Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پاکستان اور امریکا باہمی تعاون پر رضا مند

July 28, 2019 0 1 min read
Imran Khan – Donald Trump Meeting
Imran Khan – Donald Trump Meeting
Imran Khan – Donald Trump Meeting

تحریر : قادر خان یوسف زئی

وزیر اعظم پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف کا دوہ امریکا کتنا کامیاب رہا ، یہ آنے والا وقت ہی بتا سکے گا تاہم اس دورے کی اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ پاکستان نے دورہ امریکا میں عالمی برداری اور امریکی حکام پر مثبت تاثر چھوڑا ہے۔ امریکی صدر نے وائٹ ہائوس میں وزیر اعظم کا استقبال کیا اور دونوں رہنمائوں کے درمیان گرم جوشی کو واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا تھا ۔ ون ٹو ون ملاقات اور وفود کی سطح پر اوول آفس میں ملاقات انتہائی اہمیت کی حامل رہی کیونکہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان سرد مہری کی فضا میں کمی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے اور پاک۔ امریکا تعلقات میں ایک نمایاں پیش رفت ہونے کی توقع رکھی جا رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ پاکستان کے ساتھ ان معاملات پر تعاون مضبوط کرنے کے لیے کوشاں ہیں جو جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے کلیدی ہیں۔اعلامیے کے مطابق امریکہ جنوبی ایشیا کو پرامن علاقہ بنانے کے لیے ضروری حالات پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے اور صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے خواہاں ہیں۔امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے خطے کی سکیورٹی بہتر بنانے اور انسدادِ دہشت گردی کے سلسلے میں جو ابتدائی اقدامات کیے گئے ہیں صدر ٹرمپ نے ان کی ستائش کی۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں قیامِ امن کے لیے بات چیت کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں کی ہیں اور اس سلسلے میں اس سے مزید کام کرنے کو کہا جائے گا۔امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک مضبوط تعلق کا راستہ افغانستان کے تنازعے کے ایک پرامن حل کے لیے مشترکہ کوششوں سے جاتا ہے۔اعلامیے کے مطابق پاکستان نے اپنی سرزمین پر سرگرم دہشت گردوں کے خلاف کچھ اقدامات کیے ہیں لیکن یہ نہایت اہم ہے کہ پاکستان ہمیشہ کے لیے ان تمام گروپوں کے خاتمے کے لیے کارروائی کرے۔آرمی چیف جنرل جاوید باجوہ بھی اس نشست میں وزیر اعظم کے ساتھ شریک تھے۔امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ پاکستان افغان امن عمل میں اہم کردار ادا کررہا ہے ، نیز مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے امریکا نے ثالثی کی پیشکش کی ۔ جس سے مقبوضہ کشمیر کی عالمی اہمیت کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ تاہم بھارت روایتی طور پر ثالثی کی پیش کش کو منظور نہیں کرے گا ۔

اس سے قبل بھی مقبوضہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش دی جا چکی ہے لیکن بھارت نے کبھی مثبت جواب نہیں دیا ۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان کے نائب نے ثالثی کی پیش کش کرچکے تھے کہ دنیا کے دیگر تنازعات کی طرح ہمارے دفاتر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔لہٰذا پاکستان اور بھارت کی جانب سے درخواست کی ضرورت ہے۔ اگر دونوں پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں درخواست دیں تو موجودہ صورتحال میں اقوام متحدہ مسئلہ کے حل کیلئے ثالثی پر تیار ہے۔کچھ عرصہ قبل روسی صدر پیوٹن نے بھی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کی تھی۔ایرانی وزیر خارجہ بھی بھارت پاکستان کے مابین بہتر تعلقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کشمیر مسئلے کو حل کرنے کیلئے ثالثی کی پیشکش کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا کے خطے میں بھارت پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات لازمی ہے او ایسا تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب دونوں ممالک اپنے پیچیدہ اور دیریانہ مسائل حل کرنے کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔جواد ظریف نے کہا کہ اگر پاکستان اور بھارت چاہیں تو ایران مسئلہ کشمیر پر دونوں ممالک میں ثالثی کیلئے تیار ہے۔امریکی صدر نے کشمیر کے مسئلے پر اپنی ثالثی کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں مدد کرسکا تو مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کے لئے مدد کرنا پسند کروں گا۔وزیر اعظم عمران خان نے امریکی صدر سے برصغیر میں امن کے حوالے سے کردار ادا کرنا کی درخواست کی ۔وزیر اعظم نے امریکی صدر سے پاک۔ امریکا تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا اور تعلقات میں بہتری کی اہمیت پر زور دیا ۔

صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے بعد امریکی ٹیلیویژن فوکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ” شکیل آفریدی کا معاملہ پاکستان کے لیے حساس ہے۔ کیوں کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ اس کی وجہ سے پاکستان کو خفت کا سامنا کرنا پڑا جو امریکہ کا اتحادی تھا اور جس نے 75 ہزار جانوں کی قربانی دے رکھی تھی۔ان کے بقول پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی جب خود امریکہ کو اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کے بارے میں ابتدائی معلومات فراہم کر رہی تھی، تو پھر ایک شہری کی طرف سے ملنے والی اطلاعات پاکستان کے ساتھ شیئر نہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔اس سوال پر کہ آپ وزیراعظم ہیں شکیل آفریدی کو رہا کر سکتے ہیں، تو وزیراعظم نے کہا کہ جمہوریت میں وزیراعظم کو فیصلوں میں اتنا اختیار بھی نہیں ہوتا۔ کیوں کہ ایک فعال حزب اختلاف موجود ہوتی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں شکیل آفریدی کی رہائی کے بدلے میں ہم بھی کچھ لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کریں جیسے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی پر بات ہو سکتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر بھارت جوہری ہتھیار ترک کر دے تو پاکستان بھی کر دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کسی جوہری ایڈوینچر کے متحمل نہیں ہو سکتے یہ تباہی کو دعوت دینے کے سوا کچھ نہیں ہے۔کشمیر کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑا تنازع کشمیر ہے اور امریکہ سپر پاور ہونے کے ناطے بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں بڑا کردار ادا کر سکتا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت اگر نہ بھی چاہے کہ کوئی تیسرا فریق اس میں حصہ دار بنے تو بھی صدر ٹرمپ اور امریکہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے بعد یہ محسوس کررہا ہوں کہ پاکستان اور امریکہ حقیقی اتحادی ہیں، افغانستان میں امن دونوں کا مشترکہ مقصد ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان کے طالبان امریکہ یا مغربی دنیا کے لیے خطرہ نہیں ہیں یہ مقامی تحریک ہے۔ اگر افغانستان میں انتخابات کے بعد طالبان بھی حکومت کا حصہ ہوں تو پھر یہ پورے افغانستان کی نمائندہ حکومت ہوگی”۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹر پیغام میں بتایا کہ وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی وزیراعظم کے وفد میں شامل ہوئے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے بعد امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا دورہ کیا۔ پینٹاگون میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ امریکا کے قائم مقام وزیر دفاع رچرڈ اسپینسر سے ملاقات ہوئی۔ترجمان پاک فوج کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ سے چیف آف اسٹاف جنرل مارک اے ملے سے ملاقات کی۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کااستقبال امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈنفورڈ نے کیا۔ عسکری قیادت و امریکی حکام کے درمیان اہم موضوع خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کے کردار اور افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا رہا ہوگا۔ کیونکہ اس وقت افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا بڑا مسئلہ بنا ہوا اور امریکا،پاکستان سے مزید تعاون کا خواہاں ہے۔پاک۔ امریکا عسکری تعلقات میں ڈیڈ لاک ختم ہونے اور بڑی توقعات فی الوقت نہیں کی جاسکتی تاہم دونوں عسکری حکام کی ملاقات اہمیت کی حامل تھی۔

وزیراعظم پاکستان نے دورہ امریکا میں پہلی بار اپنی نوعیت کا جلسہ عام کا بھی انعقاد کیا۔ عالمی ذرائع ابلاغ و امریکن کیمونٹی نے صدر ٹرمپ سے ملاقات سے قبل امریکا میں جلسہ منعقد کئے جانے پر خوشگوار حیرت کا اظہار کیا ۔ کیونکہ عمومی طور پر پاکستان کی جانب سے جب بھی کوئی سربراہ مملکت آتا ہے تو ۔ عموماََ کسی غیر ملکی سربراہ مملکت کی جانب سے امریکی دورے کے دوران اپنی مملکت کے شہریوں سے محدود پیمانے پر ملاقات تو ہوتی رہی ہیں۔پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ بھی ان کی میٹنگ ہوتی ہے جس میں ان کی پارٹی کی امریکہ کی شاخ سے منسلک افراد، بزنس کمیونٹی اور با اثر شخصیات کو مدعو کیا جاتا ہے۔امریکہ میں سیاسی جلسہ منعقد کرنا پاکستان میں ایسا کرنے سے بالکل مختلف ہے۔ واشنگٹن میں قائم انڈس نامی تھنک ٹینک سے منسلک عنبر جمیل کہتی ہیں کہ ”امریکی معاشرہ انتہائی سٹرکچرڈ اور بااصول ہے جہاں احتساب اور شفافیت کا مظبوط نظام رائج ہے اس لیے اس قسم کی تقریب کے انعقاد سے پہلے ضروری ہے کہ اکاونٹس، ریگولیٹری اور قانونی ضابطے مکمل کیے جائیں اس کے لیے بہت سے مراحل ہیں جن سے گزر کر ہم اس ایونٹ کو منعقد کروا سکیں گے اس کے لیے پراجیکٹ مینیجمنٹ کے تمام اصول لاگو ہوں گے جن پر ہمیں عمل کرنا ہو گا۔”کسی بھی پاکستانی سربراہ مملکت کی جانب سے یہ پہلا سیاسی جلسہ تھا ۔ جہاں پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ ان میں ایسے پاکستانی بھی شامل تھے جو اب امریکا کے شہری بن چکے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ قوم پاکستان کو ہرسال تبدیل ہوتا اور اوپر جاتا دیکھے گی کیوں کہ طاقت ور کا احتساب شروع ہوچکا ہے۔ جیل سے باہر نکلنے کے خواہش مند لوٹا ہوا پیسہ واپس دیں اور جائیں۔ انہوں نے واشنگٹن ڈی سی کے اسٹیڈیم کیپیٹل ایرینا ون میں تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب میں اپوزیشن رہنمائوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ پاکستانی کیمونٹی سے غیر روایتی خطاب میں اپوزیشن پر کڑا نشانہ بنایا۔ عمران خان نے مزید کہا کہ ہمارے ملک میں معدنیات کے اربوں ڈالر کے ذخیرے موجود ہیں، یہاں تو سو سال تک بجلی کی کمی ہونی ہی نہیں چاہیے، اربوں ٹن کوئلہ تھر میں موجود ہے لیکن بدقسمتی ہے کہ ریکوڈک کا جرمانہ ہوا، نہیں پتا سپریم کورٹ نے یہ کنٹریکٹ کیوں ختم کیا؟ وہاں صرف ایک جگہ 200 ارب ڈالر کا تانبہ پڑا ہے، اس معاملے کے پیچھے بھی کرپشن تھی پیسے مانگے جارہے تھے، بڑی کمپنیاں پاکستان میں اسی لیے نہیں آتیں، جن کمنپیوں سے ملا ہر کمپنی یہی کہتی ہے کہ ہم سے رشوت مانگی جاتی ہے لیکن اب کمپنیاں پاکستان ضرور آئیں گی۔ وزیر اعظم اسٹیڈیم کیپیٹل ایرینا ون میں اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بنانے پر اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور وزیر اعظم کی تقریر کو نا مناسب و بے موقع قرار دیا۔ تاہم عمرا ن خان کے خطاب کو سننے و دیکھنے کے لئے اہم تقریب سے مریکا اسٹیبلشمنٹ و سول قیادت کو ایک پیغام پہنچاکہ پاکستان امریکا سے برابری کی سطح پر بات چیت کا خواہاں ہے۔

دورہ امریکا سے پاکستان نے زیادہ امیدیں وابستہ بھی نہیں کی تھی ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پہلے ہی واضح طور پر بیان دے دیا تھاکہ پاکستان ، امریکا سے ایسے کوئی وعدے نہیں کرے گا جو وہ پورا نہ کرسکے ۔ دونوں ممالک کے درمیان سرد مہری اور سول عسکری تحفظات کی نوعیت سے سب بخوبی آگاہ تھے کہ پاکستان ، صدر ٹرمپ کے سخت گیر رویئے کے سبب جنوبی ایشیائی پالیسی میںپاکستان کے کردار کو صدر ٹرمپ کے سامنے کھل کر بیان کیا گیا۔ سیاسی طور پر پاکستان کے سربراہوں کو امریکا کی جانب سے سیاسی مقاصد سے زیادہ فوجی مفادات کے لئے استعمال کرنے کی روش رہی ہے۔ ماضی میں بھی سول قیادت کے ساتھ عسکری قیادت بھی امریکی سیکورٹی حکام سے ملاقات کرتے رہے ہیں ۔ پاکستان میں جب بھی امریکی حکام سیاسی قائدین سے ملاقات کرتے ہیں تو فوجی قیادت کے ساتھ بھی ملاقات ضرور کی جاتی ہے ۔ خطے میں سیکورٹی صورتحال پر عسکری قیادت کی جانب سے بریفنگ اور پاکستان کی کوششوں و قربانیوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ امریکی دورے سے زیادہ توقعات وابستہ کرنے کے بجائے اس بات پر زیادہ توجہ کی ضرورت رہی کہ دونوں ممالک کے درمیان سرد مہری اور غلط فہمیوںکو دور کیا جاسکے ۔امریکا کی اس وقت سب سے زیادہ توقع افغان امن عمل تنازع کا حل نکالنا ہے۔ پاکستان نے اپنے دستیاب اثر رسوخ کی بنا ء پر ہر ممکن کردار ادا کیا اور روس ، جرمنی کے تعاون کے ساتھ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لئے سہولت کار کا کردار ادا کیا ۔ پاکستان صراحت سے کہہ چکا ہے کہ وہ افغان طالبان پر اتنا اثر رسوخ نہیں رکھتے کہ افغان طالبان ان کی ہر بات مان لیں ۔ اس لئے کابل انتظامیہ کو مذاکرات میں شامل کرنے کے لئے پاکستان نے اپنا محدود کردار ادا کیا ۔ افغان طالبان نے کابل انتظامیہ کے ٹھوس موقف کی بنا ء پر سنجیدگی سے کوشش کی کہ افغان طالبان ، کابل انتظامیہ کو بھی دوحہ مذاکرات میں شریک کرلیں ۔ افغان طالبان نے اپنے قریب ترین حلیف سعودی عرب اور متحدہ امارات سمیت قطر کی درخواستوں پراتنی نظر ثانی کی دوحہ میں ذاتی حیثیت میں ایک ایسے وفد سے مذاکرات کئے متفرق طبقات کی نمائندگی کے ساتھ حکومت کے نمائندے بھی شامل تھے ۔ یہ ایک بڑی کامیابی تھی کس کے مثبت نتائج دوررس ثابت ہونگے۔ افغان نمائندوں نے بھی افغانستان کے مستقبل کے لئے دوحہ بین الافغان مزاکرات کو اہم قرار دیا اور مستقبل میں مزید دور ہونے کی امید ظاہر کی تاکہ افغانستان میں پائدار و مستحکم امن کی راہ نکالی جاسکے ۔امریکی صدر نے وزیر اعظم سے وائٹ ہائوس میں ملاقات کے دوران ایک بار افغانستان سے امریکی افواج میں کمی کا اظہار کیا اور پاکستا ن کے مثبت کردار کا اعتراف اور تعریف کی۔

امریکی دورے کے بعد توقع کی جا سکتی ہے کہ امریکا ، خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کی اہمیت کو نظر اندازکی پالیسی پر نظر ثانی کریں گے ، کیونکہ خطے میں بھارتی کردار انتہائی محدود ہوچکا ہے ۔ پاکستان نے خطے میں اپنی اہمیت کو ثابت کرنے کے لئے بڑی محنت کی ہے ۔ افغانستان سے تعلقات میں بہتری کے ساتھ ساتھ ، بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لئے پاکستان کی پالیسیوں کو عالمی برداری نے بھی سراہا ہے۔ بھارت کی ہٹ دھرمی اور پاکستان سے مذاکرات سے کترانے کی کوششوں کو عالمی برادری اور امریکا نے بھی واضح طور پر محسوس کیا ہے۔ امریکا کوشش کرتا رہا تھا کہ بھارت ، افغانستان میں اپنے عسکری کردار ادا کرے ، لیکن بھارت ، افغان طالبان سے خائف تھا کہ جب ڈیڑھ لاکھ جدید جنگی سازوسامان سے مسلح افواج افغان طالبان کو شکست نہیں دے سکیں تو بھارت میں تو اتنی استعداد بھی نہیں ہے مقبوضہ کشمیر میں نہتے مظاہرین کو کنڑول کرسکے۔لاکھوں بھارتی سورما ، نہتے کشمیریوں سے مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے تو تربیت یافتہ افغان طالبان سے جنگ کا تصور کرتے ہی یقیناََ انہیںخوف محسوس ہوتا ہوگا ۔ اسی لئے بھارتی فوجیوں کو افغانستان کے قبرستان میں جھونکنے کی امریکی خواہش ولالچ پر بھی بھارت تیار نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ صدر ٹرمپ نے تنگ آکر بھارت کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا ۔ امریکا ، افغانستان میں بھارتی کردار کے لئے مختلف بڑے خواب بھارت کو دکھاتا رہا ، جنگی طیاروں کی بھارت میں تیاری و ٹیکنالوجی کی منتقلی ، بھاری جنگی ساز و سامان کے معاہدے ، جنوبی ایشیا میں بھارت کو تھانیدار بنانے کی کوشش اور پاکستان کے خلاف عالمی اداروں میں دبائو بڑھانا اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کو نظر انداز کرنا بھی شامل رہا ہے۔

پاکستان نے خطے میں دیگر عالمی قوتوں کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری لائی اور پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرکے ایک نا ممکن کارنامہ انجام دیا ۔بنیادی طور دورہ امریکا ،مثبت رہا ، کیونکہ دورے میں حسب توقع مسئلہ افغانستان، کشمیر کے ایشو پر بات ہوئی ، عافیہ صدیقی و شکیل آفریدی کے حوالے سے پیش رفت کا امکان ظاہر کیا گیا ۔ تجارتی اہداف بڑھانے کے لئے وزراء کے سطح پر مزید پیش رفت کا ذکر ہوا۔ امریکی اور پاکستانی حکام کے درمیان سرد مہری میں کمی آنے کی توقع ہے۔کشمیر پر ثالثی اور پاکستان دورے کی دعوت پاکستان کی اہم کامیابیاں ہیں۔ امریکا اور پاکستان کے درمیان ملاقات سے امریکی صدرو امریکی اسٹیبلشمنٹ کو متعدد مسائل اور اس کے سدباب کے لئے لائحہ عمل اور روڈ میپ کے لئے راستہ ہموار ہونا اہمیت کا حامل ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی ملاقات عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں سرفہرست رہی۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی شہ سرخی تھی کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں امریکی صدر نے پاکستان کے ساتھ افغان امن مذاکرات میں تیزی کے لیے معاونت کے وجہ سے پاکستان کے ساتھ تناؤ کم کرنے کی کوشش کی۔امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی شہ سرخی تھی کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں امریکی صدر نے پاکستان کے ساتھ افغان امن مذاکرات میں تیزی کے لیے معاونت کے وجہ سے پاکستان کے ساتھ تناؤ کم کرنے کی کوشش کی۔ اخبار کے مطابق گزشتہ سال ہی امریکی صدر نے پاکستان پر تنقید کے نشتر چلائے تھے لیکن گزشتہ روز پاکستانی وزیراعظم کو پوری شان و شوکت کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف اور گارڈین نے بھی امریکی صدر اور پاکستانی وزیراعظم کی ملاقات پر رپورٹس شائع کیں جس پر معتصب بھارتی اخبارات و ہندو شدت پسند ایک بار پھر پاکستان اور امریکا کے درمیان تناؤ کم ہونے پر آگ بگولا ہو گئے۔

 Qadir Khan Yousafzai
Qadir Khan Yousafzai

تحریر : قادر خان یوسف زئی

Share this:
Tags:
america Cooperation pakistan Prime Minister terrorism Trump امریکا پاکستان تعاون ٹرمپ دہشت گردی وزیر اعظم
Imran Khan
Previous Post عمران خان کا ساتھ کیسے دیں؟
Next Post سیاحتی مقتل
Tourism

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close