Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہر گز نہیں ۔۔۔ بلکہ کچھ اور ہے

April 15, 2013 0 1 min read
Asif Yasin Longo
Terrorism
Terrorism

اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کی اُن ممالک کی فہرست میں شامل ہے جو تعلیم ،صحت ، معاشی انصاف کی بحران اور دہشت گردی، لاقانونیت ، کرپشن جیسے سنگین مسائل کی شکار ہے ۔ اس وقت پاکستان میں روزانہ 8 سے 10 ارب روپیہ کی حکومتی سطح پر کرپشن ہوتی ہے ۔ آیا روز پاکستان میں سینکڑوں لوگ دہشت گردی کی وجہ نے گناہ قتل بھی ہوتے ہیں ، تعلیم حاصل کرنے کے لئے 2کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کے پاس سہولیات میسر ہی نہیں جو بغیر تعلیم کے بالغ ہو رہے ہیں۔ اس طرح کے ہزاروں مسائل ہیں جن سے پاکستانی عوام کے سمیت پوری دنیا بخوبی واقف ہی ہیں۔

حکمرانوں سے سوال پوچھی جاتی ہے تو اس کا زمہ دار دہشت گردوں کو قرار دیتے ہیں مان لیتے ہیں کہ دہشت گردی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔دوستوں ! میرا عرض یہ ہے کہ دہشت گردی آج کی نسل کا مسئلہ نہیں بلکہ ابو الانبیاء حضرت آدم علیہ اسلام کی اولاد ہابیل و قابیل سے شروع ہوا ہے جو آج تک نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کو ہمشیہ اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ پاکستان کے اوپر چند ایک ممالک کی عرصہ بعید سے نظر ہے ۔ جو پاکستان کو اپنی قبضہ میں لینا چاہتے ہیں اسے اپنا غلام بنانا چاہتے ہیں۔ یہ غلام بنانے کا مسئلہ پاکستان کے ساتھ نہیں بلکہ کسی دور میں برصغیر پر بھی قبضہ کر چکے ہیں۔ جن سے لاتعداد قربانیوں کے ساتھ واپس لیا گیا۔
کمزور یا وسائل سے مالا مال ریاست پر بری نظریں ہر اک کی عرصہ بعید سے جاری ہے ۔ ا س کی مثال ہم دور نہیں پڑوس کے ایک شہر ہی سے لیتے ہیں کہ جو قبل از مسیح 3000سال سے آباد ہے جو ہمیشہ اس قبضہ کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کی جان کی دشمن بنی ہے ۔کابل اسلامی جمہوریہ افغانستان کو دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے جس کی آبادی 20سے 30لاکھ کے درمیان ہے ۔ دریائے کابل کے ساتھ تنگ وادی میں قائم یہ شہرمعاشی و ثقافتی مرکزہے۔ کابل ایک طویل شاہراہ کے زریعے غزنی، قندھار ،ھرات،اور مزار شریف سے منسلک ہے۔ یہ جنوب مشرق میں پاکستان اور شمال میں تاجکستان سے بھی بزریعہ شاہراہ جڑا ہوا ہے۔ یہ سطح سمندر سے اٹھارہ ہزار میٹر بلند ہے کابل کی اہم مصنوعات اسلحہ اور فرنیچر ہیں۔

لیکن 1979ء سے جنگ اور خانہ جنگی کے باعث پیداوار اور معیشت کو شدید نقصان ہوا ہے۔کابل کثیر الثقافتی اور کثیر النسلی شہر ہے۔ جہاں افغانستان بھر سے مختلف نسل کے لوگ رہائش پذیر ہیں ان میں پشتون، تاجک ، ازبک ،ہزارہ ، بلوچ و دیگر شامل ہیں۔
کئی دہائیوں کی جنگ ، خانہ جنگی اور تبائی نے اس کی آبادی و عوام کی سکون دیمک کی طرح کھالیے ہیں۔ عوام امن و امان کی صورتحال کے واسطے دعائیں مانگتے پھرتے ہیں۔ کابل قدیم تاریخی شہر ہے۔تاریخ میں کابل کا پہلا حوالہ 1200 قبل مسیح میں کوبھا نامی شہر سے ملتاہے۔جوموجودہ کابل کی جگہ قائم تھا ۔ پہلی صدی قبل مسیح میں شہر موریاؤں کے قبضے میں آیا۔پہلی صدی میں کوشان اور بعد ازاں ہندو اس کے حکمران بنے۔664ء میں عربوں نے کابل فتح کر کے اسے اسلامی حکومت میں شامل کرلیا۔

Ghaznavi
Ghaznavi

اگلے 600ء سالوں تک شہر سامانی، ہندو شاہی، غزنوی ، غوری اور تیموری حکمرانوں تحت رہا ۔674ء میں جب اسلامی فتوحات خراسان تک پہنچ گئی تھیں اس وقت کابلستان میں کابل شاہان کے نام سے ایک آزاد مملکت قائم تھی ۔ انہوں نے عربوں کے حملوں سے بچنے کے لیے شہر کے گرد ایک دفائی فصیل قائم کی تھی ۔ آج کل یہ فصیل شہر کے قدیم یاد گار سمجھی جاتی ہے لیکن اس کا اکثر حصہ تباہ ہو چکا ہے۔13ویں صدی میں منگول اور 14ویں صدی میں تیمور لنگ کی سلطنت کے شہر کی حیثیت سے کابل ایک مرتبہ پھر تجارتی مرکز بن گیا۔ تیموری طاقت کے کمزور پڑنے کے بعد ظہیر الدین بابر نے 1504ء میں کابل پر قبضہ کرتے ہوئے اسے اپنا دارلحکومت بنا لیا اور بعد ازاں یہ1738ء تک مغل حکمرانوں کے زیر حکومت رہا ہے۔

1738ء میں فارسی کے حکمران نادر شاہ نے قابل پر قبضہ کر لیا لیکن 1747ء میں اس وقت کی وفات کے بعد احمد شاہ ردانی عرف احمد شاہ ابدالی تخت پع بیٹھا اورپشتون حکومت کا اعلان کرتے ہوئے افغان سلطنت کو مزید وسیع کیا۔ 1772ء میں اس کے بیٹے تیمور شاہ درانی نے کابل کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ وہ 1793ء میں انتقال کر گیا اور بعد ازاں زمان شاہ درانی تخت پر بیٹھا۔1826ء میں دوست محمد حکمرانی کا دعویدار بنا لیکن 1839ء میں برطانوی افواج نے کابل پر قبضہ کر لیا اور شاہ شجاع کی کٹھ پتلی حکومت تشکیل دی۔1841ء میں مقامی “بغاوت” نتیجے میں برطانوی افواج کو عظیم جانی نقصان کا سے دو چار ہونا پڑا اور جلال آباد میں 16ہزار برطانوی فوجیوں کو جہنم رسید ہوا۔

1842ء میں برطانیہ نے چور مچائے شور کی طرح اس قتل عام کا بدلہ لینے کے لیے جوبی حملہ کیا لیکن بالاحصار کو نقصان پہنچان پہنچا کر بھاگ کھڑا ہوا ۔ اس کے بعد تاج و تخت دوست محمد کا ملا۔برطانیہ نے 1878ء میں ایک مرتبہ پھر کوشیش کی جب شہر پر شیر علی شاہ کی حکومت تھی ۔ شہری آبادی کے قتل عام کے بعد 1879ء میں پھر جنرل رابرٹس کی زیر قیادت برطانوی افواج کابل پہنچیں اور بالا حصار کو نقصان پہنچانے کے بعد فرار ہوگئیں۔20ویں صدی کے اؤائل میں شاہ امان اللہ خان نے زمام اقتدار سنبھالا۔ ان کے کارناموں میں شہر کوبجلی کی فراہمی اور لڑکیوں کے لیے تعلیم کی فراہمی شامل ہیں ۔ وہ شہر کے معروف الامان محل میں رہتے تھے۔

1919ء میں مشہور تیسری افغان جنگ میں شاہ امان اللہ خان نے عید گاہ مسجدمیں بیرونی مداخلت سے افغانستان کی آزادی کا علان کیا۔ 1929ء حبیب اللہ تاجک کے بغاوت کے باعث شاہ امان اللہ خان کابل چھوڑ گئے اور حبیب اللہ نے اقتدار سنبھالا ۔1933ء میں نادر شاہ کے قتل کے بعدان کے بھائی ظاہر شاہ زیر اقتدار آئے ۔ اُس وقت ان کے کی عمر صرف اٹھارہ برس تھی۔1930ء کے دہائی کے اؤائل میں کابل یونیورسٹی کلاسوں کے لیے کھول دیا گیا۔ 1940ء کی دہائی میں شہر صنعتی مرکز کی حیثیت سے ابھرنے لگا۔1950ء کی دہائی میں شہر سڑکیں بھی بچھائی گئیں۔ 1960ء کی دہائی میں شہر مزید وسعت اختیار کر گیا اور وسعت کا پہلا مارکس اینڈسینٹر اسٹور یہیں کھولا گیا اور کابل چڑیا گھر کا افتتاح کیا گیا۔1996ء میں افغانستان کی سیاست پر سوویت یونین کے بڑھتے ہوئے اثرات کے خلاف مذہبی لوگوں مظاہرہ کیا جس کے دوران معروف اسلامی اسکالر مولانا فیضانی سمیت کئی مذہبی رہنماء گرفتار ہوئے۔

Red Army
Red Army

1975ء میں چیکوسلوکیہ کے تعاون سے شہر میں برقی ٹرالی بس نظام رائج ہوا جس سے عوام کو سنہری سہولیات میسر ہوئیں۔سوویت جارحیت کے بعد 23دسمبر 1979ء کو سرخ افواج نے کابل پر قبضہ کر لیا اور مجاہدین اور سوویت افواج کے درمیان اگلے ١٠ سالوں تک یہ سوویت یونین کا کمانڈ سینٹر رہا ۔ کابل میں افغان سفارت خنہ 30جنوری 1989ء کو بند کر دیا گیا۔1992ء میں محمد نجیب اللہ کی کمیونسٹ نواز حکومت کے خاتمے کے ساتھ شہر مقامی ملیشیاؤں کے رحم و کرم پر آگیا ۔اس خانہ جنگی کے نتیجے میں شہر کو زبردست نقصان پہنچااور دسمبر میں شہر کی 86بسوں میں سے آخری بھی بند کر دی گئی۔ تاہم 800بس شہر کی آبادی کو نقل و حمل کی سہولیات فراہم کرتی رہیں ۔ 1993ء تک شہر کو بجلی و پانی کی فراہمی مکمل طور پر ختم ہو چکی تھی۔

برہان الدین ربانی کی ملیشیا جمعیت اسلامی ،گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی ، عبدالرشید دوئم اور حزب و حت کے درمیان خانی جنگی میں لاکھوں شہید و ہلاک ہوئے اور لاکھوں لوگ گھر بدر ہوگئے۔ستمبر 1996ء میں طالبان نے کابل پر قبضہ کیا اور سابق صدر نجیب اللہ اور ان کے بھائی کو گرفتار کر کے سر عام پھانسی دے دی۔طالبا ن کے قبضے کے ساتھ ہی دیگر تمام ملیشیاؤں کے درمیان جنگ بند ہوگئی اور برہان الدین ربانی ، گلبدین حکمت یار ، عبدالرشید دوئم ، احمد شاہ مسعود اور دیگر تمام شہر سے فرار ہو گئے۔تقریبا َ پانچ سال بعد اکتوبر 2001ء میں امریکہ نے افغانستان پر جارحیت کرتے ہوئے طالبان کی حکومت کا خاتمہ کر لیا ۔ جس کے بعد امریکہ نواز حامد کرزئی افغانستان کے نئے صدر قرار پائے۔

ایسا صرف کابل کے ساتھ نہیں بلکہ پوری دنیا کے چھوٹے بڑے ریاستوں کے سات ہوتا رہتا ہے ۔ کمزور پر قبضہ کرنے کا مسئلہ بہت پرانی بات ہے اس قبضے کرنے کی خواہش حاصل کرنے کے لئے لاکھوں لوگوں کی جان قربان ہوتی ہے ۔تاریخ گواہ ہے جنگ عظیم بھی ہو چکے ہیں جہاں لاکھوں لوگوں کی قتل عام ہو ئی ہے ۔ دہشت گردی ہی کہہ سکتے ہیں ۔میرا کہنے کا متن یہ ہے کہ اس بات سے نظر اندازی خود کشی کی مترادف ہے کہ اس وقت امریکہ ، انڈیا و کئی اور ممالک کی نظریں پاکستان پر ہیں جو کسی نہ کسی طریقے سے قبضہ یا اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ جو حالات خراب کرنے کے پیچھے بھی ضرور ہونگے جیسے کہ ماضی میں یہ عام بات رہا ہے کہ دشمن پر کمزور کرنے کے لئے اس کو کمزور بنانے کی کوشیش سے ہی کامیابی ملنا آسان ہوا ہے۔

تو پاکستان کے تمام دشمن پاکستان کو کمزور بنانے کے لئے پاکستان میں تعلیم کی فقدان، معاشی کمزروری ، لاقانونیت، افرا تفری ، بد نظامی بھی پیدا کرنے کی کوشیش کرتے ہیں کیونکہ اس سے عوام اور حکمران دونوں طبقے پریشان ہوتے ہیں اور دشمن کو اپنی مقاصد میں کامیابی آسان ہو جاتا ہے ۔پاکستان میں حالیہ دہشت گردی جہاں پر امریکہ براہ راست قبائلی علاقوں ڈروں حملے کی شکل میں اور دیگر کراچی، کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں معتد جگہوں پر چھپ چھپ کر دہشت گردی کی واقعات رونماء کر وارہی ہے ۔ اپنی تنظیموں کو اسلامی نام دیکر مقاصد میں کامیابی حاصل کر رہا ہے بے ایمان لوگوں کو خرید کر پیسے فراہم کرتا ہے کو اس کے اشاروں پر کچھ بھی کرتے ہیں اس بات کو حکمران تسلیم کرتے ہیں۔

Paksitan
Paksitan

یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ نا ممکن ہے ۔ نہ ہی کوئی اس کاخاتمہ کر سکتا ہے ۔ لیکن اپنے ریاست یا علاقے میں صرف کنٹرول کر سکتا ہے جہاں کسی کو بے گناہ قتل نہیں کیا جاتا ہو اور کوئی بھی د ہشت گردی کی شکارنہ بن سکے ۔ حکمرانوں دہشت گردی کو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہیں ۔ میرے نظر میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ” نظام ” ہے . پاکستان میں ایسی نظام چل رہا ہے جس سے دہشت گردی کم نہیں بلکہ بڑ رہی ہے ۔ نظام ” ہمیشہ نااہل لوگوں نے ہی چلایا ہے ۔ اگر ” نظام ” درست ہوتا ہے تب پاکستان کی عوام کی جان و مال کی تحفظ یقینی ہو جاتی تھی مگر ” نظام ” چلانے والوں کی عدم توجہ سے دشمن پاکستان میں داخل ہو کر ہر جگہ ہر طریقے سے پاکستان اور پاکستانی عوام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے جائیں گے۔

قائد اعظم نے بھی فرمایا تھا کہ ” مجھ سے اکثر پوچھا جا تا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا ؟ پاکستان کے طرز حکومت کا تعین کرنے والا کون ہوتا ہے ۔ مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے تیرا سو سال قبل قرآن کریم نے و ضاحت کے ساتھ بیان کر دیا تھا ۔ الحمد للہ ، قرآ ن مجید ہماری رہنمائی کے لئے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا”اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران قران مجید سے تمام مسائل کے لئے قانون سازی کرتے ہیں اور تمام اداروں میں اسلامی نظام نافذ کر کے حکومت کرتے ہیں تب اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان حالات اور نظام درست ہو جائیگا ۔ ملک میں الیکشن سے لیکر فٹ پاتھ تک کوئی سنگین مسئلہ درپیش نہیں ہوگا پولیس، افواج ، تمام ادارے نیک نیتی سے پاکستان عوام کی خدمت کریں گے.

رشوت اور لاقانونیت ختم ہوگی، حکمران اور عوام کے درمیان موجودہ فاصلہ ختم اور مساوات قائم ہو جائیگی۔ کہنے کا مقصد اسلام کے ابتداء ایام واپس آئیں گے جس وقت اہلیان کائنات اسلامی نظام میں اپنے لئے ایک محفوظ راہ سمجھتے تھے اور کائنات میں اسلام کا بو ل بالا تھا ۔دہشت گردی تو دنیا کا بہت بڑا مسئلہ ہے ا س کو حل کرنا ناممکن ہے کیونکہ اس کا ابتداء ہی انسان کی پیدائش کے وقت ہو ا جو تاحال جاری ہے۔ ہاں نظام کو درست طریقے سے چلانے کی بنا پر اس پر کنٹرول ہو سکتی ہے جیسے برصغیر اور عرب کے حالات اسلامی حکمرانوں کے ہاتھ آنے سے ماحول پر امن ہو گیا تھا ایسے ہم پاکستان میںدہشت گردی پر کنٹرول کر سکتے ہیں ۔

اب ارباب اقتدار ہی ہمارے پاکستان کے حق میں درست نہیں سوچتے ہیں اگ درست سوچتے تو کب کا اسلامی نظام نافذ ہوا ہوتا جس سے پاکستان پُر امن اور ترقی یافتہ ہو کر دنیا میں امن پھیلانے کا تبلیغ کرتا مگر افسوس ہے کہ حکمران ہی ناپاک سوچ رکھتے ہیں ۔بحرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ حکمران دہشت گردی کو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہیں ۔ میرے نظر میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ” نظام ” ہے . پاکستان میں ایسی نظام چل رہا ہے جس سے دہشت گردی کم نہیں بلکہ بڑ رہی ہے۔

Asif Yasin Longo
Asif Yasin Longo

تحریر : آصف یٰسین لانگو

Share this:
Tags:
corruption pakistan terrorism اسلامی جمہوریہ پاکستان دہشت گردی کرپشن
Tractors
Previous Post ٹریکٹروں کی پیداوار میں اٹھارہ فیصد کمی
Next Post فنکشنل لیگ کے رہنما اُمیدوار قومی اسمبلی حلقہ NA-250 کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ دس جماعتی اتحاد استحصالی قوتوں کو اپنے نا پاک عزائم پورے نہیں کرنے دیگا

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close