Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ہتھیاروں کی عالمی تجارت امن کے لئے خطرہ

June 16, 2019 0 1 min read
Weapons Trade
Weapons Trade
Weapons Trade

تحریر : قادر خان یوسف زئی

اسٹاک ہولم میں قائم امن پر تحقیق کرنے والے انسٹیٹیوٹ سِپری کے مطابق 2009 سے 2013 کے مقابلے میں دنیا بھر میں 2014 سے لے کر 2018 تک ہتھیاروں کی تجارت میں تقریبا 8فیصد اضافہ ہوا۔ ہتھیاروں کی فروخت کے کاروبار میں عالمی قوتوں نے خصوصی اہداف مقرر کر رکھے ہیں ، تخفیف اسلحہ کے بجائے جدید ترین اسلحہ سازی کسی بھی ملک کے لئے دفاعی ضروریات کی اہمیت کو بڑھاتا ہے ، لیکن دیکھنے میں یہی آرہا ہے کہ ہتھیاروں کی عالمی تجارت میں ایسے ممالک کو ہدف بنایا جاتاہے جو کسی نہ کسی طرح عالمی قوتوں کے مفادات کو پورے کرنے کی کوشش بھی کرتے نظر آتے ہیں یا پھر مالی طور پر اتنے مستحکم ہوتے ہیں کہ انہیں جنگی ماحول میں الجھا کر ہتھیاروں کی تجارت میں اپنے وسائل خرچ کرنے پڑتے ہیں ۔ اس وقت پوری دنیا میں امریکا اسلحہ فروخت کرنے والا سرفہرست ملک ہے۔ جو اپنے من مانی شرائط پر ہتھیاروں کے فروخت کے معاہدے بیک وقت کرتے نظر آتا ہے ۔ اس وقت امریکا اور روس کے درمیان جدید ترین دفاعی نظام کی فروخت میں مقابلے میں ہتھیار خریدنے والے ملک پر امریکا اور روسی دبائو ڈھکا چھپا نہیں ہے ، گو کہ امریکا کے بعد اسلحہ برآمد کرنے والے سب سے بڑے ممالک بالترتیب روس، فرانس، جرمنی اور چین ہیں۔ امریکا،، فرانس، جرمنی کے جدید ترین طیارے، ٹینک کسی بھی حکومت کے لئے اہمیت کے حامل ہیں تو روس کا جدید ترین دفاعی بلاسٹک سسٹم ایس۔400 کئی ممالک کے لئے خصوصی اہمیت و دلچسپی کا سبب بنا ہوا ہے ۔ روسی ایس ۔400 اور ایس۔ 500 میزائل سسٹم ریڈاروں سے پوشیدہ ہوتے ہیں۔ایس۔ 400 اور ایس۔ 500 میزائل سسٹم کو ریڈاروں، مصنوعی سیارچوں، ڈرونوں اور جاسوسی طیاروں کے لئے پوشیدہ بنایا گیا ہے۔واضح رہے کہ اگست 2017 میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی انتخابات میں مداخلت کے الزامات کے بعد روس کے خلاف کئی طرح کی پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔ اس کے تحت روس کی 39 کمپنیوں سے تجارت پر پابندی لگائی گئی ہے۔ان میں وہ دفاعی کمپنی بھی شامل ہے جو ایسـ400 دفاعی میزائل شیلڈ بناتی ہے۔ امریکی پابندی کے ضابطوں کے تحت ان روسی کمپنیوں سے سودا کرنے والی کمپنی اور ملک بھی پابندی کے دائرے میں آئیں گے۔

امریکا کی جانب سے روسی ایس۔ 400 دفاعی نظام کی فروخت انا کا مسئلہ بناہوا ہے اس کا شدید ترین اظہار اُس وقت سامنے آیا جب ترکی نے روس کے ساتھ روسی ایس۔ 400 معاہدہ کرلیا جس کے ردعمل میں امریکا نے اپنے نیٹو اتحادی ملک ترکی کو F -35جدید جنگی طیاروں کی فروخت روک دی اور ایف 35کے لئے دی جانے والے ٹریننگ کو بھی منسوخ کرتے ہوئے ترکی کو دھمکی دی کہ ہم سے ایف35 خریدو یا پھر روس سے روسی ایس۔ 400 ۔ ترکی نے امریکا کو سخت ردعمل دیا ہے ۔ امریکا نے اس سال کے اوائل میں روس سے میزائل دفاعی نظام ایس ـ400 کی خریداری پر اصرار کے ردعمل میں ترکی کو لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن کے ساختہ ایف 35 لڑاکا جیٹ کے آلات مہیا کرنے کا عمل روک دیا تھا ۔ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ”روس سے ایسـ 400 دفاعی نظام کے خریدنے کے بارے میں جو فیصلہ کرلیا گیا ہے اب اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے”۔’ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ ہم یہ دفاعی نظام خریدیں گے بلکہ یہ کہہ رہا ہوں ہم نے یہ دفاعی نظام حاصل کرلیا ہے اور ہمارے ہاتھوں میں ہے۔”صدر ایردوان نے کہا کہ ایسـ 400 دفاعی نظام قیمت کے لحاظ سے بھی مناسب ہونے کے ساتھ ساتھ ساتھ اسے مشترکہ طور پر سے تیار کرنے کے بارے میں یقین دہانی کروانے کے بعد ہی ہم نے اس سمجھوتے پر دستخط کئے ہیں۔یہاں قابل دلچسپ صورتحال یہ بھی ہے کہ امریکا نے بھارت کی جانب سے ایس ۔400کی خریداری کے معاہدے پر اتنا سخت ردعمل نہیں دیا جتنا اس نے ترکی اور سعودی عرب کے خلاف دیا تھا۔

بھارت نے 5 ارب ڈالرز کی خطیر رقم سے جدید ترین دفاعی فضائی نظام ایس۔ 400 کی خریداری کے لیے روس سے معاہدے کو آخری شکل دے چکا ہے، یہ جدید ترین میزائل سسٹم روس کے علاوہ صرف چین اور ترکی کے پاس ہیں اور اب بھارت بھی اس میں شامل ہونے جا رہا ہے۔ دفاعی امور کے ماہر راہول بیدی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ”یہ پاکستان کے لیے بہت تشویش کی بات ہوگی، ایس ۔400 آنے کے بعد بھارت پاکستان پر اور بھی بھاری پڑے گا، دراصل بھارت نے امریکہ سے ہتھیاروں کی خریداری شروع کی تھی تو پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات بڑھنے لگے تھے۔ ایسے میں بھارت کو ڈر تھا کہ روس پاکستان کو ایس۔ 400 میزائل نہ دے دے تو بھارت نے روس کے ساتھ اس سودے میں یہ شرط بھی رکھی ہے کہ وہ پاکستان کو ایس 400 میزائل سسٹم نہیں دے گا”۔

دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہتھیار خریدنے والے ممالک میں سعودی عرب پہلے نمبر پر ہے۔ لیکن سعودی عرب کو بھی امریکا نے ایس ۔400 دفاعی سسٹم معاہدے پر سخت دبائو ڈالاہوا ہے۔ ایس۔ 400 سسٹم کی خریداری سعودی اینٹی میزائل ایئر ڈیفنس سسٹم میں ترقی کی مترادف ہے۔سعودیہ اس وقت پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹم استعمال کررہا ہے ، لیکن امریکی پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹم یمنی حوثی باغیوں کی جانب سے بلاسٹک میزائلوں کو مکمل طور پر روکنے میں ناکامی کا شکار نظر آرہا ہے۔ حالیہ دنوں سعودی عرب کے دو ائیر پورٹ پر حوثی باغیوں کی جانب سے بلاسٹک میزائل حملوں سے جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ سعودی حکام کی پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹم سے مایوسی جبکہ یمنیوں کی روسی اور مشرقی میزائلوں کی طرف توجہ بڑھنے سے سعودیہ روس سے انہی میزائلوں کے توڑ یعنی کہ ایس۔ 400 ڈیفنس سسٹم کی خریداری کررہا ہے۔موجودہ دستاویزات کے مطابق یہ ڈیفنس سسٹم پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹم سے دو گنا زیادہ طاقتور ہے۔اس ڈیفنس سسٹم کی خریداری کی وجہ در اصل یمنی فورسز کے یمامہ محل اور ائیر پورٹس پر حملہ اور اس کے سعودی حکام پر پڑنے والے اثرات ہے۔ جس نے انہیں یہ سسٹم خریدنے پر مجبور کردیا ہے۔شاہ سلمان کا بطور سعودی بادشاہ، روس کے پہلے سرکاری دورہ میں روس سے ‘ایس 400’ ایئر ڈیفنس سسٹم، کورنیٹ اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل سسٹم اور متعدد راکٹ لانچرز خریدنے کا عندیہ ظاہر کیا تھا ۔سعودی عریبین ملٹری انڈسٹریز (ایس اے ایم آئی) نے کہا کہ ‘ان معاہدوں سے سعودی فوج اور ملٹری سسٹم انڈسٹری کی ترقی اور اسے جدید بنانے میں مدد ملے گی۔ایس اے ایم آئی کے بیان میں کہا گیا کہ ‘مفاہمت کی یادداشت میں کورنیٹ اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل سسٹم، متعدد جدید راکٹ لانچرنز اور خودکار گرینیڈ لانچرز کی مقامی پروڈکشن کے لیے ٹیکنالوجی کی منتقلی شامل ہے۔

سعودی عرب اور امریکا کے درمیان 110ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے ہوئے تھے لیکن شام کی جنگ میں امریکا کی جانب سے عرب ممالک سے معاوضہ طلب کرنے اور سعودی عرب کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے بجائے سعودی عرب پر پابندیوں نے سعودیہ کو روس و دیگر عالمی قوتوں کی جانب جانے پر مجبور کردیا ۔ روس کے ساتھ جب سعودیہ فرما ں روا نے دفاعی معاہدے کئے تو امریکا نے اس کے اگلے دن ہی سعودی عرب کو جدید تھاڈ میزائل دفاعی نظام فروخت کرنے کی منظوری دے دی، اس نظام میں یہ صلاحیت ہے کہ یہ کسی بھی ٹیکنالوجی مثلاً جنگی ہتھیاروں کو تباہ کر سکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ 15 ارب ڈالرز کا جدید دفاعی میزائل فروخت کرے گا اس سے سعودی عرب اور خلیج کی سیکورٹی کو ایران اور دیگر علاقائی خطرات کے خلاف بہتربنانے میں مدد ملے گی۔خیال رہے کہ امریکہ کی جانب سے یہ اعلان سعودی عرب کے روس سے ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنے کے اعلان کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ گذشتہ دنوں کانگریس کی جانب سے پابندیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے امریکہ کے محکمہ دفاع پینٹاگون نے لاک ہیڈ مارٹن کارپویشن کو سعودی عرب سمیت بعض ممالک کو 2 ارب 40 کروڑ ڈالر مالیت کے تھاڈ میزائل فروخت کرنے کی اجازت دے دی ہے۔سعودی عرب اور امریکی حکام کے درمیان گذشتہ سال نومبر میں اس ضمن میں سودا طے پایا تھا۔ اس کے تحت سعودی عرب لاک ہیڈ مارٹن کے ساختہ 44 ٹرمینل، ہائی آلٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس (تھاڈ) لانچرز، میزائل اور ان سے متعلقہ آلات خرید کرے گا۔ پینٹاگون نے کہا ہے کہ سعودی عرب تھاڈ میزائلوں کی خریداری کے لیے 2 ارب 40 کروڑ ڈالر میں سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم ادا کرے گا۔ بیان کے مطابق طے شدہ سمجھوتے کے تحت سعودی عرب کو اس کے زیر استعمال موجودہ ازکار ِ رفتہ تھاڈ میزائلوں کی جگہ نئی تھاڈ ٹیکنالوجی مہیا کی جائے گی اور اس کے میزائل نظام کو جدید بنایا جائے گا۔

ہتھیاروں کی عالمی تجارت کے حوالے سے سِپری کی رپورٹ کے مطابق2014سے لے کر سن دو ہزار اٹھارہ تک جتنے بھی ہتھیار فروخت ہوئے، ان میں سے36فیصد امریکا نے برآمد کیے۔ یوں 2009سے لے کر 2013 تک کے مقابلے میں امریکی ہتھیاروں کی فروخت میں 6 فیصد اضافہ ہوا۔امریکا نے مجموعی طور پر100سے کچھ کم ممالک کو ہتھیار فروخت کیے جبکہ مجموعی طور پر ان ہتھیاروں کا نصف حصہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کو فروخت کیا گیا۔ اسی طرح دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ہتھیار برآمد کرنے والا ملک روس ہے، جس نے تقریباََََ 28ممالک کو اسلحہ بیچا۔ دنیا بھر میں ہتھیاروں کی فراہمی کے حوالے سے ہر پانچویں ڈیلیوری روس نے کی۔2014 سے لے کر2018 تک دنیا میں ہتھیاروں کے5بڑے برآمد کنندہ ممالک امریکا، روس، فرانس، جرمنی اور چین رہے۔بین الاقوامی سطح پر جرمن ہتھیاروں کی فروخت میں13 فیصد اضافہ ہوا۔ بیرونی ممالک نے خاص طور پر جرمن آبدوزوں کی خرید میں دلچسپی کا اظہار کیا۔امریکا کے ہر چار ہتھیاروں میں سے ایک سعودی عرب نے خریدا۔ اس طرح2014 سے لے کر 2018تک دنیا میں سب سے زیادہ ہتھیار سعودی عرب نے ہی درآمد کیے۔ اس طرح مشرق وسطیٰ کے ممالک نے اس عرصے میں ماضی کے چار برسوں کے مقابلے میں دو گنا ہتھیار خریدے۔سپری کی اس رپورٹ کے مطابق دو ہزار چودہ سے لے کر دو ہزار اٹھارہ تک بڑے جنگی طیاروں، ٹینکوں اور میزائلوں جیسے بھاری ہتھیار زیادہ فروخت کیے گئے جبکہ دستی بموں اور رائفلوں جیسے چھوٹے ہتھیاروں کی فروخت میں کمی آئی۔ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کی وجہ سے خطے کے امیر ممالک میں اسلحہ خریدنے کی دوڑ میں بھی مزید اضافہ ہوا۔

اسٹاک ہولم میں قائم امن پر تحقیق کرنے والے انسٹیٹیوٹ سِپری کی رپورٹ عالمی امن کے لئے خطرے کی نشان دہی کرتی ہے اور مختلف ممالک میں جنگی ماحول پیدا ہونے کے بعد اس کے براہ راست فائدے کے رجحانات کو بھی بڑی حد تک واضح کررہی ہے کہ امریکا امن کے قیام کے لئے سنجیدگی سے کوشش کیوں نہیں کرتا ، اسی طرح سلامتی کونسل کے مستقل اراکین روس، فرانس، جرمنی اور چین بھی ہتھیاروں کی عالمی تجارت میں اپنی اجارہ داری قائم کئے ہوئے ہیں۔ مشرق وسطی اس وقت سلامتی کونسل کے مستقل اراکین ممالک کے لئے ہتھیاروں کی فروخت کی سب سے بڑی منڈی بنی ہوئی ہے ۔ ان حالات میں سعودی عرب ، قطر ، متحدہ عرب ممالک میں ہتھیاروں کی خریداری کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ امریکہ نے خلیجی ممالک میں بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 2017 میں قطر کو 36 ایف 15جنگی طیارے فروخت کرنے کا معاہدہ کیا۔ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس اور ان کے قطری ہم منصب خالد بن محمد العطیہ نے 12ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے سودے کو حتمی شکل دی تھی۔امریکی کانگریس نے بھی 72 ایف 15 طیاروں کی فروخت کے 21 ارب ڈالر مالیت کے معاہدے کی منظوری دی تھی۔واضح رہے کہ قطر اور امریکہ میں اس معاہدے کے حوالے سے کئی سال قبل اتفاق رائے ہو گیا تھالیکن اس معاہدے پر عمل درآمد ایسے وقت ہو ا، جب چار عرب ممالک سمیت کئی ریاستیں قطر سے سفارتی روابط منقطع کیے ہوئے ہیں۔قطر نے روس کے ساتھ بھی دفاعی معاہدہ کیا ہوا ہے۔ جس پر سعودیہ عرب نے اپنے سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا ۔سعودی عرب کے فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز نے خبردار کیا ہے کہ اگر قطر نے روس سے فضائی دفاعی نظام خریدا تو سعودی عرب اس کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔

فرانسیسی اخبار لی موندے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے فرماں رواں شاہ سلمان نے فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کے نام ایک خط ارسال کیا تھا جس میں انہوں نے روس اور قطر کے مابین جدید ترین دفاعی نظام کے حصول کے لیے جاری مذاکرات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ فرانسیسی صدر کے نام لکھے گئے خط میں شاہ سلمان نے فرانس سے قطر پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا، ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں قطر کی جانب سے زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایسـ400 میزائل دفاعی نظام کے حصول کی کوششوں پر سخت تشویش ہے جو خطے میں سعودی عرب کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ دوسری جانب قطر نے ترکی سے BMC آرمرڈ فورسز گاڑیاں اور 40 Altay طرز کے ٹینک دو سال کے عرصے میں خرید نے ہیں۔مجموعی طورپر قطر ترکی سے فوجی گاڑیوں اور ٹینکوں سمیت 250 بھاری جنگی آلات خریدے گا۔تا حال قطر اور ترکی میں اس غیرمعمولی ڈیل کی قیمت سامنے نہیں آئی۔ ترکی میں Altay دفاعی پروجیکٹ اپنی نوعیت کا ٹینکوں کی تیاری کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ یہ ٹینک الیکٹرانک کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سے لیس ہوگا اور اس پر 120 ملی میٹر دھانے والی بندوق، بکتربند شیلڈ اور دیگر دفاعی آلات نصب ہوں گے۔ اس وقت قطر جدید ترین دفاعی نظام سے لیس ہے اور دنیا کے جدید ترین دفاعی نظام اور ہتھیاروں کی خریداری کی وجہ سے عرب ممالک کے بائیکاٹ کے دبائو سے باہر نکل آیا ہے۔

امریکا نے جہاں مشرق وسطی میں جنگی صورتحال سے فائدہ اٹھایا ہے تو دوسری جانب ایشیا میں بھی ممالک کے درمیان اسلحہ کی دوڑ شروع کرانے کے لئے مختلف ترغیبات دینے کو وتیرہ بنا لیا ہے۔ امریکا نے بھارت کو جنوبی و مشرقی ایشیا میں پولیس مین کا کردار ادا کرنے کے لئے کئی پرکشش دفاعی معاہدوں کی پیش کش کی جس میں گزشتہ دنوں ایک اور ترغیب بھی دی گئی۔ امریکا نے مسلح ڈرونز کے ساتھ ساتھ نے بھارت کو فضائی اور میزائل دفاعی نظام کی فروخت کی بھی پیشکش کی ہے۔امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ بھارت کو اپنی بہترین دفاعی ٹیکنالوجی پیش کرنے کیلئے تیار ہے، بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ معاہدہ طے پایا تو اس کی مالیت 2 ارب 50 کروڑ امریکی ڈالر ہوگی۔واضح رہے کہ مودی اور ٹرمپ کے درمیان جون 2017 میں بھارت کو نگرانی کرنے والے ‘گارڈین ڈرونز’ کی فروخت پر اتفاق ہوا تھا۔ دوسری جانب بھارت کاروس سے ایس 400 دفاعی میزائل نظام کی خریداری کا معاہدہ طے پا چکا ہے۔2010 میں بھارت اور روس نے تیس بلین ڈالر سے زیادہ کے دفاعی معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں جو بھارت کی دفاعی تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ ہے۔ دونوں ملک مل کر بھارتی فضائیہ کے لئے پانچویں جنریشن کے جنگی طیارے تیار کریں گے۔اکتوبر 2018 میں بھارت اور روس کے درمیان خطرناک ترین طیارہ شکن میزائل نظام ایسـ400 کے لیے 5 بلین امریکی ڈالر کا معاہدہ بھی طے پا گیا ہے۔ وزیراعظم مودی اور روس کے صدر پوتن نے معاہدے پر دستخط کئے نیز بھارت نے روس سے تیسری آبدوز لیز میں لینے کا معاہدہ کیا ہے جو 2025 میں فراہم کی جائے گی۔

جبکہ انڈیا اور فرانس بھی ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں جس کے تحت دونوں ملک بحرِ ہند میں تعاون کو فروغ دیں گے۔ رانسیسی وزیرِ اعظم امانوئل میکخواں اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے درمیان ہونے والے اس معاہدے میں دونوں ملک ایک دوسرے کے جنگی جہازوں کے لیے اپنے بحری اڈے کھول دیں گے۔ بھارتی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل سے 70 ملین ڈالر کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل خرید رہا ہے۔یہ اعلان اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے انڈیا کے دورے سے قبل کیا گیا تھا۔براک میزائل جسے رافیل ایڈوانسڈ سسٹمز نے بنایا ہے بھارت کے پہلے ایئرکرافٹ کیریئر کے لیے استعمال کیا جائے گا جو ابھی زیرِ تعمیر ہے۔اسرائیل اسلحے کی فروخت کے حوالے سے انڈیا کا ایک اہم سپلائیر بن گیا ہے اور ہر سال اسے اوسطاً ایک ارب ڈالر کا فوجی ساز و سامان فروخت کرتا ہے۔ دونوں ممالک نے تقریباً دو ارب ڈالر کے ایک فوجی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت اسرائیل کو انڈیا کو درمیانی مار کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، لانچر اور مواصلاتی ٹیکنالوجی سپلائی کرنا تھا۔ان حالات میں اگر پاکستان کی صورتحال دیکھی جائے تو تمام تر نامساعد حالات کے باوجود پاک سر زمین کے دفاع کے لئے مسلح افواج خود انحصاری کی پالیسی کے تحت مقامی طور پر جدید ہتھیار بنا رہی ہے۔تاہم روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق معاہدے کے تحت پاکستان کا روس کے ساتھ 9 ارب ڈالرز کا دفاعی معاہدہ کرنے کا فیصلہ، معاہدے کے تحت پاکستان روس سے جنگی طیارے، ہیلی کاپٹرز، ائیرڈیفنس میزائل سسٹم، ٹینک اور جنگی بحری جہاز خریدے گا۔

پاکستان نے 10 سال کے عرصے کے دوران سب سے زیادہ ہتھیار چین سے خریدے ہیں۔پاکستان نے 2008 سے 2018 کے درمیان چین سے 6 ارب ڈالرز سے زائد کے ہتھیار خریدے ہیں، جب کہ پاکستان نے روس سے بھی جدید جنگی ہیلی کاپٹرز سمیت دیگر کچھ ہتھیار خریدے ہیں۔دفاعی ماہرین کے مطابق اگر واقعی پاکستان اور روس مذکورہ دفاعی معاہدے کو حتمی شکل دینے میں کامیاب ہوگئے، تو یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اور اہم ترین دفاعی معاہدہ ہوگا۔ تاہم پاکستان کو اس معاہدے کی تکمیل کے سلسلے میں امریکا کی شدید مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔پاکستان کا دفاعی بجٹ بھارت و دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے تاہم اس کے باجود پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود اپنی مدد آپ کے تحت جدید میزائل بنائے۔ پاکستان کے پاس زمین سے زمین پر کارروائی کرنے والے جدید میزائل ہیں جو پاکستان نے خود بنائے ہیں۔میدان جنگ میں کارروائی کرنے والے میزائل میں نصر ہتف ـ 9، ہتفـ1،مختصر فاصلے پر موجود ٹکانوں پر حملہ کرنے والے میزائل میں غزنوی،ابدالیـ1،غوریـ1،شاہینـ1،درمیانی فاصلہ طے کرنے والے میزائل میں غوریـ2،شاہینـ2،شاہینـ3،کروز میزائل میں بابر/ہتف 7، ٹینکوں کے خلاف حملہ کرنے والے میزائل میں بکتر شکن،ہوا سے زمین پر کارروائی کرنے والے Hـ2 SOW،Hـ4 SOW،رعد،بکتر شکن برق اور فضائی میں کارروائی کرنے والے میزائل،عنزہ شامل ہیں۔شاہین سوم (شاہین III) پاکستان کا جدید ترین درمیانی حدِ ضرب والا بیلسٹک میزائل (ایم آر بی ایم) ہے جس کی رینج 2750 کلومیٹر/ 1700 میل ہے اور یہ اپنے ہدف کو 22,226 کلومیٹر فی گھنٹہ (آواز سے 18 گنا زیادہ) تیز رفتاری سے تباہ کرسکتا ہے۔بھارت کو کسی قسم کی فوج کشی سے باز رکھنے کے لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس ‘ٹیکٹیکل’ جوہری ہتھیار موجود ہوں۔بھارت کا دفاعی بجٹ66ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سال 2018 میں پاکستان کے دفاعی اخراجات 11 ارب 40 کروڑ ڈالر رہے، جس کے بعد پاکستان دنیا بھر میں سب سے زیادہ دفاعی اخراجات کرنے والے ملکوں کی فہرست میں 20 ویں نمبر پر تھا۔ اس فہرست میں بھارت چوتھے نمبر پر ہے۔بھارت کے جنگی جنون کے مقابلے میں پاکستان کا دفاعی بجٹ انتہائی کم ہے ۔ اس کے باوجود دنیا کی چوتھی بڑی فوج کو پاکستان نے اپنے عزم اور دفاعی قوت سے ہر محاذ پر شکست دی ہے۔ ہمیں پاکستانی مسلح افواج کی دفاعی ضروریات کو ملکی سلامتی کے لئے مزید بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ مسلح افواج کی دفاعی ضروریات پر تنقید کرنے والے پاکستان سے مخلص نہیں ہیں۔ بلکہ ان کا ایجنڈا پاکستان کو اپنے دیرینہ دشمن کے مقابلے میں کمزور کرکے بھارتی مذموم عزائم کی سازشوں کو کامیاب بنانا ہے۔

 Qadir Khan Yousafzai
Qadir Khan Yousafzai

تحریر : قادر خان یوسف زئی

Share this:
Tags:
agenda Defense budget India pakistan Qadir Khan Yousafzai report ایجنڈا بھارت پاکستان دفاعی بجٹ رپورٹ
Haji Basharat Ali
Previous Post پنجاب کا بجٹ پاکستان تحریک انصاف کے منشور اور عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کا بھر پور عکاس ہے۔ حاجی بشارت علی
Next Post صحافت کا ایک اور باب بند، رحمت علی رازی دنیا سے پردہ کر گیا
Rahmat Ali Razi

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close