Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

وبائیں اور تاریخ انسانیت

April 18, 2020 0 1 min read
Coronavirus
Coronavirus
Coronavirus

تحریر : قیصر نذیر خاورؔ

انسانی تاریخ بیماریوں اور وباﺅں کے پھوٹنے سے کبھی خالی نہیں رہی ۔ بعض اوقات تو یہ بیماریاں اور وبائیں اتنی مہلک تھیں کہ انہوں نے تاریخ کا دھارا کئی بار ایسے موڑا کہ انسانی معاشرے دہائیوں پیچھے جا گرے ۔ کئی بارتو یہ خدشہ پیدا ہوجاتا تھا کہ انسانی تہذیب و تمدن فنا ہونے کو ہے ۔ آئیے کچھ اہم وباﺅں کا جائزہ لیں ۔

زمانہ قبل از مسیح

قبل از مسیح زمانے کی بات کریں تو کم از کم دو وبائیں ایسی ہیں جو دنیا کی انسانی تاریخ میں اہم رہیں ؛ پہلی لگ بھگ پانچ ہزار سال پہلے چین کے دو مقامات پر پھیلیں ۔ اس کے بارے میں معلومات نہیں کہ یہ وبا کونسی تھی لیکن ’ ہیمن منغا ‘ اور ’ میاﺅزیگوا ‘ کے مقامات پر ایسے آثار قدیمہ موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ان دیہاتوں میں ہر بوڑھے ، بچے ، جوان مرد و زن کو یکجا کرکے جلا دیا گیا تھا ۔ ماہرین آثار قدیمہ اس بات پر متفق ہیں کہ انہیں کسی وباء کی ہی وجہ سے زندہ جلایا گیا تھا ۔

اسی طرح ، لگ بھگ 430 قبل از مسیح میں ابھی ایتھنز اور سپارٹا کے درمیان ہوئی جنگ کو شروع ہوئے کچھ عرصہ ہی گزرا تھا کہ ایسی وباء پھیلی جس پر پانچ سال تک قابو نہ پایا جا سکا تھا ۔ اس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کا اندازہ ایک لاکھ تک جا پہنچتا ہے ۔ یونانی مورخ تھوسیڈائڈس (Thucydides) نے لکھا ؛ ”۔ ۔ ۔ اچھے بھلے صحت مند لوگوں کو اچانک سرمیں شدید گرمی کا احساس ہوتا ، ان کے چہروں پر لالی چھاتی ، آنکھیں سوج جاتیں اور وہ منہ اور ناک سے خون اگلنے لگتے ۔ ۔ ۔“
یہ وباء کیا تھی ؟ اس پر ماہرین کی دو آراء ہیں ؛ ایک یہ کہ یہ ٹائفائیڈ کا بخار تھا جبکہ دوسروں کے نزدیک یہ ’ ایبولا وائرس ‘ کا پھیلاﺅ تھا ۔ کچھ محققین کا خیال ہے کہ یہ وباء اس لیے پھیلی کہ ایتھنز کے لوگ شہر کے گرداگرد بنے ان چھوٹے چھوٹے قلعوں میں محصور ہو کر رہ گئے تھے ، جنہیں مورخ ’ طویل دیواروں ‘ کا نام دیتے ہیں ۔ سپارٹا جنگ پر حاوی تھا اس لیے ایتھنز کے باسیوں کو ان’ لمبی دیواروں‘ میں لمبے عرصے تک محبوس رہنا پڑا ۔ عالموں کا خیال ہے کہ لوگوں میں یہ وباء اس لیے پھیلی تھی کہ ان چھوٹے چھوٹے قلعوں میں لوگ ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے تھے ۔ اس وباء کے باوجود جنگ جاری رہی اور یہ 400 قبل از مسیح کے لگ بھگ ہی تب ختم ہوئی تھی جب سپارٹا نے ایتھنز کو اطاعت پر مجبور کر دیا تھا ۔

خود حضرت مسیح علیہ اسلام کا زمانہ جذام کی وباء سے جڑا ہے ؛ جذام جس سے صحت یاب کرنے کی طاقت ان کے معجزوں میں سے ایک تھی ۔

زمانہ بعد از مسیح

انتونیئین وباء : بعد از مسیح کے زمانے کی بات کریں تو سب سے پہلے انتونیئین وباء کا ذکر سامنے آتا ہے ۔ یہ سن 165ء میں پھیلی اور سن 180 ء تک انسانی جانوں کو ہڑپ کرتی رہی ۔ جب رومن فوجیں مہمات سے واپس لوٹیں تو وہ فاتح تو تھیں لیکن ساتھ میں یہ ’ وائرولا ‘ ساتھ لائیں جس سے چیچک جیسی چھوت کی بیماری پھیلی اور وباء کی شکل اختیار کرتے ہوئے پوری رومن سلطنت میں پھیل گئی ۔ اس وباء میں ہلاکتوں کا اندازہ 50 لاکھ سے بھی تجاوز کرتا ہے ۔ کئی مورخ یہ کہتے ہیں کہ اس وباء کے اولین جرثومے وہ رومن فوجی ساتھ لائے تھے جو ’ پارتھیا ‘( موجودہ شمال مشرقی ایران ) فتح کرکے لوٹے تھے ۔ ان مورخین کا یہ بھی خیال ہے کہ رومن سلطنت کے زوال کے اسباب میں سے ایک سبب یہ وباء بھی تھی ۔

سِپرین وبا ء : تاریخ میں اگلابڑا ذکر ’ سِپرین وبا ء‘ کا ہے ۔ اس وباء کا نام تیونس کے شہر ’ کارتھیج ‘ ایک بشپ ، سینٹ سِپرین ، کے نام پر ہے ، جس نے اس وباء کے بارے میں یہ کہا تھا کہ اس نے دنیا کا خاتمہ کر دینا تھا ۔ اس وباء میں مرنے والوں کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف روم میں ہی لگ بھگ پانچ ہزار افراد روز لقمہ اجل بن جاتے تھے ۔ ماہرین آثار قدیمہ نے ایسے آثار دریافت کیے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرنے والوں کو اجتماعی قبروں میں چونے کی موٹی تہہ تلے دفن کیا گیا تھا ۔ انہوں نے ایسی جگہیں بھی دریافت کی ہیں ، جہاں چونا تیار کیا جاتا تھا اور ایسی بھی جہاں اس وباء کے شکار لوگوں کو اجتماعی طور پر زندہ جلایا گیا تھا ۔ ماہرین ابھی تک یہ اندازہ نہیں لگا سکے کہ یہ وباء کیسے اور کس وجہ سے پھیلی تھی ۔ سینٹ سپرین نے یونانی میں اپنی جو یاداشتیں لکھیں ، ان میں ایسا لکھا ملتا ہے ؛

” ۔ ۔ ۔ ان کے پیٹ سے مسلسل مواد خارج ہوتا رہتا اور ان کے منہ اور داہنوں کے زخموں سے آگ سی نکلتی محسوس ہوتی ۔ ۔ ۔ “

’ جسٹینین ‘ وباء : اگلی بڑی وباء تب پھیلی جب بازنطینی سلطنت اپنے عروج پر تھی اوراس وقت شہنشاہ ’ جسٹینین ‘ کی حکومت تھی ۔ اس وباء کا نام اسی سے منسوب ہے ۔ یہ وباء سن 541 ء میں پھیلی اور سال بھر اس سلطنت کے لوگوں سے اپنا خراج وصول کرتی رہی ۔ اس وباء میں لوگوں کی بغلوں اور جسم کے دوسرے حصوں، خاص طور گلوں پر گلٹیاں نکل آتی تھیں ۔ یہ پِسوﺅں سے پھیلی تھی اور بار بار سامنے آتی رہی ۔ ماہرین کا اندازہ ہے اس سے اُس وقت کی دنیا کی دس فیصد آبادی متاثر ہوئی تھی ۔ جسٹینین خود بھی اس کا شکار ہوا تھا لیکن بچ گیا ، البتہ بازنطینی سلطنت کو زوال سے نہ روک سکا ، یہ سلطنت جو اس کے زمانے میں مغربی یورپ سے مشرق ِوسطیٰ تک پھیلی ہوئی تھی ایسی رو بہ زوال ہوئی کہ اس بادشاہ کے مرنے تک ، اس کے ہاتھ سے بیشتر علاقے نکل گئے ۔

کالی موت ( بلیک ڈیتھ ) : 14ویں صدی کے وسط نے بھی ایک بڑی وباء کا سامنا کیا ؛ یہ کالی موت کے نام سے مشہور ہے ۔ یہ 1346 ء میں پھیلنا شروع ہوئی اور 1353 ء تک اس نے یورپ کی آدھی آبادی کا صفایا کر دیا ۔ اس سے مرنے والوں کو بھی اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا تھا ۔ یہ بھی پسوﺅں سے ہی پھیلی اور کہا جاتا ہے کہ یہ ایشیا سے یورپ منتقل ہوئی تھی ۔ اس نے یورپ میں یہ تبدیلی رونما کی کہ کام کرنے والے ناپید ہو گئے اور کارکن منہ مانگی اجرت وصول کرنے لگے ۔ اس کے نتیجے میں یورپ میں خانہ زاد غلامی (serfdom) بھی ختم ہونا شروع ہوئی اور شاید ایسا بھی ہوا کہ سستی لیبر نہ ملنے پر مشینی ترقی کو شہہ ملی ۔

’ کوکولیزٹلی‘ وباء : دو صدیاں ہی گزری ہوں گی کہ ایک نئی وباء دنیا میں پھوٹی ۔ اس بار ، میکسیکو اور وسطی امریکہ کے لوگ اس کا شکار ہوئے ۔ یہ 1545 ء میں پھوٹی اور 1548 ء تک اس نے ، اس خطے کے 15 ملین لوگ ہڑپ کر لیے ۔ یہ وہ سال ہیں جب میکسیکو اور وسطی امریکہ میں پہلے ہی قحط کی وجہ سے خاصی اموات ہو چکی تھیں ۔ یہ وباء ’ کوکولیزٹلی‘ کے نام سے مشہور ہے ؛ یہ لفظ مقامی میکسیکن زبان ’ ایزٹک‘ میں کیڑے کو کہتے ہیں ۔ یہ جراثیم ’ سالمونیلا ‘ سے پھیلی تھی اور اس کی علامات ٹائفائیڈ جیسی تھیں ۔ یہ بیماری اب بھی انسانی حیات کے لیے ایک خطرہ ہے ۔

امریکی وبائیں : 16ویں صدی میں ہی اوربہت سی وبائیں پھیلیں ۔ انہیں ’ امریکی وباﺅں‘ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ یہ وہ وبائیں ہیں جن کے جراثیم یا وائرس یورپی باشندے شمالی ، وسطی اور جنوبی امریکہ لے کر گئے تھے اور وہاں یہ مقامی لوگوں میں پھیلیں ۔ ان میں چیچک اور جذام سمیت دیگر وبائیں بھی تھیں جنہوں نے مغربی نصف کرہ میں موجود ’ اِنکا ‘ اور ’ ایزٹیک ‘ تہذیبوں سے تعلق رکھنے والی مقامی آبادیوں کا یوں صفایا کیا کہ فقط دس فیصد مقامی ہی بچ پائے ۔

یہ بیماریاں یورپی آبادکاروں کے حق میں بھی رہیں جیسا کہ 1519 ء میں ہسپانوی ‘ ایزٹیک ‘ لوگوں پر فتح حاصل کر پائے ، اسی طرح 1532 ء میں انہوں نے ’ اِنکلی ‘ لوگوں پر فتح حاصل کی ۔ بعد میں جب برطانوی ، فرانسیسی ، پرتگالی آباد کار ان علاقوں میں گئے تو انہیں وباء زدہ مقامیوں کی بہت ہی کمزور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ، اس کے برعکس ہسپانوی مزاحمت کہیں زیادہ تھی ۔

لندن وباء : 17 ویں صدی میں جبکہ برطانیہ ، ساری دنیا میں آبادکار کے طور پر ہر براعظم میں نو آبادیاں کھڑی کرنے کے لیے کمر بستہ ہو چکا تھا تو خود اس کے دارالخلافے لندن میں چوہوں میں پڑے کیڑوں سے وہ وباء اٹھی ، جس میں لگ بھگ ایک لاکھ اموات ہوئیں ، جن میں لندن کی پندرہ فیصد آبادی بھی شامل تھی ۔ اس وباءسے بچنے کے لیے ، بادشاہ چارلس ۔ دوم سمیت بہت سے لوگ لندن چھوڑ کر چلے گئے تھے ۔ یہ وباء اپریل 1665 ء میں پھیلی تھی جس کا خاتمہ 2 ستمبر 1666 ء کو لندن میں لگی آگ ، جو چار روز تک نہ بجھ سکی تھی ، کے بعد ہی ہوا ۔

مارسیلز وباء : اگلی صدی ، مطلب 18 ویں صدی چڑھی اور ابھی اس کی دوسری دہائی ہی ختم ہوئی تھی کہ 1720 ء میں فرانس کا شہر ، مارسیلز ، قابو میں آ گیا ۔ ہوا یوں کہ ایک بحری کارگوجہازمشرقی بحیرہ روم سے سامان لے کر آیا ، گو اسے الگ تھلگ رکھا گیا تھا پھر بھی اس کے ساتھ آئے جرثوموں سے بھرے چوہے شہر میں گھس گئے اور انہوں نے شہر میں وباء پھیلا دی ۔ ایک اندازے کے مطابق مارسیلزاور اس کے گرد و نواح میں لگ بھگ ایک لاکھ اموات ہوئیں جن میں مارسیلز کی تیس فیصد آبادی بھی شامل تھی ۔

روسی وباء : اسی صدی کی 7 ویں دہائی ماسکو ، روس میں ، وباء لائی ۔ یہ 1770 ء کا سال تھا ؛ لوگوں کو گھروں میں رہنے اور گرجا گھروں میں اکٹھے نہ ہونے کا فرمان جاری ہوا ۔ ساتھ ہی یہ فرمان بھی جاری کیا گیا کہ ماسکو سے تمام فیکٹریاں باہر نکال دیں جائیں ۔ اس وقت کیتھرین ۔ دوم روس کی ملکہ تھی ۔ شہر میں فسادات شروع ہو گئے اور آرچ بشپ’ ایمبروسیس ‘ جو لوگوں کو گرجا گھروں سے دور رہنے کی تلقین کر رہا تھا ، قتل کر دیا گیا ۔ اندازہ ہے ماسکو میں پھیلے اس طاعون میں بھی لگ بھگ ایک لاکھ لوگ جان سے گئے تھے ۔ 1773 ء میں امن و امان بحال کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات میں مرنے والوں کی تعداد اس کے علاوہ تھی ۔

زرد بخار فیلیڈلفیا : 1793 ء کا سال فیلیڈلفیا ، امریکہ پر بھاری گزرا اور وہاں ” زرد بخار ” نے اَت مچایا ۔ فیلیڈلفیا اس وقت امریکہ کا صدر مقام تھا ۔ زرد بخار مچھروں کی وجہ سے پھیلا تھا ۔ اس برس سردیاں آنے تک لگ بھگ پچاس ہزار گورے جان سے گئے تھے ۔ اوریہ خیال کیا گیا تھا کہ سیاہ فام غلاموں پر اس کا اثر کم تھا ، یوں امریکہ میں پہلی بار سیاہ فام نرسیں رکھی گئی تھیں ۔

” فلو ” کی پہلی عالمی وباء : 1889 ء میں ’ فلو‘ پوری دنیا میں پھیلا ۔ اس کی بڑی وجہ صنعتی ترقی ، ریل کا نظام اور سڑکوں کے ذریعے باربرداری و مسافروں کی آمدورفت تھی ۔ 1890 ء کے اوآخر تک یہ عالمی وباء لگ بھگ دس لاکھ لوگوں کو نگل چکی تھی ۔ فلو کے اولین شواہد ’ سینٹ پیٹرزبرگ ‘ میں ملے ، جو اگلے پانچ ہفتوں میں یہ وباء کے طور پر پورے روس ، یورپ اور باقی دنیا میں پھیل چکے تھے ۔ یاد رہے کہ ابھی ہوائی جہاز ایجاد نہیں ہوا تھا ۔

پولیو کی وباء : 1914 ء میں پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی تھی جس میں امریکہ1917 ء تک شامل نہیں ہوا تھا ۔ اسے البتہ اندرون ملک ایک وباء کا سامنا کرنا پڑا جو 1916 ء میں پھرپور طریقے سے سامنے آئی ۔ یہ پولیو کی وباء تھی ۔ صرف نیویارک ہی میں اس سے 27000 لوگ متاثر ہوئے اور لگ بھگ 6000 افراد جان سے گئے تھے ۔ 1954 ء تک یہ وباء بار بار پھیلی یہاں تک کہ 1921 ء میں امریکی صدر روزویلٹ بھی اس سے متاثر ہوا تھا ۔ 1954 ء میں ’ سالک ‘ ویکسین کے ایجاد ہونے پر امریکہ کواسے ، اپنے ہاں ، سے ختم کرنے میں 25 سال لگے تھے ۔

” فلو ” کی دوسری عالمی وباء : امریکہ میں پھیلی پولیو کی وباء کے دو سال بعد ہی ، یعنی 1918 ء میں یورپ سے ’ فلو‘ ایک وباء پھوٹی جو دو سال تک دنیا بھر کو متاثر کرتی رہی ۔ امریکہ اس سے پہلے 1917ء میں پہلی عالمی جنگ میں کود چکا تھا اور اس کے لگ بھگ چالیس لاکھ فوجی جرمنی اور اس کے ساتھیوں کو زیر کرنے کے لیے یورپ میں آ موجود ہوئے تھے ۔ ادھر جنگ ختم ہو رہی تھی اور دنیا بھر سے آئے فوجی اپنے وطنوں کو لوٹ رہے تھے ۔ ایسے میں یورپ میں کہیں ’ فلو ‘ ایسے پھیلا کہ یہ جنوبی سمندروں سے قطب شمالی تک جا پہنچا ۔ ایک اندازے کے مطابق اس سے لگ بھگ 500 ملین لوگ متاثر ہوئے ، جن میں سے کم و بیش 100 ملین تو جان بحق ہو گئے تھے اور اس میں کچھ چھوٹی قومیتیں ایسی تھیں جو کہ صفحہ ہستی سے ہی مٹ گئیں ۔ اتنی بڑی ہلاکتوں کی ایک بڑی وجہ فوجی تھے، جن کی قوت مدافعت جنگ کے دوران ناقص غذا اور دیگر جنگی عوامل کے باعث پہلے ہی کم ہو چکی تھی ۔
یہاں یہ بات جاننا اہم ہے کہ اسے ہسپانوی فلو کا نام تو دیا گیا لیکن یہ غالباً وہاں سے شروع نہیں ہوا تھا کیونکہ سپین پہلی جنگ عظیم میں کسی بھی فریق کے ساتھ نہیں تھا اور غیر جانبدار رہا تھا ۔ اس فلو کو 1918 ء کا فلو کہنا زیادہ مناسب ہو گا ، جس کے اولین اثرات بیک وقت یورپ ، ایشیا کے کچھ خطوں اور امریکہ میں دیکھے گئے تھے ۔ گو سپین بھی اس سے متاثر ہوا تھا لیکن یہ وہاں سے شروع نہیں ہوا تھا ۔

” فلو ” کی تیسری عالمی وباء :1957 ء میں ’ انفلوئینزا ‘ کی ایک وباء اور پھوٹی جسے ’ ایشین فلو ‘ کا نام دیا جاتا ہے ۔ یہ بھی لگ بھگ دو سال تک جاری رہی ۔ یہ سب سے پہلے فروری 1957 ء میں سنگاپور میں پھیلی ، پھر اپریل میں ہانگ کانگ اس سے متاثر ہوا اور پھر اسی برس گرمیوں میں یہ امریکہ کے ساحلی علاقوں تک جا پہنچا ۔ اس سے ہلاکتوں کا تخمینہ 11 لاکھ لگایا جاتا ہے جس میں ایک لاکھ سے زائد اموات تو صرف امریکہ میں ہوئیں ۔ یہ فلو ’ ایوین فلو وائرسوں ‘ کے امتزاج سے پھیلا تھا اور اس کے کیرئیر پولٹری فارموں میں پرورش پانے والی مرغیاں تھیں ۔

” ایڈز ” کی عالمی وباء : پچھلی صدی کی 8 ویں دہائی کا آغاز ’ ایڈز ‘ کی عالمی وباءسے ہوا ۔ اسی سال HIV وائرس کا پتہ چلا تھا اور اس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ بندروں کی قسم ’ چمپینزی ‘ میں اس صدی کی تیسری دہائی (1920s) میں مغربی افریقہ میں پیدا ہوا تھا ۔ ایڈز 1981 ء سے اب تک 35 لاکھ لوگوں کی جان لے چکی ہے اور ایک تخمینے کے مطابق افریقہ میں صحارا کے صحرائی علاقوں میں رہنے والوں میں نصف سے زیادہ آبادیHIV+ ہے ، اس کے علاوہ دنیا بھر میںHIV+ لوگ موجود ہیں ۔ اس کی کوئی ویکسین تاحال ایجاد نہیں ہو سکی ، البتہ کچھ دوائیاں ایسی بن چکی ہیں جن کے باقاعدہ استعمال سے بندہ عمومی زندگی گزار سکتا ہے ۔ ان دوائیوں کے استعمال سے مارچ 2020 ء تک فقط دو افراد ہی مکمل طور صحت یاب ہو پائے ہیں ۔

” فلو ” کی چوتھی عالمی وباء : 2009 ء میں ’سوائن فلو ‘ کی عالمی وباء پھیلی ۔ یہ میکسیکو میں موسم بہار میں شروع ہوئی اور ایک سال کے اندر انرر اس وائرس ’ H1N1 ‘ نے دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد لوگوں کو متاثر کیا۔ ایک اندازے کے مطابق اس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زائد رہی ، جبکہ ایک دوسرے اندازے کے مطابق یہ تعداد کم از کم ڈیڑھ لاکھ ہے ۔ اس فلو نے سب سے زیادہ اثر بچوں اورجوانوں پر کیا اور مرنے والوں میں لگ بھگ 80 فیصد ایسے لوگ تھے جن کی عمر 65 برس سے کم تھی ۔ اس وائرس کی ویکسین دریافت ہو چکی ہے اور یہ اس ‘ فلو ویکسین ‘ میں شامل ہے جو سال میں ایک بار لگوائی جاتی ہے ۔

” ایبولا ” وباء : 2014 ء میں مغربی افریقہ میں ’ ایبولا ‘ وباء پھیلی جو دو سال تک پھیلی رہی ۔ اس میں لگ بھگ 50ہزار لوگ متاثر ہوئے جن میں سے 11ہزار سے زائد لوگ جان سے گئے تھے ۔ پہلا کیس گنی بساﺅ میں رپورٹ ہوا تھا ، بعد ازاں یہ لائیبریا اور سیرا لیون میں یہ وائرس تیزی سے پھیلا ۔ کچھ کیس نائیجریا ، مالی ، سینی گال ، امریکہ اور یورپ میں بھی پائے گئے ۔ ایبولا سب سے پہلے کانگو اور سوڈان میں 1976 ء میں سامنے آیا تھا ۔ تاحال اس کی کوئی ویکسین ایجاد نہیں ہو سکی ۔

” زیکا ” وباء : 2015 ء میں ایک اور وائرس سامنے آیا ، اسے ’ زیکا ‘ وائرس کی وباء کا نام دیا گیا ۔ اس کا آغاز جنوبی اور وسطی امریکہ سے ہوا تھا جس کے بارے میں سائنس دانوں کو 2015 ء میں ہی پتہ چل سکا تھا ۔ یہ مچھروں کی ایک خاص قسم ’ Aedes aegypti ‘ ( جسے ہم ڈینگی کے نام سے جانتے ہیں ) سے پھیلا ۔ اس کی بھی ، کوئی ویکسین تاحال نہیں بن سکی ۔ یہ مچھر جنوبی ، وسطی اور شمالی امریکہ کے جنوبی حصوں سے نکل کردنیا کے ان تمام علاقوں میں پھیل چکا ہے جو گرم مرطوب ہیں یا ان کے موسموں میں کچھ ماہ گرم مرطوب ہوتے ہیں ۔ یہ وباء تاحال قابو میں نہیں ہے ، البتہ مچھر کی اس قسم کو تلف کرنے کوششیں کی بہر حال جاری ہیں ۔ عام طور پر یہ وائرس اس خاص قسم کے مچھر کے کاٹے سے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے ۔ ایسا بندہ جو وائرس زدہ ہو اسے جنسی اختلاط سے پرہیز کرنا چاہیے ورنہ یہ ’ پارٹنر‘ میں بھی منتقل ہو سکتا ہے ۔

پاکستان ، جو کبھی برصغیر ہندوستان کا حصہ تھا ، اس میں بلکہ ہندوستان کی بھی ، وباﺅں کے حوالے سے ایک ٹائم لائن ہو گی اور یہاں بھی گاہے بگاہے وبائیں پھیلی ہوں گی ۔ میرے پاس یہ ڈیٹا نہیں ہے لیکن ایک دو موٹی موٹی باتیں میرے پیش نظر ہیں: ایک تو یہ کہ ‘ ملیریا ‘ اس خطے میں بار بار پھیلا ہو گا اسی طرح ‘ ہیضہ ‘ و ‘ ٹی بی ‘ بھی لیکن بنگال کا 1942 ء کا قحط ، جو انگریز سرکار کا پیدا کردہ تھا ایک اہم سانحہ تھا ؛ اس سرکار نے سارا چاول و دیگر ساری اجناس اس لیے ذخیرہ کر لیں تھیں کہ انگریز دوسری عالمی جنگ میں ’ اتحادیوں‘ کا سربراہ تھا اور جرمن ہٹلر اور اس کے ساتھیوں کے خلاف لڑ رہا تھا اور اسے اپنی اور اپنے اتحادیوں کی افواج کے لیے اجناس کی ضرورت تھی ۔ یہ قحط 1943ء تک تیس لاکھ ہندوستانی ، جن میں بنگالی کثرت سے تھے ، بھوک ، ہیضے اور اس جیسی بیماریوں کے ہاتھوں مر گئے تھے ۔ اس پر کیا لکھا گیا اور کیا نہیں ؛ مجھے اس کا اندازہ نہیں لیکن مجھے مصور ’ زین العابدین ‘ (دسمبر 1914 ء تا مئی 1976ء) یاد ہیں جنہوں نے اس قحط اور اس سے پھیلنے والی وبائوں کو اتنے ہی بھیانک انداز میں مصور کیا تھا ، جتنا بھیانک یہ سانحہ تھا ۔
مجھے ہیضہ ( کالرا ) کے بارے میں یہ بھی پتہ ہے کہ یہ لاہور میں بھی کئی بار پھیلا ۔ 1882 ء میں لاہور میں پھیلے ہیضے کے قصے تو میں نے اپنے والد سے سنے جو انہیں میرے دادا نے سنائے ہوں گے ( اس سے پہلے یہ کب اور لاہور کے علاوہ کہاں کہاں پھیلا ، مجھے معلوم نہیں ہے ) ۔ مجھے پاکستان بننے کے بعد ’ والٹن ‘ ، لاہورکے مہاجر کیمپ سے پھیلنے والے اس ہیضے کا بھی پتہ ہے جو ناقص غذا کی سپلائی کی وجہ سے پھیلا تھا اور جس میں میری اپنی دو پھوپھیاں بھرپور جوانی میں فوت ہو گئی تھیں ؛ ان کی شادیاں طے ہو چکی تھیں اور اگر وہ اس ہیضے کی وباء میں فوت نہ ہوتیں تو ایک دو ماہ میں سہاگن ہو چکی ہوتیں ۔ یہ سب میری والدہ نے مجھے خود بتایا تھا اور میرے پاس ان کے جنازوں کی تصاویر خاندانی البم میں محفوظ ہیں ۔

پاکستان میں پھیلی پولیو کی وباء کا تو میں خود 1954 ء میں شکار ہوا تھا جب میں فقط نو ماہ کا تھا اور میں نے پاﺅں پاﺅں چلنا شروع کر دیا تھا ؛ میری ماں کا کہنا تھا کہ مجھے نظر لگ گئی تھی ، اسی لیے مجھے ٹائفائیڈ ہوا اور اس نے میرے بائیں حصے پر اثر ڈالا تھا ۔ بھلا ہو ، ڈاکٹر انور سجاد کے والد ڈاکٹر دلاور حسین کا جن کے بروقت علاج سے یہ اثر صرف میری بائیں ٹانگ تک ہی محدود رہا ۔ یاد رہے کہ ’ سالک ‘ ویکسین اسی برس ایجاد ہوئی تھی لیکن یہ ابھی پاکستان میں دستیاب نہیں تھی ۔

اس وقت ہم کرونا ۔ آئی ڈی 19 کی عالمی وباء کا سامنا کر رہے ہیں ؛ اس مضمون کو لکھتے وقت ، پاکستان میں اس وباء سے چھ ہزار لوگ متاثر ہیں اورسو افراد کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں ، جبکہ دنیا بھر میں بیس لاکھ لوگ اس سے متاثر ہیں اور اب تک ایک لاکھ بیس ہزارافراد ہلاک ہو چکے ہیں ۔ یہ وائرس اب تک تین شکلیں اختیار کر چکا ہے ؛ ‘ اے ‘ ، ‘ بی ‘ اور ‘ سی ‘ ۔ کہیں ‘ A ‘ قاتل ہے جیسے امریکہ میں ، کہیں ‘ B ‘ ہلاکتوں کا موجب ہے جس نے چین کو سب سے زیادہ متاثر کیا اور کہیں ‘ C ‘ پنجے گاڑے ہوئے ہے ؛ ہم غالباً کرونا ۔ آئی ڈی 19 ٹائپ C کا شکار ہیں ۔ اس عالمی وباء سے متاثرین کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اورہلاکتیں بھی ہر دن بڑھ رہی ہیں ۔

میں نے اپنی زندگی میں چھوٹی موٹی کئی وبائیں تو دیکھی ہوں گی لیکن ڈینگی کی وباء کے بعد یہ دوسری عالمی وباء ہے جو میں نے دیکھی ہے ۔ اور شاید میرے بعد کی دیگر نسلوں نے بھی اس طرح کی وباء کا سامنا پہلی بار کیا ہے ۔ ان نسلوں میں سے اکثرپڑھے لکھے میرے ساتھ متفق ہیں اور یقیناً آپ بھی اتفاق کریں گے کہ اگر پاکستان بننے کے بعد یہاں کی حکومتیں فوجی طاقت بڑھانے کی بجائے ’ تعلیم ‘ ، ’ صحت ‘ اور ’ سماجی علوم‘ جیسے میدانوں میں جامع اور ٹھوس اقدامات اٹھاتیں اور مالی وسائل کے استعمال میں ان میدانوں کو ترجیح دیتیں تو قدرتی اور انسانی غلطیوں سے پھیلی آفات کا مقابلہ زیادہ بہتر طور پر کیا جا سکتا تھا ۔
ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ۔ اگر اب بھی مقتدر طبقات اپنی ترجیحات بدل کر ’ تعلیم ‘ ، ’ صحت ‘ اور ’ سماجی علوم ‘ پر مالی وسائل کا بڑا حصہ خرچ کرنا شروع کر دیں تو آنے والی نسلوں کے لیے بہتری کا سامان پیدا ہو سکتا ہے ۔

تحریر : قیصر نذیر خاورؔ

Share this:
Tags:
Diseases History humanity outbreaks Society انسانیت بیماریوں تاریخ معاشرے وبائیں
Supreme Court
Previous Post جج نہیں فیصلے بولنے چاہیں
Next Post مالی منفعت کی ہوس
Power

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close