Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پاکستان پر امریکی میڈیا کا حملہ

March 26, 2014 1 1 min read
Ghulam Murtaza Bajwa
Pakistan
Pakistan

اس وقت پاکستان کئی بحرانوں سے گزر رہاہے۔ پاکستانی عوام پریشان حال ہے۔ امریکی میڈیانے ایک بارپھر پاکستانی قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے۔ سانحہ ایبٹ آباد کو الزامات اورافسانوی کہانی بنا کرپوری دنیا میں پیش کیا ہے۔ سانحہ ایبٹ آبادکی رپورٹ ایک سستی شہرت حاصل کرنے والے امریکی صحافی کارلوٹا گال CARLOTTA GALL نے تیارکی ہے۔ پاکستان کی طرف سے نیویارک ٹائمز میں سانحہ اینٹ آباد ”اسامہ بن لادن کی موت” کی رپورٹ کو مسترد کیا گیا۔ کہ پاکستان کی فوجی قیادت کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے میں علم تھا۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفارتکاروں نے اس الزام کو مسترد کرنے کے لئے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکی حکومت خود یہ اعتراف کر چکی ہے کہ اس کے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ان سفارتی حلقوں نے اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے نیویارک ٹائمز کے طویل مضمون میں بعض واقعاتی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ ساری رپورٹ ایک افسانوی کہانی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 مئی 2011ء کو امریکی فوج نے ایک خفیہ آپریشن میں دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب شخص اور دہشت گرد اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس حملہ کی اطلاع امریکی حکام نے خود صدر آصف زرداری اور پاک فوج کے سربراہ ریٹائرڈ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو دی تھی۔ فوری طور پر صدر زرداری نے اس خبر پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے جواباً امریکی حکام کو مبارکباد کا پیغام بھی دیا تھا۔ تاہم جلد ہی یہ حقیقت سامنے آ گئی تھی کہ مملکت پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والی فوج یا ائر فورس کو اس کارروائی کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ دو امریکی ہیلی کاپٹروں نے پاکستان کی سرحد میں کئی سو کلومیٹر اندر آ کر آرمی اکیڈمی کے نواح میں ایک مکان پر حملہ کیا۔ وہاں مقیم لوگوں کو ہلاک کیا۔ وہاں سے اہم دستاویز اور کمپیوٹر اٹھائے اور کسی رکاوٹ کے بغیر واپس چلے گئے ۔حکومت پاکستان نے اس سانحہ کی تحقیق و تفتیش کے لئے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جاوید اقبال کی نگرانی میں ایک 5 رکنی کمیشن مقرر کیا تھا۔ تاہم اس کی رپورٹ کو جو دو سال کی مشقت کے بعد تیار کی گئی تھی، قومی راز بنا کر سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ اس سانحہ کے بارے میں حکومت پاکستان نے نہ تو کوئی تفصیلات بتائی ہیں اور نہ ہی فوج یا سویلین شعبہ میں کسی شخص نے اس حملہ کو ناکام بنانے کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ کسی بھی فوجی افسر یا سرکاری عہدیدار کو اس پاداش میں کسی قسم کی سزا کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

Shakil Afridi
Shakil Afridi

البتہ پاکستانی حکام نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو گرفتار کر کے اس پر غیر واضح الزامات ضرور عائد کئے ہیں۔ امریکی احتجاج کے باوجود شکیل آفریدی کو دہشت گردوں کی حمایت کے الزام میں طویل سزا دی گئی ہے اور اسے رہا کرنے سے مسلسل انکار کیا جا رہا ہے۔ڈاکٹر شکیل آفریدی نے ایک جعلی ویکسی نیشن مہم کے ذریعے اسامہ لادن کے ڈی این اے DNA سیمپل لینے اور یہ تصدیق کرنے میں امریکی حکام کی مدد کی تھی کہ اسامہ بن لادن واقعی اس مکان میں مقیم تھا جہاں بعد میں اسے قتل کیا گیا تھا۔ امریکی حکام ایک دوست ملک کے اندر اتنا اہم آپریشن کرنے سے پہلے سو فیصد اس بات کی تصدیق کرنا چاہتے تھے کہ وہ درست ٹارگٹ کی طرف جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے کوئی بھی غلطی حملہ کرنے والے فوجی یونٹ اور امریکہ و پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے تباہ کن ثابت ہو سکتی تھی۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے یہ اہم خدمت سرانجام دی تھی۔اگرچہ یہ کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے غیر ملکی ایجنسی کے ساتھ تعاون کر کے غداری کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اسے سزا دینے کے لئے غیر قانونی اسلحہ اور انتہا پسند گروہوں کی مدد جیسے الزامات گھڑے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ اسے قبائلی علاقوں کے انتظامی قوانین کے تحت ایک بیورو کریٹ کی عدالت نے سزا دی تھی اور حال ہی میں ایک کمشنر کی عدالت نے اس کی سزا میں دس برس کی تخفیف کر کے اسے 23 برس کر دیا تھا۔ یہ معاملہ نہ تو کسی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی ڈاکٹر آفریدی پر وطن سے غداری کا مقدمہ قائم ہؤا ہے ۔ اس طرح یہ معاملہ بھی ایبٹ آباد سانحہ پر اخفائے راز کا پردہ ڈالنے کے عمل کا ہی ایک حصہ ہے۔

آخر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اس معاملہ میں کیا چھپانا چاہتی ہے ۔ نیویارک ٹائمز کی افغانستان اور پاکستان کے لئے بارہ برس تک نمائندہ رہنے والی صحافی کارلوٹا گال CARLOTTA GALL نے اپنی رپورٹ بعنوان ” پاکستان بن لادن کے بارے میں کیا جانتا تھا ”، میں اسی سوال کا سراغ لگانے کی کوشش ہے اور بعض تکلیف دہ انکشافات کئے ہیں۔ یہ رپورٹ مس گال کی کتاب ” غلط دشمن افغانستان میں امریکہ 2001ـ2014 ، The Wrong Enemyــــ American in Afghanistan سے لی گئی معلومات پر مشتمل ہے ۔ اصل کتاب چنددنوں بعد شائع ہو گی۔ تب ان معاملات پر مزید معلومات بھی سامنے آ سکتی ہیں۔اس کتاب کے اقتباسات پر مبنی جو تفصیلی رپورٹ نیویارک ٹائمز نے بدھ کو شائع کی ہے اس میں صرف اسامہ بن لادن کے حوالے سے انکشافات نہیں کئے گئے ۔ اگرچہ اس رپورٹ میں پہلی بار یہ الزام لگایا گیا ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا کو ذاتی طور پر اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا علم تھا۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کی ٹیلی فون کالز ریکارڈ کی تھیں جن سے یہ معلومات حاصل کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ مصنفہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے فوجی جرنیلوں نے القاعدہ کے تعاون سے پیپلز پارٹی کی لیڈر بے نظیر بھٹو کو قتل کروایا تھا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2007ء میں لال مسجد کے سانحہ میں آئی ایس آئی نے لال مسجد سے بغاوت کرنے والے گروہ کا ساتھ دیا تھا۔

رپورٹ میں مشرف حکومت کے ایک وزیر کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ آئی ایس آئی کے رول پر کابینہ میں بڑی لے دے ہوئی تھی مگر خفیہ ایجنسی کا نمائندہ خاموشی سے یہ ساری تنقید سنتا رہا ہے ۔ مس گال نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی ایس آئی کو نہ صرف یہ کہ اسامہ کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں علم تھا بلکہ آئی ایس آئی میں اسامہ کے لئے ایک خصوصی ڈیسک بنایا گیا تھا۔ اس شعبہ کے انچارج کا کام صرف اسامہ بن لادن کے معاملات کو دیکھنا تھا اور یہ افسر اپنے کسی سینئر کو جوابدہ نہیں تھا۔اس رپورٹ میں کارلوٹا گال نے ذاتی تجربہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ افغان طالبان کے لیڈر کوئٹہ کی پشتون آبادیوں میں مقیم تھے اور وہاں پر ان کی زیر نگرانی مدرسے چلائے جاتے تھے ۔ افغانستان میں خود کش حملے کرنے والوں کو انہی مدرسوں میں تیار کیا جاتا تھا اور وہیں سے ایسے خود کش بمبار بننے والے نوجوان بھرتی بھی ہوئے تھے ۔ یہ لوگ بعد میں افغانستان میں دہشت گردی کے لئے بھیجے جاتے تھے ۔ رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی، طالبان قیادت کی ان پناہ گاہوں اور مدرسوں کی حفاظت کرتی تھی اور کسی صحافی کو اس طرف جانے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔

اس رپورٹ میں پاکستانی فوج کے کردار اور آئی ایس آئی کے رول کے بارے میں کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس لئے صرف اسامہ بن لادن کے حوالے سے ایک پریس ریلیز کے ذریعے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دینا کافی نہیں ہو سکتا۔ مئی 2011ء میں اسامہ کی ہلاکت کے بعد امریکہ سمیت دنیا بھر کے صحافی اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اتنا بڑا دہشت گرد ایک طویل عرصہ تک ایک ایسے ملک میں کیوں کر مقیم رہا جو بظاہر امریکہ کا حلیف ہے اور دہشت گردی کے خلاف برسر پیکار بھی ہے ۔اس جدوجہد میں مختلف صحافیوں نے اس پیچیدہ اور مشکل معاملہ کے مختلف حصوں کو ملا کر مختلف نتائج اخذ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ مس گال نے پہلی بار یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اسامہ کو پاکستان میں فوج کی اعلیٰ قیادت کی سرپرستی اور تحفظ حاصل تھا۔ اس سنگین الزام کو محض غلط قرار دے کر لوگوں کی یادداشت سے محو نہیں کروایا جا سکتا۔نہ ہی سرکاری وظیفہ خوار صحافیوں کے ذریعے امریکی صحافیوں پر دشنام طرازی کے ذریعے یہ معاملہ دبایا جا سکتا ہے ۔ صحافیوں کا کام معلومات پہنچانا ہوتا ہے اور وہ یہ کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بعض معلومات غلط بھی ہو سکتی ہیں اور بعض نتائج غلط فہمیاں پیدا کرنے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ جن معاملات پر اس رپورٹ میں ” غلط ” معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے ان کے بارے میں حکومت پاکستان اور اس کے ذیلی ادارے درست اور سچی معلومات ثبوت کے ساتھ فراہم کر دیں۔ پاکستان کے عوام بھی یہ ساری معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر پاکستانی حکام کی یہ بات مان لی جائے کہ کارلوٹا گال کی معلومات غلط ہیں تو انہیں اس بات کا جواب بھی دینا ہو گا کہ سچ کیا ہے۔ آخر پاکستان اور دنیا بھر کے عوام کو حقائق کون بتائے گا۔

اس حوالے سے یہ دلیل کہ امریکی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان اسامہ کو چھپانے میں ملوث نہیں، کافی قرار نہیں دی جا سکتی۔ یہاں یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ کو مسترد کرنے کے لئے امریکہ کی طرف سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ اس لئے بہتر ہو گا پاکستانی حکام جو حقائق چھپاتے رہے ہیں اب انہیں منظر عام پر لایا جائے۔

Ghulam Murtaza Bajwa
Ghulam Murtaza Bajwa

تحریر : غلام مرتضیٰ باجوہ

Share this:
Tags:
Crisis Ghulam Murtaza Bajwa military leadership pakistan Shakil Afridi امریکی میڈیا بحران پاکستان پاکستانی عوام حملہ شکیل آفریدی فوجی قیادت
Akram Sheikh
Previous Post مشرف کے وکلا نے زبان کھینچنے، آنکھیں نکالنے کی دھمکی دی، اکرم شیخ
Next Post پاکستانی مہمان نوازی میں نمبر ون ہیں، رضا مراد
Raza Murad

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close