Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

درد ہوتا ہے مگر جانے کہاں ہوتا ہے

March 21, 2016March 21, 2016 0 1 min read
Pakistan Resolution Day 23 March
Pakistan Resolution Day 23 March
Pakistan Resolution Day 23 March

تحریر: منیبہ شریف بلغاری
درد کا تعین علاج کی جانب پہلا سنگ میل ہوتا ہے۔ پھر معالج اس بیماری کی تشخیص کر کے اس کا تدارک کرنے لگ جاتا ہے۔ اپنے معاشرے کا بگاڑ بہت بڑھ گیا ہے۔ انسانوں کی بستیوں میں بعض ناسور اس انداز میں پروان چڑھ رہے ہیں کہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ انسانی فکر عجیب و غریب کیفیت سے دوچار ہوتی جا رہی ہے۔ ہر طرف مایوسی اور پریشانی کا عالم ہے۔ ظلم و جبر کی نئی سے نئی تر داستانیں تاریخ کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ معاشرے میں ہر سطح پر نا انصافی کا بول بالا ہے۔ معاشرتی اقدار پامال نظر آتی ہیں۔ برائیاں گلی کوچوں میں روح مجسم کی طرح یوں گھومتی نظر آتی ہیں ، گویا ان کو دائمی آزادی ملی ہوئی ہے۔ جبکہ دوسری جانب عدل معاشرے کے ہاتھوں سے ریت کی مانند سرکتا جا رہا ہے۔ اخلاقیات کا جنازہ تو ہرروز بڑی دھوم دھام سے نکلتا ہے۔ نظریات اب مادہ پرستی کی دبیز سطح کے نیچے دفن ہو چکے ہیں۔

گویا اس مجروح معاشرے کے کس کس پہلو پر بحث کی جائے ، کس بیماری کا علاج کیا جائے ، کس درد سے چھٹکارا پانے کی تدبیر ہو؟ کیوں کہ درد ہوتا ہے مگر جانے کہاں ہوتا ہے…؟ معلوم ہی نہیں! بیمار معاشرے کے درد کا ادراک نہیں ،یہ انتہا کی طرف گامزن ہے۔ بدن کے انگ انگ میں اس کا اثر ہے۔ نئے دیکھنے والے شاید اب اصل وجود کو پہچان بھی نہ سکیں۔ اس کے مختص وجود کی پہچان ممکن نہیں رہی۔ ہاں البتہ درد کی چند وجوہات کو بیان کیا جا سکتا ہے کہ یہ کیوں لاعلاج ہوتا جا رہا ہے، بیماری کیوں پھیلتی جا رہی ہے، اور اس کا ماخذ کیا ہے۔ ان وجوہات کو جاننے کے لیے ہمیں اپنے ماضی اور حال کا موازنہ کرنا پڑے گا۔ ماضی کی بجھی راکھ کریدنے سے ہاتھ میں تو کچھ آنا ممکن نہیں، البتہ اس دھندلکے ماضی سے روشنی کی ایک مدہم سی لکیر پھوٹ رہی ہے اور یہی وہ روشنی ہے، جو ہماری معاشرتی بیماریوں کی وجوہات کو سمجھنے میں مدد کر سکتی ہے۔

جی ہاں یہی وہ ماضی ہے جوہمیں اپنے اسلاف ،اپنی تہذیب و تمدن، نظم و نسق، امن و چین یاد دلاتا ہے۔ اور یہی ماضی کی تاریخ جس کا مطالعہ کرنے کے بعد ہمیں علم ہوتا ہے کہ ہماری پہچان کیا تھی، ہماری عزت و عظمت کیا تھی؟اور ہم کیا سے کیا ہوگئے۔آج ہم ان ساری خوبیوں سے کتنے دور نکل چکے ہیں۔ آج اس دہشت زدہ دور میں ہمارے فہم تذبذب کا شکار ہیں کہ کبھی ہمارا ماضی اتنا شاندار اور پر رونق ہوا کرتا تھا، جہاں نہ ظلم ہوتا تھا اور نہ ظلم سہا جاتا تھا۔ جہاں کسی کا حق چھینا جاتا تھا نہ چھیننے دیا جاتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ ہماری تاریخ عظیم اور مقدس جدوجہد سے متماثل تھی اور شاید یہی ماضی کی چنددھندلکی لکیریںہمارے معاشرے کی روح کو دوبارہ بیدار کر سکیں۔ دو سال پہلے اس کی چند باتیں ذہن کی اسکرین پر جلوہ گرہوکر کہتی تھیں ”بیٹا راستہ بند تھا، ضروریات زندگی کی چیزیں ختم ہو گئی تھیں، دیار غیر میں رشتہ دار، گھر، احباب سے دور پردیس کا احساس تھا۔ شہر کی کھلی فضامیں سسکتے، آہوں اور پر نم آنکھوں کے ساتھ زندگی گزارتی تھی۔ بھوک اور پہاڑ کے سائے تھے۔ زندگی اداس کٹتی تھی، کبھی کبھی شہر میں موجود ایک دور کے رشتہ دار خیال رکھتے تھے، تُو کمسن تھی چیختی چلاتی رہتی تھی۔”

Pakistan
Pakistan

امی اپنے ماضی کی یادوں کو تازہ کر رہی تھی۔ میں ان کی بات کو کاٹتے ہوئے پوچھنے لگی ”امی میری پیدائش کس دن ہوئی تھی؟” وہ کہنے لگیں 23 مارچ۔ 23 مارچ! چونکہ تاریخ میں ایک اہم واقعہ رونما ہو تا ہے۔مجھے یاد ہے میں ذرا اس دن کے اس اہم واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگی ”امی! اس دن تو ابو القیم مولوی فضل الحق نے اقبال پارک لاہور میں قرارداد پاکستان نہیں کیا تھا؟” امی میری بات کو کاٹتے ہوئے پھر گھریلو امور پر متوجہ کرتے ہوے کہنے لگی ٹائم ختم ہوگیا، دکانیں بند پڑی ہیں، کھانے کو کچھ بھی نہیں اب کیا کِیا جائے۔ گویا ایک سکتے کا عالم چھاگیا۔ میں سوچنے لگی اب بھی اپنے بچپن کی طرح چیخنا چلانا شروع کروں؟ یا پھر۔۔۔۔۔دو سال پرانی! امی کی ماضی کی کہانیاں آج کیوں یاد آ رہی ہیں۔۔۔؟ کیوں کہ آج بھی 23 مارچ ہے میری برتھ ڈے ہے۔

کتنا عجیب خیال ہے خیالات تو آتے ہیں کہ میں ارضِ پاک کے لیے کچھ کروں۔ اس مقدس ملک سے بے حیائی، فحاشی، بے پردگی دور کروں۔ اس ملک کو دہشت گردی،خوف،مہنگائی سے نکال دوں۔ اپنی پیدائش والے دن کو میں اپنے پیارے وطن کے لیے کچھ اچھا کروں اور کرتی رہوں۔ لیکن کیا کروں؟ یہاں تو خواہشات کے گلے دبائے جاتے ہیں۔ عزائم ٹکڑے ٹکڑے کیے جاتے ہیں۔ کس کی مجال ہے اس پاک وطن کے لیے کچھ کرے۔ اگر کرے تو ارفع کریم، عافیہ صدیقی، ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور نہ جانے کتنے ایسے محب وطن ہیں جن کے راستوں کو خون آشام شاموں سے بھر دیا گیا۔ اب توخیالات کا اظہار کرنے سے بھی خوف آتا ہے ۔ اس مقدس زمین کے اوپرایسی ہزاروں تحریکیں، جماعتیں، قاتلوں کے گروہ پھرتے ہیں کہ اگر خیالات ان کے خلاف جائیں تو وارثوں کو لاش بھی ملنا مشکل ہوتی ہے۔اس وقت عوام مہنگائی، بد امنی، غربت اوربے روزگاری کے جال میںجکڑی جاچکی ہے۔مسائل کے باعث ہی یہ اضطراب کی فضاء قائم ہے۔

جب کہ یہ عوامی اضطراب اس لیے بھی ہے کہ میاں نوازشریف اور شہباز شریف نے گزشتہ انتخابات کی مہم کے دوران عوامی مسائل حل کرنے، توانائی کے بحران سے نجات دلانے اور خوشحالی و پر امن معاشرہ تشکیل دینے کے بلند بانگ دعوے کئے اور انہیں ان تمام مسائل سے نجات دلانے کا یقین دلایا تھا۔عوام چونکہ پیپلز پارٹی کے دور ِ حکومت کے پید کردہ روٹی، روزگار اور توانائی کے بحران کے سنگین مسائل بھگت رہے تھے اس لیے انہوں نے اپنے مسائل سے خلاصی کے لیے میاں نواز شریف کے وعدوں دعووں کے بنیاد پر ان کی باتوں پر اعتماد کیا اور پولنگ کے دن سابق حکمران پیپلز پارٹی کو مسترد کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے اقتدار کی راہ ہموار کی۔ لیکن اسر رسوخ والوں کے اکائونٹ بھرتے جا رہے ہیں۔ملک کے کئی عہدوں پر ان کے بزنس ہیں۔ انہی کے چاہنے والے نوکریاں کرتے ہیں۔ آج ہمارے وطن میں سفارش اور رشوت کے بغیر کچھ بھی نہیں چلتا۔ یونیورسٹی، کالج میں ایڈمیشن سے لے کر روزگار کی راہوں تک۔آخران کی غلطی کیاہے جن کو رب نے ذہن تو دیا، صلاحیتیں، ہنر دیا لیکن سفارش کرنے والے نہیں عنقا ہیں۔

Nawaz Sharif
Nawaz Sharif

امیروں نے خزانوں کی تجوریاں بندکر رکھی ہیں۔ اب ان سے حساب لینے والا بھی کوئی ہے؟ حق داروں کو ان کا حق اور انصاف فراہم کرنا کن کی ذمہ داری ہے؟ کیا ان لیڈروں کی نہیں جو اپنی پارٹی کی کامیابی کی راہ ہموار کرنے کے لیے عوام کو اپنے پارٹی منشور کی بنیاد پر وعدوں ، وعیدوں کے ذریعے قائل کرنے کا استحقاق حاصل کرتے ہیں۔ان لیڈروںکوں کیا علم ان کو ووٹ دینے کے لیے کتنے ہی لوگ رشتہ داروں سے کٹ جاتے ہیں۔ ان کو کیا احساس کتنی امیدوں کے ساتھ ووٹ کے ذریعے ان کے پلڑے بھاری کیے جاتے ہیں۔ یہ لیڈر تو اپنے بنگلوں کے اندر خوشبوئوں کے قمقے جلا کر، خواب گاہوں میں سکون کی نیند سو رہے ہیں۔ انصاف کہاں سے اور کیسے ملے گا؟ ان غربت زدہ علاقوں میں رہنے والوں کو جہاں کتنے ہی بچے، بچیاں اعلیٰ تعلیم کے خواب دیکھتے دیکھتے بڑھاپے کی سیڑھیاں چڑھتے ہیں جہاں لوگ روزگار کی تلاش میں چلتے چلتے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جاتے ہیں۔ ہاں! جہاں کتنے ہی ارض پاک سے محبت کرنے والے اس کے لیے کچھ اچھا کرنے کے بارے میں سوچتے سوچتے ہی جہان فانی کوخیرباد کہہ جاتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ یہاں کوئی رہنمائی کرنے والے نہیں۔ کوئی انگلی پکڑ کر آگے بڑھانے والے نہیں۔ اگر کسی کے اندر ہمت کی موجیں ٹھاٹھیں مارتے ہوئے آگے بڑھتی ہیں تو ان کے جذبات کو کچل دیا جاتا ہے۔

23 مارچ۔ قرارداد پاکستان کے نکات ہمیں اس بات کی طرف نشان دہی کرتے ہیں کہ یہ ملک کن اصولوں پر بنا تھا۔ آئیے ہم دیکھتے ہیں قرارداد پاکستان میں کیا پاس ہوا تھا اور آج ہم کیا بھگت رہے ہیں۔ کیا ہماری موجودہ حالت کو دیکھ کر ایسا محسوس کیا جا سکتا ہے کہ اس ملک میں ایک اہم قرارداد، اہم اصول اس ملک میں رہنے والوں کے لیے بنائے گئے تھے۔ آئیے پڑھتے ہیں اس قرارداد کے نکات اور موازنہ کرتے ہیںکہ موجودہ حالات کے تناظر میں۔ کیا اس قرارداد کی روح بھی ہمیں آس پاس کہیں محسوس ہوتی ہے یا پھر یہ قرارداد صرف کتابوں کی چند سطروں میں نظر آتی ہے۔۔۔

1:ملک کے صرف اس آئین کو قابل عمل اور مسلمانوں کے لیے قابل قبول قرار دیتا ہے جو جغرافیائی اعتبار سے باہم تسل ریجنو کی صورت میں حد بندی کا حامل ہے اور بوقت ضرورت ان میں اس طرح ردوبدل ممکن ہو کر جہاں جہاں مسلمانوںکی اکثریت با اعتبار تعداد میں ہو انہیں آزاد ریاستوں کی صورت میں یکجا کر دیا جائے اور ان میں شامل ہونے والی وحدتیں خودمختار اور حاکمیت کی حامل ہوں۔٭ تا اب مسئلہ کشمیر کیوں حل نہیں ہو رہا ہے۔

2: ان وحدتوں میں اور ہر علاقائی آئین میں اقلیتوں کا مذہبی، اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی مفادات اور حق کے تحفظ کی خاطر ایسی اقلیتوں سے مشورے کے بعد موثر تحفظات شامل ہوں اور ہندوستان کے ان تمام حصوں میں جہاں مسلمان آبادی کے اعتبار سے اکثریت میں انہیں تحفظ کا یقین دلائے (لیکن! وہاں تو مسلمان کٹتے رہتے ہیں، جل رہے ہیں، لٹ رہے ہیں۔ حیدرآباد، گجرات، پونا خود انڈیا کے شہر میں مسلمانوں پر جو ظلم و ستم ہو رہے ہیں وہ دنیا سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔

3: یہ اجلاس مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ ان اصولوں پر مبنی آئین کا لائحہ عمل مرتب کریں جس میں دونوں خطوں کے تمام اختیارات اور دیگر اہم امور کو سنبھالنے کا انتظام کیا جائے۔مگر مجلس عاملہ آج کل کے اقوام متحدہ صرف اور صرف سپر پاوروں کا فیصلہ سنتے ہیں اور یہی فیصلہ آگے پہنچاتے ہیں۔ مظلوم، محکوم اور بے گناہ قیدیوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔قائد اعظم کے فرمان ”خیالی دنیا سے نکل آئیں اور اپنے دماغ ایسے پروگراموں کے لیے وقف کریں جن سے زندگی کے ہر شعبہ میں ہمارے لوگوں کے حالات بہتر ہو سکیں۔ صرف اس صورت میں ہم اتنے مضبوط اور طاقت ور ہو سکیں گے جو، ان مخالف اور ضرر رساں قوتوں کا مقابلہ کرسکیں جو ہمارے خلاف کام کر رہی ہے۔”

Quaid e Azam
Quaid e Azam

قائد محترم! آج آپ زندہ ہوتے تو دیکھتے اب تو صرف جذبات ابھار کر چھوڑ دیاجاتاہے۔ جذبات کو صحیح معنوں میں استعمال نہیں کرتے لیکن غلط طریقے سے جذبات کی تسکین ہوتی رہتی ہے۔ وطن کے لیے کچھ کرنے کے جذبات کو مار دیا جاتا ہے۔ معاشرے کی خرابیوں کو دور کرکے اچھا معاشرہ بنانے کے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ بے تاج بادشاہ معاشرے میں بے حیائی، بے غیرتی اور حق مارنے والوں کو تو برداشت ہوتے ہیں لیکن ان بری چیزوں کو معاشرے سے دور کرنے والوں کو ہرگز برداشت نہیں کرتے۔ پھر دماغ کو خیالی دنیا سے نکال کر کس چیز کے لیے وقف کریں؟

یہ ہے قرارداد پاکستان اور قائد اعظم کا عزم و حوصلہ اور مقام۔۔۔انہیں ہم سب مل کر اس عظیم قائد کے فرمان کولفظا بلفظاپڑھیں اور عمل کریں اور ان تاریخی واقعوں کا بغور مطالعہ کر کے کوئی راہ نکال لیں۔ کس طرح ہمارے بزرگ آبائو اجداد حالات سے ٹکرائے تھے۔ کس طرح انہوں نے جہد ،مسلسل کے ذریعے یہ عظیم ملک پاکستان ہمیں بنا کر دیا سوچیں۔ہمارے حصے میں تو صرف ان آبائو اجداد کے بنائے ہوئے اصولوںکی پاسداری کرنی ہے۔ ہمیں کوئی نیا ملک نہیں بنانا بلکہ اسی ملک کے اندر وہ اصول و ضوابط وضع کرنے ہیں۔ وہ انسانی اقتدار کو پروان چڑھانی ہیںجوہمارے ماضی میں ہوا کرتی تھیں۔ آئیں ہم سب مل کر اس مادر ملت کو اس کی منزل کی جانب رواں دواں کریں۔ہم سب اپنی خودی کو بدلیں۔ کیوں کہ جو اپنے آپ کو بدلتے ہیں تو ان کی دنیا خود بخود بدل جاتی ہے۔

تحریر: منیبہ شریف بلغاری
Email: muneebashareef@gmail.com

Share this:
Tags:
diagnosis disease frustration ideas Nawaz Sharif pain quaid e azam stories values اقدار بیماری تشخیص داستانیں درد مایوسی نظریات
Pakistan Resolution
Previous Post 23 مارچ تجدید عہد کا دن
Next Post کیا انٹرنیٹ نے بچوں کو کھیل کے میدانوں سے دور کردیا
Internet

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close