی ہیں جو یورپ میں سرگرم ہیں ، دہشت گرد قرار دینے کا یہ جنون ہے جس کی وجہ سے ٨٠ فی صد سے زیادہ مسلمان پوری دنیا میںسعودی عرب اور خلیجی ممالک کو ناپسند کرنے لگے ہیں اور انہیں عقل اور ایمان دونوں سے محروم قرار دیتے ہیں، خلیجی ملکوں کے خلاف غم وغصہ کی لہرپھیلتی جارہی ہے۔

Islam
Islam

پوری دنیا میں اسلام پسند حلقوں کے حلق سے یہ بات نہیں اترتی ہے کہ عبد الفتاح سیسی کی حمایت کی جائے اور اربوں کھربوں ڈالر سے اس کی مدد کی جائے اور اخوان کا تختہ الٹنے کی بین الاقوامی صلیبی سازش میں کوئی اللہ اور اس کے رسول کا نام لینے والا ملک تعاون کرے ۔ جن لوگوں کو ادنی بصیرت بھی اللہ نے دی ہے وہ اس معاملہ میں سعودی عرب اور خلیجی ملکوں کی تایید نہیں کرسکتے ہیں ۔حکومتوں کو راہ راست پر لانے کی سب سے بڑی ذمہ داری ارباب علم ودانش کی ہے انہیں ہرحال میں حق بات کہنی چاہئے ۔ قرآن میں” اولی الامر” کا جو لفظ ہے امام شافعی نے اس مراد علماء اور امراء لیا ہے اور وضاحت کی ہے کہ علماء کا کام صحیح راستہ بتانا ہے اور امراء کا کام تنفیذ کرنا ہے، اگر علماء یہ کام نہیں کرتے اور امراو وحکام کے چشم و ابر و کو دیکھ کر بیان دیتے ہیں تو انہیں علماء سوء کہا جائے گا ، اور ”ہیئة کبار العلمائ” میں بہت سے علماء کا شمار ایسے ہی علماء سوء میں ہے۔اگر علماء نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرض انجام نہیں دیااور حکمرانوں کو غلط راستہ پر چلنے سے نہیں روکا توعذاب الہی کا کوڑا ان ملکوں کے حکمرانوں کو تاریخ کے کوڑے دان میں ڈال دے گا اور ان کا نام ونشان مٹادے گا۔

تحریر: پروفیسر محسن عثمانی ندوی

Share this:
Tags:
Islam muslims Oppressed اسلامی کشمکش مسلمانوں مظلوم
Previous Post عجیب مہمان
Next Post خالی پیٹ پانی پینا انسانی صحت کے لیے مفید، طبی ماہرین

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close