Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سولی پر لٹکتی بیٹی کی پکار

September 23, 2020 0 1 min read
Police
Police
Police

تحریر : طارق حسین بٹ شان

پاکستان کے گلی کوچوں میں جرائم کی داستا نیں ہر روزر قم ہو تی ہیں ۔کہیں پر یہ بر رضاء و رغبت وقوع پذیر ہوتی ہیں جبکہ کہیں پر ان کا ارتکاب بالجبر کیا جاتا ہے۔میری اپنی آنکھوں نے رضا و رغبت اور افعالِ بالجبر کے کئی واقعات دیکھے ہیں جس پر انسانیت ماتم کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ زور آور وں کی شہ زوریوں کے سامنے بھلا کوئی کہاں زبان کھول سکتا ہے؟زور آور ہمیشہ سے محروموں کا شکار کرتے آئے ہیں اور جب تک اس دنیا پر آخری انسان کا وجود باقی رہے گا ان کی شہ زوریوں کا سلسلہ جا ری رہے گا ۔آسان لفظوں میں اسے یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جہاں پر جرائم ظہور پذیر نہ ہوتے ہوں اورخواتین مردوں کی اندھی ہوس کا نشانہ نہ بنتی ہوں۔معاشرے میں بے راہ روی اور بے حیائی اس حد تک سرائیت کر چکی ہے کہ جرائم کی مکمل بیخ کنی اب ممکن نظر نہیں آتی ۔عورت اور مرد کا ازلی تعلق اور جذباتی رشتہ کی بے باکی نے معاشرے کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے ۔

عورت کا نمائشی انداز ،بنائو سنگھار اور سرِ عام بے حجابانہ پن ایک کلیدی وجہ ہے جو مرد کے اندر شہوانی جذبات کو ہوا دیتا اور اسے مشتعل کرتا ہے۔ انٹر نیٹ،موبائل ،فیس بک اور دوسرے ذرائع ابلاغ نے نوجوانوں کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔اپنے والدین کے سامنے جوان بیٹیاں اور بیٹے دوستوں اور چاہنے والوں سے فون پر محوِ گفتگو ہوتے ہیں لیکن والدین انھیں روک نہیں پاتے کیونکہ آزادی نے اوالاد کو جوابدہی سے آزاد کر دیا ہے ۔شرم و حیا کی پیکر، عفت باز، پاکیزہ اور روائیت پسند لڑکیوں کے لئے جینا دوبھر ہو گیا ہے کیونکہ اب آزادی کی دیوی نے انھیں بھی اپنی لپیٹ میں لے کر ان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے ۔انھیں ایسے سبز باغ دکھائے جاتے ہیں کہ وہ بھی وقت کے دھارے میں بہتی نظر آتی ہیں۔اپنے گھروں سے فرار ہو نا ، عدالتوں میں شادی کر لینا ، انٹر نیٹ اور فیس بک پر اپنے من پسند لڑکوں کا انتخاب کر لینا اب عام سی بات ہو چکی ہے جسے کوئی قابلِ مذمت نہیں گردانتا ۔ جس معاشرے میں مائیں خود اپنی بیٹیوں کو امیرلڑکوں سے راہ و رسم بڑھانے اور انھیں پھانسنے کی ترغیب دیتی ہوں اس معاشرے کے بانجھ پن میں کوئی کسر باقی نہیں رہ جاتی۔ شرفاء گھرانوں کے اہلِ خانہ کس کس بات کا خیال رکھیں اور کہاں کہاں کنٹرول قائم کریں کیونکہ موبائل نے ہر بات کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے ۔

سکول، کالج اور یونیور سٹیاں نشے کے اڈے بنتے جا رہے ہیں ۔نشوں کی نت نئی اقسام نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کر رہی ہیں اور والدین سوائے خون کے آنسو بہانے کے کچھ نہیں کر سکتے۔ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے گھروں اور محلوں میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے ہم نے ذہنی طور پر قبول کر کے اس کے سامنے ہتھیار ڈال دئے ہیں ۔روز مرہ کے مشاہدات ،انہونے واقعات اور اخلاق سوز حرکات نے انسانی حسیات کا خون کر دیا ہے لہذا عوام بے حیائی اور اجتماعی زیادتی کے واقعات پر واویلا نہیں کرتے کیونکہ معاشرے کا عمومی چلن بدل گیا ہے۔جب گھر گھر کی ایک ہی کہانی ہو گی تو احتجاج کون کرے گا؟جب ہر گھر میں بے حیائی ،بے باکی،بے شرمی ڈیڑے ڈال لے گی تو معاشرے کا اجتماعی ضمیر مردہ ہو جائیگا ۔،۔

ہمیں دوسروں کی خامیوں کو سرِ بازار اچھالنے میں ایک خاص تسکین، لطف اور مزہ ملتا ہے لیکن جب یہی خامیاں ہمارے اپنے گھروں میں محوِ رقص ہوتی ہیں توزبا نیں گنگ ہو جاتی ہیں۔دوسروں کی عزت و آبرو کا ڈھنڈورا پیٹنے سے قبل اپنے گھر کا نقشہ نگاہوں میں گھوم جائے تو سب خاموشی کی چادر تان لیتے ہیں ۔یورپ کے بارے میں عمومی تصور یہی ہے کہ وہاں پر جنسی بے راہ روی ہے ۔مردو زن کے اختلاط نے معاشرے کوبے آبرو کر کے رکھ دیا ہے۔آزادانہ میل ملاپ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ خاندانی یونٹ افرا ط و تفریق کا شکار ہیں اور شادی کا رواج دھیرے دھرے دم توڑتا جا رہا ہے۔اب دوستیاں اور فرینڈ شپ کا سلسلہ دراز ہو رہا ہے۔ اسقاطِ حمل قانونی طور پر جائز ہے اور شادی کے بغیر بچوں کی پیدائش معمول کے واقعات ہیں جس پر حکومت کوئی سرزنش نہیں کرتی۔ایک ہی چھت کے نیچے رہنا اور کسی کو جوابدہ نہ ہونا وہاں کا چلن ہے لیکن اس کے باوجود وہاں پر زنا بالجبر، اجتماعی زیادتی کی کوئی گنجائش نہیں اور کسی خاتوں کی مرضی کے بغیر اسے ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں ہے ۔جو کوئی ایسا کرتا ہے اس کا مقدر جیل ہوتا ہے۔ لیکن باعثِ حیرت ہے کہ اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آنے والے ملک میں زنا بالجبر کے واقعات عام ہیں بلکہ اب تو اجتماعی زیادتی کے واقعات نے سارے ریکارڈ تو ڑ دئے ہیں۔ عورتوں کو برہنہ کرکے اپنی مردانگی کا اظہار کرنا عام ہے۔قانون منہ میں گنگنیاں ڈالے کھڑا رہتا ہے جبکہ علاقہ کا غنڈہ،چوہدری، جاگیردار ،سردار اور وڈیرہ ڈھٹائی سے قانون کو پائوں تلے مسل رہا ہوتا ہے۔ قانون کے رکھوالے ایسے سفاک ا فراد کو تحفظ فراہم کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ ان کے مفادات ان کی ذات کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔

لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر سفاکیت کا جو نیا باب رقم کیا گیا ہے اس نے معاشرے کو مزید بے خوف بنا دیا ہے۔اب تواتر سے ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جو اجتماعی زیادتی سے تعلق رکھتے ہیں۔ہونا تو یہ چائیے تھا کہ اجتماعی زیادتی کے اتنے بڑے واقعہ کے بعد قوم ہر قسم کی زیادتی سے توبہ کرتی اور دوسروں کی بہو بیٹیوں کی عزت و احترام کا عہد کرتی لیکن ایسا ہونے کی بجائے اس نے اجتماعی زیادت کے کھیل کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے ۔ انھیں علم ہے کہ پاکستان میں قانون نام کی کوئی شہ نہیں ہے۔عدالتیں شہادتیں ، گواہ اور ثبوت مانگتی ہیں جبکہ عوام گواہی اور شہادت دینے سے خائف رہتے ہیں۔ تگڑوں کے خلاف زبان کھولنا بڑے جان جوکھوں کا کام ہو تا ہے اور ایسا کرنے کیلئے کوئی تیار نہیں ہوتا ۔ جب کمرہِ عدالت میں گواہ قتل ہو جائے تو گواہی دینے کی جرات کون کریگا؟ویسے بھی ہمارے ہاں تگڑوں کے پاس جھوٹے گواہ ہوتے ہیں ل جو انھیں سزا سے بچانے کا کارنامہ سر انجام دیتے ہیں۔ہمارے ہاں تگڑوں کے لئے ایک قانون جبکہ کمزوروں کے لئے دوسرا قانون ہو تا ہے۔

بد قسمتی سے ایسے گھنائونے افعال میں پولیس کا کردار انتہائی شرمناک ہوتاہے۔جو کوئی بھی اپنی مدد کیلئے پولیس کو اطلاع دیتا ہے اجتماعی زیادتی کا شکار ہو جاتا ہے۔ فرانس سے آئی ہوئی وطن کی بیٹی کے ساتھ جس طرح کا بیہمانہ سلوک روا رکھا گیا وہ تصور سے ماوراء ہے ۔ اس نے بھی تو اپنی مدد کیلئے پولیس کو ہی آواز دی تھی لیکن اس کاجو حشر ہوااسے بیان کرتے ہوئے آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں۔کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اس واقعہ کو بیان کر سکے کیونکہ وہ انسانی درندگی کی بدترین مثال تھا ۔ قوم کی ایک بیٹی جو فرانس سے وطن کی انمت محبت کے پھول سجائے پاکستان وارد ہوئی تھی وطن کے بیٹوں نے اسی کی عزت کو تاراج کر کے رکھ دیا۔کیا وطن کے غیور بیٹے اپنی بیٹیوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک روا رکھتے ہیں؟دھرتی کی بیٹی کی بے کراں محبت کے ساتھ ہمارے معاشرے نے جو سلوک روا رکھا وہ انتہائی گھنائونا اور قابلِ نفرت ہے ۔ پولیس کسی بھی ملک کا سب سے محترم ادراہ ہوتا ہے لیکن مقامِ افسوس ہے کہ پولیس جرائم پیشے افراد کی سر پرست بنی ہوئی ہے۔عمران خان نے تو پولیس کو سیاسی دبائوء سے آزاد کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن یہ کیسی وعدہ ایفائی ہے کہ فرانس سے آنے والی قوم کی بیٹی اجتماعی زیادتی کی سولی پر لٹکا دی گئی ہے۔،۔

Tariq Hussain Butt
Tariq Hussain Butt

تحریر : طارق حسین بٹ شان
(چیرمین) مجلسِ قلندرانِ اقبال

Share this:
Tags:
Crime life pakistan Society tariq hussain butt پاکستان جرائم زندگی معاشرے
Aafia Siddiqui
Previous Post انصاف کا قتل اور عافیہ صدیقی
Next Post مونگ پھلی سونے کی ڈلی
Peanut

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close